Dr Khansa Fazil Qazi

Dr Khansa Fazil Qazi Consultant Gynaecologist

MBBS | FCPS | MRCOG

25/05/2026

😟 “ڈاکٹر نے بچے کو دیکھتے ہی فوراً پوچھا:‘حمل کے دوران ماں کا بلڈ پریشر چیک ہوتا رہا تھا نا؟’اور اُس لمحے ایک شوہر کو اح...
25/05/2026

😟 “ڈاکٹر نے بچے کو دیکھتے ہی فوراً پوچھا:
‘حمل کے دوران ماں کا بلڈ پریشر چیک ہوتا رہا تھا نا؟’
اور اُس لمحے ایک شوہر کو احساس ہوا کہ چند معمولی سمجھی جانے والی شکایتیں… کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں۔”

وہ عورت اپنے پہلے بچے کی ماں بننے والی تھی۔
گھر میں ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ وہ خود بھی بہت پُرجوش تھی، مگر پچھلے کچھ ہفتوں سے اُس کے سر میں شدید درد رہنے لگا تھا۔ کبھی آنکھوں کے سامنے دھند سا آ جاتا، کبھی ہاتھ پاؤں سوج جاتے۔

وہ اکثر کہتی،
“میرا سر بہت بھاری رہتا ہے…”
لیکن جواب یہی ملتا،
“حمل میں ایسا ہو جاتا ہے، زیادہ نہ سوچو۔”

وقت گزرتا گیا۔
سوجن بڑھتی گئی۔ چہرہ پھولا پھولا رہنے لگا۔ مگر اُس نے خود کو یہی سمجھایا کہ شاید یہ سب نارمل ہے۔

ایک رات اچانک اُس کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ سر درد اتنا شدید تھا کہ آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔ دل گھبرا رہا تھا، اور سانس بھی عجیب سی لگ رہی تھی۔ شوہر فوراً اُسے اسپتال لے گیا۔

ڈاکٹر نے بلڈ پریشر چیک کیا… پھر فوراً نرس کو کچھ ہدایات دیں۔

کمرے کا ماحول اچانک سنجیدہ ہو گیا۔

عورت خوفزدہ آواز میں بولی،
“کیا ہوا ہے…؟”

ڈاکٹر نے نرمی سے سمجھایا،
“آپ کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے۔ حمل میں بعض خواتین کو High Blood Pressure یا Preeclampsia ہو سکتا ہے۔ اگر وقت پر علاج نہ ہو تو یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”

شوہر حیران رہ گیا۔
اُسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہاتھ پاؤں کی سوجن اور سر درد جیسی چیزیں بھی warning signs ہو سکتی ہیں۔

مزید ٹیسٹس ہوئے۔ ڈاکٹرز نے فوری مانیٹرنگ شروع کر دی۔
ہر گزرتا لمحہ اُن دونوں کے لیے خوف اور دعا کے درمیان معلق تھا۔

ڈاکٹر بار بار کہتی رہیں،
“حمل میں مسلسل سر درد، دھندلا دکھائی دینا، اچانک سوجن یا بلڈ پریشر بڑھنا کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔”

چند دن بعد احتیاط کے ساتھ ڈیلیوری کروائی گئی۔

جب بچے کے رونے کی آواز پورے کمرے میں گونجی تو عورت کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
شاید پہلی بار اُس نے سکون سے سانس لی تھی۔

بعد میں ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا،
“خوش قسمتی سے آپ وقت پر اسپتال آ گئیں… ورنہ صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔”

اُس دن کے بعد وہ عورت ہر حاملہ خاتون کو ایک بات ضرور کہتی ہے:
“حمل میں ہر درد نارمل نہیں ہوتا… بعض اوقات جسم خطرے کا اشارہ دے رہا ہوتا ہے۔”

آج جب وہ اپنے بچے کو سکون سے سوتے دیکھتی ہے تو دل ہی دل میں شکر ادا کرتی ہے کہ اُس نے آخری لمحے میں ہی سہی… مگر مدد لے لی۔

کیونکہ ماں بننے کے سفر میں صرف خوشی نہیں، بروقت احتیاط بھی ضروری ہوتی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ہمارے معاشرے میں حمل کے دوران High Blood Pressure اور اس کی علامات کے بارے میں کافی آگاہی موجود ہے؟

