Sobia Speech and Autism Clinic

Sobia Speech and Autism Clinic Speech therapy is the assessment and treatment of the communication problems and speech Disorder.

12/12/2024

بچےدیر سے بولنا شروع کرتے ہیں*
Part 1👉
وجوہات:
سماعت کا مسئلہ:
بچہ اگر ٹھیک سے سن نہ سکتا ہو
*دماغی نشوونما میں رکاوٹ*
=آٹزم Autism کا مسئلہ جس میں بچے مختلف انداز میں برتاو کرتے ہیں بات چیت میں مشکل چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پریشان ہوجانا جیسا کہ روشنی، شور،الگ تھلگ رہنا..
*Screen Time*
فون/ٹی وی کا استعمال کرتے وقت کا لوگوں کے ساتھ بات کرنے کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے بچہ اپنے اردگرد کے ماحول سے غافل ہو جاتا ہے..
گھر میں ایسے ماحول میں جہاں زیادہ لوگ نہ ہو اور واسط تعلق نہ ہونا ایسے ماحول میں بھی بچے لیٹ بولنا شروع کرتے ہیں..
*دماغ کی بیماری*
گردن توڑ بخار یا ایسی بیماری جس سے بولنے کی صلاحیت متاثر ہوجائے
اگر کوئی سوال ہے تو انباکس میں پوچھیں

*Sobia Hassan Magsi*
Consultant Speech and Language Pathologist Muzaffargarh
03338588613

15/10/2024



میاں بیوی میں تلخ کلامی بچوں کی نفسیات پر کتنا بُرا اثر ڈالتی ہے؟دنیا میں شاید ہی کوئی ایسے میاں بیوی ہوں جن کے درمیان ک...
03/07/2024

میاں بیوی میں تلخ کلامی بچوں کی نفسیات پر کتنا بُرا اثر ڈالتی ہے؟

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسے میاں بیوی ہوں جن کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی یا ناراضی نہ ہوئی ہو، یہ کوئی ایسی اچھنبے کی بات بھی نہیں ایک عام معاشرتی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب کچھ لوگ تو اس تکرار اور اختلاف رائے کو محبت کے بڑھنے سے بھی تشبیہ دیتے ہیں جو شاید کسی حد تک درست بھی ہو۔

تاہم ایک دوسرے سے لڑنے والے میاں بیوی کو اس بات کا لازمی خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی یہ تلخ کلامی ان کی اولاد میں نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کا سبب نہ بنے۔

اس حوالے سے سیدتی میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن والدین کے بچے حساس ہیں اور کسی بھی بات پر ناراض ہوجاتے ہیں تو ان پر بطور والدین یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم از کم بچوں کے سامنے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہ کریں چاہے ان کے آپسی اختلافات کتنے ہی شدید نوعیت کے کیوں نہ ہوں۔

اس سلسلے میں ماہرین نفسیات نے چند باتوں کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

ایک دوسرے پر الزامات اور غیبت کرنا۔
میاں بیوی کے تعلقات خواہ طلاق کی نہج تک پہنچ گئے ہوں پھر بھی ان کو بچوں کے سامنے ایک دوسرے پر الزام تراشی قطعاً نہیں کرنی چاہیے جبکہ بچوں کی موجودگی کسی سے بھی ایک دوسرے کی غیبت تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے بچے ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور وہ غصے اور بدتمیزی کی طرف جاتے ہیں۔

اسی طرح اکثر میاں بیوی کی ناراضی کے دوران یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ ہی ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں جس سے بچوں کے ذہن میں ان کے خلاف غصہ جنم لیتا ہے۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے جھگڑالو نہ ہوں تو متذکرہ باتوں سے اجتناب برتیں۔

بچوں کو پیغام رسانی کے لیے ہرگز استعمال نہ کریں۔
ایسا عموماً ان جوڑوں میں دیکھا گیا ہے کہ جن کے درمیان سخت رنجش ہو یا پھر علیحدگی ہو چکی ہو۔ اگر آپ اپنے شوہر یا بیوی سے کچھ کہنا چاہتے ہیں تو خود کہیں۔ ایسا نہ ہو سکے تو فون پر یا تحریری پیغام کے ذریعے آگاہ کریں۔

