Naveed Hospital & Maternity Home

Naveed Hospital & Maternity Home Naveed Hospital & Maternity Home Sahiwal

**CRP (C-Reactive Protein)** ٹیسٹ خون کا ایک ایسا ٹیسٹ ہے جو جسم میں **سوزش (Inflammation)** یا **انفیکشن** کی موجودگی ا...
28/04/2026

**CRP (C-Reactive Protein)** ٹیسٹ خون کا ایک ایسا ٹیسٹ ہے جو جسم میں **سوزش (Inflammation)** یا **انفیکشن** کی موجودگی اور شدت کو جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
جب جسم میں کسی چوٹ، جراثیمی حملے (انفیکشن) یا کسی دائمی بیماری کی وجہ سے سوزش ہوتی ہے، تو جگر (Liver) خون میں سی-ری ایکٹو پروٹین خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔
# # # سی آر پی (CRP) ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟
یہ ٹیسٹ ڈاکٹر کو مختلف حالات سمجھنے میں مدد دیتا ہے:
* **شدید انفیکشن:** یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا جسم میں کوئی سنگین بیکٹیریل یا وائرل انفیکشن موجود ہے۔
* **سوزش کی بیماریاں:** جیسے کہ جوڑوں کا درد (**Rheumatoid Arthritis**) یا آنتوں کی سوزش۔
* **علاج کی نگرانی:** اگر آپ کسی بیماری کا علاج کروا رہے ہیں، تو CRP کا گرنا اس بات کی علامت ہے کہ دوا اثر کر رہی ہے۔
* **سرجری کے بعد:** یہ دیکھنے کے لیے کہ آپریشن کے بعد کوئی انفیکشن تو نہیں ہو رہا۔
# # # ESR اور CRP میں کیا فرق ہے؟
اگرچہ دونوں ٹیسٹ سوزش بتاتے ہیں، لیکن **CRP زیادہ حساس اور بہتر ٹیسٹ** سمجھا جاتا ہے کیونکہ:
1. یہ سوزش شروع ہوتے ہی تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔
2. جیسے ہی مریض بہتر ہوتا ہے، یہ بہت تیزی سے واپس نارمل ہو جاتا ہے (جبکہ ESR کو نارمل ہونے میں وقت لگتا ہے)۔
# # # نتائج کا مطلب (Results Interpretation)
عام طور پر خون میں CRP کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
* **نارمل:** 10 mg/L سے کم۔
* **زیادہ (High):** اگر یہ 10 mg/L سے زیادہ ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں کہیں نہ کہیں فعال سوزش یا انفیکشن موجود ہے۔
* **بہت زیادہ:** اگر یہ 100 mg/L سے اوپر چلا جائے، تو یہ کسی بڑے انفیکشن یا سنگین بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔
# # # اہم معلومات
* سی آر پی یہ نہیں بتاتا کہ سوزش **کہاں** ہے، یہ صرف ایک الارم کی طرح ہے جو بتاتا ہے کہ جسم کے اندر سب ٹھیک نہیں ہے۔
* کچھ حالات جیسے کہ حمل، تمباکو نوشی، یا بہت زیادہ ورزش بھی CRP کی سطح کو تھوڑا بڑھا سکتے ہیں۔
> **مشورہ:** اگر آپ کی رپورٹ میں CRP کی سطح بڑھی ہوئی ہے، تو اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ وہ آپ کی علامات کے مطابق صحیح تشخیص کر سکیں۔

 #میوکو  #لائٹکس   !!!!میوکو لائٹکس (Mucolytic) ادویات کا ایک گروپ ہے جو سانس کی نالی (airways) میں موجود  #بلغم (mucus/...
24/04/2026

#میوکو #لائٹکس !!!!

میوکو لائٹکس (Mucolytic) ادویات کا ایک گروپ ہے جو سانس کی نالی (airways) میں موجود #بلغم (mucus/phlegm) کو پتلا # اور کم #چپچپا بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جس سے #بلغم کو کھانسی کے ذریعے باہر نکالنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ ادویات ان حالات میں بہت مفید ہیں جہاں سینے میں جکڑن ہو یا گاڑھا بلغم کھانسی کے ساتھ نہ نکل رہا ہو۔
نوٹ: میوکولیٹکس کو عام طور پر "ایکسپیکٹورینٹ" (Expectorant) سے مختلف سمجھا جاتا ہے، جو بلغم کی مقدار بڑھاتے ہیں، جبکہ میوکولیٹکس بلغم کو توڑتے ہیں۔

میوکولائیٹکس کی اہم #اقسام

(ایسٹیل سسٹین):
یہ ایک طاقتور میوکولائیٹک ہے جو بلغم کے کیمیائی بانڈز (disulfide bonds) کو توڑتا ہے۔ یہ دائمی سانس کے امراض میں بہت مفید ہے۔

