Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan

Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو میرا اللہ مجھے شفا دیتا ھے واذامرضت فھو یشفین

بیر   Jujube وہ پھل جس کا ذکر تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے، روایات میں بھی اسکی غذائیت کا زکر آت...
10/01/2025

بیر Jujube
وہ پھل جس کا ذکر تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے، روایات میں بھی اسکی غذائیت کا زکر آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آدم علیہ سلام جب زمین پر اترے تو سب سے پہلے بیری کا پھل ہی کھایا۔واللہ عالم۔
اسے انگریزی میں Jujube جوجوبی یا جوجوب دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ لمبے والا بیر پہلی بار چین کے علاقے میں پیدا ہوا جبکہ گول والا ہندو پاک کے علاقے میں پلا بڑھا۔ اب تو تقریباً ساری دنیا میں ہی پھیل چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا پیداواری ملک چین ہی ہے اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔
عام طور پر پاکستان میں تین نسلیں مشہور ہیں جن کے نام: Zhizipus jujuba پیوندی بیر (سیائو بیر),
تخمی بیر( کاٹھا بیر) Zhizipus Mauritiana,
اور جنگلی بیر (کوکنی)
شامل ہیں۔ لمبے پیوندی بیر کو کہا تو غریبوں کا سیب جاتا ہے کیونکہ کچی حالت میں یہ سیب کی طرح کھاتے وقت خستہ کرارا لگتا ہے لیکن اسکی غذائیت سیب سے بھی اعلیٰ ہے۔ امرود کی طرح یہ بھی ایسا پھل ہے جو پاکستانی سرزمین خصوصاً خشک کم پانی والے علاقوں میں بہترین اگ سکتا اور پھل دے سکتا ہے۔ یہ سالانہ اوسطاً آٹھ انچ والے بارشی علاقوں میں بھی زندہ رہ سکتا ہے اسے پانی کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی، اور یہ ہے بھی سخت جان جسے زیادہ کیڑے مار سپرے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ مویشی اسکی ٹہنیاں پتے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اس لئیے جہاں جہاں مویشی پل رہے ہوں وہاں ایک بیری کا درخت بھی ہوجائے تو اسکی لمبی شاخوں کی کٹائی کے وقت مفت میں ان کو بھی چارہ مل جائے گا۔ اور آپ کو پھل بھی۔
ان تینوں نسلوں میں غذائیت تقریباً ایک جیسی ہے بس تھوڑا بہت میٹھا، پانی کا فرق ہے۔ بیر ایک ایسا پھل ہے جو یہاں بہت ہی زیادہ نظرانداز ہوتا ہے لیکن چین اور بھارت دونوں میں ہی یہ ٹاپ پھلوں میں سے ہے جن کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ قدرتی طور پر اسکی کوئی چالیس نسلیں ہیں لیکن لیبارٹری کے کمالات سے سات سو کے قریب ورائیٹیاں بنالی گئی ہیں جن میں کھانے والی چند ایک ہی ہیں۔
اس میں لیموں اور مالٹے سے زیادہ وٹامن سی موجود ہے، جی ہاں! یہ امرود کے بعد دوسرا بڑا پھل ہے جس میں وٹامن سی پیک ہے، روزانہ کی جسمانی ضرورت کا تقریباً 83% وٹامن سے بیر کے اندر موجود ہے۔ وٹامن سی ہمارے مدافعتی نظام کے لئیے بہت ضروری ہے۔
اس میں اچھی خاصی مقدار میں پوٹاشئیم موجود ہے جو دل، پٹھوں اور نرو کی صحت و فنکشن کے لئیے بڑا اچھا ہے۔
بیر کے اندر خاص قسم کے اینٹی آکسیڈینٹس Flavonoid, polysacharrides, اور Triterpenic Acid ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں یہ ایک قسم کی دوائیاں ہیں جو بیر کے اندر موجود ہیں۔ یہ دل کی شریانیں کھولتے ہیں۔دل کو مضبوط کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر جسم میں موجود کینسر کےسیلز کو تباہ کرتے ہیں۔ یعنی بیر کے اندر قدرتی طور پر کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
بیر کے اندر مناسب مقدار میں پروٹین موجود ہے۔ وہی پروٹین جو آپ گوشت سے بھی حاصل کرتے ہیں۔ پروٹین جسم کی صحت کے لئیے بہت ضروری چیز ہے یہ پٹھے بناتا اور مضبوط کرتا ہے۔
