Dr Ramzan Chaudhry

Dr Ramzan Chaudhry M D .. Al mumtaz Hospital Sandhilianwali
Director ..The IslamicOxford Grammar Secondary Schools Sandhilianwali
President .. PMA tehsil Pirmahal

21/03/2026
انگلی کی ساخت (Anatomy of Finger)یہ تصویر انسانی انگلی کا اندرونی کراس سیکشن دکھا رہی ہے جس میں جلد، خون کی نالیاں، اعصا...
14/03/2026

انگلی کی ساخت (Anatomy of Finger)
یہ تصویر انسانی انگلی کا اندرونی کراس سیکشن دکھا رہی ہے جس میں جلد، خون کی نالیاں، اعصاب اور دیگر ٹشوز واضح نظر آ رہے ہیں۔ ہماری انگلیاں نہایت حساس اور پیچیدہ ساخت رکھتی ہیں جو ہمیں چیزوں کو پکڑنے، محسوس کرنے اور باریک کام کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
انگلی کے اہم حصے
1️⃣ Skin (جلد)
انگلی کی بیرونی تہہ جلد پر مشتمل ہوتی ہے جو جسم کو جراثیم، چوٹ اور بیرونی اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ انگلیوں کی جلد میں حس کے بہت زیادہ اعصاب موجود ہوتے ہیں جس سے چھونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
2️⃣ Blood Vessels (خون کی نالیاں)
انگلیوں میں باریک شریانیں اور وریدیں ہوتی ہیں جو خون اور آکسیجن کو ٹشوز تک پہنچاتی ہیں۔ یہی خون انگلی کو زندہ اور فعال رکھتا ہے۔
3️⃣ Nerves (اعصاب)
انگلیوں میں اعصاب کی بہت زیادہ تعداد ہوتی ہے، اسی وجہ سے انگلیاں جسم کا سب سے زیادہ حساس حصہ ہوتی ہیں اور معمولی لمس کو بھی محسوس کر لیتی ہیں۔
4️⃣ Connective Tissue (کنیکٹو ٹشو)
یہ وہ ٹشو ہے جو جلد، اعصاب اور خون کی نالیوں کو ایک ساتھ جوڑ کر مضبوطی فراہم کرتا ہے۔
5️⃣ Finger Pad (انگلی کا نرم حصہ)
انگلی کے سرے پر موجود نرم حصہ چربی اور خاص ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے جو دباؤ کو برداشت کرتا ہے اور ہمیں چیزیں مضبوطی سے پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔
انگلی کی اہمیت
✔ چھونے اور محسوس کرنے کی حس
✔ باریک کام کرنے کی صلاحیت
✔ چیزوں کو پکڑنے اور کنٹرول کرنے میں مدد
انگلیوں کی صحت کے لیے احتیاط
ہاتھوں کو صاف رکھیں
چوٹ یا زخم کو نظر انداز نہ کریں
زیادہ ٹھنڈ یا گرمی سے حفاظت کریں
متوازن غذا استعمال کریں تاکہ اعصاب اور ٹشوز مضبوط رہیں
✨ انسانی جسم کی ہر انگلی میں ہزاروں اعصاب اور خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو اسے انتہائی حساس اور مفید عضو بناتی ہیں۔

