Dr.Jawad Akram

  • Home
  • Dr.Jawad Akram

Dr.Jawad Akram 🇨🇳🇮🇩🇲🇾🇱🇰~~🇵🇰
MBBS(RMP), MS(General Surgery)
Career Advising
📍Henan, China
Dm for more information

ہر سانحے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے:“اپنا علاج سرکاری ہسپتال سے کیوں نہیں کرواتے؟”اور پھر بغیر کسی تحقیق کے سارا...
14/07/2026

ہر سانحے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے:

“اپنا علاج سرکاری ہسپتال سے کیوں نہیں کرواتے؟”

اور پھر بغیر کسی تحقیق کے سارا الزام ڈاکٹرز پر ڈال دیا جاتا ہے۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

ایک طرف خبر آتی ہے کہ 1400 سے زائد ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ،

آسٹریلیا اور دیگر ممالک منتقل ہو گئے، جہاں انہیں بہتر کام کا ماحول، پیشہ ورانہ

احترام، میرٹ پر ترقی اور مناسب معاوضہ ملتا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف تنخواہ ہی ہجرت کی وجہ نہیں ہوتی۔ بہت سے ڈاکٹرز

پاکستان میں بھی اچھی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، مگر مسلسل بے جا الزامات، غیر

محفوظ ماحول، سیاسی مداخلت، میڈیا ٹرائل، وسائل کی کمی، اور پیشہ ورانہ بے عزتی

انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اگر پاکستانی ڈاکٹر واقعی نااہل ہوتے، تو وہ انہی ممالک کے انتہائی سخت لائسنسنگ امتحانات کیسے پاس کرتے؟ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں ڈاکٹر بننے کے لیے دنیا کے مشکل ترین امتحانات، کلینیکل اسیسمنٹس اور سخت معیار سے گزرنا پڑتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک کمزور نظام کی ناکامی کا بوجھ اکثر ایک ڈاکٹر کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

صرف نئی عمارتیں، رنگ و روغن یا ٹائلیں لگانے سے صحت کا نظام بہتر نہیں ہوتا۔ جب ادویات، آلات، عملہ، بیڈز، بجٹ اور بنیادی سہولیات ہی ناکافی ہوں تو اس کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو قرار دینا انصاف نہیں۔

حالیہ دنوں ایک ڈاکٹر کو صرف اس بنیاد پر معطل کر دیا گیا کہ ہسپتال میں اے سی مقررہ حد سے زیادہ درجہ حرارت پر چل رہا تھا۔ اگر کفایت شعاری ضروری ہے تو اس کا اطلاق تمام سرکاری اداروں پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ہسپتالوں پر جہاں مریضوں اور طبی عملے دونوں کی کارکردگی کا تعلق مناسب ماحول سے بھی ہوتا ہے۔

اسی دوران ہزاروں نوجوان ڈاکٹرز بے روزگار ہیں، ہزاروں نوکریوں کے اشتہارات اور میرٹ لسٹوں کا انتظار کرتے کرتے برسوں گزار دیتے ہیں، جبکہ پہلے سے کام کرنے والے ڈاکٹرز پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔

ایک اور حقیقت جس پر ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے، وہ ہمارے اپنے طبی اداروں کا ماحول بھی ہے۔ بعض اوقات سینئرز کی جانب سے جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ نامناسب رویہ، ذہنی دباؤ اور غیر ضروری سختی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صحت مند نظام باہمی احترام، رہنمائی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے بنتا ہے، نہ کہ خوف اور تذلیل سے۔

یہ تحریر کسی بھی قسم کی غفلت یا غلطی کا دفاع نہیں کرتی۔ اگر کسی ڈاکٹر یا کسی بھی طبی کارکن سے واقعی غفلت ثابت ہو، تو قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن ہر حادثے سے پہلے تحقیق کے بغیر پوری ڈاکٹر برادری کو مجرم قرار دینا نہ انصاف ہے اور نہ ہی مسئلے کا حل۔

ہم سب کے لیے ایک پیغام:

عوام، میڈیا، حکومت اور ڈاکٹرز—ہم سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے ہمیں حقائق جاننے، تحقیق کا انتظار کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔

یاد رکھیں، ڈاکٹر بھی انسان ہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اور اپنے خاندان رکھتے ہیں۔ احترام، تعاون اور انصاف صرف ڈاکٹرز کا حق نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

اگر ہم واقعی بہتر صحت کا نظام چاہتے ہیں، تو ہمیں جذبات نہیں بلکہ شعور، تحقیق، اخلاقیات اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ ایک باخبر اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو فیصلے حقائق کی بنیاد پر کرتا ہے، نفرت اور افواہوں کی بنیاد پر نہیں۔

سرنج، سکون اور دباؤ: ڈاکٹر کی مجبوری یا نظام کی ناکامی؟تونسہ کے ایک چھوٹے سے کلینک کا منظر ہے۔ صبح آٹھ بجے سے لائن لگی ہ...
08/07/2026

سرنج، سکون اور دباؤ: ڈاکٹر کی مجبوری یا نظام کی ناکامی؟

تونسہ کے ایک چھوٹے سے کلینک کا منظر ہے۔ صبح آٹھ بجے سے لائن لگی ہوئی ہے۔ ایک ہی ڈاکٹر، ایک ہی کمرہ، اور باہر سو سے زائد مریض اپنی باری کے منتظر۔ ہر مریض کو اوسطاً دو منٹ ملتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں وقت، وسائل اور عملہ تینوں کم ہوں، وہاں چھوٹی چھوٹی احتیاطیں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں پنجاب کے کچھ علاقوں میں سرنج کے دوبارہ استعمال جیسے واقعات سامنے آئے، جن کے نتیجے میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔

جب ایسی خبریں سامنے آتی ہیں تو پہلا ردعمل غصہ اور کسی ایک فرد کو مورد الزام ٹھہرانا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ نہ صرف ایک طبی مسئلہ ہے بلکہ ہمارے صحت کے نظام میں موجود کئی دراڑوں کا مجموعی نتیجہ بھی ہے۔

نظام پر دباؤ کہاں سے آتا ہے؟

پاکستان میں دیہی اور نیم شہری علاقوں کے سرکاری کلینکس اکثر انتہائی محدود وسائل کے ساتھ چلائے جاتے ہیں۔ ایک ہی معالج کو روزانہ سینکڑوں مریض دیکھنے پڑتے ہیں، جبکہ عملہ، سازوسامان اور نگرانی کا نظام اکثر ناکافی ہوتا ہے۔ کچھ اہم عوامل جو اس دباؤ کو بڑھاتے ہیں:

- مریضوں کی تعداد اور عملے کی کمی — ایک ڈاکٹر یا نرس پر مریضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر قدم پر مکمل احتیاط برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے
- سامان کی فراہمی میں تعطل — نئی سرنجیں بروقت اور کافی مقدار میں دستیاب نہ ہونا
- تربیت اور نگرانی کا فقدان — بعض چھوٹے کلینکس اور نجی پریکٹیشنرز تک انفیکشن کنٹرول کی جدید تربیت نہیں پہنچ پاتی
- کم اجرت اور تھکن — انتہائی کم وسائل میں کام کرنے والا عملہ ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار رہتا ہے، جو غلطیوں کا امکان بڑھاتا ہے
- معاشرتی دباؤ — مریضوں کی طرف سے "جلدی انجیکشن لگا دیں" کا اصرار، جبکہ اکثر بیماریوں میں انجیکشن کی ضرورت ہی نہیں ہوتی

یہ عوامل مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں انفیکشن کنٹرول کے اصول، چاہے معلوم بھی ہوں، عملی طور پر برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کا اثر کن پر پڑتا ہے؟

زیادہ خطرے کا شکار طبقہ:
- دیہی اور کم آمدنی والے علاقوں کے بچے اور بڑے، جو اکثر چھوٹے نجی کلینکس یا غیر تربیت یافتہ پریکٹیشنرز پر انحصار کرتے ہیں
- وہ مریض جو بار بار انجیکشن لگواتے ہیں (جیسے دائمی درد یا کمزوری کی شکایت پر)
- وہ افراد جنہیں معلوم نہیں کہ انجیکشن کی ہر بار نئی سرنج استعمال ہونا ان کا بنیادی حق ہے

علامات جو والدین کو معلوم ہونی چاہئیں

ایچ آئی وی کی ابتدائی علامات اکثر عام بیماریوں جیسی ہوتی ہیں، اس لیے صرف علامات پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے:

- بار بار بخار جو آسانی سے ٹھیک نہ ہو
- وزن میں غیر معمولی کمی
- بار بار انفیکشن یا زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا
- مسلسل تھکن اور کمزوری
- غدود (Lymph Nodes) کا سوجنا

اگر بچے کو حال ہی میں انجیکشن لگا ہو اور مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو فوری طور پر ٹیسٹ کروانا بہتر ہے، محض شک کی بنیاد پر گھبرانے کے بجائے۔

فوراً طبی مشورہ کب لینا چاہیے؟

- اگر یہ معلوم ہو کہ بچے کو کسی ایسی جگہ انجیکشن لگا جہاں سرنج نئی نہیں کھولی گئی
- بخار، وزن میں کمی اور تھکن کا مجموعہ دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے
- کسی مقامی علاقے میں ایسے کیسز کی اطلاع ملے، تو احتیاطاً ٹیسٹ ضرور کروائیں

تشخیص اور علاج کا مقصد

ایچ آئی وی کی تشخیص خون کے مخصوص ٹیسٹ سے ہوتی ہے، جو اب سرکاری اسپتالوں میں مفت دستیاب ہے۔ بروقت تشخیص کے بعد اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) شروع کی جاتی ہے، جو وائرس کو قابو میں رکھتی ہے اور مریض کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ علاج کا مقصد وائرس کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے کنٹرول میں رکھنا اور مدافعتی نظام کو محفوظ رکھنا ہے۔ علاج میں تسلسل انتہائی ضروری ہے، کیونکہ درمیان میں چھوڑ دینے سے وائرس دوبارہ طاقتور ہو سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر — والدین اور مریضوں کے لیے

- کسی بھی انجیکشن سے پہلے یہ اطمینان کریں کہ سرنج آپ کے سامنے نیا پیکٹ کھول کر نکالی گئی ہے
- غیر ضروری انجیکشن پر اصرار نہ کریں — بہت سی بیماریوں میں گولیاں اتنی ہی مؤثر ہوتی ہیں
- بچوں کا علاج ہمیشہ تصدیق شدہ اور رجسٹرڈ معالج سے کروائیں
- اگر کسی کلینک میں ہجوم زیادہ اور عملہ جلدی میں نظر آئے، تو سرنج کے استعمال پر خصوصی توجہ دیں

نظام کی بہتری — کیا بدلنا ضروری ہے؟

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اکیلے مریض کی احتیاط کافی نہیں۔ حقیقی حل نظام کی سطح پر ہے:

- دیہی کلینکس میں عملے اور وسائل کی تعداد بڑھانا
- سرنجوں اور طبی سامان کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا
- چھوٹے نجی پریکٹیشنرز کے لیے انفیکشن کنٹرول کی لازمی تربیت اور نگرانی کا نظام قائم کرنا
- عملے پر مریضوں کے بوجھ میں توازن لانا، تاکہ ہر مریض کو معیاری وقت اور توجہ مل سکے

ایک متوازن نظر

یہ آسان ہے کہ کسی ایک ڈاکٹر یا کلینک کو مورد الزام ٹھہرا کر مسئلہ ختم سمجھ لیا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ہی شخص پر سینکڑوں مریضوں کا بوجھ ہو، وسائل ناکافی ہوں اور نگرانی کمزور ہو، تو غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے — یہ کسی کی نیت کا نہیں بلکہ نظام کی صلاحیت کا مسئلہ ہے۔ حل صرف الزام تراشی میں نہیں بلکہ نظام کو مضبوط بنانے میں ہے، تاکہ ڈاکٹر اور مریض دونوں کو وہ ماحول ملے جس کے وہ حقدار ہیں۔

---

آپ کے خیال میں ہمارے دیہی صحت کے نظام میں سب سے پہلے کس چیز کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے — وسائل، تربیت، یا نگرانی؟ کمنٹ میں بتائیں۔

— ڈاکٹر جواد اکرم



ایک چھوٹا سا مچھر، ایک بڑا خطرہ: مون سون میں خود کو کیسے بچائیںبہاولپور کے ایک گھر میں، بارش رکنے کے تین دن بعد، گھر کے ...
07/07/2026

ایک چھوٹا سا مچھر، ایک بڑا خطرہ: مون سون میں خود کو کیسے بچائیں

بہاولپور کے ایک گھر میں، بارش رکنے کے تین دن بعد، گھر کے صحن میں رکھے پرانے ٹائر میں پانی جمع تھا۔ کسی نے دھیان نہیں دیا۔ ایک ہفتے بعد گھر کے دو بچوں کو تیز بخار، جوڑوں میں شدید درد اور جسم پر سرخ دانے نکل آئے۔ ٹیسٹ سے پتا چلا — ڈینگی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس مچھر کو پیدا ہونے کے لیے صرف ایک چائے کے کپ جتنا جمع پانی ہی کافی ہوتا ہے۔

