Dr Mazhar Abbas at Izhar children clinic

Dr Mazhar Abbas  at Izhar children clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Mazhar Abbas at Izhar children clinic, Paediatrician, Rawalpindi.

Currently paediatrician Quaid e Azam international Hospital

Looks after children with diff ILLNESSES 31 yrs Experience as paediatrician and 21 years with special children as Head
of Paeds Medicine at National Institute of Rehabilitation Islamabad

01/06/2026

*بچوں میں خونی پیچش Dysentery اور اسہال Diarrhea میں فرق*

دونوں میں پتلے پاخانے آتے ہیں، لیکن وجہ، علامات اور خطرہ بالکل الگ ہے:

1. *اسہال / Diarrhea / پانی والے دست*
*کیا ہے*: پاخانے بار آئیں، پتلے یا بالکل پانی کی طرح ہوں، دن میں 3+ بار۔

*وجہ*: وائرس سب سے عام - روٹا وائرس، خراب کھانا، دودھ سوٹ نہ کرنا۔ بیکٹیریا بھی ہو سکتے ہیں۔

*اہم علامات*:
- پانی جیسے پاخانے، بغیر خون کے
- متلی، قے، پیٹ درد ہلکا
- بخار ہلکا یا نہ بھی ہو
- پاخانے کی تعداد زیادہ، مقدار کم

*خطرہ*: اصل خطرہ پانی کی کمی / Dehydration ہے۔ خون نہیں آتا اس لیے آنت کو نقصان کم ہوتا ہے۔

2. *خونی پیچش / Dysentery / Amoebic/Bacillary Dysentery*
*کیا ہے*: آنت کی سوزش + زخم۔ پاخانے میں خون اور پیپ آتی ہے۔

*وجہ*: بیکٹیریا _Shigella_، _Salmonella_ یا امیبا _Entamoeba histolytica_۔ "بیسلیری پیچش" اور "امیبی پیچش" اسی کو کہتے ہیں۔

*اہم علامات*:
- پاخانے میں صاف خون، لیسدار بلغم/Mucus ضرور ہوگا
- پیٹ کے نچلے حصے میں شدید مروڑ، "مروڑ کے ساتھ حاجت"
- حاجت بار لیکن پاخانہ بہت تھوڑا آئے گا - اسے "Tenesmus" کہتے ہیں
- تیز بخار، بچہ بے چین، کمزور
- قے کم ہوتی ہے، پانی والے دست کم ہوتے ہیں

*خطرہ*: آنت میں زخم + خون کا ضائع ہونا + شدید انفیکشن۔ Dehydration کے ساتھ خون کی کمی اور سیپسس کا رسک۔

*گھر پر کیسے پہچانیں - 3 فرق*
فرق اسہال Diarrhea خونی پیچش Dysentery
**پاخانہ** پانی جیسا، پیلا/سبز، بغیر خون تھوڑا + لیسدار + خون کے دھبے/دھاریاں
**مروڑ** ہلکا پیٹ درد شدید مروڑ، بار "پوٹی آئی" کا احساس
**بخار** ہلکا یا نہیں اکثر 101°F سے زیادہ
*کب ڈاکٹر کے پاس بھاگیں - Red Flags*
خونی پیچش ہو یا اسہال، ان علامات پر فوراً ER جائیں:
1. پاخانے میں خون آ رہا ہو - یہ خود ہی پیچش کی علامت ہے
2. بچہ 6 گھنٹے سے پیشاب نہ کرے، آنکھیں دھنسیں، منہ خشک
3. بچہ سست/بے ہوش ہو جائے، دودھ نہ پیے
4. بخار 102°F سے زیادہ اور 3 دن سے کم نہ ہو
5. قے بند نہ ہو رہی ہو، پانی بھی رکھ نہ پائے
6. بچہ 6 ماہ سے چھوٹا ہو

*گھر پر ابتدائی دیکھ بھال - دونوں کے لیے*
1. *ORS*: سب سے اہم۔ ہر پتلے پاخانے کے بعد 1 گلاس ORS ضرور پلائیں۔ دکان والا ORS + گھر کا بنا نمک-چینی والا پانی دونوں چلیں گے
2. *دودھ بند نہ کریں*: ماں کا دودھ جاری رکھیں۔ فارمولا دودھ بھی بند نہیں کرتے
3. *کھانا بند نہ کریں*: کیلا، دہی، چاول، آلو۔ "بھوکا رکھنا" پرانا طریقہ ہے، اب منع ہے
4. *دوا خود سے نہ دیں*: پیچش میں اینٹی بایوٹک ڈاکٹر ہی دے گا۔ اسہال میں loperamide/Imodium بچوں کو خطرناک ہے۔

