18/05/2026
ایک دوست نے واٹس ایپ پر ویڈیو بھیجی اور پوچھا:
“ڈاکٹر صاحب، کیا یہ واقعی درست علاج ہے؟”
حیرت اس بات پر ہوئی کہ تقریباً 10 لاکھ لوگ یہ ویڈیو دیکھ چکے تھے اور ہزاروں لوگ اسے آگے شیئر بھی کر رہے تھے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اندازہ ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں عطائیت صرف موجود نہیں، بلکہ ایک منظم بازار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسری طرف ہیلتھ کیئر کمیشن والے یونیورسٹیوں اور کالجز میں جا کر سیمینارز کر رہے ہیں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ آگاہی مہم ہم پر چھوڑ دیں، آپ وہ کام کریں جو آپ کی اصل ذمہ داری ہے یعنی عطائیوں کے خلاف عملی کارروائی۔
پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ سے زائد لوگ ذیابیطس (شوگر) کا شکار ہیں۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں، بلکہ ایک ہیلتھ ایمرجنسی ہے۔
زیادہ پیشاب آنا ہرگز “کمزوری” کی علامت نہیں ہوتا کہ لوگوں کو طاقت کی گولیاں کھلائی جائیں۔ یہ شوگر، پیشاب کی بیماریوں، یا دیگر میڈیکل مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے جن کی proper investigation ضروری ہوتی ہے۔
اور سمجھ سے بالاتر بات یہ ہے کہ ایسے مریض کو ٹمسلوسین کس خوشی میں دی جا رہی ہے؟
یہی مسئلہ ہے جب علاج علم کے بجائے یوٹیوب، واٹس ایپ، اور عطائیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
لوگ بیماری سے کم، غلط علاج سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ نہ تشخیص ہونے والے شوگر جیسے مرض کا نقصان خاموشی میں اٹھا رہے ہیں۔
کبھی کبھی لگتا ہے اگر لاشعوروں کے واقعی سینگ نکلتے…
تو شاید اس ملک میں ہر دوسرے شخص کے سر پر سینگ ہوتے۔
خدارا صحت کو مذاق نہ بنائیں۔ اگر یہ اتنا آسان ہوتا تو زندگی کے اتنے قیمتی سال ہم کمروں میں بند رہ کر پڑھائی میں ضائع نہ کرتے ۔
~ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