مون سون کے موسم میں بارش کا پانی جگہ جگہ جمع ہو جاتا ہے، اور یہی جمع شدہ پانی مچھروں کی افزائش کے لیے بہترین جگہ بن جاتا ہے۔ پنجاب کے کئی شہروں اور دیہات میں ہر سال بارشوں کے بعد ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 64 فیصد دیہات میں ملیریا اور 32 فیصد میں ڈینگی رپورٹ ہوا۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ ہر گھر کے لیے ایک انتباہ ہیں۔

یہ بیماریاں پھیلتی کیسے ہیں؟

مچھر خود بیماری پیدا نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک "کیریئر" کا کام کرتا ہے۔ جب مادہ مچھر کسی متاثرہ شخص کو کاٹتی ہے، تو وائرس یا پیراسائٹ اس کے جسم میں چلا جاتا ہے۔ جب وہی مچھر کسی صحت مند شخص کو کاٹتی ہے، تو بیماری اس میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ڈینگی ایڈیز مچھر سے پھیلتا ہے جو عام طور پر دن کے وقت کاٹتا ہے، جبکہ ملیریا اینوفیلیز مچھر سے پھیلتا ہے جو زیادہ تر رات کو کاٹتا ہے۔ دونوں مچھروں کو افزائش کے لیے جمع شدہ صاف یا گندے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور مون سون میں ایسی جگہیں ہر گھر کے آس پاس آسانی سے مل جاتی ہیں۔

کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟

قابلِ تبدیلی وجوہات:
- گھر کے آس پاس برتنوں، ٹائروں، گملوں یا چھت پر پانی جمع رہنے دینا
- دن یا رات کے وقت جسم کو کھلا رکھ کر باہر بیٹھنا، خاص طور پر مچھروں کے وقت
- مچھر دانی یا مچھر بھگانے والی کریم/کوائل استعمال نہ کرنا
- گھر کے دروازوں کھڑکیوں پر جالی نہ لگانا

غیر قابلِ تبدیلی وجوہات:
- چھوٹے بچے اور بزرگ، جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے
- حاملہ خواتین، جن میں ملیریا شدید ہو سکتا ہے
- پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد

علامات پہچانیں

ڈینگی کی علامات:
- تیز بخار
- شدید سر درد اور آنکھوں کے پیچھے درد
- جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد
- جسم پر سرخ دانے
- کمزوری اور متلی

ملیریا کی علامات:
- تیز بخار جو سردی لگنے کے ساتھ آئے
- پسینہ آنا اور بخار اترنا، پھر دوبارہ چڑھنا
- سر درد اور جسم میں درد
- متلی اور الٹی

فوراً اسپتال کب جانا چاہیے؟

اگر درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو فوراً طبی امداد حاصل کریں:

- ناک، مسوڑھوں یا پاخانے سے خون آنا
- شدید پیٹ درد اور مسلسل الٹیاں
- جلد کا ٹھنڈا پڑ جانا یا نیلا پڑنا
- بہت زیادہ نیند آنا یا الجھن
- بخار میں اچانک کمی کے بعد شدید کمزوری
- بچے کا سست پڑ جانا یا کھیلنے میں دلچسپی نہ لینا

تشخیص اور علاج کا مقصد

ڈاکٹر عام طور پر خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ڈینگی یا ملیریا کی تصدیق کرتے ہیں۔ ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے علاج کا مقصد بخار اور درد کو قابو میں رکھنا اور پلیٹلیٹس کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ ملیریا کا علاج مخصوص دوائیوں سے کیا جاتا ہے جو پیراسائٹ کو ختم کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں مناسب آرام اور کافی مقدار میں سیال (پانی، او آر ایس) لینا ضروری ہے۔ ڈینگی میں کبھی بھی خود سے اسپرین یا درد کش دوائیں (جیسے آئیبوپروفن) استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ خون بہنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں — صرف ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کریں۔

احتیاطی تدابیر

- گھر کے آس پاس جمع پانی، خاص طور پر ٹائروں، گملوں، بوتلوں اور چھت کی ٹینکیوں میں، ہفتے میں کم از کم ایک بار چیک کریں اور خالی کریں
- سوتے وقت مچھر دانی کا استعمال کریں، خاص طور پر بچوں کے لیے
- دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگوائیں
- مکمل بازو والے کپڑے پہنیں، خاص طور پر صبح اور شام کے وقت
- مچھر بھگانے والی کریم یا کوائل کا استعمال کریں
- محلے میں فوگنگ یا اسپرے کی سرکاری مہم میں تعاون کریں

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی: ڈینگی صرف گندے پانی سے ہوتا ہے۔
حقیقت: ڈینگی کا مچھر صاف، ٹھہرے ہوئے پانی میں پیدا ہوتا ہے — جیسے کولر، گملے یا بوتل کا پانی — نہ کہ گندے نالوں میں۔

غلط فہمی: ایک بار ڈینگی ہو جائے تو دوبارہ نہیں ہو سکتا۔
حقیقت: ڈینگی کی چار مختلف اقسام ہیں، اور ایک قسم سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی دوسری قسم سے دوبارہ متاثر ہونا ممکن ہے، بلکہ دوسری بار زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

ایک اجتماعی ذمہ داری

ڈینگی اور ملیریا کا مچھر کسی ایک گھر کی چار دیواری میں قید نہیں رہتا۔ اگر ایک گھر میں پانی جمع رہے تو پورا محلہ خطرے میں آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کے خلاف لڑائی اکیلے نہیں، بلکہ محلے اور برادری کی مشترکہ کوشش سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔

---

کیا آپ کے محلے میں بھی بارشوں کے بعد مچھروں کی بھرمار ہو جاتی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں کہ آپ اپنے گھر کو کیسے محفوظ رکھتے ہیں — شاید آپ کا طریقہ کسی اور کے کام آ جائے۔

— ڈاکٹر جواد اکرم

برساتی پانی، ایک خاموش دشمن: مون سون میں پیٹ کی بیماریوں سے کیسے بچیںپچھلے سال اگست میں ملتان کے نواحی گاؤں میں ایک خاند...
06/07/2026

