syed saqib ali shah gerdazi 786

syed saqib ali shah gerdazi 786 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from syed saqib ali shah gerdazi 786, Speech Pathologist, Rawlakot.

09/09/2026

اپنا وعدہ وفا کریں۔۔
کوٹلی ستیاں اور مری کے ذمہ داران۔۔

09/09/2026

حطہ کوہسار کی بیٹیاں سب کی سانجھی بیٹیاں تھی کشمیر کی بیٹی سب کی سانجھی کیوں نہیں
یہ دوہرا معیار کیوں ؟؟؟

قیصر عباسی اپکی مان کی عظمت کو سلام اپکی گفتگو سے واضع ہو رہا کے اپکی مان سیدہ پاک کی کنیز ہے اور اپکی مان نے اپکی تربیت...
09/09/2026

قیصر عباسی اپکی مان کی عظمت کو سلام اپکی گفتگو سے واضع ہو رہا کے اپکی مان سیدہ پاک کی کنیز ہے اور اپکی مان نے اپکی تربیت میں کوہی کمی نہیں چھوڑی۔
باقی سادات سے مقابلے کی ضد کرنے والوں کو کیا پتہ کے سادات کا مقام کیا ہے ۔۔
امید واثق ہے کے کوٹلی ستیان اور مری کے لوگ کشمیر کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے
اسے اس کے مان باپکے حوالےکریں گے اور اپنا وعدہ وفا کریں گے ۔۔

08/09/2026

سادات کی نسبت سادات کے مقام و مرتبہ دیکھ کر اپنے بغض کا اظہار کرنے والو
جس حد تک سادات سے بغض کا اظہار کر سکتے ہو کرو سادات کو گالیاں دو کیونکہ سادات کو ہر دور میں گالیاں دی جاتی رہی ہیں۔
اس سے سادات کی عزت منسب مقام و مرتبے میں کوہی فرق نہیں پڑھتا ۔
کیونکہ سادات کو یہ عزت اللہ نے عطا کی ہے کہ انہیں نبی پاک کی پیاری شہزادی سیدہ پاک کی اولاد میں
پیدا کیا ہے ۔
سادات کو گالیاں دے کر شکیل عباسی اور اس کے بیٹے سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو شکیل عباسی کی ہمدردی نہیں بلکہ وہ موقع تلاش کر کے سادات
سے اپنے بغض کا اظہار کر رہے ہیں ۔کل تک بیٹیاں سب کی سانجھی تھی تو آج دوہرا معیار کیوں۔
ہر بندہ اپنی بیٹی کو سامنے رکھے کیا وہ اپنی بیٹی کے معاملے میں بھی یہی کردار ادا کر سکتا ہے جو آج ایک سید کی بیٹی کے لیے کردار ادا کر رہا ہے ۔۔ہر گز ایسا نہیں۔
ہم کوٹلی ستیان اور مری کے ان زمداران سے اپیل کرتے ہیں کے جو وعدہ آپ نے کیا ہے
اپنے گھر میں اپنی بیٹی کو سامنے رکھتے ہوئے اس وعدے کو وفا کریں اور ۔۔
عمران شاہ کی بیٹی اس کے حوالے کریں ۔
شکریہ۔۔۔

نکاح کی کہانی کا ڈراپ سین ۔قانون سے اپنا راستہ بنانے کی اپیلیں کرنے والے خبیث الاصل و النسل کہاں مر گئے اب ؟؟قانون قانون...
08/09/2026

نکاح کی کہانی کا ڈراپ سین ۔
قانون سے اپنا راستہ بنانے کی اپیلیں کرنے والے خبیث الاصل و النسل کہاں مر گئے اب ؟؟
قانون قانون کا شور مچانے والو، پہلے قانون پڑھ بھی لیا کرو!
پنجاب میں پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 12 فروری 2026 کو نافذ ہوا، جس نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے نکاح کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی۔ بعد ازاں پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 منظور کیا۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچے کا نکاح چائلڈ میرج کے زمرے میں آتا ہے۔ بالغ شخص کا بچے سے نکاح کرنے پر 2 سے 3 سال تک سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ سرپرست یا ایسا شخص جو نکاح کروانے، اجازت دینے یا روکنے میں ناکام رہنے میں ملوث ہو، اس کے لیے بھی 2 سے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر ہے۔ نکاح رجسٹرار کی خلاف ورزی پر ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اب اصل سوال مری والوں سے ہے: اگر واقعی ایک 17 سالہ کشمیری بچی کا نکاح مری میں کروایا جا رہا ہے تو بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت؟ کس عدالت کے حکم پر؟ کس عدالت نے عمر 18 سال سے کم ہونے کے باوجود ایسا حکم دیا؟ کیونکہ پنجاب کے موجودہ قانون کے تحت چائلڈ میرج کے جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ ہیں اور ان کی سماعت سیشن کورٹ میں ہونی ہے۔ اگر کسی عدالت نے واقعی 17 سالہ بچی کے نکاح کی اجازت دی ہے تو محض دعویٰ نہ کیا جائے—عدالت کا نام، کیس نمبر، تاریخ اور عدالتی حکم عوام کے سامنے لایا جائے۔

