Khalid DawaKhana OKARA 03007530789

Khalid DawaKhana OKARA  03007530789 اﻟﺴـــــــﻼﻡ ﻋﻠﻴــــﻜﻢ ﻭﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻭﺑﺮﻛــ?

مردانہ امراض اور جریان و اح**ام کا دائمی حل: ایک سائنسی و فلسفیانہ جائزہانسانی جسم میں رقتِ حس اور طاقت کی عدم توازن کا ...
12/08/2026

مردانہ امراض اور جریان و اح**ام کا دائمی حل: ایک سائنسی و فلسفیانہ جائزہ

انسانی جسم میں رقتِ حس اور طاقت کی عدم توازن کا بنیادی تعلق نظامِ اعصاب اور اعضاءِ رئیسہ کے باہمی ربط سے ہے۔ طبِ یونانی اور نظریۂ مفرد اعضاء کی روشنی میں جب اعصاب میں غیر معمولی تحریک یا سوزش پیدا ہوتی ہے تو ذکاوتِ حس کے باعث جریان، اح**ام اور سرعتِ انزال جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

طبِ اسلامی اور آیورویدک و سنسکرت فلسفۂ طب کے مطابق جسمانی طاقت کی حفاظت ہی اصل حیات ہے، اور جب تک مادۂ حیات میں گاڑھا پن اور اعصابی سکون نہ ہو، مکمل شفا ممکن نہیں ہوتی۔

ارشادِ حکمت ہے:

تندرستی شرط ہے گر چاہیے سیرِ جہان
ورنہ اس دنیا میں انسان بے حواس و خوار ہے

نہیں ہے شفا صرف دار و دوا میں
شفا تو ہے حکمت کے اصلِ شفا میں

طب کا یہی بنیادی قانون ہے کہ مرض کی جذر یعنی رقتِ حس کو ختم کر کے اعصاب کو تعشیش اور سکون فراہم کیا جائے۔ خالد دواخانہ کا یہ مجرب نسخہ اسی قدیم سائنسی و فلسفیانہ اصول کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

نسخہ جریانی و مغلظ:

اجزاء:

مرچ سیاہ 100 گرام

تخم دھتورہ 100 گرام

پوٹاشیم برومائیڈ 100 گرام

قلعی 50 گرام

کافور دیسی 50 گرام

گوند ڈھاک 100 گرام

گولیوں کی تیاری کا طریقہ:

تمام ادویات کو نہایت باریک پیس کر کھرل کریں اور پانی کی مدد سے 2 رتی کے برابر گولیاں تیار کر لیں۔

طبی فوائد:

یہ نسخہ جریان، اح**ام، سرعتِ انزال اور ذکاوتِ حس کے خاتمے کے لیے نہایت مفید اور مؤثر ہے۔

یہ اعصابی برومائیڈ اثرات اور مقوی اجزاء کے ملاپ سے رقتِ حس کو کنٹرول کرتا ہے اور مادۂ حیات کو گاڑھا کر کے قدرتی امساک پیدا کرتا ہے۔

طریقہ استعمال:
ایک گولی صبح اور ایک گولی شام گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
استشارات و علاج کے لیے رابطہ فرمائیں:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشرہ سے شعبۂ طب و حکمت سے وابستہ)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر
رابطہ نمبر:
923007530789+
اس فائدے مند معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں۔

12/08/2026

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
جشنِ آزادی 14 اگست مبارک — علمِ طب کی آزادی کی طرف ایک قدم
قانونِ مفرد اعضاء سیکھیں، سمجھیں اور طب کو ایک منظم علمی، تحقیقی اور اصولی بنیاد پر آگے بڑھائیں!

14 اگست کا دن ہمارے لیے صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ آزادی، خودمختاری، عزم اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں صرف زمین کا ٹکڑا حاصل کرکے آزاد نہیں ہوتیں؛ حقیقی اور کامل آزادی اس وقت جنم لیتی ہے جب قومیں علم، تحقیق، فکر اور اپنے مسائل کے حل میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔

اسی عظیم جذبۂ آزادی کے موقع پر طب سے وابستہ تمام طلبہ، حکما، معالجین اور نوجوان محققین کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے:

آئیے نظریۂ مفرد اعضاء، طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کی روح کو جدید سائنسی اور منطقی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔

علمِ طب کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے ہمیشہ صحت و مرض کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے فلسفہ، منطق اور مشاہدے کا سہارا لیا۔

قدیم آیو ویدک اور سنسکرت فلسفے سے لے کر بقراط و جالینوس کی طبِ یونانی، اور پھر ابنِ سینا و رازی کی طبِ اسلامی تک، معالجین نے ہمیشہ جسمانی توازن، عناصر، اور افعال کو حکمت اور منطق کے سانچے میں ڈھالا۔