*خلاصہ*: پانی والا پاخانہ = اسہال = پانی کی کمی کا خطرہ۔
خون والا پاخانہ = پیچش = انفیکشن + آنت کا زخم = فوراً ڈاکٹر۔
کو دکھائیں خود سے فلیجل اینٹامزول
وغیرہ نہ دیں

25/05/2026

*کانگو وائرس بیماری /
عید بقر پر اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
Crimean-Congo Hemorrhagic Fever (CCHF)*
یہ ایک وائرل بیماری ہے جو ٹک یا پسو کے کاٹنے یا متاثرہ جانور/انسان کے خون کے رابطے سے پھیلتی ہے۔ پاکستان، ایران،افغانستان میں ہر سال کیسز آتے ہیں

1. *وجوہات / Causes*
- *وائرس*: Crimean-Congo Hemorrhagic Fever Virus - CCHFV، جو Nairovirus فیملی کا ہے
- *پھیلاؤ کے راستے*:
- متاثرہ _Hyalomma_ ٹک یا پسو کا کاٹنا
- متاثرہ جانور کے خون، گوشت، اعضاء کو ہاتھ لگانا - قصائی، فارمرز سب سے زیادہ خطرے میں
- مریض کے خون/سیال سے ہسپتال میں انسان سے انسان میں پھیلنا
- *انکیوبیشن پیریڈ*: ٹک کے کاٹنے کے بعد 1-3 دن، خون کے رابطے سے 5-6 دن

2. *علامات / Symptoms*
شروعات اچانک ہوتی ہے
5

*پہلے 1-4 دن*:
- تیز بخار، جسم درد، سر درد، کمر درد، گردن اکڑنا5
- متلی، قے، دست، پیٹ درد، آنکھوں میں جلن

- موڈ میں تبدیلی، کنفیوژن 5

*4 دن کے بعد*:
- جلد اور مسوڑھوں پر چھوٹے سرخ دھبے _petechiae_، پھر بڑے نیلے دھبے _ecchymoses_
- ناک، مسوڑھوں، پیشاب، پاخانے سےخون آنا

- جگر بڑھ جانا، یرقان، دل کی دھڑکن تیز
- شدید کیس میں گردے، جگر، پھیپھڑے فیل ہو سکتے ہیں5

*موت کی شرح*: 10-40% ہے، زیادہ تر دوسرے ہفتے میں ہوتی ہے۔ بچ جانے والے 9-10 دن میں بہتر ہونا شروع ہوتے ہیں



*علاج / Treatment*
فی الحال کوئی FDA یا WHO سے منظور شدہ مخصوص دوائی یا ویکسین موجودنہیں:

- *بنیادی علاج*: سپورٹیو کیئر - فلوئڈ بیلنس، الیکٹرولائٹ درست کرنا، آکسیجن، بلڈ پریشر قایم متوازن رکھنا

- *ریباویرن*: اکثر استعمال ہوتا ہے، کچھ سٹڈیز میں فائدہ دکھایا ہے، مگر ہائی کوالٹی ثبوت ابھی کمزور ہیں
- *خون کی مصنوعات*: شدید خون بہنے پر پلیٹلیٹ، FFP دی جاتی ہیں

جلدی تشخیص اور آئسولیشن بہت ضروری ہے تاکہ ہسپتال میں پھیلاؤ روکا جا سکے

4. *بچاؤ / Prevention*
ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے احتیاط ہی واحد راستہ ہے:

*عام لوگوں کے لیے*:
- ٹک والے علاقوں میں جانے پر لمبے کپڑے، جوتے پہنیں، جسم پر ٹک چیک کریں
- جانور ذبح کرتے وقت دستانے، ماسک، عینک استعمال کریں
- جانوروں کے خون/گوشت کو ننگے ہاتھ سے نہ چھوئیں
- جانوروں پر acaricide سپرے کر کے ٹک کم کریں

*ہیلتھ ورکرز کے لیے*:
- مریض کا علاج کرتے وقت full barrier precautions: گاؤن، دستانے، ماسک، face shield e
- سوئیاں اور sharps کا احتیاط سے استعمال
- مریض کو آئسولیٹ کریں

