Dr. AbuBakar Bhutta

Dr. AbuBakar Bhutta MBBS, Resident General Surgeon
(1)

ہم قرض دار ہیں ان لوگوں کے جنھوں نے ہماری آزمائش کو اپنی آزمائش سمجھا۔
03/08/2026

ہم قرض دار ہیں ان لوگوں کے جنھوں نے ہماری آزمائش کو اپنی آزمائش سمجھا۔

03/08/2026

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو

اُن کے آنے سے جو آتی ہے چہرے پہ رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے🖤
31/07/2026

اُن کے آنے سے جو آتی ہے چہرے پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
🖤

31/07/2026

بجوڑ کے معروف ڈاکٹر سید بادشاہ صاحب کی وفات ایک بڑا سبق ہے۔ ان کی جان بچانے کے لیے دل اور چھاتی کے نامور ماہرین اپنی پوری کوشش کرتے رہے۔ دس سے پندرہ افراد پر مشتمل معاون عملہ بھی مسلسل مصروف رہا۔ سب چاہتے تھے کہ وہ بچ جائیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آ جائے تو انسانی اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

شاید ڈاکٹر سید بادشاہ صاحب نے اپنی زندگی میں سینکڑوں مریضوں کی جانیں بچائی ہوں، مگر جب اپنے لیے وقت آ گیا تو بہترین ڈاکٹر، جدید مشینیں اور مہنگی ادویات بھی انہیں واپس نہ لا سکیں۔ یہی حقیقت ہے کہ علاج انسان کرتا ہے، مگر شفا اور زندگی و موت کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

معمول کا ایک دن تھا۔ہماری سوموار کی 24 گھنٹے کی ایمرجنسی اپنے اختتام کے قریب تھی۔ صبح کا وقت تھا، منگل شروع ہو چکا تھا، ...
29/07/2026

معمول کا ایک دن تھا۔

ہماری سوموار کی 24 گھنٹے کی ایمرجنسی اپنے اختتام کے قریب تھی۔ صبح کا وقت تھا، منگل شروع ہو چکا تھا، اور ہم تقریباً فارغ ہو چکے تھے کہ اچانک تقریباً 25 سے 28 سال کا ایک نوجوان شدید پیٹ کے درد سے کراہتا ہوا ایمرجنسی میں لایا گیا۔

وزن تقریباً 70 سے 80 کلو، جوان، بظاہر صحت مند... مگر درد ایسا کہ ایک لمحہ بھی برداشت کرنا مشکل تھا۔

سرجری میں ہم ایسے مریض کو Acute Abdomen کہتے ہیں، یعنی ایسا مریض جسے فوری داخلے اور قریبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ چند گھنٹوں کی تاخیر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

وقت ضائع کیے بغیر معائنہ کیا گیا۔ دو تین ڈاکٹر خود مریض کو ایکسرے روم لے گئے۔ ایکسرے دیکھتے ہی تشویش بڑھ گئی۔ سینئر سرجنز کو بلایا گیا، الٹراساؤنڈ ہوا، اور ہمارے شبہ نے تقریباً یقین کی شکل اختیار کر لی کہ مریض کی آنت میں سوراخ ہو چکا ہے۔

آنت میں سوراخ اچانک نہیں ہوتا۔

یہ کئی دنوں، بلکہ بعض اوقات ہفتوں کی بیماری کا نتیجہ ہوتا ہے، جب مریض بخار یا درد کو معمولی سمجھ کر برداشت کرتا رہتا ہے، خود دوائیاں کھاتا ہے، عطائیوں سے علاج کرواتا ہے یا صرف اس لیے ہسپتال نہیں جاتا کہ روزگار متاثر نہ ہو۔

اس عمر میں عموماً دو بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں: یا ٹائیفائیڈ بخار چھوٹی آنت میں سوراخ کر دیتا ہے، یا معدے کے قریب موجود ڈیوڈینم (Duodenum) میں السر پھٹ جاتا ہے۔

چند لمحے پہلے ہم گھر جانے کی تیاری کر رہے تھے، مگر اگلے ہی لمحے پوری سرجیکل ٹیم ایک نئی جنگ کے لیے تیار تھی۔

دو ڈاکٹر خون کا انتظام کرنے نکل گئے۔

ایک مریض کو ECG کروانے لے گیا۔

دو ڈاکٹر آپریشن تھیٹر تیار کرنے لگے۔

ایک ڈاکٹر ادویات اور ضروری سامان اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گیا۔

