Pharmacists Association Balochistan

Pharmacists Association Balochistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pharmacists Association Balochistan, Pharmaceuticals, Pakistan pharmacist Association office Quetta, Quetta.

Real vision , hope , efforts for pharmacists and pharmacy profession and truely symbol of best movement for the due Rights of Pharmacists and Drug inspectors of Balochistan...

A symbol of Resistance and Change for Balochistan Pharmacists & Drug inspectr

18/08/2026

"From Pharmacist to Entrepreneur – That’s True Courage"

A young pharmacist from the University of Balochistan.
He completed his degree, did 2 internships from our country's best pharmaceutical institutes

He applied everywhere… but unfortunately there was no merit,

He didn’t give up. He didn’t sit at home.
Today, he is running a small business – selling fries, and burgers – earning halal rizq with dignity and hard work.

This is not failure. This is the first step to success.

This is what a real pharmacist looks like – someone who fights circumstances, instead of surrendering to them.

Message to all youth:

If you don’t get a job, don’t stop. Create your own path. Allah never wastes hard work._

We are proud of you brother.

You can find his cart at Bite N Taste

May Allah put barakah in your business.

A small GEO news story on our star ⭐



ٹراما سینٹر کے فارماسسٹ انٹرویو کو مسترد کرتے ہیں .انٹرویو لینے والے خود ٹراما سینٹر میں سفارشی بنیادوں پر بھرتی ہوئے تھ...
17/08/2026

ٹراما سینٹر کے فارماسسٹ انٹرویو کو مسترد کرتے ہیں .انٹرویو لینے والے خود ٹراما سینٹر میں سفارشی بنیادوں پر بھرتی ہوئے تھے

بے روزگار فارماسسٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان

بے روزگار فارماسسٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آج ٹراما سینٹر میں فارماسسٹ کی ایک پوسٹ کے لیے منعقد کیے گئے انٹرویو کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ سینکڑوں بے روزگار نوجوان فارماسسٹوں نے انٹرویو میں شرکت کی، لیکن انٹرویو کے نام پر صرف شناختی کارڈ لیے گئے، حال چال پوچھا گیا اور امیدواروں کو بغیر کسی مؤثر جانچ پڑتال کے فارغ کیا جاتا رہا۔ انٹرویو لینے والے خود بھی سفارش کی بنیاد پر ٹراما سینٹر میں بھرتی ہوئے تھے۔ ایسا انٹرویو میرٹ نہیں بلکہ محض ایک رسمی کارروائی محسوس ہوتا ہے۔

مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ انٹرویو لینے والے افراد میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کی اپنی تعیناتی پر سفارش کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ آج وہی افراد بے روزگار فارماسسٹوں کے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

اگر یہی میرٹ ہے تو پھر سفارش اور میرٹ میں فرق کیا رہ گیا؟

وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے میرٹ کے بلند و بانگ دعوے اور تقاریر اپنی جگہ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کو میرٹ کہیں نظر نہیں آتا۔

بے روزگار فارماسسٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان واضح کرتی ہے کہ ایسے نام نہاد انٹرویوز، سیاسی اثر و رسوخ اور من پسند افراد کی تعیناتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹراما سینٹر کے مذکورہ انٹرویو کے عمل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، بھرتی کا عمل غیر جانب دار ادارے کے ذریعے کرایا جائے اور تمام امیدواروں کو برابر کا موقع فراہم کیا جائے۔

میرٹ کے نام پر بندر بانٹ نامنظور!
سفارش اور سیاسی بھرتیاں نامنظور!
بے روزگار فارماسسٹوں کے حقوق پر سمجھوتہ نامنظور!

12/08/2026

🙌🏻

✨
04/08/2026

بلوچستان میں بڑھتی بے روزگاری کے باعث جہاں ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ملازمتوں کے منتظر ہیں وہیں ایک نوجوان نے حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے خود روزگار اختیار کر کے دوس....

26/07/2026

Dr Syed Musavir Shah

"From Pharmacist to Entrepreneur – That’s True Courage"

A young pharmacist from the University of Balochistan.
He completed his degree, did 2 internships, and got training from top hospitals in the country.

He applied everywhere… but there was no merit,

He didn’t give up. He didn’t sit at home.
Today, he is running a small business – selling fries, and burgers – earning halal rizq with dignity and hard work.

This is not failure. This is the first step to success.

This is what a real pharmacist looks like – someone who fights circumstances, instead of surrendering to them.