*کون زیادہ خطرے میں ہے*: کسان، چرواہے، قصائی، سلاٹر ہاؤس ورکرز، ہیلتھ کیئر سٹاف

---

اگر بخار + خون آنا + ٹک کا کاٹنا یا جانور کا رابطہ ہو تو فوراً ٹیسٹ کروائیں: PCR یا ELISA

23/05/2026

بچوں میں گندم کی الرجی اب عام ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایشیا میں۔ یہ گندم کے پروٹین کے خلاف امیون سسٹم کا غلط ردعمل ہے۔ 1149

1. *وجوہات / Causes*
- *امیون سسٹم کی خرابی*: گندم کے پروٹین کو جسم خطرہ سمجھ کے IgE اینٹی باڈیز بنا دیتا ہے۔ f280
- *جینیاتی رجحان*: اگر خاندان میں الرجی، دمہ، ایگزیما ہو تو خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
- *حساسیت کا راستہ*: صرف کھانے سے نہیں، حال ہی میں جاپان میں ہائیڈرولائزڈ وہیٹ والا صابن جلد پر لگانے سے بھی الرجی شروع ہوئی تھی۔ 1149
- *گٹ مائکروبیوم*: 2024 کی تحقیق میں پتہ چلا کہ گندم الرجی والے بچوں کے آنت کے بیکٹیریا مختلف ہوتے ہیں۔ Firmicutes اور Verrucomicrobia زیادہ، جبکہ Megamonas, Romboutsia کم ہوتے ہیں۔ aec1

2. *علامات / Symptoms*
گندم الرجی کی 3 بڑی قسمیں ہیں:

*IgE میڈیٹیڈ فوری الرجی*:
- 6-12 ماہ کے بچوں میں زیادہ 1149
- جلد پر چھپاکی، لالی، سوجن، الٹی، دست، پیٹ درد 1149
- انفیلیکسس 50% بچوں میں ہو سکتا ہے 1149
- *Wheat-dependent exercise-induced anaphylaxis*: گندم کھا کے 4 گھنٹے کے اندر ورزش کرنے سے شدید الرجی 1149

*ناک/پھیپھڑوں کی الرجی*: بیکرز ایسْتھما، ناک بہنا - ان لوگوں میں جو آٹے کے سامنے رہتے ہیں f280

*Non-IgE میڈیٹیڈ*:
- Eosinophilic esophagitis، FPIES، FPIAP 1543
- خون آلود پاخانہ، قے، کھانے سے انکار، چڑچڑاپن 5357

3. *تشخیص*
- *ہسٹری* سب سے اہم ہے - کھانے کے 1-3 گھنٹے بعد علامات 7434
- *اسکن پرک ٹیسٹ*: پانی میں حل ہونے والا ایکسٹریکٹ کم حساس ہوتا ہے کیونکہ بڑے الرجن الکحل میں حل ہوتے ہیں 1149
- *Component-resolved diagnostics*: ω-5 gliadin _Tri a 19_, Tri a 36, Tri a 37 ٹیسٹ زیادہ درست ہیں، خاص طور پر انفیلیکسس کے لیے۔ Tri a 37 سے شدید انفیلیکسس کا خطرہ 4 گنا بڑھ جاتا ہے 11492be9
- *Oral Food Challenge*: گولڈ اسٹینڈرڈ 5357

4. *علاج*
*موجودہ علاج*:
- گندم سے مکمل پرہیز ہی بنیادی علاج ہے 1543
- مشکل اس لیے ہے کہ گندم ہر روز کے کھانے میں استعمال ہوتی ہے 1149
- انفیلیکسس کے لیے ایپی نیفرین ساتھ رکھنا ضروری ہے

*نئی تحقیق 2024-2025*:
- *Oral Immunotherapy*: پچھلے 15 سال سے تحقیق ہو رہی ہے۔ زیادہ تر بچے کچھ حد تک desensitize ہو جاتے ہیں، مگر مکمل tolerance کم لوگوں میں آتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ علاج کتنیدیرچلانا ہ ہے
-
- *Omalizumab*: OUtMATCH سٹڈی کے ڈیٹا کے مطابق omalizumab الرجن کو دوبارہ ڈائیٹ میں شامل کرنے میں مدد کر سکتا ہے
- 2
- *پیشگوئی*: زیادہ تر بچے سکول کی عمر تک ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر 3 سال سے پہلے انفیلیکسس ہو یا ω-5 gliadin IgE زیادہ ہو تو الرجی برقرار رہنے کا خطرہ زیادہ ہے