برساتی پانی، ایک خاموش دشمن: مون سون میں پیٹ کی بیماریوں سے کیسے بچیں

پچھلے سال اگست میں ملتان کے نواحی گاؤں میں ایک خاندان کی کہانی سب کی زبان پر تھی۔ گھر کے صحن میں کئی دن سے بارش کا پانی جمع تھا۔ بچوں نے اسی پانی میں کھیلتے ہوئے ہاتھ منہ میں ڈالے، اور گھر والوں نے بھی پینے کا پانی اسی علاقے کے ایک ہینڈ پمپ سے لیا جو سیلابی پانی سے قریب تھا۔ دو دن میں گھر کے تین افراد کو شدید دست اور الٹیاں شروع ہو گئیں۔ وقت پر اسپتال پہنچنے سے جانیں بچ گئیں، لیکن ہر خاندان اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔

پاکستان میں، اور خاص طور پر پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں، ہر مون سون کے بعد پیٹ کی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ دیہات میں تقریباً 41 فیصد میں دستوں کی بیماری اور 58 فیصد میں جلدی انفیکشن رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برساتی پانی محض ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک حقیقی صحت کا خطرہ ہے۔

یہ بیماریاں پھیلتی کیسے ہیں؟

بارش اور سیلاب کا پانی جب گٹروں، بیت الخلاؤں اور کچرے کے ساتھ مل جاتا ہے تو اس میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور دیگر جراثیم شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ آلودہ پانی جب پینے کے پانی کے ذرائع (ہینڈ پمپ، کنویں، پانی کے ٹینک) میں شامل ہو جائے، یا کھانا اسی پانی سے دھویا جائے، تو یہ جراثیم سیدھا معدے میں پہنچ جاتے ہیں۔ معدہ ان جراثیموں سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید دست، الٹیاں اور پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دست اور الٹیوں سے جسم سے تیزی سے پانی خارج ہوتا ہے، اور یہی پانی کی شدید کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟

قابلِ تبدیلی وجوہات:
- سیلابی یا جمع شدہ بارش کے پانی کو ابالے بغیر پینا
- کھلے میں رکھا ہوا یا مکھیوں کے بیٹھا ہوا کھانا کھانا
- ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھانا، خاص طور پر بارش کے پانی میں کھیلنے کے بعد
- خراب یا ٹوٹی ہوئی پانی کی لائنوں کا استعمال جو گٹر کے پانی سے قریب ہوں

غیر قابلِ تبدیلی وجوہات:
- چھوٹے بچے، جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے
- بزرگ افراد
- حاملہ خواتین
- پہلے سے کسی دائمی بیماری میں مبتلا افراد

علامات پہچانیں

- بار بار پتلے دست آنا
- الٹیاں
- پیٹ میں مروڑ یا شدید درد
- بخار
- کمزوری اور چکر آنا
- منہ خشک ہونا اور پیشاب کم آنا (پانی کی کمی کی علامت)

فوراً اسپتال کب جانا چاہیے؟

اگر درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو دیر نہ کریں، فوراً طبی امداد حاصل کریں:

- دستوں یا الٹیوں میں خون آنا
- مسلسل دست جو 24 گھنٹے سے زیادہ رہیں
- بچے کا سست پڑ جانا، آنکھیں دھنس جانا، یا رونے پر آنسو نہ آنا
- شدید کمزوری، بیہوشی یا ہوش میں کمی
- تیز بخار کے ساتھ پانی کی کمی کی علامات
- چھوٹے بچوں یا بزرگوں میں کسی بھی حد کے دست، کیونکہ ان میں حالت جلد بگڑ سکتی ہے

تشخیص اور علاج کا مقصد

ڈاکٹر عام طور پر علامات، پانی کی کمی کی حالت، اور ضرورت پڑنے پر پاخانے کے ٹیسٹ کے ذریعے یہ معلوم کرتے ہیں کہ انفیکشن کس قسم کا ہے۔ علاج کا بنیادی مقصد جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن بحال کرنا ہے، تاکہ پانی کی کمی سے ہونے والا نقصان روکا جا سکے۔ ہلکے کیسز میں او آر ایس (ORS) کافی ہوتا ہے، جبکہ شدید کیسز میں ڈرپ کے ذریعے سیال اور بعض اوقات اینٹی بائیوٹک دوائیں درکار ہو سکتی ہیں۔ خود سے کوئی اینٹی بائیوٹک شروع نہ کریں، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر۔

احتیاطی تدابیر

- پینے کا پانی ہمیشہ ابال کر یا فلٹر کر کے استعمال کریں
- کھانا بناتے اور کھاتے وقت ہاتھ صابن سے دھونا نہ بھولیں
- بچوں کو برساتی یا جمع شدہ پانی میں کھیلنے سے روکیں
- کھلے میں رکھا ہوا یا باسی کھانا کھانے سے گریز کریں
- گھر میں او آر ایس کے پیکٹ ہمیشہ موجود رکھیں
- سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کے ٹینک اور ہینڈ پمپ کو گٹر کے پانی سے دور رکھیں

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی: صاف نظر آنے والا پانی محفوظ بھی ہوتا ہے۔
حقیقت: جراثیم آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ پانی صاف نظر آنے کے باوجود آلودہ ہو سکتا ہے، اس لیے ابالنا یا فلٹر کرنا ضروری ہے۔

غلط فہمی: دستوں میں کھانا پینا بند کر دینا چاہیے۔
حقیقت: دستوں کے دوران جسم کو زیادہ سیال اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ او آر ایس اور ہلکی غذا جاری رکھنا بہتر ہے، بھوکا رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ایک اجتماعی ذمہ داری

مون سون کے بعد پیٹ کی بیماریوں کا پھیلاؤ صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے محلے اور گاؤں کی صحت کا سوال ہے۔ جب پانی کے ذرائع مشترکہ ہوں تو ایک گھر کی احتیاط پورے علاقے کی حفاظت میں مدد دے سکتی ہے۔ صاف پانی اور بروقت علاج تک رسائی ہر خاندان کا حق ہے، اور تھوڑی سی آگاہی کئی جانیں بچا سکتی ہے۔

آج آپ کیا کر سکتے ہیں؟

- گھر میں پینے کا پانی ابالنے یا فلٹر کرنے کا معمول آج ہی شروع کریں
- بچوں کو ہاتھ دھونے کی عادت سکھائیں، خاص طور پر کھانے سے پہلے
- گھر میں او آر ایس کا کم از کم ایک پیکٹ آج ہی رکھ لیں
- اگر کسی پڑوسی یا رشتہ دار کے بچے میں دست کی علامات نظر آئیں تو انہیں فوراً او آر ایس دینے اور اسپتال جانے کا مشورہ دیں

---

کیا آپ کے علاقے میں بھی بارش کے بعد ایسی بیماریاں دیکھنے میں آتی ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں — شاید آپ کا تجربہ کسی اور کے کام آ جائے۔

