Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic

Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic Chest/TB clinic at Timergara is a page created for the awareness of community about chest diseases

میرے کلینک میں ایک دن سات آٹھ سال کی ایک بچی آئی، جو کافی عرصے سے کھانسی کے شدید دوروں میں مبتلا تھی۔ اس کا والد ہمارے ہ...
26/07/2026

میرے کلینک میں ایک دن سات آٹھ سال کی ایک بچی آئی، جو کافی عرصے سے کھانسی کے شدید دوروں میں مبتلا تھی۔ اس کا والد ہمارے ہی شعبے سے تعلق رکھتا تھا اور میرے جاننے والے تھے، چنانچہ وہ مہینے میں دو تین بار مجھے فون کرتے کہ ڈاکٹر صاحب، میری بیٹی کو کھانسی ہے، میں آپ سے معائنہ کروانا چاہتا ہوں۔ مگر ہر بار میں اُن کا انتظار کرتا رہ جاتا اور شام تک وہ مجھے کسی بچوں کے ڈاکٹر کا نسخہ بھیج دیتے۔ اسی کشمکش میں پورا ایک سال گزر گیا۔ اس دوران وہ لوکل اور سوات کے متعدد مستند ماہر اطفال سے معائنہ کر چکے تھے۔

آخر کار وہ کلینک تشریف لائے اور بچی کو ساتھ لائے۔ بچی واقعی شدید کھانسی میں مبتلا تھی۔ والد بتا رہے تھے کہ رات کو ہم بھی جاگتے ہیں اور بچی بھی، کیونکہ وہ ساری رات کھانستی رہتی ہے۔

میں نے سارا ریکارڈ چیک کیا۔ جو بھی علاج دیا گیا تھا اور جو انویسٹیگیشنز ہو چکی تھیں، وہ اپنی جگہ بالکل درست تھیں، لیکن بچی کو ایک دن بھی آرام نہ آیا تھا۔ اس کے پاس جتنے بھی ایکسرے تھے، سب نارمل تھے۔ کچھ دیر کے لیے تو میں بھی پریشان ہو گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علاج سے فرق نہیں پڑ رہا؟

پھر میں نے تفصیل سے ہسٹری لینا شروع کی تو پتہ چلا کہ اس کے والد نے اپنے گھر کی چھت پر تقریباً دو سو کبوتر پال رکھے تھے۔ میں نے فوری طور پر سی ٹی سکین کروایا، جس پر ایکیوٹ ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس (Hypersensitivity Pneumonitis) کی تشخیص ہوئی۔

میں نے اس کے والد کو صاف بتا دیا کہ نہ صرف تمام کبوتر ہٹانے پڑیں گے، بلکہ چھت پر موجود اُن کے پروں اور فضلہ کو بھی مکمل طور پر صاف کرنا ہوگاجس پر اس نے عمل کیا اور ساتھ ہی سٹیرائیڈز کا مناسب ڈوز شروع کیا۔ الحمدللہ، دو ہفتوں میں اس کی کھانسی بالکل ٹھیک ہو گئی۔

یہ کافی عرصہ پہلے کی بات تھی، جو آج ایک دوسرے مریض کو صحت یاب دیکھ کر مجھے یاد آ گئی۔

آج تقریباً ساٹھ سال کی ایک خاتون کلینک میں آئی، جواس سے پہلے مہینے میں ایک بار میرے پاس آتی تھیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ میں ہر وزٹ پر یہ کہتا تھا کہ گھر سے کبوتر ہٹا دیں، مگر بدقسمتی سے اُن کے گھر والے مانتے نہ تھے۔ آج وہ چھ ماہ بعد معائنے کے لیے آئیں، اور نہ صرف پہلے کے مقابلے میں خوش و خرم تھیں، بلکہ اُن کا دمہ بھی مکمل طور پر کنٹرول میں تھا، کیونکہ آخری وزٹ کے بعد اُنہوں نے آخرکار گھر سے کبوتر ہٹا دیے تھے۔

