01/06/2026
اسلامی تعلیمات کے مطابق جعلی دوا بنانا یا فروخت کرنا محض ایک قانونی جرم نہیں بلکہ کئی سنگین گناہوں کا مجموعہ ہے، کیونکہ اس میں دھوکا دہی، خیانت، حرام کمائی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا شامل ہے۔ اسلام تجارت میں دیانت داری، امانت اور خیر خواہی کا حکم دیتا ہے، جبکہ جعلی ادویات کا کاروبار ان تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں”، لہٰذا جعلی ادویات کی تیاری، فروخت یا اس کی پشت پناہی کرنا نہ صرف اخلاقی پستی بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت جواب دہی کا باعث بھی ہے۔
Thanks For your Support ✨ ⭐
Homeopathic Remedies Awaana Cosmetic & Homeo Pharma Homeopathic Remedies �