5. *گندم الرجی بمقابلہ سیلیک ڈیزیز*
یہ دونوں الگ ہیں۔ سیلیک میں villous atrophy اور anti-tTG پازیٹو ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک ہی بچے میں دونوں ہو سکتی ہیں۔

-

*عملی بات*: اگر آپ کو شک ہے تو خود سے گندم بند نہ کریں۔ پیڈیاٹرک الرجسٹ سے ٹیسٹ کروائیں کیونکہ overdiagnosis اور underdiagnosis دونوں عام ہیں۔ ؟

سیلیک مرض اور گندم کی الرجی دونوں گندم سے ہوتے ہیں، مگر میکانزم، علامات اور خطرہ بالکل مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں:

1. *بنیادی فرق - Immune Response*
**پہلو** **سیلیک مرض / Celiac Disease** **گندم کی الرجی / Wheat Allergy**
**قسم** Autoimmune disease IgE یا Non-IgE mediated food allergy
**ٹارگٹ** Gluten کھانے پر جسم خود کی آنت پر حملہ کرتا ہے گندم کے پروٹین پر فوری immune reaction
**اینٹی باڈیز** Anti-tTG, Anti-EMA, Anti-DGP پازیٹو Wheat-specific IgE, ω-5 gliadin IgE
**جینیات** HLA-DQ2/DQ8 لازم ہے کوئی خاص جین نہیں، بس الرجی کا رجحان
2. *علامات کا فرق*

*سیلیک مرض*:
- سست رفتار، دائمی علامات
- دائمی دست، وزن نہ بڑھنا، پیٹ پھولا ہونا، خون کی کمی
- آنت کی villi تباہ ہو جاتی ہیں - malabsorption
- جلد کی بیماری Dermatitis herpetiformis ہو سکتی ہے
- علامات گندم کھانے کے گھنٹوں/دنوں بعد بھی آ سکتی ہیں

*گندم کی الرجی*:
- فوری ردعمل - منٹوں سے 2 گھنٹے میں
- چھپاکی، سوجن، الٹی، کھانسی، گھرگھراہٹ
- انفیلیکسس ہو سکتا ہے
- کچھ بچوں میں صرف ورزش کے ساتھ انفیلیکسس ہوتا ہے

3. *تشخیص*

*سیلیک مرض*:
- Blood test: Anti-tTG IgA + total IgA
- Endoscopy + duodenal biopsy: villous atrophy دیکھنا لازم ہے
- گلوٹن کھاتے ہوئے ٹیسٹ کرنا ہوتا ہے

*گندم کی الرجی*:
- Skin prick test, Specific IgE to wheat, ω-5 gliadin
- Oral food challenge
- Biopsy کی ضرورت نہیں ہوتی

4. *علاج اور prognosis*

*سیلیک مرض*:
- زندگی بھر گلوٹن فری ڈائیٹ - گندم، جو، رائی سب بند
- معمولی سی گلوٹن بھی آنت خراب کرتی ہے
- خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا
- نہ کھانے پر lymphoma, osteoporosis کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

*گندم کی الرجی*:
- زیادہ تر بچے 5-7 سال کی عمر تک tolerate کرنے لگتے ہیں
- صرف گندم سے پرہیز کافی ہے، جو/رائی کھا سکتے ہیں
- Oral immunotherapy پر تحقیق جاری ہے
- انفیلیکسس کا خطرہ ہو تو EpiPen ساتھ رکھنا ہوتا ہے

5. *اہم بات*
ایک ہی بچے میں دونوں ہو سکتے ہیں۔ اگر بچے کو گندم کھانے سے فوراً الرجی ہوتی ہے، اور ٹیسٹ میں IgE بھی پازیٹو ہے، تو وہ الرجی ہے۔ اگر علامات دائمی ہیں، وزن نہیں بڑھ رہا، اور anti-tTG پازیٹو ہے تو سیلیک سوچیں۔

کچھ بچوں میں "Non-celiac gluten sensitivity" بھی ہوتی ہے - ٹیسٹ سب نیگیٹو آتے ہیں مگر گلوٹن کھانے پر پیٹ خراب ,,ہوجاتا ہے