😄 “ایک شادی میں جیسے ہی BBQ شروع ہوئی…ایک چچا نے فوراً کہا:‘اصل مزہ تو بیف میں ہے!’ساتھ بیٹھے ماموں فوراً بولے:‘بھائی مٹ...
25/05/2026

😄 “ایک شادی میں جیسے ہی BBQ شروع ہوئی…
ایک چچا نے فوراً کہا:
‘اصل مزہ تو بیف میں ہے!’
ساتھ بیٹھے ماموں فوراً بولے:
‘بھائی مٹن کھاؤ… پھر پتا چلے taste کسے کہتے ہیں!’
اور پھر پلیٹوں سے زیادہ بحث گرم ہو گئی 👀🍖”

ایک طرف دھواں اٹھتا بیف tikka تھا…
دوسری طرف خوشبودار مٹن کڑاہی۔

ہر بندے کی اپنی دلیل تھی 😄

کوئی کہہ رہا تھا:
“بیف کھاؤ… طاقت آتی ہے!”

کوئی جواب دے رہا تھا:
“مٹن جیسا soft اور juicy taste کہیں نہیں!”

پھر ساتھ بیٹھے ایک cook نے ہنستے ہوئے کہا،
“اصل میں دونوں کا game الگ ہے 😄”

سب اُس کی طرف دیکھنے لگے۔

وہ بولا:

“بیف کا taste تھوڑا strong ہوتا ہے۔ اسی لیے BBQ، seekh kabab اور smoked dishes میں لوگ اُسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اور ہاں… iron اور protein بھی اچھا ہوتا ہے۔”

پھر اُس نے مٹن کی طرف اشارہ کیا:

“لیکن مٹن… اُس کی بات ہی الگ ہے 😋
جلدی گل جاتا ہے، نرم ہوتا ہے، اور کڑاہی یا قورمے میں زبردست taste دیتا ہے۔”

اتنے میں ایک pregnant خاتون نے ہنستے ہوئے پوچھ لیا:
“اچھا یہ بتاؤ… ہمارے لیے کون سا بہتر ہے؟ 👀”

سب ہنس پڑے۔

پاس بیٹھی لیڈی ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا:

“دونوں فائدہ مند ہو سکتے ہیں 😊
Pregnancy میں جسم کو زیادہ protein اور iron چاہیے ہوتا ہے۔ بیف خون کی کمی میں help کر سکتا ہے، جبکہ مٹن energy اور protein کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ گوشت fresh ہو، اچھی طرح پکا ہوا ہو، اور quantity balanced ہو۔”

پھر وہ ہنستے ہوئے بولیں:
“اور سب سے ضروری چیز… over نہ کریں 😄”

یہ سن کر پورا دسترخوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔

آخر میں دادا جان نے وہ بات کہی جس پر سب agree کر گئے ❤️

“بیٹا… اصل مزہ نہ بیف میں ہے نہ مٹن میں…
اصل مزہ اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں ہے جن سے محبت ہو 😊”

اب سچ سچ بتائیں 👀
آپ Team Beef ہیں یا Team Mutton؟ 😄🍖

Oxidative stress can damage reproductive cells, but a diet rich in antioxidants helps protect them and improve your chan...
25/05/2026

Oxidative stress can damage reproductive cells, but a diet rich in antioxidants helps protect them and improve your chances of conceiving. While red meat provides essential minerals, it should be balanced with colorful fruits and vegetables that fight inflammation. This is why adding a vibrant salad or vegetable stir-fry to your beef and mutton Eid platters is so vital. The combination of high-quality protein and protective antioxidants creates a "super-meal" for fertility, helping to shield your eggs and s***m from environmental damage. جسمانی تناؤ تولیدی خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اینٹی آکسیڈنٹس ان کی حفاظت کرتے ہیں اور حمل کے امکانات بڑھاتے ہیں۔ جہاں سرخ گوشت معدنیات فراہم کرتا ہے، وہیں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی ضروری ہے تاکہ سوزش کم ہو۔ اسی لیے عید پر گوشت کے پکوانوں کے ساتھ رنگ برنگی سبزیوں اور سلاد کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس کا یہ ملاپ آپ کے جسم کے لیے ایک 'سپر ڈائٹ' بن جاتا ہے جو خلیات کو بیرونی نقصانات سے بچاتا ہے۔

For consulation please contact 03459379337

#2026

😨 “ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ بند کیا… چند لمحے خاموش رہیں… پھر صرف اتنا کہا:‘بچے کی حرکتیں کم کب سے محسوس ہو رہی ہیں؟’اور اُس ...
24/05/2026