پرندوں، ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس اور دمہ کے بگڑنے کے حوالے سے چند اہم باتیں ۔

پرندوں کے پروں، خشک اخراج اور جلد کے ذرات میں موجود پروٹینز انتہائی طاقتور الرجین ہیں۔ جب یہ ذرات بار بار سانس کی نالیوں میں جائیں تو نہ صرف دمہ کے مریضوں کی علامات شدت اختیار کر جاتی ہیں، بلکہ یہ ایک مخصوص قسم کی پھیپھڑوں کی سوزش یعنی ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اس بیماری کی خاص بات یہ ہے کہ عام کھانسی یا دمہ کی دوائیں بے اثر رہتی ہیں، اور ایکسرے بھی ابتدا میں نارمل ہو سکتے ہیں۔ اس کا واحد مستقل حل محرک (پرندے) سے مکمل علیحدگی ہے، ورنہ بار بار ایکپوزر پھیپھڑوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اکثر ہم معمول کی ہسٹری میں یہ سوال پوچھنا بھول جاتے ہیں، جبکہ یہی ایک سوال مشکل کیسز کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

ڈاشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

وزن کم کرنے کے سلسلے میں یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم چلنا بہتر ہے یا تیس منٹ تک کارڈیو ورزش کرنا۔ ...
25/07/2026

وزن کم کرنے کے سلسلے میں یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم چلنا بہتر ہے یا تیس منٹ تک کارڈیو ورزش کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر قطعی برتر نہیں ہے، کیونکہ دونوں کے اپنے منفرد فوائد ہیں اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بہترین حکمت عملی ان دونوں کو یکجا کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دس ہزار قدم کا مشہور ہدف دراصل کوئی سائنسی اصول نہیں بلکہ ایک پرانی مارکیٹنگ مہم کا نتیجہ ہے، تاہم اس کی صحت پر مثبت اثرات سے انکار ممکن نہیں۔

جب کیلوریز جلانے کا موازنہ کیا جائے تو روزانہ دس ہزار قدم چلنے سے تقریباً تین سو سے پانچ سو کیلوریز خرچ ہو سکتی ہیں، جس میں روزمرہ کی معمولی سرگرمیاں جیسے گھر میں چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، یا دفتر آنا جانا بھی شامل ہیں، جو مجموعی توانائی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب تیس منٹ کی تیز کارڈیو ورزش سے قریباً ایک سو ستر سے تین سو کیلوریز جلتی ہیں، البتہ اگر یہ کارڈیو آہستہ رفتار سے کیا جائے تو یہ تعداد محض دو سو کے قریب رہ جاتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دس ہزار قدم مجموعی طور پر زیادہ کیلوریز خرچ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

چربی جلانے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی دس ہزار قدم کا ہدف اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ مختلف تحقیقات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس روزانہ معمول سے انسولین اور گلوکوز کی سطح میں بہتری آتی ہے، جو میٹابولک صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تاہم تیس منٹ کی مسلسل کارڈیو، خاص طور پر اگر اسے بیس سے تیس منٹ تک بغیر رکے جاری رکھا جائے، تو جسم چربی جلانے کے اس مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں توانائی کا ذریعہ کاربوہائیڈریٹس کی بجائے چربی بن جاتی ہے، اس لیے اسے چربی کم کرنے کی موثر ورزش بھی کہا جاتا ہے۔ دل کی صحت کے معاملے میں تحقیق بتاتی ہے کہ روزانہ صرف آٹھ سے ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنا بھی دل کی بیماریوں کے خطرے کو چالیس فیصد تک کم کر سکتا ہے، جبکہ دس ہزار قدم پورے دن میں حرکت کو فروغ دے کر بیٹھنے کے طویل اوقات کو مؤثر طریقے سے توڑتے ہیں، لیکن تیس منٹ کارڈیو ایک مرتکز اور منظم ورزش کا درجہ رکھتی ہے جو دل کی دھڑکن کو بہتر انداز میں کنٹرول کرتی ہے۔