22/05/2026

پیٹ کے کیڑے
ہک وارمز
سب سے زیادہ انڈر ڈائیگنوز
یہ
ہونے والے کیڑے ہیں، اور ان کا اصل نقصان خون کی کمی ہوتا ہے۔ تفصیل سے سمجھتے ہیں:

1. *کیا ہوتے ہیں اور کیسے لگتے ہیں*
ہک وارمز 2 قسم کے ہوتے ہیں: _Ancylostoma duodenale_ اور _Necator americanus_.
- بالغ کیڑا 1cm کا ہوتا ہے، آنت کی دیوار سے چمٹ کے خون چوستا ہے۔ ایک کیڑا روزانہ 0.2-0.3ml خون پی جاتا ہے۔
- لگتے ہیں ننگے پاؤں آلودہ مٹی پر چلنے سے۔ لاروا جلد چیر کے خون میں چلا جاتا ہے، پھر پھیپھڑوں سے کھانسی کے ذریعے گلے میں آتا ہے اور نگلنے پر آنت میں پہنچ کے بالغ بنتا ہے۔
- دیہات، کھیتوں، کھلے میں رفع حاجت والے علاقوں میں عام ہیں۔

2. *علامات - 3 سٹیجز میں ہوتی ہیں*
*سکن فیز*: جہاں لاروا داخل ہوا، وہاں خارش، سرخ دانے۔ اسے "ground itch" کہتے ہیں۔

*پلمونری فیز*: 1-2 ہفتے بعد، لاروا پھیپھڑوں سے گزرے تو ہلکی کھانسی، گھرگھراہٹ، low grade fever۔ اکثر لوگ اسے فلو سمجھتے ہیں۔

*آنت اور خون کی کمی فیز*:
- سب سے اہم: آئرن ڈیفیشنسی انیمیا۔ تھکاوٹ، چکر، سانس پھولنا، ہتھیلیاں پیلی
- پیٹ درد، بھوک کم، مٹی کھانے کی عادت _pica_
- بچوں میں گروتھ سلو ہو جاتی ہے، اسکول میں کارکردگی گر جاتی ہے
- شدید کیس میں hypoalbuminemia سے سوجن آ جاتی ہے

3. *ٹیسٹ*
- *اسٹول R/E*: مائکروسکوپ پر ہک وارم کے انڈے نظر آتے ہیں۔ انڈے ہلکے، oval، thin shell والے ہوتے ہیں
- *Hb, MCV, Serum Ferritin*: مائکروسائٹک انیمیا آتی ہے
- *Eosinophilia*: خون میں eosinophilے زیادہ ہوسکتےہیں
۔

*انیمیا کا علاج:*
- یہ سب سے اہم حصہ ہے۔ دوائی کے ساr
- Hb

22/05/2026

چمونے یعنی *پن وارمز* یا *انٹروبیاسس* بچوں میں سب سے عام آنتوں کا کیڑا ہے۔ یہ چھوٹے سفید دھاگے جیسے کیڑے ہوتے ہیں، تقریباً 1 سینٹی میٹر کے۔

*1. وجوہات اور پھیلاؤ:*
- بچہ انڈے ہاتھ سے منہ میں لے جاتا ہے - ناخن کاٹنے، انگلی چوسنے سے
- متاثرہ بچے کے کپڑے، بستر، کھلونے سے دوسرے بچوں کو لگ جاتا ہے
- رات کو مادہ کیڑا مقعد کے باہر انڈے دیتی ہے، اسی لیے خارش ہوتی ہے

*2. علامات:*
- *رات کو مقعد میں شدید خارش* - یہ سب سے خاص علامت ہے۔ بچہ نیند میں بار جاگتا ہے
- نیند نہ آنا، چڑچڑاپن
- کبھی کبھی پیٹ درد، بھوک کم لگنا
- لڑکیوں میں انڈے ویجائنا تک پہنچ جائیں تو وہاں بھی خارش ہو سکتی ہے

*3. تشخیص:*
- رات کو سوتے وقت مقعد کے ارد گرد سفید چھوٹے کیڑے نظر آ سکتے ہیں
- "ٹیسٹ ٹیپ ٹیسٹ" - صبح اٹھتے ہی مقعد پر سیلو ٹیپ لگا کر مائکروسکوپ میں انڈے دیکھے جاتے ہیں
- اسٹول ٹیسٹ میں اکثر نہیں آتے کیونکہ کیڑے اسٹول میں کم ہی نکلتے ہیں