Message to all youth:
If you don’t get a job, don’t stop. Create your own path. Allah never wastes hard work._

The entire Balochistan Pharmacist Association stands with you.

We are proud of you brother.

You can find his cart at Bite N Taste Fries

May Allah put barakah in your business.

*Main Announcement*University of Balochistanis going to organize for the First Time in HistoryPharmacy Graduates Alumni ...
23/06/2026

*Main Announcement*
University of Balochistan
is going to organize for the First Time in History
Pharmacy Graduates Alumni Get-together
Registration Details
Main Banner: Registrations are Now Open!
Deadline: Last Date to Register: *30th July 2026*
Event Invitation Text
Join us for networking, reminiscing, and celebrating achievements with fellow alumni. An exclusive gathering you won't want to miss!
Registration Link below

https://forms.gle/eJWTereqTVGw9Dfb9

17/06/2026

بلوچستان ,بجٹ، احتجاج اور جواب دہی کافقدان۔

بلوچستان اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش ہو گیا۔ جمہوری نظام میں بجٹ محض آمدن و اخراجات کی تفصیلات کا نام نہیں بلکہ یہ حکومت کی ترجیحات، عوام کے ساتھ اس کے تعلق اور اس کی سیاسی سوچ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب عوام اپنے منتخب نمائندوں کی جانب دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل، مشکلات اور توقعات کی کس حد تک ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن بلوچستان کے سیاسی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے ایک سوال شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے کہ آخر اس صوبے میں عوامی مسائل پر مؤثر آواز کون اٹھا رہا ہے؟
آج بجٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان گرینڈ الائنس نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہیں وفاقی حکومت کے طرز پر ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس نہیں دیا گیا، مہنگائی کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ نے ان کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کے مطالبات پر سنجیدہ توجہ دینے کے بجائے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ احتجاج سے قبل گرفتاریوں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ نے اس احساس کو مزید گہرا کیا کہ حکومت مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے انتظامی اقدامات سے دینا چاہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ احتجاج کو صرف آج کے واقعات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے اندر پائی جانے والی بے چینی گزشتہ برس کے تجربات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ملازمین کی قیادت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ سال بھی جب وفاقی حکومت نے اپنے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دیا تو بلوچستان کے ملازمین نے بھی اسی طرز پر اپنے حق کا مطالبہ کیا۔ اس دوران احتجاجی تحریکیں چلیں، مذاکرات ہوئے، یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن بالآخر صوبائی ملازمین اس الاؤنس سے محروم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے ملازمین موجودہ صورتحال کو محض ایک نئے تنازع کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی سمجھتے ہیں جس میں وعدے تو بہت کیے گئے لیکن عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
اس پس منظر میں جب وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر 15 فیصد اضافی ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دیا گیا اور بلوچستان حکومت نے بجٹ میں اس کا اعلان نہیں کیا تو ملازمین کے اندر پائی جانے والی مایوسی اور احساسِ محرومی میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف ایک الاؤنس کا نہیں بلکہ مساوی سلوک، معاشی انصاف اور حکومتی وعدوں کی پاسداری کا بھی ہے۔
گرینڈ الائنس کی جانب سے کل سے صوبے بھر میں تمام سرکاری دفاتر، سکولوں اور کالجوں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاملات اب محض مطالبات اور جوابی بیانات کی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا بحران نمایاں ہو چکا ہے۔ اگر تعلیمی ادارے، دفاتر اور دیگر سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو اس کے اثرات پورے صوبے پر مرتب ہوں گے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت کی سیاسی بصیرت، تحمل اور معاملہ فہمی کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
بلوچستان کی سیاست کا ایک اہم المیہ یہ ہے کہ عوام کو اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسمبلی کے اندر موجود سیاسی قوتیں عوامی مسائل پر وہ شدت اور سنجیدگی نہیں دکھا رہیں جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وہ واضح فاصلہ دکھائی نہیں دیتا جو ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بجٹ اجلاسوں میں عوامی مسائل پر وہ بھرپور بحث، مؤثر مزاحمت اور سخت احتساب کم ہی نظر آتا ہے جو عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب سرکاری ملازمین، اساتذہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر سرکاری شعبوں سے وابستہ افراد اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو عوام کے ایک حلقے کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اسمبلی کے باہر موجود یہ آوازیں ان کے روزمرہ مسائل اور معاشی مشکلات کی زیادہ مؤثر ترجمانی کر رہی ہیں۔ یہ تاثر خواہ درست ہو یا غلط، لیکن اس کا پیدا ہونا خود سیاسی نظام کے لیے ایک اہم سوال ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ مسلسل جوابدہی، مکالمے اور عوامی رائے کے احترام کا نام ہے۔ جب کسی حکومت کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہونے لگے کہ وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنے، تنقید سننے اور مختلف طبقات کے تحفظات دور کرنے کے بجائے محض اپنی پوزیشن برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے تو اعتماد کی فضا کمزور پڑنے لگتی ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے نمائندے صرف اقتدار کے ایوانوں میں موجود نہ ہوں بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لیے بھی متحرک دکھائی دیں۔
بلوچستان جیسے حساس اور پیچیدہ حالات کے حامل صوبے میں یہ معاملہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ یہ صوبہ پہلے ہی سیاسی بے چینی، معاشی مشکلات، بے روزگاری، پسماندگی اور گورننس کے متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں معاشرے کے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقات کے ساتھ مسلسل کشیدگی کسی بھی طور پر مثبت نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔ اساتذہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر سرکاری ملازمین محض تنخواہ دار افراد نہیں بلکہ وہ ریاستی نظام کے بنیادی ستون ہیں جن کے ذریعے تعلیم، صحت اور انتظامی خدمات عوام تک پہنچتی ہیں۔
موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ ان کے مسائل پر سب سے زیادہ مؤثر آواز اسمبلی کے اندر سے نہیں بلکہ اسمبلی کے باہر سے بلند ہو رہی ہے۔ اگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا گیا تو یہ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہوگا۔
بلوچستان کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ طاقت کے اظہار سے زیادہ مکالمے کی اہمیت ہے، خاموشی سے زیادہ جوابدہی کی ضرورت ہے اور سیاسی برتری کے احساس سے زیادہ عوامی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت اسمبلی کی عمارتوں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو محض عددی اکثریت بھی سیاسی مضبوطی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