اب اگر آپ اپنے مقصد کے مطابق فیصلہ کریں تو وزن کم کرنا بنیادی ہدف ہے تو دس ہزار قدم زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ تیز رفتاری سے چلے جائیں، جبکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بڑھانی ہے تو تیس منٹ کی تیز کارڈیو، جیسے سائیکلنگ، تیراکی، یا جاگنگ، زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ کا مسئلہ دن بھر کسی ایک جگہ بیٹھے رہنا ہے تو دس ہزار قدم کا ہدف آپ کو بار بار اٹھنے اور چلنے پھرنے پر مجبور کر کے بیٹھنے کے نقصانات کو کم کرتا ہے۔

اس الجھن سے نکلنے کا بہترین اور سائنسی طور پر ثابت شدہ راستہ یہی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا تکمیل کار بنایا جائے۔ مثال کے طور پر روزانہ آٹھ سے دس ہزار قدم کی بنیادی حرکت کو اپنے معمول کا حصہ بنا لیں، تاکہ دن بھر میں توانائی کا خرچ مسلسل جاری رہے، اور اس کے ساتھ ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ تک تیز چال یا کارڈیو کا اہتمام کریں تاکہ دل اور نظام تنفس کو بہتر تربیت مل سکے۔ مزید برآں، ہفتے میں دو سے تین دن طاقت کی تربیت، یعنی وزن یا مزاحمت کی مشقیں بھی شامل کرنا نہ بھولیں، کیونکہ اس سے پٹھوں کی کمیت برقرار رہتی ہے جو آرام کی حالت میں بھی زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے۔

مگر ان تمام مشقوں اور سرگرمیوں سے پہلے ایک بنیادی حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وزن کم کرنے کا سب سے اہم اصول کیلوریز کی کمی ہے، یعنی آپ جو کیلوریز کھاتے ہیں اس سے زیادہ جلائیں۔ کوئی بھی ورزش، چاہے وہ دس ہزار قدم ہوں یا گھنٹے بھر کی کارڈیو، اس وقت تک مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک آپ اپنی خوراک اور غذائی عادات پر پوری توجہ نہ دیں۔ لہذا کامیاب ترین منصوبہ وہی ہوگا جس میں روزانہ کی حرکت، منظم ورزش، اور متوازن غذا تینوں کو یکساں اہمیت دی جائے، کیونکہ یہ تینوں ستون مل کر ہی آپ کو صحت مند اور پائیدار وزن میں کمی عطا کر سکتے ہیں۔

21/04/2026

سینے کی بیماریوں میں بہترین کوالٹی کے ایکسرے کی اہمیت کئی اہم پہلوؤں پر مبنی ہے۔ پہلا، یہ درست تشخیص کے لیے ضروری ہے کیونکہ واضح تصاویر پھیپھڑوں، دل اور ہڈیوں کی معمولی تبدیلیاں بھی ظاہر کر دیتی ہیں۔ دوسرا، یہ نمونیا، تپ دق یا پھیپھڑوں کے کینسر جیسی بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بروقت علاج ممکن ہو جاتا ہے۔ تیسرا، کم معیار کے ایکسرے کی نسبت یہ غلط تشخیص سے بچاتا ہے، کیونکہ دھندلاپن یا مصنوعی نشانات کی وجہ سے معمولی انفیکشن بھی نظر انداز ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ، اعلیٰ معیار کے ایکسرے علاج کے اثرات کی مؤثر نگرانی فراہم کرتے ہیں، جس سے ڈاکٹر بیماری میں بہتری یا بگاڑ کا درست جائزہ لے سکتے ہیں۔ آخر میں، اگر سرجری یا بایوپسی ضروری ہو تو یہ سرجن کو درست راہنمائی دیتے ہیں۔ لہٰذا، جدید ڈیجیٹل ریڈیوگرافی سے لیا گیا ہائی ریزولیوشن ایکسرے سینے کی بیماریوں کے مؤثر انتظام کے لیے ناگزیر ہے۔