(کاربوسسٹین):
یہ بھی بلغم کی viscosity (گاڑھے پن) کو کم کرتا ہے اور اس کی پیداوار کو منظم کرتا ہے۔

(اردوسٹین):
یہ بھی بلغم کو پتلا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

alfa (ڈورنیز الفا):
یہ بنیادی طور پر سسٹک فائبروسس (cystic fibrosis) کے مریضوں میں گاڑھے، پیپ والے بلغم کو توڑنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اہم باتیں:
👈فنکشن: یہ بلغم کی ساخت کو توڑتی ہیں، جس سے وہ نرم اور پتلا ہو جاتا ہے۔
👈استعمال: دائمی برونکائٹس (chronic bronchitis)، ایمفیسیما (emphysema)، اور سینے کے انفیکشن جیسے امراض میں، جہاں گاڑھا بلغم ہو۔

👈طریقہ استعمال: یہ گولیاں، سیرپ، یا نیبولائزر (Nebulizer) کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

👈سائیڈ ایفیکٹس ( ): معدے میں خرابی، متلی، یا آواز میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

👈احتیاط: یہ ادویات عام کھانسی کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ خاص طور پر بلغم والی کھانسی کے لیے ہوتی ہیں۔ ان کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا بہتر ہے۔

👈نوٹ: اگر آپ کو سانس لینے میں بہت زیادہ دشواری ہو یا کھانسی کے ساتھ خون آئے، تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

👈یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں، کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

سوال : ڈاکٹر صاحب ! نیگیٹو بلڈ گروپ والی عورت نے پہلے حمل میں anti D immunoglobulin نہ لگوائی ہو اور اس کا indirect coom...
17/04/2026

سوال : ڈاکٹر صاحب ! نیگیٹو بلڈ گروپ والی عورت نے پہلے حمل میں anti D immunoglobulin نہ لگوائی ہو اور اس کا indirect coombs test مثبت ہو تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور اگلے حمل کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے ؟
جواب :
اگر Anti-D نہ لگوائی جائے اور ماں کا Indirect Coombs Test یعنی ICT بعد میں پازیٹیو آ جائے تو اس کا مطلب ہے ماں کے خون میں anti-D اینٹی باڈیز بن چکی ہیں۔ اسے Rh sensitization یا alloimmunization کہتے ہیں۔

1. Mother
- ایک بار sensitization ہو جائے تو Anti-D انجیکشن لگوانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ Anti-D صرف بچاؤ کے لیے ہے، علاج کے لیے نہیں۔
- اس پریگنینسی میں ماں کا کوئی خاص علاج نہیں ہوتا۔ بس مانیٹر کیا جاتا ہے۔

2. موجودہ بچے کی مرحلہ وار مانیٹرنگ کی جاتی ہے ۔۔...
Anti body titr... ہر 2-4 ہفتے بعد ICT ٹائٹر چیک کرتے ہیں۔ اگر 1:16 یا زیادہ ہو جائے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے...الٹراساؤنڈ + MCA Doppler...:: بچے کے دماغ کی Middle Cerebral Artery میں خون کے بہاؤ کی رفتار دیکھتے ہیں۔ تیز رفتار = بچے کا انیمیا
**فیٹل انیمیا ہو تو** Intrauterine transfusion یعنی پیٹ میں ہی بچے کو خون لگایا جاتا ہے..."""جلدی ڈلیوری..... 37 ہفتے یا اس سے پہلے، اگر بچے کی حالت خراب ہو تو ڈلیوری کروا لیتے ہیں...
- بچے کو Hemolytic Disease of Newborn ہو سکتا ہے۔ اس میں یرقان، انیمیا ہوتا ہے۔


# اگلے حمل کے لیے !!!!
- ایک بار sensitize ہو جائے تو یہ پرماننٹ ہے۔ اگلے ہر Rh-positive بچے کو خطرہ رہے گا۔
- اس لیے ہر پریگنینسی میں شروع سے ہی ہائی رسک مانیٹرنگ ہوگی۔
نوٹ::::: Sensitization ہو جانے کے بعد اسے ریورس نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے Anti-D کا وقت پر لگنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

اگر آپ کا ICT پازیٹیو آ گیا ہے تو فوراً اپنے ڈاکٹر صاحب مشورہ کریں تاکہ بچے کی مانیٹرنگ شروع ہو سکے۔

2025 میں میڈیکل کے شعبے میں دنیا کی دس بڑی ایجادات یا بریک تھرو میں سے کچھ اہم یہ ہیں یہ نئی ادویات انسانی صحت کے لئے اہ...
02/01/2026

2025 میں میڈیکل کے شعبے میں دنیا کی دس بڑی ایجادات یا بریک تھرو میں سے کچھ اہم یہ ہیں
یہ نئی ادویات انسانی صحت کے لئے اہم ہیں جو 2025 میں بنائی گئی ہیں