بیر کے اندر فائیبر موجود ہے، وہی فائیبر جو آپ کو روٹی سے اور اسپغول کے چھلکے سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ فائیبر پیٹ کے لئیے بہت ضروری شے ہے۔ یہ معدے کی بیماریوں مثلاً ہیضہ اور قبض وغیرہ کو درست کرتا ہے۔ جسم میں پیشاب کے اخراج کو (Stool Movement) بہتر کرتا ہے۔
بیر قدرتی نیند عطا کرنے والا اور مایوسی کو رفع کرنے والا پھل ہے۔ اس میں موجود Flavonoid اور Saponin کیمیکل نہ صرف انسانی دماغ کو سکون مہیا کرتے اور میٹھی نیند سلاتے ہیں بلکہ مایوسی Depression سے بھی نجات دلاتے ہیں۔ بہت سارے ایشیائی ممالک میں خشک بیروں کی چائے بھی بنا کر پی جاتی ہے۔ شاید یہ واحد چائے ہے جو پینے کے بعد آپ میٹھی نیند کے مزے لے سکتے ہیں۔
تاہم شوگر کے مریضوں اور حاملہ خواتین کو بیر کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہئیے۔ بیر جب خشک ہوجائے تو کشمش ساوگی کی طرح اس پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ اسی لئیے اسے چائینیز کھجور بھی بولتے ہیں۔ جوان بیر کی نسبت خشک بیر میں غذائیت تقریباً دوہری ہوجاتی ہے۔ اور انہیں کافی دیر تک کھانے کے لئیے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔ خشک بیروں کو عناب بھی کہا جاتا ہے اور بازار سے ان کا شربت بھی ملتا ہے۔
بیری کا شہد: Sidr Honey
دنیا کے چند قیمتی اور نایاب شہد میں سے ایک شہد بیری کا ہے، اسکی خوشبو اور غذائیت باقی تمام شہد کی قسموں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ شہد کی مکھیاں بیری کے پھولوں کی بنیادی Pollinators ہیں جو ان کا رس چوس کر خاص قسم کا بیری کا شہد بناتی ہیں ۔
اس شہد میں اوپر بتائے گئے تمام فوائد بہترین انداز میں موجود ہیں لیکن اس شہد کی ایک خاص بات اس میں موجود Aphrodisiac کیمیکل کا پایا جانا ہے۔ یہ وہ شے ہے جسکی ہر مرد کو ضرورت ہوتی ہے۔یہ جنسی مسائل کا بہترین حل ہے اور مرادنہ جنسی قوت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہ علاقہ بیری کے بہترین جنگلات اگا سکتا اور شہد کی بہترین فارمنگ کر سکتا ہے۔ اگر حکومت لوگوں کی اس معاملے میں بہترین تربیت کرے تو یہ ملک دنیا کو بیری کا شہد بیچ کر بہترین زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے مقامی باشندے اس مفید کاروبار میں پیش پیش ہیں
تاہم بیری کا درخت ایک invasive Species بھی ہے، مطلب یہ اپنے ہی درخت سے اپنے گرتے پھلوں بیجوں اور گرتی ٹہنیوں سے مذید درخت اگا لیتا ہے اور دوسرے درختوں کا گھر چھین لیتا ہے، اسلئیے اگر آپ اس کے اردگرد اس کے دوسرے ننھے پودے اگتے دیکھیں تو انہیں اکھاڑ پھینکیں۔
بیری کے پتوں سے ایک خاص قسم کا کیمیکل Ziziphin نکالا جاتا ہے ۔ یہ ایک Anti-Sweet ہے جو کسی چیز میں میٹھے کی مقدار کو کم کرنے کے لئیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر آپ دو چمچ چینی والی چائے پیتے ہیں اور غلطی سے چار چمچ ڈال دیں تو اس کیمیکل کو استعمال کرکے دوبارہ دو چمچ والا ذائقہ حاصل کر سکتے ہیں .
بیری کے پتوں کے پانی سے مردے کو بھی نہلایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یا تو اس کے جسم کو خوشبو میں محفوظ کرنا یا کیڑوں سے بچانا ہے۔ بیر کے پتے قدرتی طور پر بہت سارے کیڑے بھگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیر کو زیادہ کیڑے مار سپرے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انتہائی بہترین پھل دینے والا، بہترین شہد مہیا کرنے والا, آسان ترین طریقے سے اگنے والا، بہت ہی Underrated پھل۔ میری تو پھلوں کی ٹاپ فہرست میں یہ شامل ہوگیا، آپ کا کیا خیال ہے؟