*4. علاج:*
- *البینڈازول 400 ملی گرام* یا *میبینڈازول 100 ملی گرام* - ایک ہی خوراک۔ 2 ہفتے بعد دوبارہ خوراک دینی ہوتی ہے تاکہ جو انڈے رہ گئے ہوں وہ ختم ہو جائیں
- گھر کے سب افراد کا ایک ساتھ علاج کرنا بہتر ہے، ورنہ دوبارہ لگ جاتا ہے
- خارش کے لیے مقعد پر تھوڑا پیٹرولیم جیلی لگا سکتے ہیں

*5. احتیاط - یہ سب سے اہم ہے:*
- بچے کے ناخن چھوٹے رکھیں، رات کو دستانے پہنا دیں تاکہ خارش نہ کرے
- روز بستر کی چادر اور انڈرگارمنٹس گرم پانی سے دھو کر دھوپ میں سکھائیں
- صبح اٹھتے ہی بچے کے ہاتھ صابن سے دھلوائیں
- ٹوائلٹ سیٹ روز صاف کریں

علاج کے 2-3 دن بعد خارش کم ہو جاتی ہے۔

یہ انفیکشن سنجیدہ نہیں ہے لیکن بار ہوتا ہے اگر صفائی کا خیال نہ ہ رکھیں؟

21/05/2026

بچوں میں ڈی ہائیڈریشن یعنی پانی کی کمی سب سے زیادہ اسہال، قے اور بخار کی وجہ سے ہوتی ہے۔ چھوٹے بچے جلدی ڈی ہائیڈریٹ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم میں پانی کا ذخیرہ کم ہوتا ہے اور نقصان جلدی ہو جاتا ہے۔

*1. وجوہات:*
- *اسہال اور قے*: روٹا وائرس، فوڈ پوائزننگ سب سے عام
- *بخار*: پسینے اور سانس سے پانی ضائع ہوتا ہے
- *کم پانی پینا*: بیمار بچہ اکثر پینے سے انکار کرتا ہے
- *زیادہ پسینہ*: گرمی، سانس کی بیماری میں
- *پیشاب کی زیادتی*: ذیابیطس، گردے کے مسائل

*2. علامات عمر کے حساب سے:*
شدت علامات
**ہلکی** پیاس زیادہ، منہ تھوڑا خشک، پیشاب تھوڑا کم، بچہ چڑچڑا
**درمیانی** منہ/زبان خشک، آنکھیں اندر دھنسنا، پیشاب کم، جلد کی لچک کم، رونا بغیر آنسو کے
**شدید** بہت سستی، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، نبض تیز، پیشاب نہ آنا، بے ہوشی کا خطرہ
نومولود اور 6 ماہ سے کم عمر بچوں میں فونٹینیل یعنی سر کا نرم حصہ دھنسنا بھی اہم علامت ہے۔

*3. عمر کے مطابق علاج:*

*0-6 ماہ:*
- دودھ پلانا بند نہ کریں۔ ماں کا دودھ جاری رکھیں
- ORS 5-10 ملی لیٹر ہر 5 منٹ بعد چمچ سے دیں
- اگر بچہ دودھ نہ لے رہا ہو تو فوری ڈاکٹر کو دکھائیں

*6 ماہ - 2 سال:*
- ORS 50-100 ملی لیٹر ہر اسہال/قے کے بعد
- زنک 10 ملی گرام روزانہ 10-14 دن تک
- ہلکی خوراک: کھچڑی، دہی، کیلا، دلیہ

*2-5 سال:*
- ORS 100-200 ملی لیٹر ہر اسہال/قے کے بعد
- زنک 20 ملی گرام روزانہ 10-14 دن
- نمکین چیزوں کے ساتھ نارمل خوراک جاری رکھیں

*اہم نکات:*
- ORS تھوڑا تھوڑا کر کے دیں، ایک دم زیادہ دینے سے قے بڑھ سکتی ہے
- اگر بچہ ORS نہ پی سکے، سست ہو، الٹیاں نہ رک رہی ہوں تو یہ ایمرجنسی ہے - IV فلوئڈز کی ضرورت ہوتی ہے
- کولڈ ڈرنک، میٹھا جوس ڈی ہائیڈریشن میں فائدے کی بجائے نقصان کرتے ہیں

