14/08/2026
میرا ضمیر ہر روز ایک سست موت مر رہا ہے
— جاوید جبار
کبھی کبھی رات کی تاریکی میں
میں اپنے ضمیر سے ملنے جاتا ہوں،
صرف یہ دیکھنے کے لیے
کہ شاید وہ ابھی سانس لے رہا ہو…
کیونکہ میرا ضمیر
ہر روز ایک سست موت مر رہا ہے۔
جب میں کسی پُرتعیش ریسٹورنٹ میں
ایک ایسے کھانے کی قیمت ادا کرتا ہوں
جو شاید اُس دروازے پر کھڑے گارڈ کی
پورے مہینے کی آمدنی کے برابر ہو،
اور اس خیال کو جھٹک کر
خود کو مطمئن کر لیتا ہوں—
تو میرا ضمیر کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میں سبزی والے سے سبزیاں خریدتا ہوں،
اور اس کا ننھا بیٹا "چھوٹو"
مسکراتے ہوئے آلو تولتا ہے،
حالانکہ وہ عمر اسکول جانے کی ہے،
اور میں جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھ لیتا ہوں—
تو میرا ضمیر کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میں ایک مہنگا، برانڈڈ لباس پہن کر
سڑک کے سگنل پر کھڑی ایک ایسی عورت کو دیکھتا ہوں
جس کے چیتھڑے بھی اس کی عزت ڈھانپنے سے قاصر ہیں،
اور میں فوراً گاڑی کا شیشہ اوپر کر لیتا ہوں—
تو میرا ضمیر کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میں اپنے بچوں کے لیے
مہنگے تحفے خرید کر گھر لوٹتا ہوں،
اور راستے میں سرخ بتی پر
نیم برہنہ، بھوکے بچے
کھلونے بیچتے نظر آتے ہیں،
تو میں چند کھلونے خرید کر
اپنے ضمیر کو بہلانے کی کوشش کرتا ہوں،
لیکن…
وہ پھر بھی کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میری بیمار ملازمہ
اپنی بیٹی کو اسکول سے چھٹی کروا کر
گھر کے کام کے لیے بھیج دیتی ہے،
اور میں جانتا ہوں کہ مجھے کہنا چاہیے
کہ اسے واپس اسکول بھیجو،
مگر سامنے پڑے برتنوں کا ڈھیر دیکھ کر
خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا ہوں
کہ "بس دو چار دن کی تو بات ہے"—
تو میرا ضمیر کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میں کسی بچے کے ساتھ زیادتی
یا اس کے قتل کی خبر سنتا ہوں،
دل دکھتا ہے…
مگر دل کے کسی کونے میں
یہ سوچ کر ایک عجیب سا اطمینان بھی محسوس کرتا ہوں
کہ شکر ہے، یہ میرا بچہ نہیں تھا۔
اور پھر…
میں آئینے میں خود کو دیکھ نہیں پاتا۔
میرا ضمیر کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب لوگ ذات، برادری، مسلک اور مذہب کے نام پر
ایک دوسرے سے لڑتے ہیں،
میں دکھی بھی ہوتا ہوں اور بے بس بھی،
پھر خود کو یہ کہہ کر بری الذمہ کر لیتا ہوں
کہ "ملک تو کرپٹ سیاست دانوں نے تباہ کر دیا ہے۔"
اپنی ذمہ داری کسی اور کے سر ڈال کر
میں خود کو معصوم سمجھ لیتا ہوں۔
اور میرا ضمیر…
کچھ اور مر جاتا ہے۔
جب میرا شہر آلودگی اور دھوئیں میں گھٹنے لگتا ہے،
جب اس کی فضا میں سانس لینا بھی خطرناک ہو جاتا ہے،
تب بھی میں روز اپنی گاڑی میں دفتر جاتا ہوں۔
نہ میٹرو کا انتخاب کرتا ہوں،
نہ کسی کے ساتھ گاڑی بانٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بس خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا ہوں:
"ایک گاڑی سے کیا فرق پڑے گا؟"
اور میرا ضمیر…
کچھ اور مر جاتا ہے۔
پھر کبھی
رات کی خاموشی میں
میں دوبارہ اپنے ضمیر کے پاس جاتا ہوں۔
اور جب دیکھتا ہوں
کہ وہ اب بھی سانس لے رہا ہے
تو مجھے حیرت ہوتی ہے۔
کیونکہ میں تو
اپنے ہی ہاتھوں سے
ہر روز، تھوڑا تھوڑا کر کے
اسے مارتا رہا ہوں…
اسے دفن کرتا رہا ہوں…
پھر بھی وہ زندہ ہے۔
شاید اسے ضمیر کہتے ہی اسی لیے ہیں—
کہ انسان اسے مارنے کی کتنی ہی کوشش کرے،
وہ مکمل طور پر مرتا نہیں۔