صرف آدھے گھنٹے کے اندر مریض آپریشن تھیٹر کی میز پر تھا۔

اینستھیزیا کی ٹیم ایک اور تشویشناک مریض میں مصروف تھی۔ جیسے ہی وہ فارغ ہوئی، ہمارے مریض کو بے ہوش کیا گیا اور آپریشن شروع ہوا۔

آپریشن کے دوران وہی بات سامنے آئی جس کا ہمیں شبہ تھا۔

ٹائیفائیڈ نے چھوٹی آنت میں سوراخ کر دیا تھا۔

جب آنت میں سوراخ ہو جاتا ہے تو اس کا مواد پیٹ کے اندر پھیل جاتا ہے۔ شدید انفیکشن پیدا ہوتا ہے، زہریلے مادے خون میں شامل ہونے لگتے ہیں، پورا مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا ہے، اور اگر بروقت علاج نہ ملے تو مریض Sepsis اور Septic Shock کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایسے مریض اگر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مستند سرجن تک نہ پہنچیں تو ان کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

الحمدللہ، اس نوجوان کا آپریشن کامیاب رہا۔

آج وارڈ راؤنڈ میں وہ پہلے سے کہیں بہتر تھا، اور ان شاء اللہ چند دنوں میں مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھر چلا جائے گا۔

لیکن ہر مریض اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔

ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے بے شمار مریض بھی دیکھے ہیں جو صرف اس لیے جان کی بازی ہار گئے کہ وہ بہت دیر سے ہسپتال پہنچے۔ 48 گھنٹے... 72 گھنٹے... اور پھر ہمارے پاس صرف کوشش باقی رہ جاتی ہے۔

نتائج ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر اپنی پوری محنت، علم اور تجربہ استعمال کرتے ہیں، مگر شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اس لیے میرا صرف ایک پیغام ہے۔

اگر بخار کئی دنوں سے ہو...

اگر پیٹ کا درد مسلسل بڑھ رہا ہو...

اگر دوائی کھانے کے باوجود آرام نہ آ رہا ہو...

تو انتظار نہ کریں۔

کسی مستند ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔

ہم شادیوں، تقریبات، رسم و رواج، لباس اور دیگر اخراجات پر بے دریغ خرچ کر دیتے ہیں، مگر ڈاکٹر کی فیس دینے میں ہچکچاتے ہیں، حالانکہ بروقت معائنہ ایک بڑے آپریشن، لاکھوں کے خرچ، بلکہ جان کے ضیاع سے بھی بچا سکتا ہے۔

یہ پیغام خاص طور پر ان تمام محنت کش مردوں کے لیے ہے جو اپنے خاندان کی خاطر اپنی بیماری کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں، اور ان کے گھر والوں کے لیے بھی کہ اگر آپ کا کوئی عزیز مسلسل بیمار ہو تو اسے علاج کے لیے ضرور آمادہ کریں، چاہے سرکاری ہسپتال جانا پڑے یا کسی مستند معالج کے پاس۔

یاد رکھیں...

کاروبار دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے۔

گھر دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن ایک کھوئی ہوئی زندگی کبھی واپس نہیں آتی۔

اپنی صحت کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحتِ کاملہ، بروقت علاج اور صحیح فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین❤️

ایمرجنسی کے دروازے صرف زخمی جسم نہیں دیکھتے، وہ ٹوٹتے ہوئے دل بھی دیکھتے ہیں۔آج جو قصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ ش...
15/07/2026

ایمرجنسی کے دروازے صرف زخمی جسم نہیں دیکھتے، وہ ٹوٹتے ہوئے دل بھی دیکھتے ہیں۔

آج جو قصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ شاید صرف میرا قصہ نہیں۔ شاید ہر تیسرے، چوتھے ڈاکٹر کی کہانی ہے۔ بلکہ ہر اُس نوجوان کی داستان ہے جو برسوں کی محنت کے بعد زندگی کے اُس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ اپنے والدین کے خواب پورے کرنا چاہتا ہے، مگر قسمت اُس کے لیے کچھ اور لکھ چکی ہوتی ہے۔

ہم اپنی جوانی کتابوں، امتحانوں، ڈیوٹیوں اور اسپتالوں میں گزار دیتے ہیں۔ جب پچیس، تیس سال کی عمر میں جا کر ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ اپنے والدین کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کی خدمت کریں، ان کے چہروں پر فخر اور خوشی دیکھیں... تب اکثر اُن میں سے ایک، یا دونوں، اس دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔

یہ وہ خلا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔

میرے والد صاحب کی ہمیشہ ایک خواہش تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

تمہارے نام کے ساتھ حافظ بھی لکھا جائے اور ڈاکٹر بھی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے حافظِ قرآن بھی بنایا اور ڈاکٹر بھی۔ مگر جب ہاؤس جاب مکمل ہوئی، زندگی کا اصل سفر شروع ہونے والا تھا، تب میرے والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آج الحمدللہ جنرل سرجری کی ٹریننگ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ لوگ عزت دیتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، مریض اعتماد کرتے ہیں۔ مگر دل میں ایک حسرت آج بھی زندہ ہے...