24/04/2026

پی ایم ڈی سی کے خط کے تناظر میں فارماسسٹس کا کردار، دائرۂ اختیار اور قومی ضرورت

تحریر۔ عصمت آغا

پاکستان کے صحت کے نظام میں اس وقت ایک اہم بحث جاری ہے جس نے پیشہ ورانہ حدود، قانونی دائرۂ اختیار اور مریضوں کے مفاد سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں Pakistan Medical and Dental Council کی جانب سے وزارتِ صحت کو ایک خط لکھا گیا جس میں فارماسسٹس کی کلینیکل پریکٹس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ اس سے عطائیت کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا جب Allied Health Sciences Council کی جانب سے بعض allied health professionals اور ٹیکنیکل شعبوں سے وابستہ افراد کو محدود پریکٹس کی اجازت دی گئی۔
یہاں سب سے پہلے قانونی اور ادارہ جاتی دائرۂ اختیار کو سمجھنا ضروری ہے۔ Pakistan Medical and Dental Council بنیادی طور پر ڈاکٹروں اور ڈینٹل پروفیشنلز کی رجسٹریشن، تعلیم، تربیت اور ضابطہ کار کا ادارہ ہے۔ اس کا دائرہ اختیار میڈیکل اور ڈینٹل شعبوں تک محدود ہے۔ دوسری جانب Pharmacy Council of Pakistan فارماسسٹ کی رجسٹریشن، فارمیسی تعلیم، پیشہ ورانہ معیار اور ضابطہ بندی کا قانونی ادارہ ہے، جو Pharmacy Act 1967 کے تحت قائم ہے۔ اسی طرح Allied Health Sciences Council allied health disciplines، ٹیکنالوجسٹ اور متعلقہ شعبوں کی نگرانی سے متعلق ادارہ ہے۔ اس تناظر میں فارماسسٹس کو allied technicians کے ساتھ ملانا یا ان کے دائرے میں شمار کرنا قانونی و پیشہ ورانہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
فارماسسٹ کا بنیادی شعبہ ادویات ہے۔ جس طرح ڈاکٹر بیماری کی تشخیص اور مجموعی علاج کے ماہر ہوتے ہیں، اسی طرح فارماسسٹ دوا کے انتخاب، تیاری، مؤثر استعمال، محفوظ خوراک، drug interactions، adverse effects اور مریض کے لیے بہترین therapeutic plan کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس لیے فارماسسٹ کی کلینیکل پریکٹس کو غیر متعلق قرار دینا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔
دنیا بھر میں کلینیکل فارماسسٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر مریضوں کے علاج میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ مریض کی ادویات کا جائزہ لیتے ہیں، خوراک درست کرتے ہیں، گردوں یا جگر کے مریضوں میں dose adjustment کرتے ہیں، ایک دوا کے دوسری دوا سے خطرناک interaction کو روکتے ہیں اور غیر ضروری ادویات کم کرتے ہیں۔ آئی سی یو، ایمرجنسی، کارڈیالوجی، آنکولوجی اور ٹرانسپلانٹ یونٹس میں کلینیکل فارماسسٹ کی موجودگی علاج کے نتائج بہتر بناتی ہے۔
فارماسسٹس کے prescription writing کے حوالے سے بھی دنیا میں واضح پیش رفت ہو چکی ہے۔ United Kingdom، Canada اور Australia سمیت کئی ممالک میں تربیت یافتہ فارماسسٹس کو supplementary prescribing یا independent prescribing کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ڈاکٹر کا متبادل بنانا نہیں بلکہ علاجی ٹیم کو مضبوط کرنا ہے تاکہ chronic diseases، asthma، diabetes اور medication review جیسے شعبوں میں مریضوں کو بروقت سہولت مل سکے۔