ملٹی گرین آٹا کیا ہے ؟ کیا ہم گھر پر ملٹی گرین آٹا بنا سکتے ہیں؟ملٹی گرین آٹا مختلف اناج اور بیجوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو ...
13/12/2024

ملٹی گرین آٹا کیا ہے ؟ کیا ہم گھر پر ملٹی گرین آٹا بنا سکتے ہیں؟

ملٹی گرین آٹا مختلف اناج اور بیجوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو آپ کی صحت کے مختلف پہلوؤں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس آٹے میں شامل کچھ اہم اجزاء اور ان کی غذائی ویلیوز درج ذیل ہیں:

1. گندم (Wheat):
• فائبر: گندم میں زیادہ مقدار میں حل پذیر اور غیر حل پذیر فائبر ہوتا ہے، جو ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہے۔
• پروٹین: گندم میں پروٹین کی مقدار بھی اچھی ہوتی ہے، جو جسم کی مرمت اور نشو و نما میں مدد فراہم کرتی ہے۔
• وٹامنز اور معدنیات: گندم وٹامن B گروپ، آئرن، اور میگنیشیم کا اچھا ذریعہ ہے۔

2. باجرہ (Millet) :
• اینٹی آکسیڈنٹس: باجرے میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں۔
• معدنیات: باجرہ کیلشیم، آئرن، اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے۔
• پروٹین: باجرے میں پروٹین ہوتا ہے، جو جسمانی نشوونما لیے اہم ہے۔

3. جو (Barley):
• فائبر: جو کا آٹا دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتا ہے کیونکہ اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
• معدنیات: جو میں آئرن، میگنیشیم اور زنک جیسے اہم معدنیات ہوتے ہیں۔
• کولیسٹرول کی سطح کم کرنا: جو کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

4. مکئی (Corn):
• کاربوہائیڈریٹس: مکئی میں توانائی دینے والی کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
• وٹامن C: مکئی وٹامن C کا اچھا ذریعہ ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔

5. چنے کا آٹا (Chickpea Flour):
• پروٹین اور فائبر: چنے کا آٹا پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جو وزن کم کرنے اور ہاضمہ کی صحت میں مددگار ہے۔
• معدنیات: اس میں آئرن، میگنیشیم اور فولک ایسڈ بھی ہوتا ہے۔

6. جوی (Jawar):
• فائبر اور پروٹین: جوی میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کی مختلف ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
• غذائیت: جوی میں آئرن، میگنیشیم اور دیگر اہم وٹامنز ہوتے ہیں۔

7۔ سویا بین آٹا
پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کے خلیوں کی نشوونما کے لئے ہم ہے۔

8۔ السی کے بیج (Flaxseeds)

ان میں فائبر ، پروٹین، پوٹاشیم اور صحت مند فیٹس (omeg-3 fatty Cids) ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما اور دل کی صحت کے لئے بے حد مفید ہیں، ہاضمے کو بہتر کرتے ہیں اور کینسر کے رسک کو کم کرتے ہیں۔

9. جئی (Oats)

ایسے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو کسے اور اناج میں نہیں ملتے اور دل کی صحت کے لئے بے حد مفید ہیں۔

ملٹی گرین آٹے کی غذائی ویلیو (Nutritional Value):

ملٹی گرین آٹا مجموعی طور پر ایک بہترین متوازن آٹا ہے جو مختلف غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے:
• پروٹین: جسم کی مرمت اور نشوونما کے لیے۔
• فائبر: ہاضے اور وزن کم کرنے کے لیے۔
• معدنیات: جیسے آئرن، میگنیشیم، اور کیلشیم جو ہڈیوں، خون کی کمی، اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
• وٹامنز: جیسے وٹامن B، جو توانائی کی سطح کو بڑھاتے ہیں اور جسم کی عمومی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
• ملٹی گرین آٹا کھانے میں لذیذ بھی ہوتا ہے اور عمومی صحت کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ اس میں تمام اجزاء کے فوائد ایک ہی آٹے میں ملتے ہیں۔ یہ شوگر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔

⬅️ کیا ہم گھر پر ملٹی گرین آٹا تیار کر سکتے ہیں ؟

جی ہاں، آپ گھر پر ملٹی گرین آٹا بنا سکتے ہیں اور آپ اس میں اپنی پسند کے اناج بھی شامل کر سکتے ہیں۔

بنیادی ضروری اجزاء:

• گندم: 2 کپ
• باجرہ: 1 کپ
• جو: 1 کپ
• چنا دال یا چنا آٹا: 1/2 کپ
• مکئی: 1 کپ
• جوار: 1 کپ
• جئی 1 کپ
• سویا بین (اختیاری): 1/2 کپ
• السی کے بیج (اختیاری): 2 کھانے کے چمچ

طریقہ کار:
• صفائی: تمام اجزاء کو اچھی طرح صاف کریں تاکہ کسی بھی قسم کی مٹی یا خراب دانے نہ رہیں۔ انہیں دھو کر دھوپ میں خشک کریں۔
• بھونیں (اختیاری): ہلکی آنچ پر کچھ اناج جیسے مکئی، باجرہ، یا جو بھون لیں تاکہ ان میں خوشبو اور ذائقہ بہتر ہو۔
• پیسیں: تمام اجزاء کو اچھی طرح پیس لیں۔ آپ اجزاء قریبی چکی پر لے جا سکتے ہیں یا گھر پر گرائینڈر یا بلینڈر استعمال کر سکتے ہیں۔
• چھان لیں: اگر ضرورت ہو تو آٹا چھان لیں تاکہ باریک ساخت حاصل ہو۔
• ذخیرہ کریں: تیار شدہ آٹے کو کسی ایئر ٹائٹ ڈبے میں محفوظ کریں۔