— ڈاکٹر جواد اکرم

جب لُو لگنا موت کا پیغام بن جائے: پنجاب میں ہیٹ سٹروک کی حقیقتجون کی ایک دوپہر، ملتان کا درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیس کو چھ...
04/07/2026

جب لُو لگنا موت کا پیغام بن جائے: پنجاب میں ہیٹ سٹروک کی حقیقت

جون کی ایک دوپہر، ملتان کا درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیس کو چھو رہا تھا۔ ایک رکشہ ڈرائیور، جو دن بھر سواریاں ڈھو رہا تھا، اچانک چکرا کر گر پڑا۔ لوگ سمجھے شاید بھوک یا تھکن ہے، پانی کے چند چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن یہ عام تھکن نہیں تھی — یہ ہیٹ سٹروک تھا، ایک ایسی حالت جو منٹوں میں جان لے سکتی ہے۔

پنجاب کے بہت سے علاقے، خاص طور پر ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کا بیشتر حصہ، ہر سال شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ گرمیوں میں کئی لوگ ہیٹ سٹروک کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ اب بھی اسے صرف "لُو لگنا" سمجھ کر ہلکا لے لیتے ہیں۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ خطرناک حالت آخر ہے کیا۔

ہیٹ سٹروک ہوتا کیا ہے؟

انسانی جسم کا درجہ حرارت عام طور پر تقریباً 37 ڈگری سیلسیس پر قائم رہتا ہے، اور جسم پسینے کے ذریعے اضافی گرمی خارج کرتا ہے۔ لیکن جب باہر کا درجہ حرارت اور نمی اتنی زیادہ ہو جائے کہ پسینہ بھی جسم کو ٹھنڈا نہ رکھ سکے، تو جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے اوپر چلا جاتا ہے۔ اس مقام پر دماغ، گردے اور دیگر اعضاء متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں — یہی ہیٹ سٹروک ہے۔

اسے آسان لفظوں میں ایسے سمجھیں: جیسے انجن کو زیادہ دیر تک تیز رفتاری سے چلانے سے وہ اوور ہیٹ ہو کر بند ہو جاتا ہے، ویسے ہی جسم کا "کولنگ سسٹم" ناکام ہو جانے پر پورا نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے۔

کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟

قابلِ تبدیلی وجوہات:
- دن کے گرم ترین اوقات (دوپہر 12 سے 4 بجے) میں کھلے میدان میں محنت مزدوری کرنا
- پانی کم پینا یا نمکیات کی کمی
- بھاری، تنگ یا سیاہ رنگ کے کپڑے پہننا
- شراب یا کچھ دوائیوں کا استعمال جو جسم کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم کرتی ہیں

غیر قابلِ تبدیلی وجوہات:
- عمر رسیدہ افراد اور چھوٹے بچے
- دل، گردوں یا ذہنی امراض کے مریض
- موٹاپے کا شکار افراد
- کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیور، کسان

علامات کیا ہیں؟

ابتدائی علامات (ہیٹ ایگزاسشن):
- بہت زیادہ پسینہ آنا
- کمزوری اور چکر آنا
- سر درد اور متلی
- پیاس کا شدید احساس

ہیٹ سٹروک کی خطرناک علامات:
- جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنا
- پسینہ آنا اچانک بند ہو جانا اور جلد خشک، گرم اور سرخ ہو جانا
- الجھن، بے ربط باتیں کرنا یا ہوش میں کمی
- تیز دھڑکن اور تیز سانس
- بیہوشی یا دورہ (Seizure)

فوراً اسپتال کب جانا چاہیے؟

اگر کسی شخص میں یہ علامات نظر آئیں تو فوری طبی امداد ناگزیر ہے:

- ہوش میں کمی یا بیہوشی
- جسم کا انتہائی گرم مگر خشک ہونا
- الجھن یا بے ربط گفتگو
- دورہ پڑنا
- سانس یا نبض کا بہت تیز یا بہت کمزور ہونا

جب تک ایمبولینس یا طبی مدد پہنچے، مریض کو فوراً سائے یا ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، کپڑے ڈھیلے کریں، اور جسم پر ٹھنڈا (برف والا نہیں) پانی لگا کر ہوا دیں۔

تشخیص اور علاج کا مقصد

اسپتال میں ڈاکٹر جسم کا درجہ حرارت، بلڈ پریشر اور ضرورت پڑنے پر خون کے ٹیسٹ (گردوں اور جگر کے فنکشن) کے ذریعے حالت کی شدت جانچتے ہیں۔ علاج کا بنیادی مقصد جسم کا درجہ حرارت جلد از جلد محفوظ حد تک لانا اور اعضاء کو ہونے والے نقصان کو روکنا ہے۔ اس کے لیے ٹھنڈے پانی سے جسم کو ٹھنڈا کرنا، ڈرپ کے ذریعے سیال دینا، اور شدید صورتوں میں آئی سی یو میں نگرانی شامل ہو سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

- دوپہر 12 سے 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے حتی الامکان گریز کریں
- ہلکے، ڈھیلے اور ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں
- دن بھر تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہیں، صرف پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں
- او آر ایس (ORS) یا لسی، ستّو جیسے مقامی مشروبات استعمال کریں جو نمکیات پورے کرتے ہیں
- باہر کام کرنے والے مزدور، ڈرائیور حضرات ہر گھنٹے سائے میں تھوڑا آرام کریں
- بچوں اور بزرگوں کو کبھی بند گاڑی میں تنہا نہ چھوڑیں

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی: ٹھنڈا پانی زیادہ پینے سے سٹروک نہیں ہو سکتا۔
حقیقت: پانی کے ساتھ نمکیات کا توازن بھی ضروری ہے؛ صرف پانی زیادہ پینا اور کھانا پینا نظرانداز کرنا کافی نہیں۔

غلط فہمی: لُو لگنا صرف کمزوری ہے، آرام سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔
حقیقت: ہیٹ سٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جس میں فوری علاج نہ ملنے پر جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایک اجتماعی ذمہ داری

ہر سال ملتان، بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں گرمی کی لہریں کئی جانیں لے جاتی ہیں، اور ان میں اکثریت ان مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں اور گھریلو ملازمین کی ہوتی ہے جن کے پاس دھوپ سے بچنے کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کا امتحان بھی ہے۔ تھوڑی سی آگاہی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ کئی جانیں بچا سکتا ہے۔

