18/07/2026
■کالا یرقان کیا ہے؟
پاکستان میں عام طور پر "کالے یرقان" سے مراد ہیپاٹائٹس بی اور ھیپاٹائٹس سی ھوتا ھے ہوتا ہے۔
●یہ ایک وائرل انفیکشن ہے جو جگر (Liver) کو متاثر کرتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو یہ جگر کے سروسس (Cirrhosis) اور جگر کے کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
■یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں کیسے منتقل ہوتا ہے؟
●متاثرہ خون کے ذریعے
●غیر محفوظ جنسی تعلق سے(ھیپاٹائٹس بی)
●آلودہ سرنج یا انجکشن استعمال کرنے سے
●غیر جراثیم کش اوزار سے دانتوں کا علاج، آپریشن، ختنہ، انڈوسکوپی، برونکوسکوپی،یا ٹیٹو بنوانے سے
●متاثرہ ماں سے بچے کو پیدائش کے وقت(ھیپاٹائٹس بی)
●استرا، ریزر، ناخ تراش یا ٹوتھ برش کے مشترکہ استعمال سے ۔
■تاھم یہ ایک ساتھ کھانے پینے، ہاتھ ملانے، گلے ملنے، ساتھ بیٹھنے یا برتن مشترکہ استعمال کرنے سے منتقل نہیں ہوتی۔
■علامات کیا ہیں؟
اکثر مریضوں میں شروع میں کوئی علامت نہیں ہوتی اور روٹین میڈیکل چیک اپ یا بیرون ملک سفر کےلئے میڈیکل چیک اپ کے دوران پتہ چلتا ھے۔
■تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
●HBsAg
●HBV DNA
●HBeAg / Anti-HBe
● (ALT, AST)
●الٹراساؤنڈ
بعض مریضوں میں FibroScan یا دیگر ٹیسٹ جگر کے نقصان کا
اندازہ لگانے کے لیے
Anti-HCV ab
HCV RNA
■اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
●ہیپاٹائٹس بی سے بچاو کیلئے ویکسین دستیاب ھے
جو سب سے مؤثر حفاظت ہے
●ھیپاٹائٹس سی سے بچاو کا ابھی کوئی حفاظتی ٹیکے نہیں ھے۔
●ہمیشہ نئی اور جراثیم سے پاک سرنج استعمال کریں۔
●خون لگوانے سے پہلے اس کی مکمل اسکریننگ یقینی بنائیں۔
●استرا، ریزر، نیل کٹر اور ٹوتھ برش مشترکہ استعمال نہ کریں۔
●اگر حاملہ خاتون کو ہیپاٹائٹس بی ہو تو بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ویکسین اور HBIG دینا ضروری ہے۔
■علاج کیا ہے؟
ھیپاٹائٹس سے متاثرہ ہر مریض کو دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا انحصار وائرل لوڈ،LFTs اور جگر کی حالت پر ھوتا ھے۔۔
اگر وائرس فعال ہو یا جگر متاثر ہو رہا ہو تو علاج شروع کرنا ضروری ھوتا ھے۔تاھم علاج کے ساتھ مکمل خاتمہ ممکن نہین۔صرف وائرس کو کنٹرول رکھا جاسکتا ھے
علاج کے دوران باقاعدہ فالو اپ اور ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔
ھیپاٹاٹس سی کا علاج کے ذریعے مکمل خاتمہ ممکن ھے۔
Dr Dilaram khan
Associate Professor Gastroenterology Lady Reading Hospital