اسی سلسلہ علمی کی ایک جدید اور جامع کڑی "نظریہ مفرد اعضاء" ہے، جو طب کو محض بیماریوں کے نام یاد کرنے یا نسخے رٹنے کے بجائے انسانی جسم کے افعال، اعضاء کے باہمی تعلق، علامات کے ظہور اور مرض کے بنیادی اسباب کو اصولی انداز میں سمجھنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

حکمت کے خزانے سے خوبصورت اشعار:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

علم چنداں کہ بیشتر خوانی
چوں عمل در تو نیست نادانی

حکمت ہے وہی جو فکر و منطق کا چراغ جلا دے
نسخہ وہی کامل جو مرض کی اصل بنیاد مٹا دے

نظریہ مفرد اعضاء میں بنیادی طور پر اعصابی، عضلاتی اور غدی نظام کو جسمانی افعال کے مطالعے کا مرکزی محور سمجھا جاتا ہے۔

اس کا مقصد معالج کو یہ سوچنے کی تربیت دینا ہے کہ:

علامت کہاں ظاہر ہوئی ہے؟

اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

کون سا نظام متاثر ہے؟

محرک کس سمت میں حرکت کر رہا ہے؟

اور جسم کے مختلف اعضاء ایک دوسرے پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں طب محض معلومات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ مشاہدہ، تجزیہ اور تحقیق کا زندہ علم بن جاتی ہے۔

آزادی کا اصل پیغام:

ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی، لیکن علمی آزادی کا سفر مسلسل جاری ہے۔

علمی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا کے دوسرے علوم کو رد کر دیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے شاندار علمی ورثے کا احترام کرتے ہوئے جدید تحقیق، فزیالوجی، بائیوکیمسٹری اور سائنسی مشاہدے کے ساتھ اپنے نظریات کو پرکھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

ایک اچھا معالج وہ نہیں جو صرف بہت سے نسخے جانتا ہو، بلکہ اچھا معالج وہ ہے جو انسانی جسم کی منطق کو سمجھنے، سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور اپنے علم کو مسلسل بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

نوجوان نسل کے نام پیغام:

اگر آپ طب سیکھ رہے ہیں تو صرف ادویات کے نام یاد نہ کریں، جسم کے نظام کو سمجھیں۔

اگر آپ حکمت پڑھ رہے ہیں تو صرف نسخے جمع نہ کریں، ورنہ آپ خود ایک شدید ذہنی مرض کا شکار ہو جائیں گے جسے "جوع المجربات" یعنی صرف نسخہ بازی کی بھوک کہا جاتا ہے، اور یہ بیماری طبی ترقی کے لیے کینسر سے بھی زیادہ مہلک ہے۔

کلیات کو سمجھیں اور اصولی قوانین تلاش کریں۔

اگر آپ قانونِ مفرد اعضاء کا مطالعہ کر رہے ہیں تو اسے اندھی تقلید کے بجائے مشاہدے، سوال، تجربے اور تحقیق کے ساتھ سمجھیں۔

یاد رکھیں کہ علم وہی مضبوط ہوتا ہے جو سوال سے نہیں گھبراتا۔

قوموں کی حقیقی ترقی صرف آزادی حاصل کرنے سے نہیں، بلکہ علم کو تحقیق اور انسانیت کی خدمت میں تبدیل کرنے سے ہوتی ہے۔

فکر و معالجت کی سرپرستی:

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی بے لوث خدمت اور مطب میں مصروفِ عمل۔
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مرکزِ علاج و تحقیق:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا غلہ گودام، اوکاڑا شہر، ضلع اوکاڑا، پنجاب، پاکستان۔

رابطہ و واٹس ایپ: 00923007530789
اگر آپ کو یہ علمی تحریر پسند آئی ہو تو پیچ کو لائک، فالو کریں اور اس پیغام کو دیگر معالجین، حکماء اور طالب علموں تک پہنچانے کے لیے لازمی شیئر کریں۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
جشنِ آزادی مبارک!

12/08/2026

کمر درد اور مہروں کے گیپ کا مجرب اور علمی علاج
قانون مفرد اعضاء اور طب یونانی کا نایاب تحفہ

حکمت و طب کے دو خوبصورت اور حکمت آمیز اشعار:

تندرستی کا ہے دارومدار اعتدال پر
بیماری آتی ہے جب مزاج بگڑ جائے

تندرست ہے وہ جو کرے دوا سے پہلے غذا کا خیال
حکمت نام ہے جس کا، وہ ہے فطرت کا کمال

علمی و فلسفیانہ پس منظر:

انسانی جسم ایک عجیب و غریب نظام ہے جس میں ہر عضو کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ قدماء اور حکماء نے ہمیشہ بیماری کے سبب کو دور کرنے پر زور دیا ہے۔