ملٹی گرین آٹا روٹی، پراٹھا یا دیگر کھانے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس میں مزید اناج یا بیج اپنی پسند کے مطابق شامل کر سکتے ہیں
Copied

13/04/2024

*ففٹی پلس کیلئے تحفہ*❤

اگر آپ 50 سال سے زیادہ عمر کے ہوگئے ہو تو یہ *چند نصیحتیں* ضرور یاد رکھنا اور اپنے دوستوں کو بھی بتانا:
*سب سے پہلی بات*
حتی المقدور کوشش کرنا کہ تیری یہ دو چیزیں تیرے قابو میں رہیں؛
*1*: تیرا فشار خون (بلڈ پریشر)۔
*2*: تیرے خون میں شکر کا تناسب
*دوسری بات*
ان سات چیزوں کا استعمال کم سے کم کرنا:
*1*: نمک
*2*: چینی
*3*: گوشت یا دیگر محفوظ کردہ غذائیں
*4*: سرخ گوشت
*5*: دودھ اور اس کی بائی پروڈکٹس
*6*: نشاستہ دار غذائیں
*7*: كاربونيٹیڈ گیسوں والے مشروبات
*تیسری بات*
اپنے کھانوں میں ان تین اشیاء کی کثرت کرنا
*1*: سبزیاں
*2*: پھل
*3*: خشک میوہ جات
*چوتھی بات*
ان تین چیزوں کو بھلانے کی کوشش کرنا
*1*: تیری عمر
*2*: تیرا ماضی
*3*: اگر تیرے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو
*پانچویں بات*
ان چار چیزوں کو، بھلے تیرا جتنا بھی زور لگے، اپنے پاس رکھنا:
*1*: اپنے محبین اور دوستوں سے تعلق
*2*: اپنے خاندان کا خیال
*3*: مثبت سوچ
*4*: اپنی مشکلوں کو اپنے گھر سے دور
*چھٹی بات*
اپنی صحت کی حفاظت کیلئے ان پانچ کا اہتمام رکھنا
*1*: روزے
*2*: ہنسی مذاق اور مسکراہٹیں
*3*: مسلسل سفر و سیاحت
*4*: جسمانی ورزش
*5*: اپنا وزن کم کرنے کےلئے محنت کرنا
*ساتویں بات*
ان چار باتوں کو کبھی نظر انداز نہ کرنا
*1*: پانی پینے کیلئے پیاس کا انتظار نہ کرنا
*2*: نیند کیلئے جماہیوں کا انتظار نہ کرنا
*3*: آرام کیلئے تھکاوٹ ہونے کا انتظار نہ کرنا
*4*: اپنے ریگولر میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بیمار ہونے کا انتظار نہ کرنا...

ثواب کی نیت سے آگے شیئر ضرور کریں جزاک اللہ خیرا کثیرا
●▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬●

انتہائی مقوی ملک شیکاجزإ۔۔،،کھجور 7عدد،مغز بادام 10عدد،سوگی (کشمش) دو چمچ، تل سفید ایک چمچ ۔۔تمام چیزوں کو پانی میں رات...
25/07/2023

انتہائی مقوی ملک شیک

اجزإ۔۔،،
کھجور 7عدد،
مغز بادام 10عدد،
سوگی (کشمش) دو چمچ،
تل سفید ایک چمچ ۔۔

تمام چیزوں کو پانی میں رات کو بھگو کر رکھ دیں صبح نہارمنہ آدھاکلو دودھ میں ڈال کر شیک بنالیں ....

مزید مزیدار بنانے کے لیے ایک چمچ کھویا ڈال لیں.......
چینی وغیرہ بھی ڈال سکتے ہو

فوائد👇
جسمانی کمزوری کی جوھروقت شکاٸت کرتےھیں انکیلۓگھریلواوربھت اسان ٹوٹکہ ھے
جسمانی کمزوری کو دور کرتاہے
مقوی دماغ و اعصاب ہے
سستی, کمزوری ,نقاہت کو دور کرتاہے...
حرارت ورطوبت پیدا کرتاہے
جگر اور معدہ کو طاقت دیتاہے
بنائیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں

21/07/2023

دو کھجور تین بادام صبح دوپہر شام خوراک کا لازمی حصہ بنالیں طاقت کی کسی دواء کی ضرورت نہیں رہے گی

