07/06/2026
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ڈاکٹرز کے اوپر ہونے والے تشدد میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے بلوچستان میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو تیزاب سے نہلا دینا درندگی کی سب سے بڑی مثال ہے پاکستان وہ ملک ہے جس میں ابادی کے تناسب سے کئی جگہ ایسی ہیں جہاں پہ 20 ہزار بندے کے لیے بھی ایک ڈاکٹر نہیں جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر 1000 لوگوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے .
پہلی دفعہ 760 کے قریب سیٹیں MBBS کی لیے خالی گئی ہیں . 40 پرسنٹ خواتین جو لیڈی ڈاکٹر بنتی ہیں وہ موجودہ حالات میں اپنی پریکٹس جاری نہیں رکھ پاتی۔ یہ موجودہ جنریشن کا رجحان بتا رہا ہے کہ ایم بی بی ایس اور اس کے بعد کے حالات سازگار نہیں . صرف 2025 میں 4 ہزار کے قریب ڈاکٹر ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے . ہمارے ایک کولیگ ڈاکٹر جس کی پاکستان میں جس کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار تھی تھی سعودیہ 25 ہزار ریال میں اس کی نوکری ہو گئی اور وہ یہ ملک چھوڑ کر سعودیہ چلے گئے. ایسا تناسب کسی اور فیلڈ میں نہیں ہے کہ پاکستان میں صرف ڈیڑھ لاکھ ملے اور کسی بھی دوسرے ملک میں 20 لاکھ ملے . ایسی ہزاروں Example ہیں جن میں کوالیفائیڈ ڈاکٹر مشکل حالات میں اب ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں.
موجودہ حالات میں جو ڈاکٹر بچ گئے ہیں ان میں سے بھی اکثر مشکل حالات میں پس رہے ہوتے ہیں . کبھی عوام ان کو مار رہی ہوتی ہے کبھی ان کا غلط میڈیا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے اور کبھی وہ کم تنخواہ کے وجہ سے اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کے تانے سن رہے ہوتے ہیں . ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحت کے شعبے میں ہونے والی تمام مسائل کی جڑ یہ معصوم جونیئر ڈاکٹر ہی ہیں .
سینیئر کی بےعزتی کا خوف' مریض کے تیمارداروں کے ڈراوے کا خوف' بیوروکریسی کے زیر عتاب انے کا خوف' سب سے لمبی ڈیوٹیوں کا خوف یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے اب ڈاکٹرز زیادہ دباؤ میں رہتے ہیں پاکستان جیسے ملک میں جہاں وسائل بہت زیادہ نہیں ہیں اور اگر گائیڈ لائن کے مطابق چلا جائے تو شاید سارے کے سارے ہسپتال مریضوں سے بھرنا شروع ہو جائین.
جو لوگ UK رہتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں اگر وہ دانتوں کے درد کے ساتھ جائیں یا کسی اور تکلیف کے ساتھ جائیں تو چار چار گھنٹے انتظار کرتے ہیں اور اگر کسی ڈاکٹر کے اوپر تشدد کرنے کا سوچیں بھی تو دس دس سال جیل میں رہتے ہیں لیکن ہمارے پیارے دیس میں سرکاری عملے کو کٹ چڑھانے کے بعد ہیرو بھی بنا دیا جاتا ہے . وہاں پورے دن 15 سے 20 سے زیادہ مریض ایک ڈاکٹر نہیں دیکھ سکتا لیکن یہاں پہ سرکاری او پی ڈی میں 100 سے زیادہ مریضوں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے جو کہ کسی انسان کے لیے ناممکن ہے .
حالات اگر اسی طرح رہے تو پاکستان میں نہ صرف ڈاکٹروں کی کمی ہو جائے گی بلکہ کوئی ڈاکٹر بھی کسی مریض کے بارے میں وہ مشکل فیصلہ نہیں لے پائے گا جو ان کی زندگی بچا سکے. بلکہ اس خوف سے کہ اس کے اٹینڈنٹ شاید ہمیں کچھ کہہ نہ دیں وہ ایسے فیصلے لیتے ہوئے شدید ڈرے گا جو مریض کی جان بچانے کے لیے ضروری ہیں .
اب وقت اگیا ہے کہ میڈیکل پروفیشن کو بچانے کے لیے سیریس بنیادوں پہ سوچنا ہوگا ورنہ اگلے 10 سال بعد پاکستان میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہو جائے گی مریض اور ان کی زندگیاں ایسے لوگوں کے ہاتھ ہوں گی جو نان ڈاکٹرز یا عطائی بن کر گلی محلوں میں بیٹھے ہیں اور جو مرضی فیصلے کریں ان کو کوئی پوچھ نہیں پائے گا.
fans Waleed Abbasi