طب یونانی، طب اسلامی، اور سنسکرت و آیویدک فلسفے میں مہروں کے گیپ اور کمر درد کا بنیادی سبب خلطی ناہمواری، ریاح کا رک جانا، عضلاتی یا اعصابی سوزش، اور رطوبات کی کمی یا زیادتی ہے۔

منطق اور حکمت کا تقاضا ہے کہ درد کو عارضی طور پر دبانے کے بجائے مہروں کی درمیانی رطوبت اور اعصاب و عضلات کو تقویت دی جائے۔

آیویدک فلسفے میں اسے واتا کے بگاڑ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ قانون مفرد اعضاء (عطاء صابر) کے تحت یہ تسکین یا تحریک کے تسلسل کی وجہ سے عضلات اور اعصاب میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

زیر نظر نسخہ عضلاتی اور اعصابی نظام کو اعتدال پر لا کر مہروں کے گیپ اور کمر کے شدید درد میں فطرتی شفا کا باعث بنتا ہے۔

مجرب نسخہ الشفاء:

۱۔ جڑ اسگندھ

۲۔ سورنجاں شیریں

۳۔ زیرہ سفید

۴۔ بدھارا

۵۔ موصلی سفید

۶۔ بہمن سفید

۷۔ قسط شیریں

ترکیب و مقدار خوراک:

تمام اشیاء ہم وزن لے کر بالکل باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔
ایک چھوٹا چائے والا چمچ رات کو سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

فائدے:

کمر کے درد، مہروں کے گیپ، عرق النساء (لنگڑی کا درد)، جوڑوں کے درد اور اعصابی کمزوری کے لیے انتہائی مفید اور زود اثر نسخہ ہے۔

خالص طبی رہنمائی اور مشورے کے لیے رابطہ کریں:

استاد الحکماء: پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابن طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں یعنی ۵۰ سال سے زائد عرصے سے خلق خدا کی خدمت میں مصروف)
زیرِ سرپرستی: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا، پنجاب، پاکستان۔
رابطہ نمبر: 03007530789

پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ یہ طبی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور کوئی بلامعاوضہ مستفید ہو سکے۔

#کمردرد #آیویدک #اوکاڑا #پاکستان

12/08/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حب زیست: طاقتوں کا انمول خزانہ

انسان کا جسم کائنات کا ایک عجیب اور لطیف ترین مظہر ہے۔ طب یونانی، طب اسلامی، آیورویدک، اور نظریہ مفرد اعضاء جیسے عظیم فلسفوں نے ہمیشہ جسم، روح اور مزاج کی ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔

ارسطو اور افلاطون کے فلسفہ و منطق کے مطابق ہر شئے کا ایک خاص جوہر اور مزاج ہوتا ہے، اور جب طب کے ماہرین کسی دوا کی ترتیب میں ان جواہر کو جمع کرتے ہیں تو وہ محض ادویات کا مرکب نہیں بلکہ حیات کے لیے ایک شفا بخش تحفہ بن جاتا ہے۔

حکمت کے انمول خزانوں میں سے دو بے بدل اشعار اہل ذوق کی نذر:

تندرستی سے بڑھ کے دنیا میں
کوئی نعمت نہیں خدا کی قسم

ہزار نعمت ہے تندرستی، ہزار لذت ہے تندرستی
جو دیکھو غور سے تو زندگی کی اصلی شان ہے تندرستی

قصہ اس بے نظیر نسخے کا کچھ یوں ہے کہ آج سے دو ماہ قبل میرے انتہائی محترم جناب جمشید انور صاحب جو کہ اعلیٰ پائے کے طبیب اور نباض ہیں، میرے غریب خانے پر رونق افروز ہوئے۔

انہوں نے میری نبض دیکھی اور حیرت و مسرت سے کہنے لگے:

ماشاءاللہ! آپ نے کیا استعمال کیا ہے؟ میں نے جب اس نسخہء حب زیست کے بارے میں گوش گزار کیا اور دوا بھی پیش کی، تو انہوں نے فرمائش کی کہ آپ اسے اپنی زیر طبع کتاب میں ضرور شامل کریں اور تمام دوستوں اور قارئین تک بھی پہنچائیں، کیونکہ مخلوق خدا کی بھلائی میں ہی ہماری بھلائی اور نجات ہے۔

چونکہ محترم جمشید انور صاحب زیادہ تر وقت گوشہ نشینی پسند کرتے ہیں اور کچھ خاص لوگوں کی رسائی میں رہتے ہیں، اور انہیں اس دوا کی مزید ضرورت تھی، اس لیے میں نے آج اسے ازسرنو تیار کیا۔