ییزٹوگو (لیناکیپاویر) - ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے انجیکشن: یہ دوائی ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے سال میں دو بار انجیکشن کی شکل میں استعمال ہوتی ہے اور تقریباً تمام ٹرانسمیشن کو روکتی ہے۔ ملک: امریکہ، ادارہ: گیلیڈ سائنسز۔

کسٹم جین ایڈیٹنگ بذریعہ کرسپر - نایاب میٹابولک ڈس آرڈر کے لیے: کرسپر کیس 9 کا استعمال کرتے ہوئے ایک بچے کی جینز کو درست کیا گیا، جو لیور میں لپیڈ نینو پارٹیکلز کے ذریعے دیا گیا اور ممکنہ طور پر بیماری کا علاج کرتا ہے۔ ملک: امریکہ، ادارہ: چلڈرنز ہاسپٹل آف فلاڈیلفیا۔
ویوزاہ (فیزولی نیٹینٹ)

مینوپاز کے لیے نان ہارمونل علاج: یہ گولی ہاٹ فلیشز اور نائٹ سویٹس کو کم کرتی ہے، جو ہائپوتھیلمس میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نیورونز کو نشانہ بناتی ہے۔ ملک: جاپان، ادارہ: ایسٹیلس فارما

لینکویٹ (ایلینزینیٹینٹ) مینوپاز کے لیے نان ہارمونل علاج: یہ بھی ہاٹ فلیشز کے لیے نان ہارمونل گولی ہے جو دماغ کے نیوروکنن ریسیپٹرز کو بلاک کرتی ہے۔ ملک: جرمنی، ادارہ: بائر

نیفی الرجی کے لیے نیڈل فری ایپی نیفرین: یہ ناک کے ذریعے استعمال ہونے والا سپرے ہے جو شدید الرجک ری ایکشنز کے لیے ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔ ملک: امریکہ، ادارہ: اے آر ایس فارماسیوٹیکلز

بلوجیپا (جیپوٹیڈاسن) گونوریا کے لیے اینٹی بائیوٹک: یہ نئی کلاس کی اینٹی بائیوٹک ہے جو گونوریا کا علاج کرتی ہے، خاص طور پر ریزسٹنٹ سٹرینز کے لیے۔ ملک: برطانیہ، ادارہ: گلیکسو سمتھ کلائن (جی ایس کے)

نیوزولونس (زولیفلوڈاسن) - گونوریا کے لیے اینٹی بائیوٹک: یہ بھی نئی کلاس کی اینٹی بائیوٹک ہے جو ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ گونوریا کا علاج کرتی ہے۔ ملک: امریکہ/سوئٹزرلینڈ، ادارہ: انوویوا اسپیشلٹی تھراپیوٹیکلز اور گلوبل اینٹی بائیوٹک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ (گارڈ)

جورنیوکس (سوزیٹریجائن) نان اوپیائیڈ پین کلر: یہ شدید درد کے لیے نئی کلاس کی گولی ہے جو درد کے سگنلز کو بلاک کرتی ہے، اوپیائیڈز کی لت سے بچاتی ہے۔ ملک: امریکہ، ادارہ: ورٹیکس فارماسیوٹیکلز

واسکیرا (ایٹوویٹیڈیجین آٹوٹیمسیل) - جین تھراپی: یہ وسکوٹ ایلڈرچ سنڈروم کے لیے جین تھراپی ہے جو خون کی سٹیم سیلز کو درست کرتی ہے۔ ملک: اٹلی، ادارہ: فونڈازیونے ٹیلیتھون

شنگلز ویکسین کا الزائمر سے تحفظ کا لنک: شنگلز ویکسین (جیسے زوسٹیویکس یا شنگرکس) الزائمر اور دیگر ڈیمینشیا کی روک تھام یا سلو کرنے میں 20% تک مددگار ثابت ہوئی۔ ملک: ویلز (برطانیہ)، ادارہ: نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) ویلز اور سٹینفورڈ میڈیسن (امریکہ) کی ریسرچ ٹیم۔

انجیکشن اینٹی ڈی (Anti-D) — مکمل معلوماتانجیکشن اینٹی ڈی، جسے اینٹی ڈی امیونوگلوبلین (Anti-D Immunoglobulin) بھی کہا جات...
10/12/2025

انجیکشن اینٹی ڈی (Anti-D) — مکمل معلومات

انجیکشن اینٹی ڈی، جسے اینٹی ڈی امیونوگلوبلین (Anti-D Immunoglobulin) بھی کہا جاتا ہے، ایک خاص قسم کی دوائی ہے جو خون کی مخصوص مطابقتی (Compatibility) خرابیوں کو روکنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا خاص طور پر حاملہ خواتین میں استعمال کی جاتی ہے تاکہ ریسس (Rh) تنازعہ (Rh Incompatibility) سے بچا جا سکے۔