یہ جنرل گائیڈنس ہے۔ بچے کی اصل حالت، وزن اور ڈی ہائیڈریشن کا لیول دیکھ کر ڈوز اور پلان تبدیل ہوتا ہے، اس لیے کلینیکل ایگزام ضروری ہے۔

21/05/2026

روٹا وائرس بچوں اور بڑوں دونوں میں شدید اسہال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ بہت جلدی پھیلتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں میں۔

*1. علامات:*
- اچانک پانی جیسے اسہال، دن میں کئی بار
- قے اور متلی
- بخار، پیٹ درد، کمزوری
- ڈی ہائیڈریشن - منہ خشک ہونا، پیشاب کم آنا، سستی، آنکھیں اندر دھنسنا

*2. تشخیص:*
- عام طور پر علامات اور مریض کی ہسٹری سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے
- کنفرم کرنے کے لیے اسٹول ٹیسٹ ہوتا ہے جس میں روٹا وائرس اینٹیجن ڈیٹیکٹ کیا جاتا ہے
- لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت تب پڑتی ہے جب کیس شدید ہو یا تشخیص کنفیوزنگ ہو

*3. علاج:*
روٹا وائرس کا کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج نہیں ہے۔ علاج کا مقصد پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنا ہے:
- *ORS - او آر ایس*: سب سے اہم۔ تھوڑا تھوڑا کر کے بار پلائیں
- *زنک سپلیمنٹ*: بچوں میں اسہال کی شدت اور دورانیہ کم کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت سے دیں
- *خوراک*: ہلکی خوراک جاری رکھیں۔ دودھ بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی
- *ہسپتال داخلہ*: اگر شدید ڈی ہائیڈریشن ہو، بار قے ہو، بچہ سست ہو جائے تو IV فلوئڈز کے لیے داخل کرنا پڑتا ہے

*احتیاط اور بچاؤ:*
- ہاتھ دھونا سب سے بڑا بچاؤ ہے
- روٹا وائرس ویکسین بچوں کو 6 ماہ سے پہلے دی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ روٹین امیونائزیشن میں شامل ہے اس کے 2 ٹیکے ہوتے ہیں

یہ معلومات جنرل گائیڈنس کے لیے ہیں۔ چونکہ یہ بچوں میں جلدی ڈی ہائیڈریشن کر سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ آپ کسی چائلڈ اسپیشلسٹ/فزیشن سے چیک کروا لیں تاکہ وہ بچے کی حالت دیکھ کر صحیح ڈوز اور پلان بتا سکے۔
اکثر اس میں پہلے الٹیاں شروع ہوتی ہیں اور 12 سے اٹھارہ گھنٹے بعد جلاب شروع ہو جاتے ہیں پہلے دو سال کے بچوں میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔اس قسم کے اسہال ترقی ئافتہ ملکوں میں بھی ہوتے ہیں

20/05/2026

اگر آٹھ سال کے بچے کو پہلے کوئ حفاظتی ٹیکہ نہ لگا ہو تو بھی *کیچ اپ۔ ویکسینیشن* ممکن ہے۔ اس عمر میں بچے کا مدافعتی نظام بہت اچھا رسپانس دیتا ہے، لہذا زیادہ تر ٹیکے لگ سکتے ہیں۔

*پہلی وزٹ - ایک ہی دن:*
1. *Td/TT* - ٹیٹنس اور ڈفتھیریا کا ٹیکہ۔ 7 سال سے بڑے بچوں کو DPT کی جگہ یہ لگتا ہے۔
2. *IPV* - انجیکشن والا پولیو، 2 ڈوز کا کورس
3. *OPV* - پولیو کے قطرے، 2-3 ڈوز
4. *MMR* - خسرہ، ممپس، روبیلا۔ 2 ڈوز، 1 ماہ کے فرق سے
5. *Hep B* - ہیپاٹائٹس بی۔ 3 ڈوز کا کورس: 0، 1 ماہ، 6 ماہ پر
6. *Hep A* - ہیپاٹائٹس A۔ 2 ڈوز، 6 ماہ کے فرق سے