07/03/2026

گھینٹھیا (Gout) ایک قسم کی جوڑوں کی بیماری ہے جو جسم میں یورک ایسڈ بڑھنے سے ہوتی ہے۔ جب یورک ایسڈ زیادہ ہو جائے تو اس کے کرسٹل جوڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں اور شدید درد اور سوجن پیدا کرتے ہیں۔
یہ بیماری عام طور پر پیر کے انگوٹھے کے جوڑ میں شروع ہوتی ہے لیکن ٹخنہ، گھٹنا، کلائی اور انگلیوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
علامات (Symptoms)
اچانک اور شدید جوڑوں کا درد
جوڑ میں سوجن اور سرخی
متاثرہ جوڑ کا گرم ہونا
چھونے سے بہت زیادہ درد
زیادہ تر رات کے وقت درد شروع ہونا
بار بار حملے ہونے پر جوڑ خراب بھی ہو سکتے ہیں
اکثر پہلی جگہ متاثر ہونے والا جوڑ پیر کے انگوٹھے کا جوڑ ہوتا ہے۔
اسباب (Causes)
خون میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا
زیادہ گوشت اور چربی والی غذا
شراب یا میٹھی ڈرنکس
موٹاپا
گردوں کی کمزوری
کچھ دوائیں (مثلاً ڈائیوریٹکس)
موروثی رجحان
علاج (Treatment)
1. درد کے حملے کے وقت
درد کم کرنے والی ادویات
Ibuprofen
Diclofenac
Colchicine
بعض صورتوں میں سٹیرائڈ دوائیں
2. یورک ایسڈ کم کرنے کے لئے
Allopurinol
Febuxostat
یہ دوائیں ڈاکٹر کے مشورے سے لمبے عرصے کیلئے دی جاتی ہیں تاکہ یورک ایسڈ کم رہے۔
پرہیز (Dietary Restrictions)
گاؤٹ میں غذا بہت اہم ہے۔
پرہیز کریں
لال گوشت (بیف، مٹن)
کلیجی، گردے، مغز
سمندری خوراک (جھینگا، مچھلی کی کچھ اقسام)
دالوں کا زیادہ استعمال
کولڈ ڈرنکس اور میٹھی ڈرنکس
زیادہ چکنائی والی غذا
استعمال کر سکتے ہیں
دودھ اور دہی
سبزیاں
پھل
پانی زیادہ پینا
ہلکی غذا
مفید احتیاطیں
وزن کم رکھیں
روزانہ زیادہ پانی پئیں
زیادہ دیر بھوکے نہ رہیں
ہلکی ورزش کریں
✅ اگر علاج نہ کیا جائے تو گردوں کی پتھری اور جوڑوں کی مستقل خرابی بھی ہو سکتی ہے۔

07/03/2026

Uncontrolled شوگر یعنی Diabetes Mellitus جب زیادہ عرصہ تک زیادہ رہے تو اس کی کچھ ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔.
Uncontrolled شوگر کی ابتدائی علامات
1️⃣ زیادہ پیشاب آنا (Polyuria)
2️⃣ بہت زیادہ پیاس لگنا (Polydipsia)
3️⃣ زیادہ بھوک لگنا (Polyphagia)
4️⃣ وزن کا کم ہونا بغیر کسی وجہ کے
5️⃣ تھکن اور کمزوری
6️⃣ نظر دھندلی ہونا
7️⃣ زخم دیر سے بھرنا
8️⃣ جلد یا پیشاب کے انفیکشن بار بار ہونا
9️⃣ ہاتھ پاؤں میں جلن یا سن ہونا (neuropathy کی شروعات)
شوگر کے وہ لیول جن پر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے
📊 عام طور پر:
Fasting Blood Sugar
نارمل: 70–100 mg/dl
خطرناک: 130 mg/dl سے اوپر مسلسل
Random Blood Sugar
نارمل: 140 mg/dl سے کم
خطرناک: 200 mg/dl سے اوپر
HbA1c
نارمل: 5.7% سے کم
شوگر کا مریض:
اچھا کنٹرول: 7% سے کم
پیچیدگیوں کا خطرہ: 8–9% یا اس سے زیادہ
✅ اہم بات:
اگر شوگر کئی مہینوں یا سالوں تک 200–300 mg/dl کے قریب رہے تو دل، گردے، آنکھیں اور اعصاب کو نقصان شروع ہو سکتا ہے۔

