Dr.inayat Ur Rehman

Dr.inayat Ur Rehman Dr inayaturrehman medical Specilst
MBBS FCPS

29/05/2026

حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کی خلافت شروع ہوتےہی سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللّہ عنہ کو بنایا گیا اور اس کے بعد ایک بڑا واقعہ رونما ہوا۔
فتحِ دمشق اور ابو القدس کا معرکہ
واقعہ یوں ہے کہ دمشق کی فتح کے بعد نئے سپہ سالار ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کے لشکر کو کچھ دن آرام دینا چاہا کیونکہ رومی جوابی حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کے چھ سات روز بعد ایک اجنبی ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے ملنے آیا اور اپنے متعلق بتایا کہ وہ عیسائی ہے اور راز کی بات بتانے آیا ہے۔
اس نے کہا: "یہاں سے کچھ دور ایک قصبہ ابو القدس ہے۔ وہاں ہر سال میلہ لگا کرتا ہے۔ دو تین روز بعد میلہ لگے گا۔ دور دور کے تاجر اپنا مال بیچنے کے لیے لائیں گے۔ اس مال میں سونے چاندی کے زیورات بھی ہوں گے، ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھر بھی ہوں گے۔ اس کے علاوہ جن اشیاء کی دکانیں لگیں گی وہ بہت ہی قیمتی اشیاء ہوں گی۔ میلے میں جو خریدار آئیں گے وہ ہر سال کی طرح بڑے ہی دولت مند لوگ ہوں گے۔ یہ رومیوں کا میلہ ہے اور رومیوں سے آپ کی دشمنی اور جنگ ہے۔ تین چار روز بعد آپ اچانک میلے پر چھاپہ ماریں اور یہ سب مال و دولت آپ کا مالِ غنیمت ہو گا۔ اتنا قیمتی مالِ غنیمت آپ کو دس قلعوں سے بھی نہیں مل سکتا۔"
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ وہ خود عیسائی ہے اور رومی بھی عیسائی ہیں اور اس میلے میں عیسائی ہی آئیں گے یا یہودی تاجر ہوں گے، پھر وہ اپنے مذہب کے لوگوں کو کیوں لٹوانا چاہتا ہے؟
"میں کٹر عیسائی ہوں" اس عیسائی نے کہا، "کیا آپ نہیں جانتے کہ رومی جب عیسائی نہیں ہوا کرتے تھے تو ان کے ایک بادشاہ نے زندہ عیسائیوں کو شیروں کے آگے ڈالا تھا اور شیر انہیں چیر پھاڑ کر کھا گئے تھے؟ یہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے والے رومی ہی تھے۔ اس کے ایک زمانے بعد انہوں نے عیسائیت قبول کر لی تو کیا ہوا۔ یہ رومی اب بھی ویسے ہی بادشاہ ہیں جیسے عیسائی ہونے سے پہلے تھے۔ یہ لوگ رعایا کو انسانیت کا درجہ دیتے ہی نہیں۔ آپ نے جو علاقے فتح کیے ہیں میں نے وہاں جا کے دیکھا ہے، آپ عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو کمتر رعایا نہیں بلکہ اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں۔ میں رومیوں کے ظلم و ستم کا کچلا ہوا انسان ہوں۔ میں اگر مسلمان نہیں تو کیا ہوا، میں عربی تو ہوں، میں رومیوں کی غلامی کو تسلیم نہیں کرتا۔"
مختصر یہ کہ اس عیسائی نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو قائل کر لیا کہ انہیں اس میلے پر چھاپہ مارنا چاہیے۔ "میں آپ کو یہ بھی بتا دوں" عیسائی نے کہا، "ابو القدس کے ارد گرد اور دور دور تک رومی فوج کا نام و نشان نہیں۔ آپ کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ رومی فوج کے کچھ دستے طرابلس میں ہیں، وہاں سے وہ بروقت ابو القدس نہیں پہنچ سکتے۔ انہیں اطلاع دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔"
اس عیسائی کے جانے کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سالاروں کو بتایا کہ ایک عیسائی عرب انہیں کسی موٹے اور آسان شکار کی خبر دے گیا ہے۔
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "ابو القدس رومیوں کے علاقے میں ہے اور رومیوں سے ہماری جنگ ہے، اس لیے اس میلے پر چھاپہ مارنے میں ہم حق بجانب ہیں۔ کوئی خطرہ بھی نہیں، رومی فوج وہاں سے بہت دور ہے، اس لیے میں کسی کو حکماً نہیں بھیجوں گا۔ جو کوئی اس چھاپے کی کمان لینا چاہتا ہے وہ آگے آ جائے اور پانچ سو گھوڑ سوار منتخب کر لے۔"
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سالاروں کو باری باری دیکھا اور ان کی نظریں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پھر گئیں۔ انہیں توقع تھی کہ خالد رضی اللہ عنہ اس چھاپے کے لیے فوراً تیار ہو جائیں گے لیکن خالد رضی اللہ عنہ کا چہرہ بے تاثر تھا اور وہ چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔
"میں جاؤں گا!" ایک آواز اٹھی۔
سب نے ادھر دیکھا۔ وہ ایک نوجوان تھا جس کے چہرے پر داڑھی ابھی آئی ہی تھی۔ "تو ابھی کمسن اور ناتجربہ کار ہے ابنِ جعفر!" ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر خالد رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا لیکن وہ یوں چپ چاپ بیٹھے رہے جیسے اس کام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
نوجوان نے کہا: "میں گھر سے یہاں سیر و تفریح کے لیے تو نہیں آیا، مجھ پر اپنے شہید باپ کا قرض ہے۔ آپ سب کو معلوم ہے کہ میرا باپ جنگ میں شہید ہوا تھا۔ میں نے اس کے خون کا قرض اتارنا ہے۔ میں کم عمر تو ہوں، خدا کی قسم، بزدل نہیں ہوں اور میں تجربہ کار نہیں مگر اناڑی بھی نہیں۔ میرا حوصلہ نہ توڑیں۔ میں بہت کچھ سیکھ کر آیا ہوں۔ جب آپ کہتے ہیں کہ وہاں رومی فوج ہے ہی نہیں تو میرے لیے آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔"
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: " ابنِ جعفر! میں تیرا حوصلہ نہیں توڑوں گا۔ میں تجھے پانچ سو چنے ہوئے سوار دیتا ہوں، ان کی کمان تیرے ہاتھ ہو گی۔"
ایک نوجوان کو پانچ سو گھوڑ سواروں کی کمان دینا بظاہر دانشمندی نہیں تھی لیکن یہ نوجوان کوئی عام سا نوجوان نہیں تھا۔ اس کا نام عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی جعفر رضی اللہ عنہ (طیار) کے بیٹے تھے۔ جعفر رضی اللہ عنہ موتہ کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ابو القدس جانے کی تیاری کرنے لگا۔ چھاپہ تین چار روز بعد مارنا تھا۔
تین چار دنوں بعد نوجوان عبداللہ رضی اللہ عنہ پانچ سو چنے ہوئے گھوڑ سواروں کے ساتھ ابو القدس کو رخصت ہوا۔ اس کے ساتھ مشہور و معروف جانباز مجاہد اور رسالت کے شیدائی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
یہ دستہ 14 اکتوبر 634ء کی رات روانہ ہوا تھا۔ شعبان کی پندرہ تاریخ تھی، چاند پورا تھا اور صحرا کی چاندنی بڑی ہی شفاف تھی۔
اس چھاپہ مار دستے نے رات ہی رات سفر طے کر لیا۔ صبح طلوع ہو رہی تھی جب یہ دستہ ابو القدس کے مضافات میں پہنچ گیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دستے کو اس انتظار میں ذرا دور ہی روک لیا کہ میلے کی دکانیں کھل جائیں۔
میلہ تو خیموں، شامیانوں اور قناتوں کا ایک خوبصورت گاؤں تھا۔ دکانیں کھلیں تو اندازہ ہوا کہ مال کس قدر قیمتی ہے۔ سورج ذرا اوپر آنے تک میلہ انسانوں سے بھر گیا۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سواروں کو حکم دیا کہ میلے کو گھیرے میں لے لیا جائے۔
پانچ سو سواروں نے گھوڑوں کو ایڑیں لگا دیں اور میلے کو گھیرے میں لینے لگے۔ اچانک کم و بیش پانچ ہزار رومی گھوڑ سوار کہیں سے نکل آئے۔ وہ صحرائی آندھی کی مانند آئے اور پھیل کر مسلمان سواروں کو گھیرے میں لے لیا۔ کہاں پانچ ہزار اور کہاں پانچ سو، وہ بھی گھیرے میں آتے ہوئے!
مجاہدین گھیرے سے نکلنے کے لیے گھوڑے ادھر ادھر دوڑانے لگے لیکن ہر طرف رومی سواروں کی تہہ در تہہ دیوار کھڑی تھی جو انہیں روک لیتی۔ مسلمان ہر محاذ پر قلیل تعداد میں لڑے ہیں، دس ہزار مجاہدین نے ایک لاکھ کفار کا مقابلہ کیا ہے لیکن اس صورت میں کہ وہ جنگی ترتیب میں سالاروں کی ہدایات پر لڑتے تھے، مگر یہاں وہ اچانک اور غیر متوقع گھیرے میں آ گئے۔ مورخ واقدی اور بلاذری لکھتے ہیں کہ ان پانچ سو مجاہدین نے بھاگنے کی کوشش ترک کر کے دو بدو مقابلہ شروع کر دیا۔
مجاہدین انفرادی طور پر لڑ رہے تھے۔ یہ تو زندگی اور موت کا معرکہ تھا۔ مجاہدین بے جگری سے لڑے مگر ناممکن تھا کہ ایک ایک سوار دس دس سواروں کا مقابلہ کرتا اور زندہ نکل آتا۔ مقابلہ تو انہوں نے کیا اور خوب کیا، اور رومیوں کی تلواروں اور برچھیوں سے کٹتے چلے گئے۔ وہ پھیل گئے اور اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔
ایک مجاہد معلوم نہیں کس طرح معرکہ شروع ہونے سے پہلے ہی نکل گیا تھا۔ فاصلہ کوئی ایسا زیادہ نہیں تھا۔ یہ مجاہد گھوڑا دوڑاتا اپنے لشکر میں پہنچا اور سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ابو القدس میں کیا ہوا ہے۔
اس سوار نے کہا: "میں نے یہ نہیں دیکھا کہ رومیوں کا گھیرا مکمل ہونے سے پہلے ہمارے سوار وہاں سے نکل سکے تھے یا نہیں۔ اگر نہیں نکل سکے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہو گا۔"
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ انہیں اب احساس ہوا کہ یہ تو جال تھا جو رومیوں نے بچھایا تھا اور اس عیسائی کو اس لیے بھیجا گیا تھا کہ مسلمانوں کو اس جال میں لائے، میلے کو جال میں دانے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
اس مہم کے خطرناک ہونے کے امکانات موجود تھے کیونکہ ابو القدس دشمن کے علاقے میں تھا۔
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو جب اطلاع ملی، اس وقت تقریباً تمام سالار ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ سب پر سناٹا طاری ہو گیا۔ سب کی نظریں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جم گئیں اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی نگاہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چہرے پر لگی ہوئی تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ ان پانچ سو فریب خوردہ سواروں کو خالد رضی اللہ عنہ ہی بچا سکتے ہیں، لیکن خالد رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے، البتہ ان کے چہرے پر پریشانی کا تاثر نمایاں تھا۔
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور دیگر سالاروں کا خیال تھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ معزولی کے ردِ عمل کے تحت اس کام میں دلچسپی نہیں لیں گے۔
"ابو سلیمان!" ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے مخاطب ہو کر التجا کے لہجے میں کہا، "اللہ کے نام پر ابو سلیمان! تو ہی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے، تو ہی ان کو گھیرے سے نکال سکتا ہے۔ ایک لمحہ ضائع نہ کر۔"
"اللہ کی مدد سے میں ہی انہیں گھیرے سے نکالوں گا،" خالد رضی اللہ عنہ نے اٹھتے ہوئے کہا، "میں تیرے حکم کا منتظر تھا امین الامت!"
"معلوم نہیں کیا سوچ کر میں نے تجھے حکم نہ دیا،" ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا، "یہ تو میں جانتا ہوں کہ معزولی نے تیرے دل پر کوئی اچھا اثر نہیں کیا۔"
"خدا کی قسم امین الامت!" خالد رضی اللہ عنہ نے کہا، "مجھ پر کسی بچے کو بھی سپہ سالار مقرر کر دیا جائے تو میں اس کا بھی ہر حکم مانوں گا۔ کیا میں ایسی جرات کر سکتا ہوں کہ جسے رسول اکرم ﷺ نے امین الامت کہا ہے اس کا حکم نہ مانوں؟ اور بتا دیں سب کو کہ ابو سلیمان ابنِ الولید نے اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی ہے۔"
مورخ واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "اللہ کی رحمت ہو تجھ پر!" ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے جذبات سے بوجھل آواز میں کہا، "جا اور اپنے گھرے ہوئے بھائیوں کی مدد کو پہنچ۔"
کسی بھی مورخ نے یہ نہیں لکھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ سواروں کی کتنی تعداد لے کر گئے تھے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ سوار ہی گئے ہوں گے، پیادہ ابو القدس تک بروقت نہیں پہنچ سکتے تھے۔ البتہ تاریخ میں یہ بالکل واضح ہے کہ خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ بھی تھے جو "برہنہ مجاہد" کے خطاب سے مشہور تھے۔ اس خطاب کی وجہ یہ تھی کہ ضرار رضی اللہ عنہ قمیص اتار کر اور سر ننگا کر کے لڑا کرتے تھے۔
یہ مجاہدین بڑی تیز رفتاری سے گھوڑے دوڑاتے جا رہے تھے۔ وہ تو چلے گئے، پیچھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی جذباتی حالت بگڑنے لگی۔ وہ اللہ کے حضور آہ و زاری کرنے لگے کیونکہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ مالِ غنیمت کی خاطر مجاہدین کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالنا اور ہر فیصلہ سوچ بچار کر کے اور اپنے رفیقوں سے مشورہ کر کے کرنا، نیز زمین پر جا کر دیکھ بھال ضرور کرنا۔
