14/07/2026
ہر سانحے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے:
“اپنا علاج سرکاری ہسپتال سے کیوں نہیں کرواتے؟”
اور پھر بغیر کسی تحقیق کے سارا الزام ڈاکٹرز پر ڈال دیا جاتا ہے۔
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایک طرف خبر آتی ہے کہ 1400 سے زائد ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ،
آسٹریلیا اور دیگر ممالک منتقل ہو گئے، جہاں انہیں بہتر کام کا ماحول، پیشہ ورانہ
احترام، میرٹ پر ترقی اور مناسب معاوضہ ملتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف تنخواہ ہی ہجرت کی وجہ نہیں ہوتی۔ بہت سے ڈاکٹرز
پاکستان میں بھی اچھی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، مگر مسلسل بے جا الزامات، غیر
محفوظ ماحول، سیاسی مداخلت، میڈیا ٹرائل، وسائل کی کمی، اور پیشہ ورانہ بے عزتی
انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر پاکستانی ڈاکٹر واقعی نااہل ہوتے، تو وہ انہی ممالک کے انتہائی سخت لائسنسنگ امتحانات کیسے پاس کرتے؟ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں ڈاکٹر بننے کے لیے دنیا کے مشکل ترین امتحانات، کلینیکل اسیسمنٹس اور سخت معیار سے گزرنا پڑتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک کمزور نظام کی ناکامی کا بوجھ اکثر ایک ڈاکٹر کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
صرف نئی عمارتیں، رنگ و روغن یا ٹائلیں لگانے سے صحت کا نظام بہتر نہیں ہوتا۔ جب ادویات، آلات، عملہ، بیڈز، بجٹ اور بنیادی سہولیات ہی ناکافی ہوں تو اس کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر کو قرار دینا انصاف نہیں۔
حالیہ دنوں ایک ڈاکٹر کو صرف اس بنیاد پر معطل کر دیا گیا کہ ہسپتال میں اے سی مقررہ حد سے زیادہ درجہ حرارت پر چل رہا تھا۔ اگر کفایت شعاری ضروری ہے تو اس کا اطلاق تمام سرکاری اداروں پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ہسپتالوں پر جہاں مریضوں اور طبی عملے دونوں کی کارکردگی کا تعلق مناسب ماحول سے بھی ہوتا ہے۔
اسی دوران ہزاروں نوجوان ڈاکٹرز بے روزگار ہیں، ہزاروں نوکریوں کے اشتہارات اور میرٹ لسٹوں کا انتظار کرتے کرتے برسوں گزار دیتے ہیں، جبکہ پہلے سے کام کرنے والے ڈاکٹرز پر مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
ایک اور حقیقت جس پر ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے، وہ ہمارے اپنے طبی اداروں کا ماحول بھی ہے۔ بعض اوقات سینئرز کی جانب سے جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ نامناسب رویہ، ذہنی دباؤ اور غیر ضروری سختی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صحت مند نظام باہمی احترام، رہنمائی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے بنتا ہے، نہ کہ خوف اور تذلیل سے۔
یہ تحریر کسی بھی قسم کی غفلت یا غلطی کا دفاع نہیں کرتی۔ اگر کسی ڈاکٹر یا کسی بھی طبی کارکن سے واقعی غفلت ثابت ہو، تو قانون کے مطابق شفاف اور منصفانہ کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن ہر حادثے سے پہلے تحقیق کے بغیر پوری ڈاکٹر برادری کو مجرم قرار دینا نہ انصاف ہے اور نہ ہی مسئلے کا حل۔
ہم سب کے لیے ایک پیغام:
عوام، میڈیا، حکومت اور ڈاکٹرز—ہم سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے ہمیں حقائق جاننے، تحقیق کا انتظار کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں، ڈاکٹر بھی انسان ہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اور اپنے خاندان رکھتے ہیں۔ احترام، تعاون اور انصاف صرف ڈاکٹرز کا حق نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
اگر ہم واقعی بہتر صحت کا نظام چاہتے ہیں، تو ہمیں جذبات نہیں بلکہ شعور، تحقیق، اخلاقیات اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ ایک باخبر اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو فیصلے حقائق کی بنیاد پر کرتا ہے، نفرت اور افواہوں کی بنیاد پر نہیں۔