12/03/2026
سہیل آفریدی صاحب!
اگر ڈاکٹروں کے پیچھے پڑنے سے ذرا فرصت مل جائے تو ایک نظر اِدھر بھی ڈال لیجیے۔
یہ ہمارے صوبے کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے، جہاں ایک ہی بیڈ پر دو نہیں بلکہ تین تین مریض لیٹے ہوئے ہیں۔ بیڈز کی شدید کمی کی وجہ سے مریض تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار رہے ہیں۔
روزانہ ہمیں لوگوں کی کالز آتی ہیں:
“سرکاری ہسپتال میں آئی سی یو بیڈ چاہیے، کچھ مدد کریں…”
لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرکاری نظام میں گنجائش ختم ہو چکی ہے، اور دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں کا مافیا بے لگام ہے—جہاں ایک رات کا خرچ ایک لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
14 سال گزر گئے، مگر افسوس کہ اس بڑے ہسپتال میں ایک بیڈ کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا۔
صحت کا پورا نظام چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، ویڈیو لنکس اور بند کمروں کے فیصلوں پر چل رہا ہے۔ اور انہی فیصلوں کے سائے میں کرپشن کے نئے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا عوام کی زندگی اتنی سستی ہو گئی ہے؟
یا پھر کسی بڑے سانحے کا انتظار ہے تاکہ آنکھیں کھلیں؟
وقت ہے کہ ترجیحات بدلیں۔
کیونکہ ہسپتالوں میں جگہ کی کمی صرف ایک مسئلہ نہیں، یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔ ⚕