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ رو رو کر اللہ سے اپنی لغزش کی بخشش مانگ رہے تھے کہ انہوں نے اپنے خلیفہ کی ہدایات کو نظر انداز کر کے ایک عیسائی کی بات کو صحیح مان لیا
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور برہنہ مجاہد ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ سوار دستے کے ساتھ سرپٹ گھوڑے دوڑاتے ابو القدس پہنچ گئے۔ رومیوں کے گھیرے میں آئے ہوئے مجاہدین لڑ تو رہے تھے لیکن کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔
"تکبیر کے نعرے لگاؤ!" خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے سواروں کو حکم دیا۔
ابو القدس اور اس کے میدانِ جنگ کی فضا "اللہ اکبر" کے گرجدار نعروں سے گونجنے لگی۔ نعرے لگوانے سے خالد رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ گھیرے میں آئے ہوئے مجاہدین کو پتہ چل جائے کہ مدد آ گئی ہے، اس کے علاوہ رومیوں کو دہشت زدہ کرنا بھی مقصود تھا۔ ان نعروں کی گھن گرج میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنا مخصوص نعرہ لگایا:
انَا فَارِسُ الصَّدِيدِ، انَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ
(میں سخت حملے کرنے والا شہسوار ہوں، میں خالد بن ولید ہوں)
رومیوں نے یہ نعرہ پہلے بھی سنا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ حملہ کرتے تو یہ نعرہ لگایا کرتے تھے۔ رومیوں نے مسلمانوں سے مختلف میدانوں میں لڑ کر دیکھا تھا، خالد رضی اللہ عنہ کے اس نعرے کے ساتھ ہی رومیوں پر قیامت ٹوٹ پڑتی تھی۔ خالد رضی اللہ عنہ کا یہ نعرہ مجاہدین میں نئی روح پھونک دیا کرتا تھا۔
ابو القدس کے کارزار میں تکبیر کے نعروں کے ساتھ رومیوں نے "انا خالد بن الولید" کی للکار سنی تو ان کی توجہ گھیرے میں لیے ہوئے مجاہدین کی طرف سے ہٹ گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے سواروں کو میدانِ کارزار کے ارد گرد پھیلا دیا اور اتنا تیز حملہ کروایا کہ رومیوں کو سنبھل کر اپنی ترتیب بدلنے کی مہلت ہی نہ ملی۔ وہ اب خود گھیرے میں آ گئے تھے۔ اس وقت تک وہ بہت سے مجاہدین کو شہید اور بیشمار کو شدید زخمی کر چکے تھے۔ بچے کچھے مجاہدین کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی مدد ملی تو ان کے حوصلوں میں نئی جان آ گئی۔
رومی سوار معرکے سے نکل کر بھاگنے لگے اور وہ بھاگ بھی گئے لیکن اپنے مرے ہوئے اور شدید زخمی ساتھی جو چھوڑ گئے، ان کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ مسلمان سواروں کا جانی نقصان بھی معمولی نہ تھا۔ یہ معرکہ اتنا خونریز تھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے شہیدوں کی لاشیں اکٹھی کرنے اور شدید زخمیوں کو اٹھانے کا حکم دیا اور دوسرا حکم یہ دیا کہ میلے کی تمام دکانوں کا سامان مالِ غنیمت کے طور پر اٹھا لیا جائے۔
خالد رضی اللہ عنہ واپس دمشق پہنچے تو ان کے ساتھ بہت زیادہ اور بہت ہی قیمتی مالِ غنیمت تھا، رومیوں کے سینکڑوں گھوڑے اور ہتھیار بھی مالِ غنیمت میں شامل تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم پر کئی زخم کھا کر ثابت کر دیا کہ سپہ سالاری سے معزولی انہیں ان کے فرائض سے ہٹا نہیں سکتی۔
سپہ سالار ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ خلافت یعنی بیت المال کے لیے مدینہ بھیجا اور ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام پیغام میں تفصیل سے لکھوایا کہ کیا صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور کس طرح خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اس پیغام میں خالد رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور فرض شناسی کو دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔واللہ اعلم بالصواب اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ثم آمین ۔
امید ہے آج آپ لوگ خوش ہو گئے ہوں گے اس نئے سفر میں ہماری سپورٹ کریں کمنٹ کیا کریں اور شئیر کیا کریں شکریہ۔