21/04/2026

پلمونری ہائیڈیٹڈ لنگ ڈیزیز (Pulmonary Hydatid Disease)

تعارف

پلمونری ہائیڈیٹڈ بیماری ایک پیراسیٹک انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں میں ایکینوکوکس گرینولوسس (Echinococcus granulosus) نامی ٹیپ ورم کے لاروا (hydatid cyst) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں خاص طور پر چرواہے علاقوں (جیسے پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ) میں پائی جاتی ہے۔

وجوہات اور طریقہ انتقال

یہ کیڑا عام طور پر کتوں (definitive host) اور بھیڑوں، بکریوں یا مویشیوں (intermediate host) کے درمیان پھیلتا ہے۔ انسان غلطی سے intermediate host بن جاتا ہے جب وہ کتے کے فضلے میں موجود انڈے کھا لیتا ہے (آلودہ سبزیاں، پانی، یا براہ راست رابطے سے)۔ انڈے آنتوں میں نکلتے ہیں، لاروا خون کے ذریعے پھیپھڑوں (اور کبھی جگر) تک پہنچتا ہے اور وہاں سست رفتار سسٹ بنا لیتا ہے۔

علامات (Symptoms)

ابتدائی مراحل میں کوئی علامات نہیں ہوتیں۔ جیسے جیسے سسٹ بڑھتا ہے، یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

· کھانسی (خشک یا بلغم والی)
· سانس کی قلت (خاص طور پر مشقت کے بعد)
· سینے میں درد (ہلکا سے شدید)
· کبھی کبھار خون والی کھانسی (hemoptysis)
· بخار اور الرجک رد عمل (اگر سسٹ پھٹ جائے)

اگر سسٹ پھٹ جائے تو اچانک شدید کھانسی، سانس بند ہونا، جلد پر دھبے (urticaria) اور یہاں تک کہ anaphylactic shock ہو سکتا ہے۔

تشخیص (Diagnosis)

· ایکس رے یا CT اسکین: پھیپھڑوں میں گول، صاف کناروں والا سسٹ نظر آتا ہے۔
· الٹراساؤنڈ: سینے کی دیوار کے قریب سسٹ کے لیے۔
· خون کے ٹیسٹ: ELISA یا Western blot سے اینٹی باڈیز کی جانچ۔
· فائن سوئی ایسپریشن (خطرناک ہو سکتا ہے – anaphylaxis کا امکان)

علاج (Treatment)

1. جراحی (Surgery) – بنیادی علاج۔ سسٹ کو بغیر پھاڑے نکالنا (cystectomy) یا پوری لو ب نکالنا (lobectomy)۔
2. دوائیں – البینڈازول (Albendazole) یا میبینڈازول (Mebendazole) اکثر سرجری سے پہلے اور بعد دی جاتی ہیں تاکہ دوبارہ ہونے سے بچا جا سکے۔
3. PAIR طریقہ (Puncture, Aspiration, Injection, Re-aspiration) – کبھی کبھار غیر جراحی طریقہ، لیکن پھیپھڑوں میں کم استعمال ہوتا ہے۔

روک تھام (Prevention)

· کتوں کو کیڑے مار دوائیں باقاعدہ دیں۔
· کتوں کے فضلے سے رابطے سے بچیں۔
· سبزیاں اور پانی اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔
· ذبح شدہ جانوروں کے بیمار اعضاء کتوں کو نہ ڈالیں۔

خلاصہ

پلمونری ہائیڈیٹڈ بیماری ایک نظر انداز کی جانے والی مگر سنگین بیماری ہے۔ بروقت تشخیص اور سرجری کے ذریعے مکمل علاج ممکن ہے۔ آگاہی اور حفظان صحت اس بیماری سے بچاؤ کی بہترین کنجی ہیں۔

20/04/2026
10/04/2026

Performing Thoracoscopy atJasmine Hospital Timergara.