کاش! آج میرے والد زندہ ہوتے۔
کاش! وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔

کل ایمرجنسی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے برسوں پرانا درد پھر سے تازہ کر دیا۔

ایک سادہ سے بزرگ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ راستے میں ریڑھی کا بانس ان کے پیٹ میں لگا۔ چوٹ معمولی محسوس ہوئی، اس لیے گھر چلے گئے۔ دو دن درد برداشت کرتے رہے۔

ان کا ڈاکٹر بیٹا ہاؤس جاب کر رہا تھا۔ اس نے فون پر اصرار کیا کہ الٹراساؤنڈ کروائیں۔

رپورٹ دیکھی تو بیٹے کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔

انہیں فوری ہمارے اسپتال لایا گیا۔

سی ٹی اسکین میں معلوم ہوا کہ آنتوں کو خون پہنچانے والی بڑی شریانیں زخمی ہیں اور پیٹ کے اندر شدید نقصان ہو چکا ہے۔

فیصلہ ہوا کہ فوری آپریشن کیا جائے۔

مگر جب پیٹ کھولا گیا تو منظر رپورٹ سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔

لبلبہ (Pancreas) بری طرح گل چکا تھا، اردگرد کے ٹشوز تباہ ہو چکے تھے۔ جو بچایا جا سکتا تھا، بچایا گیا، جو نکالنا ضروری تھا، نکالا گیا، اور مریض کو آئی سی یو منتقل کر دیا گیا۔

آپریشن کے بعد میں اُس کے بیٹے کے پاس بیٹھا۔

اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

وہ آہستہ سے بولا:

سر! میں چھتیس گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے سیدھا یہاں پہنچا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر مریض کو پوری توجہ دی ہے، صرف اس نیت سے کہ اگر کل میرے والدین کسی اسپتال میں مریض بن کر آئیں تو انہیں بھی کوئی ایسا ہی ڈاکٹر ملے، جیسا میں دوسروں کے لیے بننے کی کوشش کرتا ہوں۔

یہ الفاظ سن کر چند لمحوں کے لیے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ پوری رات ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ مریض کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی دونوں ڈاکٹر ہیں۔ نہ کسی نے سفارش کروائی، نہ کسی سے فون کرایا، نہ کسی قسم کا دباؤ ڈالا۔ وہ ایک عام مریض کی طرح علاج کرواتے رہے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب ہمیں اُس بیٹے کو اپنے والد کی اصل حالت بتانی پڑی۔

ہم نے اسے سمجھایا کہ چوٹ بہت شدید ہے، لبلبہ بری طرح متاثر ہے، آئندہ دن بہت مشکل ہو سکتے ہیں۔

سوچیے...

ایک ایسا بیٹا جس نے ابھی زندگی شروع ہی کی ہو۔

جس نے ابھی والد کے لیے سکون کے دن لانے ہوں۔

جس نے ابھی ان کا سہارا بننا ہو۔

اور اچانک اسے بتایا جائے کہ شاید اس کے والد اب زیادہ عرصہ اس کے ساتھ نہ رہ سکیں۔

اس لمحے پر انسان ڈاکٹر نہیں رہتا...

صرف ایک بیٹا رہ جاتا ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر اپنے والدین کو وقت نہیں دیتے۔

شاید یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہی ڈاکٹر کسی اور کے والدین کو بچانے کے لیے چھتیس، چھتیس گھنٹے جاگ رہا ہوتا ہے۔

ایمرجنسی صرف خون، آپریشن اور دواؤں کا نام نہیں۔

یہاں ہر بستر کے ساتھ ایک خاندان جڑا ہوتا ہے۔

ہر مریض کے پیچھے کسی کی پوری دنیا کھڑی ہوتی ہے۔

اور ہر ڈاکٹر کے دل میں بھی ایک ایسا درد ہوتا ہے، جسے وہ سفید کوٹ کے اندر خاموشی سے چھپا لیتا ہے۔

اگر آج آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی قدر کریں، ان کی دعائیں سمیٹ لیں۔

کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی عہدے، شہرت یا دولت نہیں...

سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کے لیے خواب دیکھے، وہ آپ کی کامیابی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

13/07/2026

پورا ہفتہ مریضوں کی تکلیفیں بانٹتے، ان کی امیدوں کو سنبھالتے اور خدمتِ خلق کے سفر میں گزر جاتا ہے۔

اور پھر اتوار آتا ہے…

چند لمحے پانی کی آغوش میں، جہاں جسم کو توانائی ملتی ہے، ذہن کو سکون، اور روح کو تازگی۔

آج او پی ڈی میں ایک عجیب سوال سنا...سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی ختم ہونے میں ابھی پینتالیس منٹ باقی تھے۔ تقریباً سوا دو بج...
13/07/2026

آج او پی ڈی میں ایک عجیب سوال سنا...
سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی ختم ہونے میں ابھی پینتالیس منٹ باقی تھے۔ تقریباً سوا دو بجے ایک مریض آہستہ آہستہ چلتا ہوا میرے کمرے میں داخل ہوا۔

اس کے جسم پر چار بڑے آپریشنوں کے نشان تھے۔ زندگی نے اسے درجنوں ہسپتالوں کے چکر لگوائے تھے۔ بیماری، ڈاکٹر، دوائیں اور آپریشن... یہ سب اس کے لیے نئے لفظ نہیں تھے۔
کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر دھیمی آواز میں پوچھا:
ڈاکٹر صاحب... کیا میں دوبارہ جوان ہو سکتا ہوں؟
میں چند لمحے خاموش رہا۔
پھر مسکرا کر کہا:

شاید جسمانی طور پر دوبارہ جوان ہونا ممکن نہ ہو... لیکن ذہنی طور پر انسان آخری سانس تک جوان رہ سکتا ہے۔
وہ خاموش ہو گیا...
لیکن اس کا سوال میرے اندر رہ گیا۔
ہماری مشرقی سوسائٹی میں شاید ہی کوئی نوجوان یہ سوال پوچھتا ہو کہ میں صحت مند اور باوقار بڑھاپا کیسے گزاروں؟

ہماری زندگیاں اکثر روزگار کمانے، گھر بنانے، قرض اتارنے، بچوں کو پالنے، انہیں پڑھانے، ان کی شادیاں کرنے اور پھر ایک دن خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو جانے میں گزر جاتی ہیں۔
زندگی جینا اکثر ہم ریٹائرمنٹ کے بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں...
اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
دنیا میں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جنہیں Blue Zones کہا جاتا ہے، جہاں لوگ نوّے، سو بلکہ اس سے زیادہ برس تک نسبتاً صحت مند اور متحرک زندگی گزارتے ہیں۔ تحقیق میں بار بار چند مشترک عادتیں سامنے آتی ہیں:
اپنے خاندان کے ساتھ مضبوط تعلق۔
مخلص دوستوں کی صحبت۔
روزمرہ کی معمولی مگر مستقل جسمانی سرگرمی۔
سادہ اور متوازن غذا۔
مقصد کے ساتھ زندگی اور ذہنی سکون۔

دوسری طرف ہم میں سے اکثر لوگ ایسی عادتوں میں پھنس چکے ہیں جو ہمیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں:
مسلسل ذہنی دباؤ۔
نیند کی کمی۔
سارا دن بیٹھے رہنا۔
جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات۔
سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیا۔
رشتوں سے دوری۔
ہر وقت موبائل اور سوشل میڈیا میں گم رہنا۔
غصہ، حسد اور مستقل بے چینی۔
اپنی صحت کے معمول کے معائنے نہ کروانا۔
ہر خوشی کو بعد میں کے لیے ٹالتے رہنا۔
اگرچہ اوسط متوقع عمر ملک اور وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، لیکن صرف زیادہ سال جینا کافی نہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ سال صحت، وقار اور سکون کے ساتھ گزارے جائیں۔
شاید ہمیں زندگی کے شروع ہی میں یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ...
ضرورت سے زیادہ آسائش نہیں، ضرورت کے مطابق سکون چاہیے۔
کیونکہ دولت بڑھ سکتی ہے...
مکان بڑا ہو سکتا ہے...
بینک بیلنس بڑھ سکتا ہے...
لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
آج او پی ڈی میں اس مریض نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا...
لیکن سچ یہ ہے کہ جواب ہم سب کو اپنی اپنی زندگی میں تلاش کرنا ہے۔
آپ کی نظر میں انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کرنے والی سب سے بڑی عادت کون سی ہے؟

12/07/2026

آنت کا خطرناک سوراخ!
60 Second Challenge.

10/07/2026

60 Second Challenge!
ساٹھ سیکنڈ میں مرض کی تشخیص!

Address

Race Course Rd.
Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. AbuBakar Bhutta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category