دوا کی تیاری کے دوران خیال آیا کہ زندگی کا کیا بھروسہ! کیوں نہ آج ہی اسے تمام اہل علم، اطبا اور دوستوں کی نظر کر دیا جائے۔

میں ذاتی طور پر ادویہ کی فضول تعریفوں کا قائل نہیں ہوں، لیکن کچھ اجزاء اور دوائیں اپنی تاثیر اور مسیحائی میں درجہ کمال رکھتی ہیں۔

اس دوا میں کسی زہر کا شائبہ تک نہیں ہے۔

اہل علم و نظر اور نباض اس کے اجزاء دیکھتے ہی اس کی افادیت کو پہچان لیں گے۔

ہم نے اس دوا کو بارہا ان مریضوں پر آزمایا جو ناتجربہ کار حکیموں کی بے جا ادویات کھا کر تھک چکے تھے اور مایوس ہو چکے تھے۔

تمام تعریفوں کی سزاوار اور حمد و ثنا کی حقیقی حقدار ذات رب العالمین کی ہے اور اس کے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلیما کثیراً کثیرا کی ہے۔

قدرت کی اس ثنائی کے بے شمار پہلو ہیں، اور جب انسان طب کے ان قدرتی خزانوں اور بوٹیوں کے عجائبات کو دیکھتا ہے تو بے اختیار زبان پر جاری ہو جاتا ہے:

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

اگرچہ یہ نسخہ کچھ گراں قدر اور قیمتی اجزاء پر مشتمل ہے، مگر اسے تیار کرنے اور استعمال کے بعد آپ اس کی تاثیر کی تعریف میں رطب اللسان ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

اجزائے نسخہ مبارکہ:

مشک خالص: 1 ماشہ

مروارید: 1 ماشہ

زعفران: 1 ماشہ

جوہر کچلہ: 1 ماشہ

ورق نقرہ: 20 عدد

ورق طلا: 10 عدد

یوہمبین: 500 ملی گرام

ترکیب و مقدار خوراک:
بطریق معروف، آب پان (پان کے عرق) کی مدد سے کالی مرچ (فلفل سیاہ) کے برابر گولیاں بنائیں۔
طریقہ استعمال و نصاب:
نصاب: کل 21 ایام۔

ایک گولی رات کو سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

سات دن دوا استعمال کرنے کے بعد تین دن کا ناغہ ضروری ہے۔

اہم ہدایت و تدبیر:
دوا کی شروعات سے پہلے اپنے وجود اور جسم کو تمام پرانی آلائشوں اور دیگر ادویات کے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) سے پاک کر لیں۔ اس کے لیے تنقیہ اور تغلیظ کا اہتمام ضرور فرمائیں۔

دعا گو:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج
حکیم ابن طبیب رائے خالد
(پچھلے 5 عشروں سے کامیاب مطب و خدمتِ خلق)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

مقام و رابطہ details:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا، پنجاب، پاکستا
رابطہ نمبر: 03007530789

اس علمی و طبی تحفے کو زیادہ سے زیادہ لائک، شیئر اور پیج کو فالو کریں تاکہ مخلوق خدا کا بھلا ہو سکے۔

#حکمت #آیورویدک #اوکاڑا #پاکستان #صحت

12/08/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جریانِ منی، زوالِ قوت اور ان کے اثرات: طب، حکمت اور نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں تفصیلی جائزہ

انسانی جسم میں منی اور رطوبتِ اصلیہ کو تمام اعضائے رئیسہ کا جوہر اور روحِ حیات کی بنیاد تسلیم کیا گیا ہے۔

طبِ یونانی، طبِ اسلامی، آیویدک سنسکرت فلسفہ، منطق اور نظریہ مفرد اعضاء تمام طبی مکاتبِ فکر اس نقطے پر متفق ہیں کہ انسانی جسم کا تمام تر نظام رطوباتِ صالحہ پر قائم ہے۔

سنسکرت طب میں اسے "شکر دھاتو" کہا جاتا ہے، جو ساتوں دھاتوں کا آخری اور سب سے قیمتی نچوڑ ہے۔

جب یہ جوہرِ حیات غیر فطری طریقوں یا ہضم کی خرابی سے ضائع ہونے لگتا ہے تو پورے جسم کی منطقی ترتیب اور اعصابی توازن بگڑ جاتا ہے۔

حکمت کے علمی خزانوں سے دو اشعار:

پاسبانِ روح ہے یہ جوہرِ پاکیزہ تن
اس کی حفاظت سے رہے قائم دل و دماغ و بدن

رطوبتِ خام جو ضائع ہو تو گھٹتی ہے حیات
صحت کی بقا میں ہے ضبط و اعتدال کی بات

نظریہ مفرد اعضاء اور طبی منطق کی روشنی میں:

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق منی کا بلاوجہ ضائع ہونا یا جریان، اعصابی اور غدی تحریکات کی بے اعتدالی، معدے کی برودت اور اعصاب کی شدتِ ضعف کو ظاہر کرتا ہے۔

جب معدہ اور جگر غذا کو صحیح طور پر جوہرِ حیات میں تبدیل نہیں کر پاتے تو اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور جسمانی طاقت گرنے لگتی ہے۔

منی ضائع ہونے یا جریان سے پیدا ہونے والی بنیادی علامات:
* منہ کا مزہ پھیکا ہو جانا۔

* بدمزہ اور ترش ڈکاریں آنا۔

* بدن کا بھاری، سست اور کاہل ہو جانا۔

* غذا کا اچھی طرح سے ہضم نہ ہونا۔

* صبح کے وقت بستر سے اٹھنے کا دل نہ کرنا۔

* کمر میں مسلسل درد اور کھنچاؤ رہنا۔

* منہ خشک ہونا اور سانس سے بدبو آنا۔

* جسمانی اور اعصابی قوت کا بالکل کمزور ہونا۔

* رات کو سوتے ہوئے منہ سے پانی نکلنا۔

* خواہشِ مجامعت کا ختم یا مٹ جانا۔

* ضعیف معدہ اور ہضم کی مستقل شکایت ہونا۔

* پیشاب سے پہلے یا بعد میں جریانِ منی کے قطرے آنا۔

* دائمی قبض کا رہنا۔

* چہرے پر مردنی اور زردی غالب آنا۔

* بدن کے عضلات کا کمزور، ڈھیلا اور سست ہو جانا۔

* دل کا مسلسل دھڑکنا اور گھبراہٹ رہنا۔

ان تمام علامات اور مسائل کا علاج قدرتی جڑی بوٹیوں اور مزاج کی درستگی کے ذریعہ بالکل ممکن ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی مسئلے کا شکار ہیں تو بروقت علاج سے اپنی صحت اور توانائی بحال کر سکتے ہیں۔

طبی رہنمائی و مشاورت کے لیے تشریف لائیں:

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے کامیاب مطب کا وسیع علمی و عملی تجربہ)

اسکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

مطب کا پتہ:

خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑا، پنجاب، پاکستان۔

رابطہ و واٹس ایپ نمبر:
03007530789

اس معلوماتی پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیئر کریں تاکہ دوسروں کا بھی بھلا ہو سکے، اور مزید طبی آگاہی کے لیے پیج کو ضرور فالو کریں۔

11/08/2026

حسد دوسرے بندے کی نعمت نہیں چھین سکتا لیکن انسان کا اپنا سکون اور صحت چھین لیتا ہے۔

نفسیات کہتی ہے کہ حسد کرنے والا انسان دوسروں کی کامرانی کو اپنی ناکامی اور محرومی تصور کرنے لگتا ہے۔

اس نفسیاتی الجھن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی ان گنت نعمتوں کو دیکھنا اور ان کا شکر ادا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

اسی بنا پر قرآنِ پاک نے ہمیں حسد کی آفت سے پناہ مانگنا سکھایا، کیونکہ حسد ایک ایسی اندرونی آگ ہے جو سب سے پہلے اپنے ہی دل اور وجود کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

حسد صرف ایک اخلاقی یا روحانی بیماری نہیں بلکہ یہ جسم کے اندر سنگین طبی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

فلسفہ منطقِ طب اور قدیم و جدید طبی نظریات اس بات پر متفق ہیں کہ حسد انسان کے مزاج کو تباہ کرتا ہے۔

طبِ اسلامی اور حکمتِ قدیم کی روشنی میں حسد دل اور دماغ پر تاریکی لاتا ہے جس سے روح کی تازگی ختم ہو جاتی ہے۔

طبِ یونانی کے مطابق حسد، کینہ اور غصہ جسم میں سودا اور صفرا کی مقدار میں غیر فطری اضافہ کرتے ہیں۔

یہ شدید منفی جذبات حرارتِ غریزیہ کو جلا کر خشک کر دیتے ہیں جس سے جسم میں خشکی اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور انسان فاسد اخلاط کا شکار ہو جاتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء کی رو سے حسد اور کینہ دلی اور اعصابی نظام پر شدد دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس سے عضلاتی اعصابی یا عضلاتی غدی تحریک شدت اختیار کر جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کے عضلات میں کھچاؤ، تیزابیت اور معدے کی سوزش پیدا ہوتی ہے۔

یہ کیفیت جسم کے طبعی افعال میں شدید خلل ڈالتی ہے۔

آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہِ طب میں حسد کو دویش یا ارشیا کہا گیا ہے۔ سنسکرت منطق کے مطابق جب من میں حسد کا زہر گھلتا ہے تو پِت (حرارت) اور واٹ (خشکی) کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے پران (زندگی کی بنیادی توانائی) مسموم ہو جاتی ہے اور جسم میں بائیو انرجی کا بہاؤ رک جاتا ہے۔