27/02/2026

مرگی (Epilepsy) کیا ہوتی ہے اور اس کیلیے کیا احتیاط ضروری ہیں؟؟
مرگی (Epilepsy) ایک اعصابی بیماری ہے جس میں دماغ کے برقی سگنلز میں عارضی خلل پڑنے سے مریض کو دورے پڑتے ہیں۔ یہ کتنی خطرناک ہے، اس کا انحصار دوروں کی نوعیت اور ان کے حالات پر ہوتا ہے۔
ذیل میں اس کی سنگینی اور ضروری احتیاطی تدابیر کی تفصیل دی گئی ہے:
مرگی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟
زیادہ تر معاملات میں مرگی جان لیوا نہیں ہوتی، لیکن غیر محتاط رویہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے:
• اچانک گرنا: دورے کے دوران توازن بگڑنے سے سر پر چوٹ لگنا یا ہڈی ٹوٹنا۔
• ڈوبنے کا خطرہ: نہاتے ہوئے یا تیراکی کے دوران دورہ پڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
• گاڑی چلاتے وقت دورہ: یہ مریض اور دوسروں کے لیے جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
• اسٹیٹس ایپلپٹیکس (Status Epilepticus): اگر دورہ 5 منٹ سے زیادہ طویل ہو جائے، تو یہ دماغی نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے۔
مریض کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر
مریض اپنی طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں لا کر ایک بھرپور اور محفوظ زندگی گزار سکتا ہے:
1. ادویات کی پابندی
• ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات وقت پر لیں۔ ایک بھی خوراک چھوڑنا دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
• ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا کبھی بند نہ کریں۔
2. نیند اور آرام
• بھرپور نیند لیں (7 سے 8 گھنٹے)۔ نیند کی کمی مرگی کے دورے کا سب سے بڑا "ٹریگر" (Trigger) ہے۔
• ذہنی تناؤ اور اسٹریس سے بچنے کی کوشش کریں۔
3. روزمرہ زندگی میں حفاظت
• غسل خانہ: نہاتے وقت دروازہ اندر سے بند نہ کریں یا ایسا لاک لگائیں جو باہر سے کھل سکے۔ شاور کا استعمال ٹب (Tub) سے زیادہ بہتر ہے تاکہ ڈوبنے کا خطرہ نہ رہے۔
• باورچی خانہ: آگ اور چاقو کا استعمال کرتے وقت کسی کی موجودگی بہتر ہے۔
• بلندی: اونچی جگہوں پر اکیلے جانے سے گریز کریں۔
4. ٹرگرز کی پہچان
• کچھ لوگوں کو تیز چمکتی روشنیوں (Strobe lights) سے دورہ پڑتا ہے، ان سے بچیں۔
• زیادہ دیر تک بھوکا رہنے سے گریز کریں کیونکہ شوگر لیول کم ہونا بھی دورے کی وجہ بن سکتا ہے۔
مرگی کے مریض کو ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہیے، اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے، اکیلے سیڑھیوں یا لفٹ میں سفر نہیں کرنا چاہیے

کھانے پینے میں باقاعدگی: طویل عرصے تک بھوکا رہنے یا روزے کی حالت میں شوگر لیول کم ہونے سے دورہ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے وقت پر کھانا کھائیں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم میں نمکیات کا توازن برقرار رہے۔
• ذہنی تناؤ (Stress) سے بچاؤ: شدید پریشانی یا ذہنی دباؤ دوروں کو دعوت دیتا ہے۔ اس کے لیے ہلکی پھلکی واک، یوگا یا سانس کی مشقیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
گھر کے اندر حفاظت (Home Safety)
• باتھ روم کی احتیاط: نہاتے وقت باتھ روم کا دروازہ اندر سے لاک نہ کریں، بلکہ 'بزی' (Busy) کا سائن لگائیں یا ایسا کنڈا استعمال کریں جو باہر سے کھل سکے۔ شاور کا استعمال ٹب (Tub) میں بیٹھنے سے زیادہ محفوظ ہے تاکہ ڈوبنے کا خطرہ نہ رہے۔
• کچن میں کام: اگر آپ کو اکثر دورے پڑتے ہیں تو آگ کے قریب اکیلے کام کرنے سے گریز کریں۔ مائیکرو ویو کا استعمال چولہے سے زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ تیز دھار چھریوں کا استعمال کرتے وقت احتیاط کریں یا کسی کی موجودگی میں کام کریں۔
• فرنیچر اور فرش: گھر کے فرنیچر کے تیز کونوں پر پروٹیکٹرز (Corner Guards) لگائیں تاکہ اگر دورہ پڑے اور آپ گریں تو سر پر گہری چوٹ نہ لگے۔
باہر اور سفر کے دوران احتیاط
• گاڑی چلانا: جب تک آپ کے دورے ادویات سے مکمل کنٹرول نہ ہو جائیں، گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر سختی سے عمل کریں۔
• تیراکی اور کھیل: اکیلے تیراکی (Swimming) ہرگز نہ کریں، ہمیشہ کسی ایسے ساتھی کے ساتھ جائیں جسے آپ کی حالت کا علم ہو۔ بلندی پر چڑھنے والے کھیلوں سے بھی گریز بہتر ہے۔
• میڈیکل آئی ڈی (ID): اپنے پاس ہمیشہ ایک کارڈ یا بریسلیٹ رکھیں جس پر لکھا ہو کہ آپ کو مرگی کا مرض ہے اور ایمرجنسی نمبر درج ہو، تاکہ کسی عوامی جگہ پر دورہ پڑنے کی صورت میں لوگ آپ کی درست مدد کر سکیں۔
ٹیکنالوجی اور اسکرین کا استعمال
• فوٹو سینسیٹیویٹی: اگر آپ کو تیز روشنیوں سے دورہ پڑتا ہے، تو کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین زیادہ دیر استعمال نہ کریں۔ اسکرین کی برائٹنس کم رکھیں اور ٹی وی دیکھتے وقت کمرے میں مناسب روشنی رکھیں۔