😨 “ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ بند کیا… چند لمحے خاموش رہیں… پھر صرف اتنا کہا:
‘بچے کی حرکتیں کم کب سے محسوس ہو رہی ہیں؟’
اور اُس ایک سوال نے ایک ماں کے دل میں ایسا خوف بٹھا دیا جو وہ شاید کبھی نہ بھول سکے…”

وہ عورت اپنے دوسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔
پہلے حمل کے مقابلے میں اس بار وہ زیادہ پُرسکون تھی۔ اُسے لگتا تھا اب وہ سب سمجھ چکی ہے — کمزوری، متلی، بے آرام راتیں… سب کچھ۔

حمل کے آخری مہینے چل رہے تھے۔ گھر والے خوش تھے، بچے کے کپڑے تیار ہو رہے تھے، اور وہ ہر رات اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ننھی ننھی حرکتیں محسوس کیا کرتی تھی۔
مگر پھر ایک دن اُسے عجیب سا احساس ہوا۔

آج بچہ معمول سے کم حرکت کر رہا تھا۔

پہلے اُس نے نظر انداز کیا۔
پھر خود کو تسلی دی،
“شاید بچہ سو رہا ہوگا…”

مگر اگلے دن بھی حرکتیں کم رہیں۔
دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی، لیکن گھر والوں نے فوراً کہا،
“ہر وقت وہ حرکت نہیں کرتا، زیادہ سوچو مت۔”

وہ خاموش ہو گئی۔
لیکن ایک ماں کا دل کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتا۔

رات کو اُس نے کئی بار کروٹیں بدلیں، ٹھنڈا پانی پیا، میٹھا کھایا… صرف اس امید میں کہ شاید بچہ پھر حرکت کرے۔
چند ہلکی سی موومنٹس محسوس ہوئیں، مگر وہ پہلے جیسی نہیں تھیں۔

اگلی صبح وہ اسپتال پہنچی۔

ڈاکٹر نے فوراً چیک اپ شروع کیا۔ کمرے میں مشین کی ہلکی آواز گونج رہی تھی، مگر ڈاکٹر کا چہرہ آہستہ آہستہ سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا۔
پھر انہوں نے نرمی سے پوچھا،
“آپ کو بچے کی حرکتیں کم ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں؟”

عورت کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

ڈاکٹر نے سمجھایا،
“حمل کے آخری مہینوں میں بچے کی حرکتیں ایک اہم علامت ہوتی ہیں۔ اگر اچانک موومنٹس بہت کم ہو جائیں تو کبھی کبھی یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ بچے کو فوری مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ ہر بار مسئلہ خطرناک نہیں ہوتا… لیکن اسے کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔”

وہ عورت خاموشی سے سنتی رہی، اور اُس کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے۔
اُسے افسوس تھا کہ وہ دو دن خود کو صرف تسلی دیتی رہی۔

مزید ٹیسٹس ہوئے۔ ڈاکٹرز نے احتیاطاً اُسے اسپتال میں داخل کر لیا تاکہ بچے کی دل کی دھڑکن اور حرکتوں کو مسلسل مانیٹر کیا جا سکے۔
ہر گزرتا گھنٹہ اُس کے لیے دعا اور خوف کا ملا جلا احساس تھا۔

اُس رات اُس نے پہلی بار شدت سے محسوس کیا کہ ماں بننا صرف خوشی نہیں… مسلسل فکر کا دوسرا نام بھی ہے۔

خوش قسمتی سے بروقت چیک اپ کی وجہ سے ڈاکٹرز نے وقت پر فیصلہ کر لیا، اور چند دن بعد اُس نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا۔

ڈیلیوری کے بعد جب نرس نے بچہ اُس کی گود میں رکھا تو اُس نے بے اختیار اُسے سینے سے لگا لیا۔
آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار شکر کے۔

ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے صرف ایک بات کہی،
“اگر آپ مزید انتظار کرتیں تو شاید صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔”

اُس دن کے بعد وہ ہر حاملہ عورت کو ایک بات ضرور کہتی ہے:
“اگر بچے کی حرکتیں اچانک کم محسوس ہوں… تو صرف انتظار نہ کریں۔ ڈاکٹر سے رابطہ ضرور کریں۔”

