04/06/2026
قسم سے یہ تحریر اور یہ تصویر کو دیکھ کر رویا حیران ہو کہ یہ ظالم لوگ کیسے جیتے ہیں اور اللہ نے اس کو اتنی ڈیل کیوں دی ہے یا اللہ ہم تو بے بس ہے آپ ہی ان ظالموں کو لگام دے تھک گئے ہیں جنازوں سے یا اللہ اس قوم پر رحم کی نظر کرے ہر فرعون کے لئے آپ ایک موسی بھیجتے ہیں ان فرعونوں کو بھی موسی بھیج دے
اس ظلم میں جو بھی شامل ہو اسکو نیست ونابود کرلے
اس معصوم بچی نے اپنے صندوق کی چابی ہار کی طرح گلے میں پہن رکھی تھی۔ مارٹر گولے کے ٹکڑے اس کے سر اور سینے میں پیوست ہو چکے تھے۔ جب ایکسرے کے دوران میں اس کے گلے سے چابی اتار رہا تھا تو وہ درد اور آنسوؤں کے ساتھ بولی:
“یہ چابی مجھے واپس دے دینا، کسی اور کو مت دینا۔”
میں نے پوچھا: “اس صندوق میں کیا ہے؟”
وہ بولی: “میں نے شیشے جمع کرکے بیچے ہیں، ان کی کمائی کے پیسے اس میں رکھے ہیں۔”
میں نے پوچھا: “کتنے پیسے ہیں؟”
اس نے جواب دیا: “سو روپے ہیں۔ امی نے عید کے کپڑے قرض پر لیے ہیں، یہ پیسے انہیں دینے ہیں۔
وہ اسی موٹر گاڑی میں بیٹھی تھی جس میں اس کے چچا اور انکی بیوی بھی موجود تھے۔ نم آنکھوں کے ساتھ وہ بتا رہی تھی:
“پہلا مارٹر گولہ گرا تو ہم زخمی ہو گئے۔ پھر دوسرا گولہ ہمارے بالکل قریب آ کر پھٹا۔ میرے چچا اور انکی بیوی نے ہماری آنکھوں کے سامنے آخری سانس لی۔”
“میرا پورا جسم خون میں لت پت تھا۔ میں روتی رہی، مدد کے لیے آوازیں دیتی رہی، مگر کوئی آ نہیں سکتا تھا۔ چاروں طرف مسلسل گولے برس رہے تھے
یہ سن کر دل کانپ اٹھا۔ سو روپے کی جمع پونجی اور ماں کے قرض کی فکر کرنے والی یہ ننھی جان بھی اس ڈالری جنگ سے نہ بچ سکی💔🙏🏻
ہمارے بس میں تو اس صورتحال میں اور کچھ نہیں ہوتا۔ ہم صرف ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں سے بحث و تکرار لڑتے جھگڑتے ان متاثرین کا علاج معالجہ مفت کروانے کی کوشش کرتے ہیں🙏🏻
اس جنگ کی قیمت اتنے غریب اور بے بس لوگ ادا کر رہے ہیں کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ کوئی اپنے پیاروں سے محروم ہو رہا ہے، کوئی عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو رہا ہے، اور کوئی اپنے بچوں کے علاج کے اخراجات تک برداشت نہیں کر سکتا۔