*1 ماہ بعد:*
- Td دوسری ڈوز
- IPV دوسری ڈوز
- MMR دوسری ڈوز
- Hep B دوسری ڈوز

*6 ماہ بعد:*
- Hep B تیسری ڈوز
- Hep A دوسری ڈوز

*اہم باتیں*

۔ 8 سال تک کے بچوں کو EPI میں مفت Td، OPV، IPV، MMR لگتے ہیں۔

2. *یہ ٹیکے اب نہیں لگیں گے*:
- BCG، Rota، Penta - یہ صرف چھوٹے بچوں کے لیے ہیں
- PCV، Hib - کی پانچ سال کے بعد ضرورت نہیں رہتی

3. *پرائیویٹ سے یہ لگوا سکتے ہیں :
- *Typhoid*: 2 سال کے بعد لگ سکتا ہے، 3 سال بعد بوسٹر
- *Chickenpox*: اگر کبھی خسرہ نہ ہوا ہو تو 2 ڈوز
- *HPV*: لڑکیوں کے لیے 9-14
Td اور MMR سب سے پہلے لگوانا ضروری ہیں کیونکہ یہ اس عمر میں سب سے زیادہ خطرہ والی بیماریاں روکتے ہیں

*یاد رکھیے*: 8 سال لیٹ ہو گیا لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ ٹیٹنس، خسرہ، ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں اب بھی خطرناک ہیں اور ان سے بچاؤ ممکن ہے۔

20/05/2026

4 سال کے بچے کو اگر کبھی ٹیکہ نہیں لگا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں *EPI کے پاس "کیچ اپ ویکسینیشن" کا شیڈول* ہے - مطلب ابھی بھی بچے کو زیادہ تر حفاظتی ٹیکے لگ سکتے ہیں۔

*4 سال کے بچے کے لیے کیچ اپ پلان*

*پہلی وزٹ - ایک ہی دن میں یہ لگیں گے:*
1. *OPV* - پولیو کے قطرے
2. *IPV* - انجیکشن والا پولیو
3. *Measles/MMR* - خسرہ، ممپس، روبیلا کا ٹیکہ
4. *DPT* - ڈفتھیریا، ٹیٹنس، کالی کھانسی
5. *Hep B* - ہیپاٹائٹس بی
6. *Hib* - نیومونیا، میننجائٹس سے بچاؤ
7. *PCV* - نمونیا کا ٹیکہ

*1 ماہ بعد:*
1. *OPV* بوسٹر
2. *DPT* بوسٹر
3. *Hep B* دوسری ڈوز

*6 ماہ بعد:*
1. *Hep B* تیسری ڈوز
2. *Measles/MMR* دوسری ڈوز
3. *DPT* دوسری بوسٹر

*اہم باتیں*

1. *فوراً EPI سنٹر جائیں: سرکاری ہسپتال، RHC، BHU، یا کسی بھی EPI سینٹر پر جاسکتے ہیں۔ وہاں مفت لگے گا۔ ساتھ "زیرو ڈوز" یا "missed child" بتائیے، وہ خود شیڈول بنا دیں گے۔

2. *BCG اور Rota اب نہیں لگے گا*: BCG صرف 1 سال تک اور Rota صرف 6 ماہ تک کارگر ہوتا ہے۔ اب ان کی ضرورت نہیں۔

3. *ٹائیفائیڈ، چکن پاکس، ہیپاٹائٹس A*: یہ EPI میں نہیں آتے۔ 4 سال کا بچہ ہے تو یہ 3 ٹیکے پرائیویٹ سے لگوا لینا بہتر ہے۔

4. *ٹیکے محفوظ ہیں*: 4 سال کی عمر میں بھی جسم اچھا ریسپانس کرتا ہے۔ ایک ساتھ کئی ٹیکے لگانا WHO کے مطابق محفوظ ہے۔

*کیا کرنا ہے ابھی*
1. بچے کا وزن چیک کروا لیں
2. قریبی EPI سینٹر سے "Missed Child Vaccination Card"بنوا لیں
3. پہلی وزٹ پر اوپر لکھے 6-7 ٹیکے ایک ساتھ لگوائیں

بچہ 4 سال کا ہے تو ابھی بھی ڈفتھیریا، ٹیٹنس، خسرہ، پولیو، ہیپاٹائٹس بی جیسی خطرناک بیماریوں سے بچایا جا سکتا

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 18:00 - 21:00
Tuesday 18:00 - 21:00
Wednesday 18:00 - 21:00
Thursday 18:00 - 21:00
Friday 18:00 - 21:00
Saturday 18:00 - 21:00

Telephone

+923009547982

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Mazhar Abbas at Izhar children clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category