علمائے حکمت کے چند انمول اشعار اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں:

ہم کو تو قتل کیا حسدِ حاسد نے
ورنہ ہم جیسا کون زمانہ میں تھا

حاسد کی آتشِ حسد سے نہ ڈر اے دوست
یہ وہ آگ ہے جو خود اپنے مکان کو جلاتی ہے

شعارِ حاسد دیکھو کہ خود جلتا رہتا ہے
نہ دیکھ سکا کسی کو پھلتا پھولتا

اس لیے آج سے یہ عہد کریں کہ جب بھی دل میں کسی کے لیے حسد یا کینہ محسوس ہو، فوری طور پر اس شخص کی ترقی اور خیر کے لیے دل سے دعا کریں۔ یہی اس بیماری کا سب سے بڑا روحانی اور طبی علاج ہے۔

خالد دواخانہ
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب اور خدمتِ خلق میں مصروف عمل
مقام: چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ نمبر: 923007530789+
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہو تو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں۔

11/08/2026

انتخاب: گناہ کی عارضی لذت یا نیکی کا دائمی سکون؟
شیطان گناہ کو کبھی گناہ کے نام سے نہیں بیچتا، وہ اسے خواہش کا لباس پہناتا ہے، نفس کے لیے اسے خوش رنگ بناتا ہے، اور لذت کے آئینے میں اس کا چہرہ سنوارتا ہے۔ وہ کہتا ہے: بس ایک بار۔۔۔ کیا بگڑ جائے گا؟ مگر وہ ایک بار جب گزر جائے تو پچھتاوے کا ایک طویل موسم دل میں اتر آتا ہے۔ آہ ہی آہ، بے چینی ہی بے چینی، دل کے روگ، اور زندگی سے فرار کی خواہش۔

نفس کو جس لذت کے نام پر گناہ کی طرف لے جایا گیا تھا، وہ لذت تو چند لمحوں کی مہمان تھی؛ مگر اس کا بوجھ دل مدتوں اٹھاتا ہے۔ اور پھر روح پوچھتی ہے: تو نے اپنے آپ سے یہ کیا کر لیا؟

اس کے برعکس نیکی بظاہر دشوار، نفس پر گراں، اور آزمائشوں سے بھری ہوتی ہے۔ کبھی خواہش کے خلاف، کبھی تنہائی میں، کبھی اپنے ہی نفس سے جنگ۔ مگر نیکی کے بعد دل پر ایک ایسی ٹھنڈک اترتی ہے جسے دنیا کی کوئی لذت خرید نہیں سکتی۔

وہاں چین ہی چین ہے، قرار ہی قرار، اور روح میں اطمینان ہی اطمینان۔

تب معلوم ہوتا ہے کہ شیطان گناہ سے پہلے لذت دکھاتا ہے اور بعد میں اس کا حساب چھپا لیتا ہے۔ جبکہ نیکی کرنے سے پہلے مشقت دکھاتی ہے اور بعد میں اس کا سکون دکھا دیتی ہے۔

پس اے مسافرِ دل! دھوکا صرف راستے کی ابتدا میں ہوتا ہے، انجام تمہارے سامنے ہوتا ہے۔ نفس سے نہ پوچھو کہ اسے کیا اچھا لگتا ہے، روح سے پوچھو کہ اسے کہاں قرار ملتا ہے۔ فیصلہ تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔

ہر لذت نعمت نہیں ہوتی، اور ہر مشقت زحمت نہیں ہوتی۔ کبھی نفس کا انکار ہی روح کا اقرار ہوتا ہے۔

طبی و فلسفیانہ نقطہ نظر:
1۔ طب اسلامی اور طب یونانی کی روشنی میں:
طب اسلامی اور طب یونانی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان جسم اور روح کا آمیزہ ہے۔ جب انسان عارضی نفسانی لذتوں کے پیچھے بھاگتا ہے تو اس کے اخلاط کا طبعی توازن بگڑ جاتا ہے۔ روحِ حیوانی اور روحِ نفسانی پر بوجھ پڑنے سے دل و دماغ میں بے چینی اور نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں۔ اس کے برعکس ضبطِ نفس اور نیکی سے جسمانی "طبیعت مدبرہ بدن" کو قوت ملتی ہے، جس سے حقیقی شفا اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