26/06/2023

*خاص الخاص نسخہ عورتوں کے لئے*
ھوالشافی
ایک چمچ کلونجی، ایک چمچ متھی دانہ رات کو تین گلاس پانی مین بگھو دیں صبح اتنا جوش دیں
کہ ادھا گلاس اڑ جاے باقی پانی کے تین حصہ کریں۔
صبح ناشتہ سے ادھا گھنٹہ پہلے نیم گرم دوپہر کھانے سے پہلے نیم گرم رات کھانے سے پہلے نیم گرم کرکے پی لیا کریں
جن خواتین کو ایام کا کسی قسم کا مسلہ ہے موٹاپا ہو ہارمونز میں کسی کسی کا مسلہ ہو ختم ہوجاے گا
چہرے کے بال ختم ہوجاہیں گے ایام باقاعدہ ہوجاہیں گے،
ہر قسم کی رسولی تھلی گلٹھیاں ختم ہوجاہیں گی پیٹ کمر سے لگ جاے گا۔
۔تقریبا ستر پوشیدہ بیماریاں جڑ سے ختم ہوجاہیں گی ۔اس پانی میں اگر ادھی چمچ شہد ڈال لیں تو سونے پر سوہاگہ ہوگا ۔
صرف پندرہ دن استمال کریں ٹیسٹ کراہیں گلٹیان رسولیاں ختم ۔ان شاءاللہ

مٹی کے برتنوں سے اسٹیل اور پلاسٹک کے برتنوں تک اور پھر کینسر کے خوف سے دوبارہ مٹی کے برتنوں تک آجانا،انگوٹھا چھاپی سے پڑ...
13/01/2023

مٹی کے برتنوں سے اسٹیل اور پلاسٹک کے برتنوں تک اور پھر کینسر کے خوف سے دوبارہ مٹی کے برتنوں تک آجانا،
انگوٹھا چھاپی سے پڑھ لکھ کر دستخطوں (Signatures) پر اور پھر آخرکار انگوٹھا چھاپی (Thumb Scanning) پر آجانا،
پھٹے ہوئے سادہ کپڑوں سے صاف ستھرے اور استری شدہ کپڑوں پر اور پھر فیشن کے نام پر اپنی پینٹیں پھاڑ لینا،
زیادہ مشقت والی زندگی سے گھبرا کر پڑھنا لکھنا اور پھر پی ایچ ڈی کرکے واکنگ ٹریک (Walking Track) پر پسینے بہانا،
قدرتی غذاؤں سے پراسیس شدہ کھانوں (Canned Food) پر اور پھر بیماریوں سے بچنے کے لئے دوبارہ قدرتی کھانوں (Organic Foods) پر آجانا،
پرانی اور سادہ چیزیں استعمال کرکے ناپائدار برانڈڈ (Branded) آئٹمز پر اور آخر کار جی بھرجانے پر پھر (Antiques) پر اِترانا،
بچوں کو جراثیم سے ڈراکر مٹی میں کھیلنے سے روکنا اور ہوش آنے پر دوبارہ قوتِ مدافعت (Immunity) بڑھانے کے نام پر مٹی سے کھلانا ۔ ۔ ۔ ۔
*اسکی اگر تشریح کریں تو یہ بنے گی کہ ٹیکنالوجی نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب نے تمہیں جو دیا اس سے بہتر وہ تھا جو تمہارے دین نے اور تمہارے رب نے تمہیں پہلے سے دے رکھا تھا.
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

27/12/2022

*ہر انسان کی زندگی میں اہم طبی نمبر*

1. بلڈ پریشر: 120/80
2. نبض: 70 - 100
3. درجہ حرارت: 36.8 - 37
4. تنفس: 12-16
5. ہیموگلوبن: مرد (13.50-18)
خواتین ( 11.50 - 16 )
6. کولیسٹرول: 130 - 200
7. پوٹاشیم: 3.50 - 5
8. سوڈیم: 135 - 145
9. ٹرائگلیسرائیڈز: 220
10. جسم میں خون کی مقدار:
پی سی وی 30-40%
11. شوگر: بچوں کے لیے (70-130)
بالغ: 70 - 115
12. آئرن: 8-15 ملی گرام
13. سفید خون کے خلیات: 4000 - 11000
14. پلیٹلیٹس: 150,000 - 400,000
15. خون کے سرخ خلیے: 4.50 - 6 ملین۔
16. کیلشیم: 8.6 - 10.3 ملی گرام/ڈی ایل
17. وٹامن ڈی 3: 20 - 50 این جی/ملی لیٹر (نینوگرام فی ملی لیٹر)
18. وٹامن B12: 200 - 900 pg/ml

*جو لوگ اوور پہنچ چکے ہیں ان کے لیے تجاویز:*
*40 سال*
*50*
*60*

*پہلا مشورہ:*
ہمیشہ پانی پئیں چاہے آپ کو پیاس نہ لگے یا ضرورت کیوں نہ ہو... صحت کے سب سے بڑے مسائل اور ان میں سے زیادہ تر جسم میں پانی کی کمی سے ہوتے ہیں۔ 2 لیٹر کم از کم فی دن (24 گھنٹے)

*دوسرا مشورہ:*
کھیل کھیلو یہاں تک کہ جب آپ اپنی مصروفیت کے عروج پر ہوں... جسم کو حرکت میں لانا چاہیے، چاہے صرف پیدل چل کر... یا تیراکی... یا کسی بھی قسم کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ 🚶 پیدل چلنا شروع کرنے کے لیے اچھا ہے... 👌

*تیسرا مشورہ:*
کھانا کم کریں...

