13/05/2026
کئی لوگ برسوں علاج کرواتے رہتے ہیں…
ڈاکٹر بدلتے ہیں…
دوائیں بدلتے ہیں…
لیکن حالت پھر بھی ویسی کی ویسی رہتی ہے۔
ایک خاتون ہمارے پاس آئیں۔
ان کے ہاتھ میں میڈیکل رپورٹس کا بڑا پلندہ تھا۔
کہنے لگیں:
“مولانا صاحب…
دل ہر وقت گھبراتا رہتا ہے…
رات بھر نیند نہیں آتی…
کبھی جسم میں شدید کمزوری محسوس ہوتی ہے…
کبھی اچانک طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے…
سمجھ نہیں آتا آخر مسئلہ کیا ہے…”
انہوں نے بتایا کہ
وہ کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو دکھا چکی ہیں۔
ہر بار ایک ہی جواب ملا:
“رپورٹس بالکل نارمل ہیں…”
لیکن حقیقت یہ تھی
کہ ان کی زندگی نارمل نہیں رہی تھی۔
دل بے چین…
مزاج میں غصہ…
عبادت میں دل نہ لگنا…
ہر وقت تھکن اور اداسی…
ایسی کیفیت بعض اوقات صرف جسمانی بیماری نہیں ہوتی۔
میں نے ان سے کہا:
“جب علاج، ٹیسٹ اور دوائیں سب کچھ ہو چکے ہوں
اور پھر بھی مسئلہ ختم نہ ہو…
تو انسان کو اپنی روحانی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے۔”
پھر ان کا نام اور والدہ کا نام لے کر روحانی چیکنگ کی گئی۔
چیکنگ میں معلوم ہوا
کہ ان پر کافی عرصے سے روحانی اثرات موجود تھے
جنہوں نے آہستہ آہستہ ان کی ذہنی اور جسمانی کیفیت کو متاثر کیا ہوا تھا۔
مزید حیرت کی بات یہ تھی
کہ ان کے خاندان میں پہلے بھی اسی طرح کی پراسرار بیماریاں موجود رہی تھیں۔
پھر ان کے لیے قرآنی وظائف، منزل اور روحانی علاج شروع کیا گیا۔
چند ہی دنوں میں
ان کی نیند بہتر ہونے لگی…
دل کا خوف کم ہونے لگا…
اور طبیعت میں سکون محسوس ہونے لگا۔
یاد رکھیں…
ہر تکلیف صرف جسم کی بیماری نہیں ہوتی۔
بعض مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں
جنہیں میڈیکل رپورٹس ظاہر نہیں کرتیں۔
اگر تمام رپورٹس نارمل ہوں
لیکن بے سکونی، گھبراہٹ، ڈر، مسلسل تھکن یا عجیب کیفیات ختم نہ ہوں
تو اپنی روحانی اصلاح اور روحانی رہنمائی کی طرف بھی توجہ ضرور دیں۔
روحانی معالج
مولانا معاذ صدیقی نقشبندی شاذلی