اینٹی ڈی کیا ہے؟

اینٹی ڈی ایک امیونوگلوبلین (اینٹی باڈی) ہے جو ریسس ڈی (Rh D) مثبت خون کے خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جب وہ کسی Rh منفی (Rh-) شخص کے خون میں داخل ہو جائیں۔

کن خواتین کے لیے ضروری ہے؟

جن خواتین کا بلڈ گروپ Rh نیگیٹو ہوتا ہے اور ان کا بچہ Rh پازیٹو ہو سکتا ہے (مثلاً اگر بچے کے والد کا بلڈ گروپ Rh پازیٹو ہو)۔

یہ انجیکشن حمل کے دوران اور زچگی کے بعد دیا جاتا ہے تاکہ ماں کے جسم میں بچے کے خون کے خلاف اینٹی باڈیز نہ بنیں۔

اینٹی ڈی نہ لینے کی صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟

اگر Rh- ماں کو Rh+ بچے کا خون مل جائے اور اینٹی ڈی نہ دی جائے تو ماں کا جسم مستقبل میں بننے والے کسی بھی Rh+ بچے کے خون پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس سے بچہ ہیما لائٹک ڈیزیز آف دی نیو بورن (HDN) نامی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے، جو کہ خون کی شدید کمی اور جان لیوا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

استعمال کے مواقع (When Anti-D is Given)

28 ہفتے کے حمل پر (روٹین پروفیلیکٹک ڈوز)

زچگی کے بعد اگر بچہ Rh+ ہو

حمل کے دوران خون بہنے کی صورت میں

اسقاطِ حمل (Abortion) کے بعد

بیرونی cephalic version (ECV) کے بعد

کوئی بھی حادثہ جس میں پیٹ پر چوٹ لگے

طریقہ استعمال (Dosage and Administration)

اینٹی ڈی کا انجیکشن پٹھے (Intramuscular) میں لگایا جاتا ہے، عموماً بازو میں۔

مقدار اور وقت کا تعین ڈاکٹر مریضہ کی حالت کے مطابق کرتے ہیں، لیکن عموماً:

28 ہفتے پر ایک خوراک

زچگی کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر ایک اور خوراک دی جاتی ہے۔

فوائد (Benefits)

ماں کے جسم میں خطرناک اینٹی باڈیز بننے سے روکتا ہے۔

اگلے حمل کو خطرے سے محفوظ بناتا ہے۔

بچے کو ہیما لائٹک ڈیزیز جیسی جان لیوا بیماری سے بچاتا ہے۔

ممکنہ مضر اثرات (Side Effects)

انجیکشن لگنے کی جگہ پر ہلکی سوجن یا درد

بخار

الرجی (بہت کم کیسز میں)

شدید ردعمل (Anaphylaxis) نایاب لیکن ممکن

احتیاطی تدابیر (Precautions)

انجیکشن لینے سے پہلے ڈاکٹر کو اپنی صحت کی مکمل تاریخ سے آگاہ کریں۔

اگر آپ کو پہلے کبھی کسی ویکسین یا خون کی پروڈکٹ سے الرجی ہوئی ہو تو اطلاع دیں۔

ویکسینیشن کے دوران ڈاکٹر سے اینٹی ڈی انجیکشن کی ٹائمنگ کے بارے میں مشورہ کریں، کیونکہ کچھ ویکسینز کے ساتھ فاصلہ رکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔

اہم معلومات

یہ انجیکشن صرف Rh- خواتین کے لیے ضروری ہوتا ہے، Rh+ خواتین کو اس کی ضرورت نہیں۔

ماں اور بچے کے خون کا گروپ جانچنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ انجیکشن دیا جائے یا نہیں۔

وقت پر انجیکشن لگوانا آنے والے حملوں کے لیے بہت اہم ہے۔

*گردوں کے امراض کی 13 خاموش نشانیاں*گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہی...
19/08/2025

*گردوں کے امراض کی 13 خاموش نشانیاں*

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں اس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔
کئی بار گردے لگ بھگ ختم ہونے والے ہوتے ہیں تو بھی علامات سامنے نہیں آتیں تو اس سے بچنے کے لیے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا سب سے بہترین حفاظتی تدبیر ہے۔

تاہم گردوں کے امراض کی خاموش علامات کو جان لینا بھی زندگی بچانے کا باعث بن سکتا ہے جن کے سامنے آتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

غیر معمولی خارش
اگر گردے درست طریقے سے کام کررہے ہو تو وہ دوران خون سے کچرا صاف کرتے ہیں جبکہ نیوٹریشن اور منرلز کا مناسب توازن برقرار رکھتے ہیں، مگر جب یہ توازن بگڑتا ہے تو اس کا اثر شخصیت اور جلد پر بھی مرتب ہوتا ہے، جو کہ خون میں جمع ہونے والے کچرے پر منفی ردعمل ظاہر کرتی ہے، ایسا ہونے پر سرخ نشانات اور خارش کی شکایت ہوسکتی ہے۔