ضرورت سے زیادہ کھانے کی خواہش کو چھوڑ دو... کیونکہ یہ کبھی اچھا نہیں لاتا۔ اپنے آپ کو محروم نہ کریں بلکہ مقدار کم کریں۔ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس پر مبنی خوراک کا زیادہ استعمال کریں۔

*چوتھا مشورہ*
جہاں تک ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ بالکل ضروری نہ ہو... اپنے پیروں پر پہنچنے کی کوشش کریں جو آپ چاہتے ہیں ( گروسری، کسی سے ملنا...) یا کسی مقصد کے لیے۔ لفٹ، ایسکلیٹر استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیوں کا دعوی کریں۔

*پانچواں مشورہ*
غصہ چھوڑ دو...
غصہ چھوڑ دو...
غصہ چھوڑ دو...
فکر چھوڑو.... چیزوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرو...

اپنے آپ کو پریشانی کے حالات میں شامل نہ کریں ... یہ سب صحت کو کم کرتے ہیں اور روح کی رونق کو چھین لیتے ہیں۔ ایک نینی کا انتخاب کریں جس کے ساتھ آپ آرام دہ محسوس کریں۔ ان لوگوں سے بات کریں جو مثبت ہیں اور سنیں 👂

*چھٹا مشورہ*
جیسا کہ کہا جاتا ہے.. اپنا پیسہ دھوپ میں چھوڑ دو.. اور سایہ میں بیٹھو.. اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس والوں کو محدود نہ کرو.. پیسہ اس سے جینے کے لیے بنایا گیا تھا، اس کے لیے نہیں جینے کے لیے۔

*ساتواں مشورہ*
اپنے آپ کو کسی کے لیے رنجیدہ نہ کرو، اور نہ ہی کسی ایسی چیز پر جو آپ حاصل نہ کر سکے،
اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس کے آپ مالک نہ ہو سکے۔
اسے نظر انداز کریں، بھول جائیں؛

*آٹھواں مشورہ*
عاجزی.. پھر عاجزی.. پیسے، وقار، طاقت اور اثر و رسوخ کے لیے... یہ سب چیزیں ہیں جو تکبر اور تکبر سے خراب ہو جاتی ہیں..
عاجزی وہ ہے جو لوگوں کو محبت کے ساتھ آپ کے قریب لاتی ہے۔ ☺

*نواں مشورہ*
اگر آپ کے بال سفید ہو جاتے ہیں، تو اس کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بہتر زندگی شروع ہو چکی ہے۔ 🙋 پر امید بنیں، یاد کے ساتھ زندگی گزاریں، سفر کریں، خود سے لطف اندوز ہوں۔۔۔۔۔

12/12/2022

انسان سب سے بڑی غلطی تب کرتا ہے جب خود کو نیچر سے الگ سمجھنے لگتا ہے ۔۔حالاں کہ وہ خود بھی نیچر ہی ہے ۔۔ جدید تحقیق کے مطابق قدرت نے ہر خطہ میں اسکی مخصوص ضروریات ، ماحول اور ٹمپریچر وغیرہ کے مطابق خوراک پیدا کی ہے ،۔ جب ہم کسی دوسرے خطے کی فوڈ روٹین فولو کرتے ہیں تو اسی climate change کے شکار ہو جاتے ہیں ۔۔۔ ہمارے جسم ہمارے علاقے کے مخصوص حالات کے مطابق جینیاتی طور پر ان مقامی غذاؤں کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔۔۔ ہمیں اشتہاری مہمات اور ڈاکٹروں کے بہکاوے میں آنے کی بجاۓ اپنی دادی نانی کی food wisdom پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔،۔۔ وہ غذایں اور نسخے استمال کر کے ہم بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں ۔۔۔
مغرب میں چلنے والی Organic Food کی مہم چلانے والی ایک تنظیم کا ایک پوسٹر:

“تم ایسی کوئی چیز نہ کھاؤ جسے تمہاری دادی یا نانی “کھانے والی چیز” کے طور پہ نہ جانتی ہو ۔

السی کے لڈو اجزاء-کچی گندم آدھا کلوالسی آدھا کلوگھی تین پاؤ۔۔ دیسی ہو تو بہتر ہےگوند سو گرامچینی تین پاؤچار مغز سو گرامب...
11/12/2022

