Lab one collection center Renala khurd

Lab one collection center Renala khurd ONLINE SERVICES IN RENALA KHURD

08/09/2026
31/08/2026
29/08/2026

$

17/08/2026

مدرسی خاتم النبیین کے طلباء

20/04/2026

Join BetAA now and start your winning journey! Register today to unlock winning mode! • Extra Rewards: Get a First Deposit Bonus of up to Rs5000! • Referral Bonus: Invite friends and earn Rs600 for each! • Daily Betting Rewards: Earn up to Rs99999 every single day! • Super Cashback: Massive ...

20/04/2026

ہمارے محلے میں ایک صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ ملتان کے علاقے سے تھے اور نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان تھے۔

“میرے عزیز” ان کا مخصوص تکیۂ کلام تھا۔

اکثر مارننگ واک کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔

میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی اور مسکراتے ہوئے بولے:

“میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے پلاتا ہوں۔”

میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی؛ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی تھیں، گویا علم کا ایک خاموش خزانہ ہو۔

وہ مجھے وہاں چھوڑ کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتب پر نگاہ ڈالنا شروع کی۔ واقعی نایاب اور قیمتی ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کے میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں، ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اٹھے ہوں۔

اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو السی کے لڈو تھے۔

گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی۔ پھر اچانک وہ کہنے لگے:

“میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دل کو وہ سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا، میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔”

وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا:

“بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟”

اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

وہ بس اتنا بولا:

“میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں…”

اور خاموش ہو گیا۔

میں چند لمحے مبہوت رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

“چلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔”

میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا:

“اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔”

بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔

چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا:

“آپ اللہ ہو؟”

میں نے اسے اٹھا کر پیار سے کہا:

“نہیں بیٹے، میں تو عام انسان ہوں۔”

وہ بولا:

“اچھا… تو پھر آپ اللہ کے دوست ہو۔ میں نے رات دعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا:

اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔”

یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔

شیخ صاحب رُک گئے۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ بولے:

“اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس… یہی دوستی ہے۔”

وہ بار بار دہرا رہے تھے:

“میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”

اللہ تک پہنچنے کے لیے لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بن جائیے، اللہ خود قریب آ جاتا ہے 🩷

Address

SHER GARH Road RENALA KHURD
Renala Khurd
56130

Telephone

+923467510704

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lab one collection center Renala khurd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lab one collection center Renala khurd:

Shortcuts

Share