منہ کا ذائقہ بدلنا
گردوں کے افعال میں خرابی سے دوران خون میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا اثر منہ کے ذائقے پر مرتب ہوتا ہے اور کھانا تلخ، کڑوا یا معمول سے ہٹ کر لگنے لگتا ہے، گوشت کھانے کا لطف ختم ہوجاتا ہے، اسی طرح سانسوں میں بو بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

دل خراب ہونا یا قے
اگر جسم میں کافی مقدار میں کچرا جمع ہوجائے تو دل متلانے یا قے کا تجربہ اکثر ہونے لگتا ہے، درحقیقت یہ جسم اپنے اندر جمع ہونے والے مواد سے نجات کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے، دل متلانے کے نتیجے میں کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے، اگر ایسا کچھ عرصے تک ہوتا رہے تو جسمانی وزن میں بہت تیزی سے کمی آتی ہے۔

زیادہ یا کم پیشاب آنا
چونکہ گردے پیشاب کے لیے ضروری ہیں، لہذا جب وہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر لوگوں کو پیشاب کی خواہش تو ہوتی ہے مگر آتا نہیں، جبکہ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو عام معمول سے ہٹ کر واش روم کے زیادہ چکر لگانے لگتے ہیں، متعدد افراد کو یہ مسئلہ راتوں کو جاگنے پر مجبور کرتا ہے۔

پیشاب میں تبدیلی
کم یا زیادہ پیشاب آنے سے ہٹ کر پیشاب میں بھی تبدیلی آسکتی ہے جیسے اس میں خون آسکتا ہے، اس کا رنگ عام معمول سے ہٹ کر گہرا یا ہلکا ہوسکتا ہے، جھاگ دار بھی ہوسکتا ہے۔

چہرے، ٹانگوں، پیر یا ٹخنوں کی سوجن
گردوں کا کام جسم سے کچرے کوسیال شکل یا پیشاب کی شکل میں خارج کرنا ہوتا ہے، اگر گردوں کے افعال سست یا کام نہ کریں تو یہ سیال جسم میں جمع ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کے کچھ حصوں جیسے پیروں میں سوجن مستقل رہنے لگتی ہے۔

بہت زیادہ تھکاوٹ
گردوں کے افعال میں کسی فرد کے ہیمو گلوبن کی سطح کو ریگولیٹ کرنا بھی شامل ہے، جب یہ عمل متاثر ہوتا ہے تو خون کی کمی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی کم ہوتی ہے اور آپ ہر وقت بہت زیادہ تھکاوٹ یا غنودگی محسوس کرتے ہیں۔

بلڈ پریشر میں اضافہ
ایک بار گردوں کو نقصان پہنچ جائے تو وہ بلڈ پریشر کو موثر طریقے سے کنٹرول نہیں کرپاتے، جس کے نتیجے میں شریانوں میں خون کا دباؤ بڑھتا ہے جو شریانوں کو کمزور کرکے گردوں کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔

دل کی دھڑکن میں خرابی
اگر گردوں کو نقصان پہنچے تو جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جو دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

مسلز اکڑنا
گردوں کی کارکردگی میں کمی آنے سے الیکٹرولائٹ عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، مثال کے طور پر کیلشیئم کی سطح میں کمی اور فاسفورس کا کنٹرول سے باہر ہونا مسلز اکڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

کھانے کی خواہش کم ہوجانا
یہ بہت عام علامت ہے ، جس کی وجہ گردوں میں خرابی کے نتیجے میں جسم میں زہریلے مواد کا اکھٹا ہوجانا ہے، جس کے باعث کچھ کھانے کو دل نہیں کرتا۔

آنکھیں پھولنا
گردوں کے نظام میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ایک آنکھوں کے ارگرد کا حصہ پھولنا ہوتا ہے، یہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گردوں سے بڑی مقدار میں پروٹین کا اخراج پیشاب کے راستے ہورہا ہے۔ اگر ایسا ہونے پر جسم کو مناسب آرام اور پروٹین ملے اور پھر بھی آنکھوں کے ارگرد پھولنے کا عمل جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سونے میں مشکل
جب گردے اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام نہیں دے پاتے تو اس کے نتیجے میں زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوپاتا اور خون میں موجود رہتا ہے، اس مواد کی سطح بڑھنے سے سونا مشکل ہوجاتا ہے اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔
اسی طرح گردوں کے مریضوں میں نیند کے دوران سانس لینے میں مشکل کا عارضہ بھی سامنے آسکتا ہے اور اگر کوئی فرد اچانک خراٹے لینے لگے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا جانا چاہیے