اور اگر کوئی جج یا عدالت واقعی ایسے معاملے میں قانون کے برخلاف حکم دے رہی ہے تو سوال صرف نکاح کا نہیں بلکہ عدالتی حکم کی قانونی بنیاد کا بھی ہے۔ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک 15 سالہ بچی کے معاملے میں واضح کیا کہ 2026 کے قانون کے تحت کم عمر بچی کی رضامندی خود بخود قانونی رضامندی نہیں بن جاتی، اور عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا۔ لہٰذا کسی بھی 17 سالہ بچی کے معاملے میں سوال بالکل سیدھا ہے: بچی کی عمر کیا ہے؟ نکاح کہاں ہوا؟ نکاح کس نے پڑھایا؟ رجسٹر کس نے کیا؟ اور اگر عدالت میں ہوا تو کون سی عدالت، کس کیس نمبر اور کس تحریری حکم کے تحت؟ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے—مری ہو یا کشمیر، غریب ہو یا بااثر۔
باقی رہی بات نکاح کے جواز یا عدم جواز کی وہ پھر سہی۔
*اور پھر یوں ہوا کہ چراغوں کی روشنی گل ہو گئی*
*شرم تم کو مگر نہیں آتی*

07/09/2026

عمران شاہ اور اس کی زوجہ کی آواز۔
ہماری بچی گھر سے سکول کے لیے گئی اور عاطف عباسی نے اسے ورغلا پھسلا کر اغوا کر کے لے گیا۔
ہماری بچی کی عمر 16 سال ہے جو کہ پاکستان کے قانون کے تحت ابھی تک نکاح کی عمر کو پہنچی ہی نہیں۔
پاکستان کی کس عدالت میں نکاح ہوا جو جھوٹا نکاح نامہ پیش کیا جا رہا ہے ۔
ہم نے اپنی آواز ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن ہماری بات کو نہیں سنا گیا۔
کل تک جو لوگ سوشل میڈیا پر شکیل عباسی کی بیٹوں کو اپنی بیٹیاں سمجھ کر آواز اٹھا رہے تھے وہ آج خاموش کیوں ہو گئے ہیں۔
کیا ہماری بیٹی کی کوہی عزت ہماری بیٹی ان غیرت مندوں کی بیٹی نہیں کے اس کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی جائے۔
ہم حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں
D P O مری
S H O مری
اور کوٹلی ستیاں اور مری کے زمیدان سے مطالبہ کرتے ہیں کے ہماری بیٹی ہمارے حوالے کی جاہے۔
اگر آپ ہر ایک کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں تو اپنا کردار ادا کریں ہماری بیٹی کو بازیاب کروائیں۔
کم عمر بچی جو ابھی پاکستان کے قانون کے تحت نکاح کی عمر کو پہنچی ہی نہیں ۔
اس کے نکاح کا جھوٹا پروپگنڈا کیا جا رہا ۔۔
میں تمام اداروں سے گزارش کروں گا کے ایک مان اور باپ کی اس آواز پر ان کا ساتھ دیں۔
اور جلد ان کی بیٹی ان کے حوالے کریں۔۔شکریہ۔۔

07/09/2026
07/09/2026

*عنوان: ا سادات کی پکار... کب سنی جائے گی؟*

مری کی پُرفضا وادیوں میں 19 اگست بروز بدھ ایک ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایک معصوم سید
زادی (جسکی عمر صرف 15 سال ہے) کو مبینہ طور پر ورغلا کر عاطف عباسی ولد شکیل عباسی اغوا نے اغوا کیا۔لڑکی کے ورثاء نے اپنے متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی بعد ازاں لڑکی کی تلاش میں مختلف علاقوں کی پولیس کو ساتھ رکھ کر چھاپے مارے جاتے رہے لیکن لڑکی کا کوئی سراغ نہ مل سکا پھر
لڑکی کے ورثاء لڑکے کے گھر پہنچے اور لڑکی واپس کرنے کا مطالبہ کیا جس پر لڑکی کے والدین نے ابتدا یہ وعدہ کیا کہ لڑکی آپ کو واپس کی جائے گی تاہم بعد ازاں اس وعدے سے منحرف ہو گئے بایں وجہ جوابی کارروائی میں ورثاء نے دوسرے فریق کی 2 بچیوں کو بھی اٹھایا، جنہیں بعد میں جرگے کے کہنے پر واپس کر دیا گیا۔
جرگہ میں *سید علی رضا شاہ صاحب بخاری سجادہ نشین آستانہ عالیہ سوراسی* کی قیادت میں عمائدین علاقہ نے شرکت کی جس میں یہ طے پایا کہ عباسی فیملی کی بچیاں اج ہی انہیں واپس کی جائیں گی اور جو سید زادی ہے وہ تین سے دس دن کے اندر سادات کے حوالے کی جائے گی ۔
*اہم نقطہ* *سوشل میڈیا پر انے والے احباب یہ دعوی کر رہے ہیں کہ لڑکی اور لڑکے نے کورٹ میرج کر لیا جس کا ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا ہے جبکہ قانون پاکستان کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچی کا نکاح پڑھنا پڑھانا قانونا جرم ہے تو پھر کورٹ میرج یا نکاح کیسے منعقد ہوا؟؟*

سوشل میڈیا پر کچھ بونے طرح طرح کی بولیاں بول رہے ہیں لیکن شاید انہیں اندازہ نہیں جن ماں باپ کی بچی گھر سے دور ہو ان کے لیے کتنی تکلیف کا باعث ہوتا ہے ۔

ہم جرگے کے معزز اراکین سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کیے گئے فیصلے پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔

*بصورت دیگر ہر فرد کو اپنی عزت کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے* ۔

*احقرالعباد*
*سید اسد گردیزی*

Address

Rawlakot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when syed saqib ali shah gerdazi 786 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share