السی کے لڈو
اجزاء-
کچی گندم آدھا کلو
السی آدھا کلو
گھی تین پاؤ۔۔ دیسی ہو تو بہتر ہے
گوند سو گرام
چینی تین پاؤ
چار مغز سو گرام
بادام سو گرام
پستے سو گرام
الائچی دس عدد
زردے کا رنگ
ترکیب۔
کچی گندم اور السی کو الگ الگ ہلکا سا بھون لیں۔
اب دونوں کو مکس کرکے گرائنڈر میں پیس لیں۔
پھر کڑاہی میں ڈال کر گھی میں مزید بھون لیں۔
اس کے بعد گوند کو پہلے فرائی کریں، تاکہ وہ پھول جائے چورا کر کے السی گندم کی کڑاہی میں ڈال دیں۔
اب چینی کا شیرہ بناکر اس میں چار مغز، بادام، پستے، الائچی اور اورنج فوڈ کلر السی گندم اور گوند ڈال کر مکس کریں۔
آخر میں چولہے سے اُتار کر ٹھنڈا کریں اور اس کی لڈو کی شکل کی پینڈیاں بناکر کسی ائیر ٹائٹ جار میں محفوظ کرلیں۔

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیںلہسن:زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حو...
04/12/2022

جگر کو صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

لہسن:

زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حوالے سے بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے، لہسن میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ الیسین جسم کو تکسیدی تناﺅ سے ہوےن والے نقصان سے بچاتا ہے۔ الیسین وہ اہم بائیو ایکٹیو کمپاﺅنڈ ہے جو جگر کے انزائمے کو حرکت میں لاکر نقصان دہ مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں:

اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر:

چقندر میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چقندر کا جوس پینے کی عادت ڈی این اے کے نقصان کو کم کرکے جگر کو نقصان پہنچانے والی انجری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ہلدی:

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، اور یہ جگر کی صحت کے لیے بھی موثر ثابت ہوتا ہے جو جگر کے خلیات کو دوبارہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

گاجر:

گاجر اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، منرلز اور غذائی فائبر موجود ہوتے ہیں اور اس کا جوس جگر میں ڈی ایچ اے، ٹرائی گلیسڈر اور مونو ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز لیول کم کرتا ہے جبکہ جگر میں چربی چڑھنے اور زہریلے مواد سے ہونے والے نقصان سے بچنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اچھی چربی:

صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ یا چربی جیسے زیتون کے تیل، وغیرہ جگر کی صفائی کے لیے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔

سبزچائے:

سبز چائے پینے کی عادت کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اس میں موجود پولی فینولز جگر کے کینسر، جگر کے امراض اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گرین ٹی ایکسٹریکٹ جگر کی چربی چڑھنے کا باعث بننے والے انزائمے کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور 2 سے 3 کہ ہی مناسب ہیں۔

وٹامن سی:

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے ترش پھل وغیرہ زہریلے مواد کی صفائی کرکے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

سیب:

چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیب میں موجود پولی فینولز جگر کے ورم کا خطرہ کم کرتے ہیں جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، بس ایک سیب روزانہ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال:

پانی کی کمی جسم میں مختلف مسائل کا باعث بنتی ہے جن میں جگر کے افعال بھی شامل ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی کا استعمال جگر کی صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے جو اسے امراض سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

زیتون کا تیل:

جگر کے مسائل میں سب سے عام نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز ہے جس کی وجہ طرز زندگی کی خراب عادتیں ہوتی ہیں، مگر طبی سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ زیتون کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے، زیتون کا تیل نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ:

جنک فوڈ کا استعمال کم اور اومیگا تھری ایسڈز سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے، جنک فوڈ میں موجود چربی جگر پر جم جاتی ہے جو سوجن اور دیگر عوارض کا باعث بنتی ہے جبکہ جسم کے لیے مناسب چربی اس سوجن کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔

اخروٹ:

اکروٹ صحت بخش چربی سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ورم کش خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ زیادہ حیوانی چربی کھانے سے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اخروٹ کا استعمال اس سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے روزانہ چند اخروٹ کھانا کافی ہوتا ہے۔

اجناس کا استعمال:

چینی، سفید آٹے اور پراسیس فوڈ کا استعمال کم کریں اور سبزیوں، پھلوں اور اجناس کو ان کی جگہ ترجیح دیں جو موٹاپے ، ذیابیطس سمیت مختلف امراض سے تحفظ تو دیتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ جگر کو بھی صحت مند رکھتے ہیں۔

ٹماٹر:

ٹماٹر بھی جگر کے لیے صحت بخش ہوتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کا ورم کم کرنے کے ساتھ انجری سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کافی:

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کافی پینے کی عادت جگر کے امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ اس مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں۔ تاہم 4 کپ سے زیادہ کافی پینا فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مچھلی:

مچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مچھلی سے جسم کو امینو ایسڈز اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ملتے ہیں جو کہ جگر میں نقصان دہ چربی کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