*خون کی کمی کی حیرت انگیز نشانیاں* – اور ان کا قدرتی حلخون کی کمی (اینیمیا) وہ حالت ہے جب آپ کے جسم میں صحت مند ریڈ بلڈ ...
17/08/2025

*خون کی کمی کی حیرت انگیز نشانیاں* –
اور ان کا قدرتی حل
خون کی کمی (اینیمیا) وہ حالت ہے جب آپ کے جسم میں صحت مند ریڈ بلڈ سیلز یا ہیموگلوبن کی سطح معمول سے کم ہو جاتی ہے، جو آکسیجن کی ترسیل کے لیے ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم مختلف علامات کے ذریعے مدد کے لیے اشارے دیتا ہے، جو بظاہر معمولی لگ سکتی ہیں، لیکن درحقیقت بڑی پریشانی کی علامت ہو سکتی ہیں۔

🧠 1. عجیب و غریب چیزیں کھانے کی خواہش (Pica)
برف، مٹی، کاغذ یا چاک کھانے کی خواہش اگر مسلسل ہو تو یہ آئرن کی شدید کمی کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ جسم کی جانب سے آئرن کی مانگ کا ایک غیر معمولی اشارہ ہے۔

👅 2. زبان کا زخم یا سوجن
اگر زبان چمکدار، پھولی ہوئی، دردناک ہو یا کناروں پر چھوٹے کٹے ہوئے نشانات بنیں، تو یہ بھی آئرن کی کمی کی علامت ہے۔

🤕 3. بار بار سر درد
آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دماغ مکمل آکسیجن حاصل نہیں کر پاتا، جس سے اکثر سر درد، الجھن یا چکر آ سکتے ہیں۔

🧤 4. ہاتھ اور پاؤں کا ٹھنڈا رہنا
یہ علامت ظاہر کرتی ہے کہ آپ کے جسم میں خون کا بہاؤ کمزور ہے، خاص طور پر ان حصوں میں جو دل سے دور ہیں۔

😮‍💨 5. سانس لینے میں تکلیف
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یا ہلکی جسمانی سرگرمی پر سانس پھولنا اینیمیا کی بہت عام علامت ہے۔

🧑🏻 6. جلد کا زرد یا ہلکا پڑ جانا
جلد پر ہلکی پیلاہٹ یا رنگ کا ختم ہونا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ خون میں ہیموگلوبن کی سطح کم ہے۔

💅 7. نازک یا چمچے جیسے ناخن
اگر ناخن آسانی سے ٹوٹ جائیں یا چمچے جیسے اُبھرے ہوں، تو یہ آئرن کی شدید کمی کو ظاہر کر سکتا ہے۔

🔄 خون کی کمی سے بچاؤ یا علاج: قدرتی اور غذائی طریقے
🥗 طاقتور غذائیں:
جگر اور سرخ گوشت: آئرن کی سب سے زیادہ جذب ہونے والی شکل فراہم کرتے ہیں۔

پتے والی سبزیاں: جیسے پالک، میتھی، ساگ – یہ آئرن اور فولک ایسڈ سے بھرپور ہیں۔

دالیں اور پھلیاں: خاص طور پر مسور، چنا، اور لوبیا – گوشت نہ کھانے والوں کے لیے بہترین متبادل۔

انڈے اور سی فوڈ: آئرن اور B12 کی اہم مقدار فراہم کرتے ہیں۔

بیج اور میوے: خاص طور پر تخم ملنگا، السی، اور بادام – خون بنانے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔

وٹامن C والے پھل: جیسے مالٹا، آملہ، پپیتا – آئرن کے جذب کو بڑھاتے ہیں۔

🧘 مددگار عادات:
روزانہ ہلکی ورزش (واک، یوگا) – خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے۔

دھوپ میں بیٹھنا – وٹامن ڈی پیدا کرتا ہے جو ہڈیوں اور خون کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال – ہائیڈریشن خون کی ترسیل کو بہتر کرتا ہے۔

چائے/کافی کم پینا – یہ آئرن کے جذب کو روکتی ہیں؛ کھانے کے بعد کم از کم 1 گھنٹے بعد پینا بہتر ہے۔

گہری سانس لینا – آکسیجن کی سطح بہتر ہوتی ہے، تھکاوٹ کم ہوتی ہے۔

✅ اگر آپ کو ان میں سے ایک یا زیادہ علامات اکثر محسوس ہوتی ہیں تو بہتر ہے کہ ایک بار خون کی جانچ کروا لیں۔
خون کی کمی قابل علاج ہے، لیکن نظر انداز کرنے سے بڑی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

بواسیر — علامات، وجوہات اور علاجبواسیر کیا ہے؟بواسیر یا پائلز ایک عام بیماری ہے جس میں مقعد (اینل ایریا) کی رگیں پھول جا...
16/08/2025