آج آپ کیا کر سکتے ہیں؟

- گھر میں او آر ایس کے پیکٹ رکھیں اور استعمال کرنا سیکھیں
- گھر کے بزرگوں اور بچوں کو دن میں پانی پینے کی یاددہانی کروائیں
- اگر آپ کے آس پاس کوئی مزدور یا ڈرائیور دھوپ میں کام کر رہا ہے تو اسے پانی پیش کریں
- اگر کوئی شخص گرمی سے بیہوش ہو تو گھبرانے کے بجائے فوراً سائے میں لے جائیں اور طبی امداد بلائیں

---

صحت اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت علم، احتیاط اور بروقت فیصلوں سے ہوتی ہے۔

اگر یہ تحریر آپ کے لیے مفید رہی تو اسے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ ممکن ہے آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے۔

اپنا خیال رکھیں، کیونکہ صحت مند انسان ہی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

— ڈاکٹر جواد اکرم

بزرگ والدین اچانک غصیلے کیوں ہو جاتے ہیں؟ ایک وجہ جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہےپچھلے ہفتے کلینک میں ایک صاحب اپنی 72 سالہ ...
03/07/2026

بزرگ والدین اچانک غصیلے کیوں ہو جاتے ہیں؟ ایک وجہ جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے

پچھلے ہفتے کلینک میں ایک صاحب اپنی 72 سالہ والدہ کو لے کر آئے۔ کہنے لگے: "ڈاکٹر صاحب، امی پہلے اتنی نرم مزاج تھیں، اب چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک اٹھتی ہیں، سب پر چیختی ہیں، اور تھکی تھکی سی رہتی ہیں۔" میں نے کچھ سوالات پوچھے — نیند کیسی ہے، دوائیں کون سی چل رہی ہیں، اور آخر میں: "دن میں پانی کتنا پیتی ہیں؟" جواب تھا: "بہت کم، شاید دو تین کپ چائے کے علاوہ کچھ نہیں۔"

یہ کہانی اکیلی نہیں۔ بہت سے گھرانوں میں بزرگوں کے مزاج میں اچانک چڑچڑاپن، غصہ یا الجھن دیکھی جاتی ہے، اور اکثر خاندان اسے صرف "بڑھاپے کا اثر" یا "عمر کا تقاضا" سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک بہت عام اور قابلِ علاج وجہ پانی کی کمی (Dehydration) ہوتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

جسم کا دماغ پانی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ خون میں پانی کی مقدار کم ہو تو دماغ تک آکسیجن اور غذائیت کی ترسیل سست پڑ جاتی ہے، جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، توجہ اور مزاج پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ ہلکی سی بھی پانی کی کمی انسان کو تھکا ہوا، الجھا ہوا اور جلد غصے میں آنے والا بنا سکتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں تین تبدیلیاں آتی ہیں جو اس مسئلے کو بڑھاتی ہیں:

- پیاس کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے — دماغ کا وہ حصہ جو پیاس کی علامت بھیجتا ہے، عمر کے ساتھ کم حساس ہو جاتا ہے، اس لیے بزرگ کو پیاس محسوس ہی نہیں ہوتی، چاہے جسم کو پانی کی ضرورت ہو۔
- گردے پانی کو اتنی اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ پاتے جتنا جوانی میں رکھتے تھے، اس لیے پانی جلدی خارج ہو جاتا ہے۔
- دوائیں — خاص طور پر بلڈ پریشر یا دل کے لیے دی جانے والی پیشاب آور دوائیں (Diuretics) — جسم سے مزید پانی نکال دیتی ہیں۔

کن بزرگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟

قابلِ تبدیلی وجوہات:
- کم پانی پینے کی عادت
- زیادہ چائے یا کافی پینا (جو پیشاب بڑھاتی ہیں)
- گرمی میں کم پانی کے ساتھ باہر وقت گزارنا

غیر قابلِ تبدیلی وجوہات:
- عمر خود (خاص طور پر 65 سال سے زیادہ)
- گردوں کی پرانی بیماری
- ذیابیطس، جو پیشاب کے ذریعے پانی کے اخراج کو بڑھاتی ہے

علامات پہچانیں

پانی کی کمی کی وجہ سے چڑچڑاپن کے ساتھ عام طور پر یہ علامات بھی نظر آتی ہیں:

- منہ اور ہونٹوں کا خشک ہونا
- تھکاوٹ اور کمزوری
- سر میں ہلکا درد
- الجھن یا یادداشت کا کمزور معلوم ہونا
- پیشاب کا رنگ گہرا زرد ہونا اور مقدار کم ہونا
- کھڑے ہونے پر چکر آنا

فوراً اسپتال کب جانا چاہیے؟

اگر بزرگ فرد میں درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو فوری طبی امداد لیں:

- شدید الجھن یا باتوں کا بے ربط ہونا
- بولنے میں دشواری یا جسم کے ایک طرف کمزوری (یہ سٹروک کی علامت بھی ہو سکتی ہے)
- بار بار بیہوش ہونا یا کھڑے نہ ہو پانا
- 24 گھنٹے سے زیادہ پیشاب نہ آنا
- تیز بخار کے ساتھ پانی کی کمی کی علامات

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عام طور پر مریض کی تاریخ، جلد کی لچک، بلڈ پریشر اور ضرورت پڑنے پر خون کے ٹیسٹ (سوڈیم، پوٹاشیم، گردوں کے فنکشن) کے ذریعے پانی کی کمی کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کہیں چڑچڑاپن کی وجہ کوئی اور مسئلہ، جیسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن یا وٹامن کی کمی، تو نہیں۔

علاج کا مقصد کیا ہے؟

علاج کا بنیادی مقصد جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن بحال کرنا ہے۔ ہلکی کمی میں زبانی طور پر پانی اور مناسب مشروبات کافی ہوتے ہیں۔ شدید کمی میں ڈرپ کے ذریعے سیال دیا جاتا ہے۔ اگر دوائیں پانی کی کمی کی وجہ بن رہی ہوں تو ڈاکٹر ان کی مقدار یا وقت میں تبدیلی کر سکتے ہیں — خود سے کوئی دوا بند نہ کریں۔

احتیاطی تدابیر

- دن بھر تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہیں، پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں
- گھر میں پانی کی بوتل نظر آنے والی جگہ پر رکھیں تاکہ یاد رہے
- تربوز، کھیرا، دہی جیسی پانی سے بھرپور غذائیں کھانے میں شامل کریں
- گرمی کے موسم میں پانی کی مقدار بڑھائیں
- خاندان کے افراد وقتاً فوقتاً بزرگوں سے پوچھیں کہ پانی پیا یا نہیں