2۔ نظریہ مفرد اعضاء کا نقطہ نظر:
نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق عارضی خواہشات اور گناہ کا احساس جسم کے بنیادی اعضاء (دل، دماغ، جگر) میں غیر طبعی شدید تحریک اور سوزش پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر طبعی کیمیائی تبدیلی اعصاب اور عضلات میں تناؤ اور بے چینی لاتی ہے۔ جبکہ نیکی، صبر اور توبہ سے جسم میں اعتدال اور تسکین پیدا ہوتی ہے، جو تمام مفرد اعضاء کو اپنی اصل صحت مند حالت پر واپس لاتی ہے۔

3۔ آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ منطق:
آیو ویدک حکمت اور سنسکرت کے قدیم منطقی فلسفے میں اس کی وضاحت "مایا" (دھوکا) اور تین گنوں (ستو، رجس، تمس) کے ذریعہ کی گئی ہے۔ رجسی اور تمسی لذتیں (حواسِ خمسہ کی عارضی تسکین) ابتدا میں امرت کی طرح معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کا انجام زہر کی مانند پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ستوک (پاکیزہ) عمل ابتدا میں مشقت یا زہر معلوم ہوتا ہے مگر اس کا انجام دائمی "آنند" (روحانی تسکین) اور شانتی پر ہوتا ہے۔

حکمت کے علمی خزانوں سے منتخب اشعار:

حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں:

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
ایک اور حکیمانہ قول کا منظوم مفہوم:
خواہشِ نفس کی لذت ہے چند لمحوں کی
عذاب اس کا مگر روح میں اترتا ہے
جو کر لے ضبطِ نفس پر قائم اپنے قدم
اسی کے دل میں سکون و قرار رہتا ہے

شاعرِ مشرق کا ایک اور عبرت انگیز شعر:

شور ہے ہو گیا دنیا سے مسلمانوں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کبھی مسلم موجود؟
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں؟ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

معالجین و رابطہ کی تفصیلات:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشرہ (50 سال) سے کامیابی کے ساتھ مطب فرما رہے ہیں۔
زیرِ سرپرستی:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر، پنجاب، پاکستان۔
رابطہ نمبر:
+923007530789
اگر آپ کو یہ حکمت سے بھرپور اور اصلاحی تحریر پسند آئی ہو تو پیج کو لائک، فالو، اور اپنے دوستوں و احباب کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔

11/08/2026

بیوی سے محبت کے روحانی، نفسیاتی اور طبی فائدے
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ بیوی سے محبت کرنا نیکی ہے اور اس سے گھر میں اللہ کی رحمت اور برکت کا نزول ہوتا ہے۔ نفسیاتی طور پر جب شوہر اپنی بیوی کو محبت اور احترام دیتا ہے تو اس کے اندر خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے، اور ایک خوش گوار مزاج عورت پورے گھر کی فضا کو پرسکون بنا دیتی ہے۔ ازدواجی تعلق میں یہ محبت اور توجہ قربت کو بڑھاتی ہے جس سے میاں بیوی کا جسمانی، جذباتی اور روحانی رشتہ انتہائی مضبوط ہو جاتا ہے۔

طبِ اسلامی اور حکمت کے علمی خزانوں میں لکھا ہے کہ محبت صرف جذباتی چیز نہیں بلکہ یہ روح اور جسم کا علاج ہے۔ حکماء کہتے ہیں:

محبت سے بدل جاتی ہیں تلخی زندگی کی
محبت ہی تو ہے جو زیست کو گلزار کرتی ہے

دل کی دنیا کو جو روشن کرے وہ پیار ہے
روح کو جو دے سکون وہ محبت کا دیار ہے

طب یونانی، آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ منطق کے مطابق انسان کا مزاج اس کے جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ آیو ویدک فلسفے میں محبت اور لگاؤ کو اوجاس یعنی جسمانی توانائی اور زندگی کی حرارت کا ذریعہ مانا گیا ہے۔ جب انسان کو پیار اور سکون ملتا ہے تو اس کے جسم میں حیات بخش گرمائش پیدا ہوتی ہے جو امراض کو دور رکھتی ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق انسان کے تمام افعال کا تعلق اعصاب، غدد اور عضلات سے ہے۔ جب گھر میں پیار، احترام اور خوشی کا ماحول ہوتا ہے تو انسان کا اعصابی نظام پرسکون رہتا ہے اور اعضاءِ رئیسہ یعنی دل، دماغ اور جگر متوازن طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب گھر میں تناؤ، بدزبانی اور نفرت ہو تو اعصابی اور عضلاتی خلیل پیدا ہوتی ہے جو بلڈ پریشر، معدے کی خرابی، جگر کے امراض اور مردانہ و زنانہ کمزوریوں کا سبب بنتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کئی مرد یہ سمجھتے ہیں کہ بیوی سے محبت کرنا کمزوری ہے یا مردانگی کے خلاف ہے۔ ایسے مرد بیوی کو صرف ایک ذمہ داری یا نوکرانی سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیوی دل ہی دل میں ٹوٹ جاتی ہے اور شادی شدہ زندگی میں خوشی کے بجائے مسلسل تناؤ آ جاتا ہے۔ یہ منفی رویہ نہ صرف بیوی بلکہ بچوں کی شخصیت کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، اگر گھر میں محبت اور عزت ہو تو وہ بھی مثبت سوچ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔

محبت کے بغیر شادی ایسے ہے جیسے پرندہ پنجرے میں ہو۔ بظاہر وہ ساتھ ہیں لیکن ان کے دل ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ شوہر اور بیوی دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو وقت، عزت اور محبت دیں تاکہ یہ رشتہ صرف ایک سماجی معاہدہ نہ رہے بلکہ زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن جائے۔ بیوی سے محبت کرنا شوہر کا فرض بھی ہے اور صحت مند اور خوشحال زندگی کا سب سے بڑا راز بھی ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں سے مطب کر رہے ہیں۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز جسمانی، اعصابی یا ازدواجی مسائل کا شکار ہے تو سائنسی اور طبی اصولوں کے مطابق مشورے کے لیے تشریف لائیں۔

خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ: 923007530789+
اس اہم اور اصلاحی پیغام کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں۔

10/08/2026

شفائے کاملہ کا لازمی پیغام
تن و من کی سلامتی کا انحصار اعصاب، غدد اور عضلات کے باہم توازن پر ہے۔ جب جسم میں رطوبات اور بلغم کا غلبہ بڑھ جائے تو پھیپھڑے اور سینہ جکڑن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قدیم طب، سنکرت فلسفہ ویدک اور نظریۂ مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق یہ حالت اعصابی و بلغمی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جسے حرارت اور مقویِ اعضاء ادویات سے اعتدال پر لایا جاتا ہے۔

شعر
دردِ دل کا علاج حکمت ہے
تندرستی خدا کی نعمت ہے
طبیبِ حازق کا ہو جو دستِ شفاء
ہر مرض میں مریض کو راحت ہے

شعر
طبیبِ کامل جو سمجھے مزاجِ انسان
وہی کرے گا ہر ایک بیماری کا درمان

سفوفِ خاص برائے کھانسی، نزلہ، زکام، دمہ و دردِ سینہ
سینے کی جکڑن، بلغم، سانس کی تنگی اور مسلسل کھانسی کا مجرب یونانی و اعضائی مرکب، جس کے چند دن کے استعمال سے ضدی سے ضدی کھانسی، دمہ اور بلغم سے نجات مل جاتی ہے۔

اجزائے ترکیبی
کشتہ صدف صادق 3 گرام
کشتہ مرجان 3 گرام
کشتہ بارہ سنگھا 3 گرام
کشتہ سنکھ 3 گرام
سوہاگہ بریاں 6 گرام
ست ملٹھی 6 گرام
دار چینی 6 گرام
دار فلفل 6 گرام
مرچ سیاہ 6 گرام

ترکیبِ تیاری
کشتہ جات کے علاوہ تمام ادویات کو نہایت باریک پیس کر کپڑچھان کر لیں۔ بعد میں تمام کشتہ جات کو شامل کر کے اچھی طرح یکجان اور حل کر لیں۔ چونکہ اس میں کشتہ جات شامل ہیں اس لیے اسے حازق اطباء اکرام خود تیار کریں یا ان کی دیکھ بھال میں تیار کیا جائے۔

اہم فوائد
شدید، پرانی اور ضدی کھانسی میں فوری سکون
نزلہ، زکام، الرجی اور ناک سے مسلسل پانی بہنے کا خاتمہ
دمہ، دھونکنی اور سانس پھولنے کا بہترین قدرتی علاج
سینے کی جکڑن، درد اور گاڑھے بلغم کو خارج کرنے میں معاون
سانس کی نالیوں کی سوزش ختم کر کے پھیپھڑوں کو تقویت دیتا ہے
رات کی کھانسی اور صبح کے وقت جمع ہونے والے بلغم کے لیے خاص التحفہ

طریقہ استعمال
ایک گرام سفوف صبح اور شام ہمراہ خمیرہ گاؤزبان سادہ یا تازہ پانی استعمال کریں۔

زیرِ سرپرستی و تجربی رہنمائی
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں یعنی 50 سال سے کامیاب مطب کا تجربہ
زیرِ اہتمام
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب کا پتہ
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ و واٹس ایپ
923007530789+
پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ علمی و طبی معلومات دوسروں تک پہنچ سکیں۔

Address

6-A Gowdown Street Okara
Okara
53600

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

03007530789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khalid DawaKhana OKARA 03007530789 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Khalid DawaKhana OKARA 03007530789:

Shortcuts

Share