26/07/2026
میرے کلینک میں ایک دن سات آٹھ سال کی ایک بچی آئی، جو کافی عرصے سے کھانسی کے شدید دوروں میں مبتلا تھی۔ اس کا والد ہمارے ہی شعبے سے تعلق رکھتا تھا اور میرے جاننے والے تھے، چنانچہ وہ مہینے میں دو تین بار مجھے فون کرتے کہ ڈاکٹر صاحب، میری بیٹی کو کھانسی ہے، میں آپ سے معائنہ کروانا چاہتا ہوں۔ مگر ہر بار میں اُن کا انتظار کرتا رہ جاتا اور شام تک وہ مجھے کسی بچوں کے ڈاکٹر کا نسخہ بھیج دیتے۔ اسی کشمکش میں پورا ایک سال گزر گیا۔ اس دوران وہ لوکل اور سوات کے متعدد مستند ماہر اطفال سے معائنہ کر چکے تھے۔
آخر کار وہ کلینک تشریف لائے اور بچی کو ساتھ لائے۔ بچی واقعی شدید کھانسی میں مبتلا تھی۔ والد بتا رہے تھے کہ رات کو ہم بھی جاگتے ہیں اور بچی بھی، کیونکہ وہ ساری رات کھانستی رہتی ہے۔
میں نے سارا ریکارڈ چیک کیا۔ جو بھی علاج دیا گیا تھا اور جو انویسٹیگیشنز ہو چکی تھیں، وہ اپنی جگہ بالکل درست تھیں، لیکن بچی کو ایک دن بھی آرام نہ آیا تھا۔ اس کے پاس جتنے بھی ایکسرے تھے، سب نارمل تھے۔ کچھ دیر کے لیے تو میں بھی پریشان ہو گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علاج سے فرق نہیں پڑ رہا؟
پھر میں نے تفصیل سے ہسٹری لینا شروع کی تو پتہ چلا کہ اس کے والد نے اپنے گھر کی چھت پر تقریباً دو سو کبوتر پال رکھے تھے۔ میں نے فوری طور پر سی ٹی سکین کروایا، جس پر ایکیوٹ ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس (Hypersensitivity Pneumonitis) کی تشخیص ہوئی۔
میں نے اس کے والد کو صاف بتا دیا کہ نہ صرف تمام کبوتر ہٹانے پڑیں گے، بلکہ چھت پر موجود اُن کے پروں اور فضلہ کو بھی مکمل طور پر صاف کرنا ہوگاجس پر اس نے عمل کیا اور ساتھ ہی سٹیرائیڈز کا مناسب ڈوز شروع کیا۔ الحمدللہ، دو ہفتوں میں اس کی کھانسی بالکل ٹھیک ہو گئی۔
یہ کافی عرصہ پہلے کی بات تھی، جو آج ایک دوسرے مریض کو صحت یاب دیکھ کر مجھے یاد آ گئی۔
آج تقریباً ساٹھ سال کی ایک خاتون کلینک میں آئی، جواس سے پہلے مہینے میں ایک بار میرے پاس آتی تھیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ میں ہر وزٹ پر یہ کہتا تھا کہ گھر سے کبوتر ہٹا دیں، مگر بدقسمتی سے اُن کے گھر والے مانتے نہ تھے۔ آج وہ چھ ماہ بعد معائنے کے لیے آئیں، اور نہ صرف پہلے کے مقابلے میں خوش و خرم تھیں، بلکہ اُن کا دمہ بھی مکمل طور پر کنٹرول میں تھا، کیونکہ آخری وزٹ کے بعد اُنہوں نے آخرکار گھر سے کبوتر ہٹا دیے تھے۔
پرندوں، ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس اور دمہ کے بگڑنے کے حوالے سے چند اہم باتیں ۔
پرندوں کے پروں، خشک اخراج اور جلد کے ذرات میں موجود پروٹینز انتہائی طاقتور الرجین ہیں۔ جب یہ ذرات بار بار سانس کی نالیوں میں جائیں تو نہ صرف دمہ کے مریضوں کی علامات شدت اختیار کر جاتی ہیں، بلکہ یہ ایک مخصوص قسم کی پھیپھڑوں کی سوزش یعنی ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اس بیماری کی خاص بات یہ ہے کہ عام کھانسی یا دمہ کی دوائیں بے اثر رہتی ہیں، اور ایکسرے بھی ابتدا میں نارمل ہو سکتے ہیں۔ اس کا واحد مستقل حل محرک (پرندے) سے مکمل علیحدگی ہے، ورنہ بار بار ایکپوزر پھیپھڑوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اکثر ہم معمول کی ہسٹری میں یہ سوال پوچھنا بھول جاتے ہیں، جبکہ یہی ایک سوال مشکل کیسز کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
ڈاشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