12/09/2025

اپنی صحت کی جانچ کے لیے سالانہ کون کون سے ٹیسٹ کروانے چاہئیں؟

1۔ CBC. (کمپلیٹ بلڈ کاونٹ)۔ یہ خون میں موجود مختلف خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز آور وائٹ بلڈ سیلز کی تمام اقسام اور پلیٹ لیٹس کی تعداد اور خون میں موجود ہیموگلوبن کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ خون میں ہیموگلوبن کی کمی مطلب اینمیا کا شکار ہیں (جسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے) یا جسم میں کوئی انفیکشن یا الرجک پروسیس چل رہا ہے تو اس ٹیسٹ سے پتہ چل جاتا ہے۔

2۔ LFTs (لیور فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ جگر کا ٹیسٹ ہے۔ جس میں جگر کے نارمل کام کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے خون میں بلی ریوبن اور کچھ اینزائمز کو جانچا جاتا ہے۔ بلی ریوبن ایک مادہ ہے جو کہ ہمارے خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے اور جگر اس کو جسم سے صاف کرنے کے لیے دیگر کچھ مادوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور پھر یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے نارمل فنکشن میں کوئی خرابی ہو تو بلی ریوبن کی مقدار خون میں ایک مخصوص ویلیو سے بڑھ جاتی ہے۔

3۔ RFTs (رینل فنکشن ٹیسٹ)۔ یہ گردوں کی جانچ کا ٹیسٹ ہے۔ اس میں خون میں موجود یوریا اور کریٹینن کو جانچا جاتا ہے اور اگر ان کی مقدار ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو تو یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے

4۔ Lipid profile Test. یہ جسم میں موجود مختلف طرح کے لپڈز کی جانچ کرتا ہے یعنی کولیسٹرول ، ہائی ڈینسٹی لائیپو پروٹینز اور لو ڈینسٹی لائیپو پروٹینز۔ جن افراد کی فیملی ہسٹری میں دل کے امراض ہوں ان کو (خاص طور پر مرد حضرات کو) یہ ٹیسٹ سال میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ لپڈز لیول میں اگر تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو تو آپ ابتدائی لیول پر اس کی جانچ کر کے اپنی خوراک میں تبدیلی اور ورزش کو روٹین کا حصہ بنا کر دل کے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مردوں میں دل کے امراض کا تناسب زیادہ ہے۔ لہذا سب مرد حضرات کو بیس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور جن کے ماں باپ میں سے کسی کو دل کا مرض ہے تو وہ سالانہ یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

5۔ BSL. ( بلڈ شوگر لیول )۔ یہ ٹیسٹ خون میں موجود گلوکوز کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں ڈایا بٹیز (شوگر) کی بیماری ہے تو سالانہ اپنا یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں

6۔ Stool test . ترقی یافتہ ممالک میں ہر چھ ماہ بعد سکریننگ ٹیسٹ میں یہ بھی کیا جاتا ہے۔ کولون اور ریکٹم کے مختلف امراض خصوصا کینسر کو جلدی پکڑنے کے لیے یہ ٹیسٹ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ٹیسٹ میں سٹول سیمپل کی مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں خون ، پس یا کوئی اور ایبنارمل مادہ تو موجود نہیں ہے۔

7۔ Urine complete examinatiom۔
اس ٹیسٹ میں یورین کی مکمل مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں بیکٹریا ، خون ، پس یا کرسٹلز وغیرہ تو موجود نہیں۔۔یہ ٹیسٹ یورینری ٹریکٹ کی بیماریوں کی جانچ کے لیے
ضروری ہے

Address

Al Mumtaz Hospital
Sandhilianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Ramzan Chaudhry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category