بواسیر — علامات، وجوہات اور علاج

بواسیر کیا ہے؟
بواسیر یا پائلز ایک عام بیماری ہے جس میں مقعد (اینل ایریا) کی رگیں پھول جاتی ہیں۔ یہ اندرونی بھی ہوسکتی ہیں اور بیرونی بھی۔ اکثر لوگ شرم یا لاپرواہی کی وجہ سے علاج میں دیر کرتے ہیں، جس سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔

اہم علامات:
پاخانے کے ساتھ یا بعد میں خون آنا

اینل ایریا میں درد یا جلن

سوجن یا گلٹی محسوس ہونا

خارش یا تکلیف

وجوہات:
لمبے عرصے تک قبض رہنا

زیادہ زور لگا کر پاخانہ کرنا

حمل کے دوران یا بعد میں

زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا (خصوصاً ٹوائلٹ پر)

وزن زیادہ ہونا

علاج:
کافی کیسز میں ابتدائی علاج سے بواسیر ٹھیک ہوسکتی ہے:

قبض سے بچاؤ — زیادہ پانی پئیں، پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں، فائبر والی خوراک لیں۔

لمبے وقت تک بیٹھنے سے گریز — خاص طور پر ٹوائلٹ پر۔

ادویات اور مرہم — سوجن اور درد کم کرنے کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق۔

سرجری — اگر بواسیر بار بار خون کرے، بہت بڑی ہو جائے، یا دوسری علامات کنٹرول نہ ہوں تو سرجری کے ذریعے نکالنا بہترین حل ہے۔

اہم نوٹ: بواسیر کا علاج جلد کروائیں تاکہ خون کی کمی یا شدید درد سے بچا جا سکے۔ بروقت علاج آپ کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔

Haemorrhoids — Symptoms, Causes, and Treatment

What are Haemorrhoids?
Haemorrhoids (piles) are swollen veins in the a**l area. They can be internal or external. Many people delay treatment due to embarrassment or negligence, which often makes the problem worse.

Key Symptoms:
Bleeding during or after passing stool

Pain or burning in the a**l area

Swelling or a lump near the a**s

Itching or discomfort

Causes:
Chronic constipation

Straining too much during bowel movements

Pregnancy and childbirth

Sitting for long periods (especially on the toilet)

Being overweight

Treatment:
In many cases, early treatment can cure haemorrhoids:

Prevent Constipation — Drink plenty of water, eat more fruits, vegetables, and high-fibre foods.

Avoid Prolonged Sitting — Especially on the toilet.

Medicines & Ointments — To reduce swelling and pain (as prescribed by your doctor).

Surgery — If haemorrhoids cause repeated bleeding, become very large, or do not respond to other treatments, surgical removal is the best option.

Important: Seek treatment early to avoid anaemia (low blood) and severe pain. Timely care can make your life much more comfortable.

امبیلیکل کارڈ پرولیپس ایک ایمرجنسی صورتحال ہے، جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے نال (Umbilical Cord) گریوا (Cervix) سے نکل ک...
13/08/2025

امبیلیکل کارڈ پرولیپس

ایک ایمرجنسی صورتحال ہے، جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے نال (Umbilical Cord) گریوا (Cervix) سے نکل کر اندام نہانی (Va**na) میں آ جاتی ہے۔ اس دوران بچے کا سر یا جسم نال کو دبا سکتا ہے، جس سے بچے تک خون اور آکسیجن کی رسد کم یا بند ہو سکتی ہے۔ یہ حالت فوری اور تیز علاج کا تقاضا کرتی ہے

ایمنیوسینٹیسس (Amniocentesis)ایمنیوسینٹیسس ایک میڈیکل ٹیسٹ ہے جو حمل کے دوران کیا جاتا ہے تاکہ بچے کی صحت اور جینیاتی حا...
13/08/2025

ایمنیوسینٹیسس (Amniocentesis)
ایمنیوسینٹیسس ایک میڈیکل ٹیسٹ ہے جو حمل کے دوران کیا جاتا ہے تاکہ بچے کی صحت اور جینیاتی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

طریقہ کار:

یہ عام طور پر حمل کے 15 سے 20 ہفتے کے درمیان کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر الٹراساؤنڈ کی مدد سے ماں کے پیٹ میں ایک باریک سوئی ڈال کر ایمینیوٹک فلوئیڈ (پانی کی تھیلی کا پانی) کا تھوڑا سا نمونہ نکالتے ہیں۔

اس پانی میں بچے کے خلیے اور کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جنہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

وجوہات (کیوں کیا جاتا ہے):

بچے میں جینیاتی بیماریاں (مثلاً ڈاؤن سنڈروم، ٹرائیسومی، تھلیسیمیا) چیک کرنے کے لیے۔