کیونکہ بعض اوقات… ایک ماں کی بروقت توجہ ایک پوری زندگی محفوظ بنا سکتی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ہمارے معاشرے میں حمل کے دوران warning signs کے بارے میں خواتین کو کافی آگاہی دی جاتی ہے؟

😢 “ڈاکٹر نے اُس عورت کی فائل بند کی… پھر آہستہ سے پوچھا:‘یہ تیسری بار ہے نا…؟’اور بس یہی ایک جملہ اُس کے دل کو پھر سے تو...
24/05/2026

😢 “ڈاکٹر نے اُس عورت کی فائل بند کی… پھر آہستہ سے پوچھا:
‘یہ تیسری بار ہے نا…؟’
اور بس یہی ایک جملہ اُس کے دل کو پھر سے توڑ گیا۔”

وہ عورت باہر سے بہت مضبوط نظر آتی تھی۔
لوگ اُسے دیکھ کر کہتے،
“اللہ بہتر کرے گا… فکر نہ کرو۔”

مگر کوئی اُس کے اندر کا شور نہیں سن سکتا تھا۔

ہر بار جب pregnancy test positive آتا…
وہ دوبارہ خواب دیکھنا شروع کر دیتی۔

ننھے کپڑے۔
بچے کے نام۔
چھوٹے چھوٹے خواب۔

اور پھر… چند ہفتوں بعد سب ختم ہو جاتا۔

پہلی بار miscarriage ہوا تو سب نے اُسے تسلی دی:
“یہ عام بات ہے… اگلی بار سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

دوسری بار ہوا… تو اُس نے خود کو خاموش کر لیا۔

تیسری بار جب bleeding شروع ہوئی، تو اُسے اسپتال جاتے ہوئے دل ہی دل میں شاید سب سمجھ آ چکا تھا۔

ڈاکٹر نے رپورٹس دیکھیں۔
پھر اُس کے قریب بیٹھ کر نرمی سے بولیں:

“Repeated miscarriages صرف بدقسمتی نہیں ہوتیں… کبھی کبھی اس کے پیچھے medical reasons بھی ہو سکتے ہیں۔”

عورت خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس کی آنکھوں میں صرف ایک سوال تھا:

“آخر میرے ساتھ ہی کیوں…؟”

ڈاکٹر نے آہستہ آہستہ سمجھانا شروع کیا:

“کچھ خواتین میں ہارمونز کے مسائل، thyroid، شوگر، رحم کی ساخت، blood clotting issues، یا بعض infections بار بار miscarriage کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اور کبھی کبھی stress اور overall health بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے repeated miscarriages کے بعد proper tests اور evaluation بہت ضروری ہوتے ہیں۔”

یہ پہلی بار تھا جب اُس عورت کو لگا…
شاید ہر بار خود کو قصوروار سمجھنا ضروری نہیں تھا۔

گھر واپس آ کر اُس نے پہلی بار خود کو رونے دیا۔

لوگوں کے جملے اب بھی ختم نہیں ہوئے تھے:

“اتنا مت سوچا کرو…”
“شاید کمزوری ہوگی…”
“نظر لگ گئی ہوگی…”

مگر اب وہ جان چکی تھی کہ ہر مسئلہ صرف قسمت یا وہم نہیں ہوتا۔

چند ہفتوں بعد اُس نے proper treatment شروع کروایا۔
Tests ہوئے۔ Medicines شروع ہوئیں۔
اور سب سے بڑھ کر… اُس نے خود کو الزام دینا چھوڑ دیا۔

ڈاکٹر نے ایک دن اُس سے کہا:

“Repeated miscarriage کے بعد بھی بہت سی خواتین healthy pregnancy carry کرتی ہیں۔ سب سے اہم چیز بروقت diagnosis، treatment، اور emotional support ہے۔”

یہ سن کر اُس کی آنکھوں میں پہلی بار امید نظر آئی ❤️

آج بھی جب وہ کسی عورت کو miscarriage کے بعد خود کو قصوروار ٹھہراتے دیکھتی ہے…
تو صرف ایک بات کہتی ہے:

“خاموشی میں مت ٹوٹیں…
کبھی کبھی جسم مدد مانگ رہا ہوتا ہے، اور بروقت علاج بہت کچھ بدل سکتا ہے۔”

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ہمارے معاشرے میں miscarriage اور women’s reproductive health کے بارے میں کافی awareness موجود ہے؟

Address

Nowshera Cantt
Nowshera
24100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Khansa Fazil Qazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category