27/02/2026
Watch this video which definitely change your mind about Drug Abusers and Mental Health Healers.
ماہر نفسیات ڈاکٹر غلام رسول رند سے خصوصی گفتگو
نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رجحان اور ان کے علاج پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے
https://youtu.be/sFZpLAcHPr0?si=_iyKT3SyeMPYQKdp
خصوصی گفتگو: منشیات کی لعنت اور نفسیاتی مسائل کا حل
1. نشہ کیا ہے؟ (طبی نقطہ نظر) ڈاکٹر رند نے وضاحت کی کہ عام طور پر لوگ نشے کو صرف ایک "بری عادت" یا "کردار کی خرابی" سمجھتے ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق یہ ایک باقاعدہ دماغی بیماری ہے۔ کنٹرول کا ختم ہونا: نشے کا عادی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ جب چاہے اسے چھوڑ سکتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اس کا غلام بن چکا ہوتا ہے۔ برداشت (Tolerance): وقت گزرنے کے ساتھ، مریض کو وہی سکون حاصل کرنے کے لیے نشے کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ ترکِ نشہ کی علامات (Withdrawal): جب کوئی نشہ چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے شدید جسمانی درد، بے چینی، نیند نہ آنا اور چڑچڑاپن جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2. منشیات کی مختلف اقسام اور ان کے نقصانات
آئس اور کرسٹل (Ice/Crystal): یہ نشہ خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے اور یونیورسٹی کے طلبہ میں پھیل رہا ہے۔ طالب علم اسے امتحانات کے دوران جاگنے اور ذہنی تیزی کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ دماغ کو اندر سے جلا کر رکھ دیتا ہے۔
نیند کی گولیاں: بہت سے لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نیند کی گولیاں لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے خبردار کیا کہ 4 ہفتوں سے زیادہ ان کا استعمال دماغ کو اسی طرح سکیڑ دیتا ہے جیسے شراب نوشی۔ سگریٹ اور نسوار: اگرچہ معاشرے میں انہیں معمولی سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ منہ، پھیپھڑوں اور معدے کے کینسر کی بڑی وجہ ہیں۔ چائے کا استعمال: ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ چائے طبی لحاظ سے اس "نشے" کے زمرے میں نہیں آتی جس سے سماجی یا ذہنی زندگی تباہ ہو۔
3.سماجی اور خاندانی اثرات عزت کی پامالی:نشے کا عادی شخص معاشرے میں اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ لوگ ایسے گھرانوں میں رشتے کرنے سے کتراتے ہیں جہاں کوئی فرد نشے کا عادی ہو۔
معاشی تباہی: نشہ کرنے والا شخص نہ صرف اپنی کمائی ضائع کرتا ہے بلکہ نشے کی طلب پوری کرنے کے لیے جھوٹ اور چوری کا سہارا بھی لیتا ہے۔
4. علاج اور رمضان المبارک کی اہمیت
سنہری موقع: رمضان کا مہینہ پاکیزگی کا مہینہ ہے، جو نشہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک بہترین روحانی اور جسمانی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
علاج کا طریقہ کار: ڈاکٹر صاحب نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ ماہر نفسیات مزید نشہ آور گولیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مخصوص ادویات اور کونسلنگ کے ذریعے 3 سے 4 ماہ میں نشے سے مکمل چھٹکارا ممکن ہے۔
پیغام: نشہ "آزادی نہیں بلکہ دائمی غلامی" ہے۔ خاندان والوں کو چاہیے کہ وہ نشے کے عادی افراد سے نفرت کرنے کے بجائے انہیں مریض سمجھ کر ماہر نفسیات کے پاس لائیں۔
: ڈاکٹر غلام رسول رند کے مطابق، علاج کے لیے پہلا قدم "ادراک" ہے کہ آپ بیمار ہیں۔ اگر بروقت ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تو ایک عام اور خوشحال زندگی کی طرف واپسی ممکن ہے۔!
ماہر نفسیات ڈاکٹر غلام رسول رند صاحب کے ساتھ خصوصی گفتگو، نفسیات کے اشوز، منشیات کی لعنت کا خاتمہ