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی: بزرگوں کا چڑچڑاپن صرف عمر کا فطری حصہ ہے، اس کا کوئی علاج نہیں۔
حقیقت: بہت سی صورتوں میں یہ پانی کی کمی، نیند کی خرابی یا دوائیوں کے اثر جیسی قابلِ علاج وجوہات سے ہوتا ہے۔

غلط فہمی: چائے یا کافی بھی پانی کی کمی پوری کر دیتی ہے۔
حقیقت: یہ مشروبات جسم سے پانی خارج کرنے کی رفتار بڑھاتے ہیں، اس لیے صاف پانی کا کوئی متبادل نہیں۔

ایک لمحہ ٹھہر کر سوچیں

بزرگوں کا غصہ یا چڑچڑاپن اکثر خاندان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے، اور کبھی کبھار رشتوں میں دوری بھی پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اکثر یہ رویہ کسی نافرمانی یا مزاج کی خرابی کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ جسم کی ایک خاموش پکار ہوتی ہے کہ اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ تھوڑی سی توجہ اور محبت سے یہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

آج آپ کیا کر سکتے ہیں؟

- گھر کے بزرگ فرد کو آج ایک گلاس پانی خود لا کر دیں
- ان کے پانی پینے کا ایک آسان معمول بنائیں (مثلاً ہر کھانے کے ساتھ ایک گلاس)
- اگر چڑچڑاپن مستقل ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں، صرف عمر کا اثر سمجھ کر نظرانداز نہ کریں
- ان کی دوائیوں کی فہرست ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ معلوم ہو کہ کوئی دوا پانی کی کمی کا باعث تو نہیں

---

صحت اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت علم، احتیاط اور بروقت فیصلوں سے ہوتی ہے۔

اگر یہ تحریر آپ کے لیے مفید رہی تو اسے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ ممکن ہے آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے۔

اپنا خیال رکھیں، کیونکہ صحت مند انسان ہی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

— ڈاکٹر جواد اکرم

‎ڈاکٹرز اور ڈرمیٹولوجسٹ بتاتے ہیں کہ اگر کسی کو ٹِک (چچڑ) کاٹ لے تو کیا کرنا چاہیے اور اس سے کیسے بچنا ہے: "علاج سے بچاؤ...
23/05/2026

‎ڈاکٹرز اور ڈرمیٹولوجسٹ بتاتے ہیں کہ اگر کسی کو ٹِک (چچڑ) کاٹ لے تو کیا کرنا چاہیے اور اس سے کیسے بچنا ہے: "علاج سے بچاؤ بہتر ہے"

ٹِک کے کاٹنے کے علاج کا صحیح طریقہ، اسے صحیح طریقے سے کیسے نکالا جائے سے لے کر بہترین بعد از دیکھ بھال اور علامات تک۔

ٹِک کا کاٹنا ناخوشگوار ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب طفیلی جانور ابھی تک جڑا ہو۔ تاہم، صورتحال کو سنبھالنے کا ایک صحیح اور غلط طریقہ ہے، جس میں بعد از دیکھ بھال بھی شامل ہے۔ ٹِک کے کاٹنے کا بہترین علاج چند اقدامات پر عمل کرنے اور بعد میں خود پر نظر رکھنے پر مشتمل ہے۔

یقین نہیں ہے کہ کسی کو ٹِک نے کاٹا ہے؟ اگرچہ ٹِک کے کاٹے کی ظاہری شکل اور احساس ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے، ہو سکتا ہے کسی کو کیڑے کے کسی اور کاٹنے جیسا ردعمل ہو۔ حیران نہ ہوں اگر یہ ایک چھوٹا سرخ ابھار بن جائے یا نرمی اور خارش محسوس ہو، خاص طور پر کاٹنے کے فوراً بعد۔

اور اگرچہ ٹِک جسم کے کسی بھی حصے سے جڑی مل سکتی ہے، یہ عام طور پر چھپی ہوئی جگہوں پر ٹکتی ہیں جو عموماً گرم اور نم ہوتی ہیں، جیسے بغلوں، گھٹنوں کے پیچھے، اور ناف کے اردگرد۔

جیسا کہ تصور کیا جا سکتا ہے، ٹِک کے کاٹنے کے علاج میں کئی اقدامات شامل ہیں۔ اس کا آغاز ٹِک کو ہٹانے سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اسے کرنے کا طریقہ یہ تجویز کرتے ہیں۔

ٹِک کو کیسے ہٹایا جائے

کیا کسی کو ٹِک ملی ہے؟ کاٹنے کا علاج کرنے سے پہلے، یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے صحیح طریقے سے کیسے ہٹایا جائے۔ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) بہت مخصوص ہدایات دیتا ہے:

· ٹِک کو جلد از جلد ہٹا دینا چاہیے۔ جتنی دیر یہ جڑی رہے گی، اتنا ہی یہ خون پر کھانا کھا کر بڑھے گی، اور بیماری پھیلنے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
· باریک نوک والی چمٹی کا استعمال کرتے ہوئے ٹِک کو جلد کے جتنا قریب ہو سکے پکڑنا چاہیے۔
· مستحکم اور یکساں دباؤ کے ساتھ اوپر کی طرف کھینچنا چاہیے۔ (ٹِک کو مروڑنا یا اچانک نہیں کھینچنا چاہیے تاکہ اس کے منہ کے حصے پیچھے نہ رہ جائیں۔)
· ٹِک کو ٹوائلٹ میں بہا کر تلف کر دینا چاہیے۔ اگر اسے شناخت کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو، تو اسے آئسوپروپائل الکحل یا بند تھیلے یا کنٹینر میں رکھنا چاہیے۔

اگر ٹِک کے منہ کے حصے الگ ہو جائیں، تو بہتر ہے کہ انہیں ویسے ہی چھوڑ دیا جائے بجائے اس کے کہ جلد میں کھود کر انہیں نکالنے کی کوشش کی جائے، ڈاکٹر تھامس روسو، پروفیسر اور نیویارک کی یونیورسٹی آف بفالو میں متعدی امراض کے سربراہ، وضاحت کرتے ہیں۔ "کچھ لوگ نیل پالش، پیٹرولیم جیلی، یا ٹِک کو جلانے کے بارے میں بات کرتے ہیں؛ ان سب سے پرہیز کرنا چاہیے،" ڈاکٹر روسو خبردار کرتے ہیں۔

ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے، ڈاکٹر امیش اے ادلجا، جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے سینئر اسکالر کے مطابق: "ایسی تنظیمیں ہیں جیسے یونیورسٹی آف روڈ آئی لینڈ میں ٹک سپاٹرز، جنہیں ٹِک کی تصویر بھیج کر اس کی شناخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔" اس سے یہ تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کسی شخص کو کون سی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہے، تاکہ وہ مستقبل میں علامات کے آغاز کو بہتر طریقے سے سنبھال سکے، وہ مزید کہتے ہیں۔