تلخ کلامی سے حتی الامکان گریز کریں۔
لڑائی عموماً اس وقت ہوتی ہے جب دونوں جانب برہمی شدید ہو اس لیے اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک پرسکون رہے اور بات کو نہ بڑھنے دے خصوصاً بچوں کی موجودگی میں۔ جب ایسا محسوس ہو کہ پارٹنر غصے میں ہے، پریشان ہے یا پھر کسی اور وجہ سے اس کا موڈ آف ہے تو نرمی کا مظاہرہ کریں اس کے جواب میں اگر دوسرا بھی وہی طرزعمل اختیار کرے گا تو لامحالہ لڑائی ہو گی جس کے نفسیاتی اثرات بچوں پر ہی پڑیں گے۔

بچوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور ان کی بات کو غور سے سنیں۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی کے بعد بچوں کے ساتھ بات چیت میں کمی آ جاتی ہے جس کو بچے شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے جیون ساتھیوں کے درمیان تعلقات کتنے ہی خراب کیوں ہوں اس کے قصوروار بچے نہیں ہیں اس لیے ان پر غصہ مت نکالیں۔ ان کے ساتھ بات کرتے رہیں اور ان کی سنیں بھی۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کا ذہن بھی بٹ جائے گا اور برہمی میں کمی آئے گی۔

طلاق یا علیحدگی کی صورت میں کیا کیا جائے؟۔
اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہوچکی ہے تو یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا اثر بچوں پر نہ پڑے اگر وہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے خیالات کو قبول کریں اگر وہ آپ کو بریک اپ کا ذمہ دار ٹھہراتا یا ٹھہراتی ہے تو اس کو نرمی سے سمجھائیں اور بتائیں کہ آپ اس کے جذبات کو سمجھتے ہیں اگر وہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ بھی کرے تو اس کے جواب میں صبر سے کام لیں۔

خطرے کی گھنٹی۔
اگر جوڑے میں طلاق ہو چکی ہے یا پھر وہ اکٹھا بھی رہ رہے ہیں تاہم دونوں کے تعلقات خوشگوار نہیں اور بچے کا رویہ شدید خراب ہو رہا ہے یا پھر وہ گم صم رہنے لگا ہے اور درست طور پر کھانا بھی نہیں کھا رہا تو یہ خطرے والی بات ہے یہی وہ وقت ہے کہ جب اس کو معالج کے پاس لے جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اکثر اوقات بچوں کے لیے خاندان کے افراد ہٹ کر باہر کے کسی شخص سے اپنے جذبات اور دکھ کا اظہار کرنا آسان ہوتا ہے اور اس سے اسے پرسکون ہونے میں مدد ملتی ہے جو کہ اس بچے کیلئے کسی طور بھی درست نہیں۔

In 2012, World Down Syndrome Day was officially announced by the United Nations to be celebrated on March 21 every year....
21/03/2024

In 2012, World Down Syndrome Day was officially announced by the United Nations to be celebrated on March 21 every year. The date was chosen keeping in mind the 21st chromosome that is responsible for causing Down Syndrome. Since then, the special day is observed every year on March 21.
March 21 is significant because people with Down syndrome have three copies of the 21st chromosome.
Happy world downsyndrome day 🩷

Autism spectrum disorder (ASD) is a developmental disability caused by differences in the brain. People with ASD often h...
12/12/2023

Autism spectrum disorder (ASD) is a developmental disability caused by differences in the brain. People with ASD often have problems with social communication and interaction, and restricted or repetitive behaviors or interests. People with ASD may also have different ways of learning, moving, or paying attention....

06/12/2023

‏ڈپریشن ایک کہانی ہے مسائل سے نبزد آزما شخص کی جس سے اگر آپ واقف نہیں ہیں تو فقط مذاق نا اڑا کر اور خاموش رہ کر بھی مدد کر سکتے...

زندگی کی تلخیاں کسی انسان کو کس کیفیت میں لا کھڑا کرتی ہیں دوسرا شخص اسکا اندازہ نہیں کر سکتا۔۔۔
ہماری لغت ، ہمارے الفاظ محدود جبکہ احساس اور اس سے جڑی کیفیات کی کائنات بیحد وسیع ہے ، سب کچھ بیان نہیں ہو سکتا اسے بس محسوس کیا جا سکتا ہے اور اسکے لئے دل والا ہونا ضروری ہے ....

‏‎حرف کا پیرھن ہے ناکافی
روح لفظوں میں ڈھل نہیں سکتی




Address

Muzaffargarh

Opening Hours

Monday 10:00 - 18:00
Tuesday 10:00 - 18:00
Wednesday 10:00 - 18:00
Thursday 10:00 - 18:00
Saturday 10:00 - 18:00

Telephone

+923338588613

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sobia Speech and Autism Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sobia Speech and Autism Clinic:

Shortcuts

Share