بچے کے پھیپھڑوں کی پختگی کا اندازہ لگانے کے لیے (حمل کے آخر میں)۔

کسی خاص انفیکشن یا بیماری کی تشخیص کے لیے۔

خطرات:

ہلکا سا پیٹ درد یا کھچاؤ۔

ہلکی خون یا پانی جیسی رطوبت کا اخراج۔

بہت کم کیسز میں اسقاط حمل (Miscarriage) کا خطرہ، جو تقریباً 1% سے بھی کم ہے۔

یہ ٹیسٹ ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں اور ضرورت پڑنے پر ہی کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک انویسیو (invasive) پروسیجر ہے۔

**ویگس نرو (Vagus Nerve): -انسانی جسم کا خاموش معجزہ**  انسانی جسم میں کئی اعصاب اپنا اہم کام سرانجام دیتے ہیں، لیکن ویگ...
31/05/2025

**ویگس نرو (Vagus Nerve): -
انسانی جسم کا خاموش معجزہ**

انسانی جسم میں کئی اعصاب اپنا اہم کام سرانجام دیتے ہیں، لیکن ویگس نرو کو اگر "خدا کی نعمت" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ اعصاب دماغ سے نکل کر سینے، دل، پھیپھڑوں، آنتوں، گردوں، جگر اور دیگر اہم اعضاء تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جسم کی سب سے لمبی کرینیل نرو (Cranial Nerve) ہے اور انسان کے جسمانی و ذہنی سکون میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

# # # **ویگس نرو کیا ہے؟**

ویگس نرو (Vagus Nerve) دماغ کے نچلے حصے، یعنی میڈولا اوبلونگیٹا (Medulla Oblongata) سے نکلتی ہے اور جسم کے کئی اہم حصوں تک جاتی ہے۔ یہ اعصاب پیراسیمپیتھیٹک نروس سسٹم (Parasympathetic Nervous System) کا حصہ ہے، جو جسم کو سکون اور آرام کی حالت میں رکھتا ہے۔

# # # **ویگس نرو کے حیرت انگیز فرائض**

1. **دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھنا:** ویگس نرو دل کی رفتار کو کم کرکے اسے مستحکم رکھتی ہے۔

2. **ہاضمے میں مدد:**
یہ آنتوں کی حرکت کو بڑھاتی ہے اور خوراک کے ہضم ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

3. **ذہنی دباؤ کو کم کرنا:**
یہ اعصاب دماغ میں ایسے کیمیکلز خارج کرتی ہے جو اضطراب، ڈپریشن اور خوف کو کم کرتے ہیں۔
4. **مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا:**
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ویگس نرو کی تحریک سے جسم کا دفاعی نظام بہتر ہوتا ہے۔

5. **نیند میں بہتری:** یہ نیند کے ہارمون میلے ٹونن (Melatonin) کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

# # # **ویگس نرو کو کیسے متحرک کیا جائے؟**

- **گہری سانس لینا:**
ناک سے لمبا سانس لینا اور منہ سے آہستہ چھوڑنا۔
- **غرارے کرنا:**
نمکین پانی سے غرارے کرنے سے ویگس نرو متحرک ہوتی ہے۔
- **ٹھنڈے پانی کا استعمال:**
ٹھنڈے پانی سے منہ دھونا یا نہانا۔
- **مراقبہ اور ذکر:**
ذہنی سکون کے لیے مراقبہ اور تسبیحات پڑھنا مفید ہے۔
- **ہلکی مالش:**
گردن کے پچھلے حصے کی ہلکی مالش سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

# # # **سائنسی تحقیقات کیا کہتی ہیں؟**

- **جرنل آف کلینیکل سائیکاٹری**
کے مطابق ویگس نرو کی تحریک سے ڈپریشن کے مریضوں میں بہتری آتی ہے۔

- **فرنٹیئرز ان نیورو سائنس**
کی ایک تحقیق کے مطابق یہ اعصاب جسمانی سوزش (Inflammation) کو کم کرتی ہے۔

- **ہارورڈ میڈیکل اسکول**
کے مطابق اسے متحرک رکھنے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

# # # **ویگس نرو میں خرابی کی علامات**

- دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا

- معدے یا آنتوں کے مسائل

- ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن یا بے خوابی

- متلی یا چکر آنا

- آواز میں تبدیلی یا آواز بیٹھ جانا



ویگس نرو انسانی جسم کا ایک پوشیدہ نظام ہے جو ہماری جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر ہم اس کی حفاظت کریں اور اسے متحرک رکھیں تو نہ صرف ہمارا ہاضمہ، دل اور نیند بہتر ہوگی بلکہ ہم ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور تھکن جیسے مسائل سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ اعصاب بلاشبہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔

Address

Street No 1 Shadab Town
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Hospital & Maternity Home posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Naveed Hospital & Maternity Home:

Share

Category