ٹِک ہٹانے کے فوراً بعد کاٹنے کا علاج کیسے کریں

ٹِک ہٹانے کے بعد، بہتر ہے کہ کاٹنے کو رگڑنے والی الکحل یا صابن اور پانی سے صاف کیا جائے، ڈاکٹر روسو تجویز کرتے ہیں۔ "ہاتھ بھی اچھی طرح دھونے چاہییں،" وہ مزید کہتے ہیں۔ "ہو سکتا ہے کہ ہٹانے کے عمل کے دوران وہ آلودہ ہو گئے ہوں۔"

ایک بار جب جگہ خشک ہو جائے، "یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ کاٹنے کو ہلکی پٹی سے ڈھانپ لیا جائے تاکہ اسے گندگی اور بیکٹیریا سے بچایا جا سکے،" ڈاکٹر ایف جے روڈنی، بورڈ سے تصدیق شدہ ڈرمیٹولوجسٹ اور میری لینڈ کے فلٹن میں اٹرنل ڈرمیٹولوجی + ایستھٹکس کی بانی ڈائریکٹر، مشورہ دیتی ہیں۔

ٹِک کے کاٹنے کا علاج جاری رکھنے کا طریقہ

اگر کاٹنے چند دنوں تک مچھر کے کاٹنے جیسا دکھائی دیتا رہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، اگر یہ سوجن یا پپڑی دار ہو جائے، تو اینٹی بائیوٹک کریم لگانا انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے اور مسلسل سوجن کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے، ڈاکٹر گیری گولڈن برگ، بورڈ سے تصدیق شدہ ڈرمیٹولوجسٹ اور نیویارک شہر کے ایکان اسکول آف میڈیسن میں ڈرمیٹولوجی کے ایڈجنکٹ کلینیکل پروفیسر، کے مطابق۔

ٹِک کا کاٹا بھرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

ہر شخص مختلف ہوتا ہے، لیکن کاٹنے کو بھرنے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ چند دنوں بعد کم نظر آنے لگے، یا یہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں مکمل طور پر غائب ہو جائے؛ یہ سب نارمل سمجھا جاتا ہے، ڈاکٹر روڈنی کے مطابق۔

نئی علامات کے ظہور کے لیے کب تک نگرانی کرنی چاہیے؟

اگلے 30 دنوں تک ٹِک سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے لائم بیماری کی علامات کے ظہور پر نظر رکھنا ضروری ہے، ڈاکٹر روسو کہتے ہیں۔ ان علامات میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن انہی تک محدود نہیں:

· جلد پر دھبے جو کاٹنے سے آگے پھیل جائیں
· بخار
· تھکاوٹ
· سر درد
· پٹھوں میں درد
· جوڑوں میں سوجن اور درد

ٹِک سے پھیلنے والی بیماریوں کی بظاہر غیر متعلق علامات پر بھی نظر رکھنا دانشمندی ہے، جیسے دودھ اور ریڈ میٹ سے نیا الرجک ردعمل۔ یہ الفا-گیل سنڈروم کی علامت ہو سکتی ہے، جو لون سٹار ٹِک کے کاٹنے سے ہونے والی ایک سنگین اور ممکنہ طور پر جان لیوا حالت ہے، ڈاکٹر روسو وضاحت کرتے ہیں۔ "اگر کسی کو ٹِک کاٹ لے اور اس میں اچانک گوشت، خاص طور پر ریڈ میٹ، کے لیے عدم رواداری پیدا ہو جائے، تو اس سنڈروم کے لیے ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے،" وہ مزید کہتے ہیں۔

ٹِک کے کاٹنے پر ڈاکٹر سے کب ملنا چاہیے

دو ممکنہ مسائل ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے: ٹِک کے کاٹنے کا مکمل انفیکشن اور ٹِک سے پھیلنے والی بیماریوں کی علامات۔

ٹِک کا متاثرہ کاٹنا خارج ہونے والا مادہ، سوجن، اور درد کا سبب بنے گا، ڈاکٹر گولڈن برگ بتاتے ہیں، اور اس کا سائز بڑھ سکتا ہے۔ اگر شک ہو کہ ٹِک کا کٹا ہوا حصہ متاثرہ ہے تو علاج کے لیے ڈرمیٹولوجسٹ یا بنیادی نگہداشت کے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔

"اگر کسی میں فلو جیسی علامات پیدا ہوں، جیسے پٹھوں میں درد، تھکاوٹ، بخار، اور سردی لگنا، تو یہ ممکنہ انفیکشن کی نشاندہی کر سکتا ہے جو لائم بیماری یا ٹِک سے پھیلنے والی کسی اور بیماری کا سبب بننے والے بیکٹیریا سے ہوا ہو،" ڈاکٹر روڈنی کہتی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس پر فوری ڈاکٹر سے ملنا بھی ضروری ہے۔ "اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو ضرور بتانا چاہیے کہ اسے ٹِک نے کاٹا تھا، اور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کب تک جڑی رہی اور یہ کس قسم کی ٹِک تھی، " ڈاکٹر ادلجا مشورہ دیتے ہیں۔

خوش قسمتی سے، ٹِک سے پھیلنے والی زیادہ تر بیماریوں کا علاج اینٹی بائیوٹکس کی مختصر مدت سے کیا جا سکتا ہے۔

مستقبل میں ٹِک کے کاٹنے سے کیسے بچا جائے

ٹِک کا کاٹا جانا اور اس کے بعد کے نتائج سے نمٹنا ایک بڑا تجربہ ہو سکتا ہے۔ اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے، ڈاکٹر روسو ٹِک کے کاٹنے سے بچاؤ کی ان حکمت عملیوں پر عمل کرنے کی سفارش کرتے ہیں، خاص طور پر جنگل میں جانے کے وقت:

· لمبی بازو والی قمیض اور لمبی پتلون پہنی جائے۔
· پتلون کو موزوں میں ٹکایا جائے۔
· جب گھر میں داخل ہوں تو کپڑے اتار کر دھوئے جائیں۔
· بعد میں خود کو ٹِک کے لیے چیک کیا جائے۔
· اگر کتا باہر گیا ہو تو اسے بھی ٹِک کے لیے چیک کیا جائے۔

ڈاکٹر روسو کہتے ہیں۔ "علاج سے بچاؤ بہتر ہے،"

بہ ذریعہ: Prevention US

Address

Anyang

52000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+8618593919014

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Jawad Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Jawad Akram:

Shortcuts

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share