پاکستان میں بھی اگر مناسب قانون سازی، تربیت، لائسنسنگ اور نگرانی کے ساتھ فارماسسٹ کو محدود و منظم prescription authority دی جائے تو صحت کے نظام پر بوجھ کم ہو سکتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور بنیادی مراکز صحت میں۔ یہ عطائیت نہیں بلکہ professional regulation ہو گا، کیونکہ فارماسسٹ رجسٹرڈ، تربیت یافتہ اور جوابدہ پروفیشنلز ہوتے ہیں۔
ادویات کے generic names کے استعمال میں فارماسسٹ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ برانڈ ناموں کی بجائے generic prescribing سے علاج سستا، شفاف اور قابلِ رسائی ہوتا ہے۔ فارماسسٹ bioequivalence، formulation quality اور therapeutic substitution کو سمجھتے ہیں، اس لیے وہ مریض کو مناسب اور کم قیمت متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگی ادویات علاج میں رکاوٹ بنتی ہیں، وہاں فارماسسٹ قومی سطح پر generic medicine policy کے محافظ ثابت ہو سکتے ہیں۔
فارماسسٹ صرف موجودہ ادویات استعمال نہیں کرتے بلکہ نئی ادویات کی تحقیق و تخلیق میں بھی بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ Drug discovery، medicinal chemistry، pharmaceutics، pharmacology، biotechnology، clinical trials، vaccine development اور pharmacovigilance جیسے شعبوں میں فارماسسٹ کی مہارت مسلمہ ہے۔ نئی دوا کے تصور سے لے کر مارکیٹ تک پہنچنے کے ہر مرحلے میں فارماسسٹ شامل ہوتے ہیں۔
یہ کہنا کہ فارماسسٹس کی کلینیکل پریکٹس عطائیت کو فروغ دیتی ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔ عطائیت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں غیر تربیت یافتہ اور غیر رجسٹرڈ افراد علاج کریں۔ فارماسسٹ تو وہ پروفیشنلز ہیں جن کی تعلیم evidence-based medicine، drug safety اور patient care پر مبنی ہوتی ہے۔
پاکستان کو ادارہ جاتی تصادم نہیں بلکہ collaborative healthcare model کی ضرورت ہے، جہاں ہر کونسل اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں کام کرے اور تمام شعبے مریض کے مفاد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک میں کلینیکل فارمیسی سروسز، medication review clinics، pharmacovigilance centers، generic prescribing policies اور research-based pharmacy practice کو فروغ دیا جائے۔ فارماسسٹ کو محدود کرنا ماضی کی سوچ ہے، جبکہ فارماسسٹ کو قومی صحت کے نظام میں مؤثر کردار دینا مستقبل کی ضرورت ہے۔

04/12/2025

پی پی اے کے مرکزی انتخابات کے سلسلے میں
بلوچستان کے کونے کونے سے کوہیٹہ پہنچنے والے تمام فارماسسٹس کو خوش آمدید

Address

Pakistan Pharmacist Association Office Quetta
Quetta
87300

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00

Telephone

+923138329424

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pharmacists Association Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pharmacists Association Balochistan:

Shortcuts

Share