10/04/2026

Performing chest tube thoracostomy .

سینے کے مریضوں کو عام دنوں میں بھی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آجکل جبکہ ہوا میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہوت...
15/03/2026

سینے کے مریضوں کو عام دنوں میں بھی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن آجکل جبکہ ہوا میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے تو اماسک کی ضرورت اور اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ عام کپڑے یا سکارپ سے منہ ڈھانپنے سے وہ تحفظ نہیں مل سکتی جو ماسک سے ملتی ہے۔ آئیے اس کو زرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماسک اور عام کپڑے (جیسے دوپٹہ یا اسکارف) میں بہت فرق ہے۔ عام کپڑا صرف آپ کے منہ کو ڈھانپتا ہے، جبکہ ماسک ایک انجینئرڈ پروڈکٹ ہے جو آپ کو جراثیم سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔

دونوں میں ٹیکنیکل فرق کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

1. فیبرک کا معیار اور ساخت (Fabric Quality & Structure)

· عام کپڑا (دوپٹہ/اسکارف) :
· یہ عام طور پر بُنا ہوا (Woven) ہوتا ہے، یعنی تانا اور بانا (Lengthwise اور Crosswise) دھاگے ایک دوسرے کے اوپر سے گزرتے ہیں۔
· اِس میں دھاگوں کے درمیان خالی جگہ (Pores) بہت بڑی ہوتی ہے، جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں، لیکن وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے گزر سکتے ہیں۔
· ہوا کا گزر: اِس میں ہوا بڑی آسانی سے گزر جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جراثیم بھی اُسی طرح گزر جائیں گے۔
· میڈیکل ماسک (Surgical Mask) :
· یہ غیر بُنا ہوا (Non-woven) فیبرک ہوتا ہے۔
· یہ تھری ڈی پرت (3D Layer) کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں دھاگے نہیں ہوتے، بلکہ پلاسٹک (Polypropylene) کے ریشوں کو گرمی اور پریشر سے آپس میں جوش دے کر (Melt-blown technique) ایک بھول بھلیاں (Maze) جیسی ساخت بنائی جاتی ہے۔
· اِس میں ہوا کا گزر مشکل ہوتا ہے، لیکن ہوا کے ساتھ اُڑنے والے چھوٹے ذرات (Aerosols) اِس بھول بھلیاں میں پھنس جاتے ہیں۔

2. فلٹریشن (Filteration) کا عمل

یہ سب سے بڑا ٹیکنیکل فرق ہے:

· عام کپڑا:
· یہ صرف بڑے بوندوں (Droplets) کو روک سکتا ہے، جیسے چھینک میں منہ سے نکلنے والی بوندیں ۔
· یہ مکینیکل فلٹریشن (چھلنی کی طرح) کام کرتا ہے، یعنی ذرے کا سائز اگر کپڑے کے سوراخ سے بڑا ہے تو رک جائے گا، چھوٹا ہے تو نکل جائے گا۔
· میڈیکل ماسک:
· یہ تین طریقوں سے فلٹر کرتا ہے:
1. انٹرسیپشن (Interception): جب ذرہ ہوا کے بہاؤ کی لکیر کی پیروی کرتا ہے اور ریشے سے ٹکرا کر چپک جاتا ہے۔
2. امپیکشن (Impaction): بڑے ذرے جڑی ریشوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں۔
3. ڈفیوژن (Diffusion): سب سے چھوٹے ذرات (وائرس) براؤنین موشن کی وجہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں اور ریشوں سے ٹکرا کر پھنس جاتے ہیں۔
· اِس میں الیکٹرو سٹیٹک چارج (Electrostatic Charge) بھی ہوتا ہے، جو چھوٹے ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر پھنسا لیتا ہے، جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ یہ خصوصیت عام کپڑے میں نہیں ہوتی۔