06/05/2026

نن د خپلو سترگو لیدلے حال بیانوم ڈیر وحت نہ راتہ د معدے تکلیف وو نن الحیر میڈیکل سنٹر تہ ڈاکٹر عنایت الرحمن صاحب لہ لاڑم ڈاکٹر صیب رالہ چک اپ وکو میڈیسن ئی راتہ ولیکل د ڈارکٹر رشید صیب سرہ پکی ملاو شوم د دی ہسپتال پہ کار کردگئ باندے حد تمام دے یوخو دلتہ کو زنانہ راشی نو پہ ھر زئ کی بہ ورتہ زنانہ سٹاپ موجود وی بل پکی د بے وسو علاج بلکل فری دے د ڈیرو ادارو سرہ ئی ایم او یو دستحط کڑے دہ ڈیر غٹ کار کئ اللہ دی کامیاب کڑی د ہسپتال ماحول ئی بلکل د ستائنے کابل دے د ڈاکٹرصیب پہ احلاقو ھم حد تمام دے پخپلہ ئی راتہ او وی چی سوک بے وسہ ئی او بیمار ئی نو مونگ لہ ئی رالیگہ ھر سہ بہ ورتہ مفت کوو اللہ دی ورلہ اجر ورکڑی

11/03/2026

Address

Peshawar
25000

Telephone

+923329696095

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.inayat Ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.inayat Ur Rehman:

Share

Category