گریپ فروٹ:

یہ پھل وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جگر سے زہریلے مواد کی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گریپ فروٹ میں موجود اجزا ایسے کیمیکلز کو حرکت میں لاتے ہیں جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔۔

مونگ پھلی                        مونگ پھلی کو بیشتر لوگ سرد موسم میں رات کے وقت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کے کھانے س...
30/11/2022

مونگ پھلی

مونگ پھلی کو بیشتر لوگ سرد موسم میں رات کے وقت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کے کھانے سے آپ کو صحت کے حیرت انگیز فوائد بھی ملتےہیں۔

مونگ پھلی کئی غذائی اجزاء سے لدی ہوتی ہے، مٹھی بھر مونگ پھلی کا استعمال آپ کو ایک ساتھ کئی غذائی اجزاء دیتا ہے لہٰذا ماہرین کہتے ہیں کہ اچھے ذائقے سے لطف اندوز ہونے اور حیرت انگیز فوائد حاصل کرنے کے لیے مونگ پھلی کو لازمی اپنی خوراک میں شامل کریں۔

مونگ پھلی کے فوائد:

پروٹین کا بہترین ذریعہ:

100 گرام مونگ پھلی میں تقریباََ 25 سے 25.8 گرام پروٹین ہوتا ہے۔ پروٹین انسانی جسم کے لیے ضروری ہے، مونگ پھلی کو محدود مقدار میں کھانے سے آپ کو پروٹین ملے گا، مونگ پھلی کا مکھن بھی پروٹین کا ایک معروف ذریعہ ہے۔

وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے:

مونگ پھلی میں چربی کی مقدار کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے مگر اس کا اعتدال میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ پروٹین اور فائبر سے بھری ہوئی ہوتی ہے جو وزن کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

قلبِ صحت کو فروغ دیتی ہے:

مونگ پھلی آپ کو مختلف عوامل پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے، یہ آپ کو دل کی بیماریوں کے خطرے سمیت کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یہ آپ کی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر تی ہے۔

بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے:

مونگ پھلی ایک کم گلیسیمک خوراک ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اچھا بناتی ہے۔ گلیسیمیک انڈیکس بلڈ شوگر لیول پر کھانے کے اثرات کو بیان کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنی ذیابیطس کی خوراک میں مونگ پھلی کو محدود مقدار میں شامل کر سکتے ہیں۔ غذا میں سادہ تبدیلیاں آپ کو بلڈ شوگر لیول کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بہت سے معدنیات اور وٹامنز سے لدے ہوئے:

مونگ پھلی کئی ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ آپ کو پروٹین، اومیگا 3، اومیگا 6، فائبر، تانبا ، فولیٹ، وٹامن ای، تھامین، فاسفورس اور میگنیشیم پیش کر سکتی ہے۔ یہ آپ کو ایک ساتھ کئی غذائی اجزاء مہیا کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مونگ پھلی کا استعمال کرنے والے بیشتر افراد کو مونگ پھلی کے فوائد تو معلوم ہی ہوں گے لیکن اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ مونگ پھلی کس وقت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

جسم میں خارش

جسم میں خارش ہونے صورت میں مونگ پھلی نہیں کھانا چاہئے اس سے خارش کے مرض میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

حاملہ خواتین

حاملہ خواتین کے لیے انتباہ ہے کہ وہ مونگ پھلی کا استعمال ترک کردیں اگر انہیں یہ خشک میوہ مرغوب ہے اور اسے کھانا چاہتی ہیں تو پلے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رائے لے لیں، اسی طرح کھانسی کی صورت میں مونگ پھلی کا استعمال بالکل نہ کریں کیونکہ ایک تیلی سے بھرپور میوہ ہے جو کھانسی میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

معدے کے مریض

یرقان اور معدے کے مرض میں مبتلا افراد بھی مونگ پھلی کے زائد استعمال سے دور رہیں تاہم کم کھانے سے انہیں کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔

سانس کے مریض

سانس کے مرض میں مبتلا یا دمہ کے مریضوں کو بھی مونگ پھلی کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان میں مبتلا کرسکتا ہے۔

معدے میں تیزابیت

اسی طرح جن افراد کے معدے میں تیزابیت ہو ان کو بھی مونگ پھلی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ خشک میوہ جات گرم تاثر رکھتا ہے اس لیے مونگ پھلی بھی تیزابیت یا معدے میں گرمی کے مرض میں اضافے کا سبب بنتی ہے تاہم صحت مند معدے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔
سائنسی معلومات😎
( معلومات روزنامہ جنگ اور اے، آر، وائی نیوز کی اشاعت سے لی گئی ہے۔)

Address

Gali Jamia Masjid Badrudin
Rukkan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00

Telephone

+923453353355

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Badar Homoeo Pathic Clinic Rukkan:

Share