3. ایئر فلو اور سانس لینے میں آسانی (Breathability)

· عام کپڑا: اِس میں ہوا بہت آسانی سے گزرتی ہے، اس لیے سانس لینے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، لیکن تحفظ بھی کم ہوتا ہے۔
· میڈیکل ماسک: یہ خاص طور پر ڈیفرینشل پریشر (Differential Pressure) کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ یعنی یہ اِتنے چھوٹے سوراخ بنائے جاتے ہیں کہ جراثیم تو رک جائیں، لیکن آپ کو سانس لینے میں دقت نہ ہو۔ یہ ایک بیلنس ہے۔

4. ہائیڈروفوبک پراپرٹی (پانی سے بچاؤ)

· عام کپڑا: سوتی کپڑا تو پانی جذب (Absorbent) کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گیلے ہو کر جراثیم کو گزرنے کا راستہ دے دیتا ہے۔
· میڈیکل ماسک: اِس کی بیرونی تہہ ہائیڈروفوبک (Hydrophobic) ہوتی ہے، یعنی اگر آپ پر کوئی بوند گرے تو وہ ماسک میں جذب نہیں ہوتی، بلکہ اوپر ہی پڑی رہتی ہے یا پھسل جاتی ہے۔

اگر آپ کو مکمل تحفظ چاہیے تو میڈیکل ماسک ہی استعمال کریں۔ لیکن اگر ماسک دستیاب نہ ہو تو تین تہوں والا کپڑے والا ماسک استعمال کریں، سادہ دوپٹہ یا اسکارف بہت کم تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آجکل بہار کا سیزن ہے اور ہوا میں پولن کی تعداد کافی زیادہ ہے جس کی وجہ اوپی ڈی میں پولن الرجی کے مریض زیادہ اتے ہیں ۔ آج...
14/03/2026

آجکل بہار کا سیزن ہے اور ہوا میں پولن کی تعداد کافی زیادہ ہے جس کی وجہ اوپی ڈی میں پولن الرجی کے مریض زیادہ اتے ہیں ۔ آج پولن الرجی کے بارے میں مختصر مگر جامع معلومات دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔

1.پولن الرجی کیا ہے؟

· مدافعتی نظام کا پودوں کے زرگل (پولن) کے خلاف غیر معمولی ردعمل
· جسم میں اینٹی باڈیز اور ہسٹامین کا اخراج

2. عام علامات

· لگاتار چھینکیں آنا
· ناک کا بہنا یا بند ہونا
· آنکھوں میں خارش، لالی اور پانی آنا
· گلے میں خراش اور کھانسی
· سانس لینے میں دشواری
· تھکاوٹ اور سر درد

3. کسے زیادہ خطرہ ہے؟

· دمہ کے مریض
· خاندانی تاریخ میں الرجی کا ہونا
· کمزور مدافعتی نظام والے افراد
· بچے اور بزرگ

4. احتیاطی تدابیر

· صبح کی بجائے شام کو گھر سے باہر نکلیں
· ماسک اور دھوپ کے چشمے استعمال کریں
· گھر آنے پر منہ اور ہاتھ دھوئیں
· کھڑکیاں بند رکھیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں
· کپڑے گھر کے اندر خشک کریں

5. علاج

· اینٹی ہسٹامین ادویات
· ناک کے سپرے
· آنکھوں کے قطرے
· امیونو تھیراپی (الرجی سے بچاؤ کے انجیکشن)
· نمکین پانی سے غرارے، بھاپ لینا

6. ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

· روزمرہ زندگی متاثر ہو
· سانس لینے میں دشواری ہو
· او ٹی سی دواؤں سے آرام نہ آئے
· بخار یا پیپ دار بلغم ہو

7. احتیاط

· الرجی کو نظر انداز نہ کریں
· دمہ اور سائنوسائٹس جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے
· بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے

ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

Address

Timurgara
18300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic:

Shortcuts

Share