Al-Khair Herbal Clinic طب کی دنیا

Al-Khair Herbal Clinic طب کی دنیا ھربل علاج بالغذا و دوا انقلابی طریقہ علاج المعلاج صابر ملتانی با قانون مفرداعضاء

26/01/2022

الخیر ھربل دواخانہ
حکیم یوسف کمبوہ
بالمقابل حسنات سٹی ٹبہ سلطان پور وھاڑی
03005255529

23/12/2020
27/05/2018

*زیتون ( OLIVE ) کی کاشت :*

زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.

زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟

زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.

زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟

زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.

زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟

زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے.
دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.

زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟

زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں.

زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10×10 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 400 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں.
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے.
پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں تاکہ گاچی وغیرہ ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نہ لگ جائے. گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے.

زیتون کی کون کون سی اقسام کہاں کہاں کاشت کی جا سکتی ہیں؟
پوٹھوہار اور اس کے ملحقہ اضلاع کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں.
نمبر 1. لسینو
نمبر 2. گیملک
نمبر 3. پینڈولینو
نمبر 4. نبالی
نمبر 5. آربو سانا
نمبر 6. کورونیکی
نمبر 7. آربیقوینہ
پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں.

نمبر 1. آربو سانا

نمبر 2. کورونیکی

نمبر 3. آربیقوینہ

یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.

زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟

کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے:
گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں
نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں
فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں

زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟

عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے.

زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے
زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟

زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے.
اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے.
لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے 25 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں موجود 400 (اوسط) پودوں سے 10000 ہزار کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے.

ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے.
20 فی صد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل ( 10000 کلوگرام ) سے تقریبا 2000 کلو گرام تیل نکل آتا ہے.

فی ایکڑ آمدن کتنی ہو سکتی ہے؟
یوں تو مارکیٹ میں بڑے بڑے سپر سٹوروں پر آپ کو زیتون کا تیل کوالٹی کے حساب سے 800 روپے سے لیکر 1100 روپے فی کلو تک مل سکتا ہے. لیکن واضح رہے کہ یہ سارے کا سارا تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی کوالٹی پر ماہرین کے شدید تحفظات ہیں. ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف برانڈوں کا درآمد شدہ تیل جو پاکستانی مارکیٹ میں بک رہا ہے یہ خالص زیتون کا تیل نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے تیلوں کی ملاوٹ ہوتی ہے .
گرین ایگرو کی معلومات کے مطابق چکوال میں تحقیقاتی ادارے کے پلانٹ سے نکالا جانے والا تیل کم از کم 2 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے. واضح رہے کہ چکوال کا زرعی تحقیقاتی ادارہ کسانوں کو تیل نکالنے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے.
اگر ریٹ واقعی دو ہزار روپے فی کلو گرام ہو تو آمدن کا حساب آپ خود لگا سکتے ہیں. گرین ایگرو نے آمدن معلوم کرنے کے لئے 800 روپے فی کلو گرام کے ریٹ کو سامنے رکھا ہے.
اس طرح سے 2000 کلو گرام تیل سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباََ 16 لاکھ روپے بنتی ہے. اگر باغ کی اچھی دیکھ بھال کی جاے تو امدن دوگنا ھو سکتی ھے
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیتون کے پھل سے تیل کے علاوہ اچار اور مربع جات بھی بنائے جاتے ہیں.

زقوم۔ تھوہر کا پھل ناگ پھنییہ پھل آج سے کوئ پندرہ بیس سال پہلے کراچی کے ہفتہ وار بازاروں میں نمودار ہوا۔ اس کے متعلق یہ ...
16/02/2017

زقوم۔ تھوہر کا پھل ناگ پھنی

یہ پھل آج سے کوئ پندرہ بیس سال پہلے کراچی کے ہفتہ وار بازاروں میں نمودار ہوا۔ اس کے متعلق یہ مشہور ہوا کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کا شافی علاج ہے۔ کوئ اس کو امراض قلب میں مفید بتاتا تھا۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ پھل دراصل کس درخت یا پودے پر لگتا ہے؟ یہ پھل دراصل کیکٹس کی ایک قسم ناگ پھنی کا پھل ہے۔ ناگ پھنی انڈیا اور پاکستان میں عام پایا جانے والا کیکٹس ہے جس کو عربی میں زقوم اور دیسی زبان میں تھوہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تنے کی شکل ناگ کے پھن جیسی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ناگ پھنی کا نام دیا گیا ہے۔ ان پر بے شمار بڑے اور چھوٹےباریک باریک کانٹے اگے ہوتے ہیں۔ احسان دانش جن کو شاعر مزدور بھی کہا جاتا ہے نے اپنی آپ بیتی میں بیان کیا ہے کہ بچپن میں جب گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا تو وہ محنت مزدوری کرنے گھر سے نکلے۔ ایک جاننے والے صاحب کے بڑے قطعہ زمین پر ناگ پھنی کے پودے پھیلے ہوئے تھے۔ انہوں نے غالبا" تین یا دو روپے کےعیوض احسان کو یہ کام سپرد کیا کہ اس قطعہ زمین کو ناگ پھنی سے صاف کردیں۔ دانش دن بھر ان کانٹے دار پودوں کوکاٹ کاٹ کر ٹوکرے میں بھر کر سر پر رکھ کر اس پلاٹ سے دور پھینکتے رہے۔ ہاتھ اور جسم تو زخمی ہوئے ہی لیکن شام کو جب گھر جا کر بوڑھی بیوہ ماں کے ہاتھ پر مزدوری کے پیسے رکھے تو ماں ساری رات بھیگی آنکھوں کے ساتھ ان کے سر میں گھسےباریک باریک کانٹے چنتی رہی۔ گو کہ اس واقعے کا بیان یہاں بے محل ہے لیکن ناگ پھنی کے ذکر پر مجھے احسان دانش صاحب کا یہ دردناک واقعہ یاد آجاتا ہے۔ ان ناگ پھنی کے پھن نما کناروں پر یہ پھل لگتا ہے جو دیکھنے میں بڑا خوبصورت نظر آتا ہے کہ اس کانٹوں دار بدنما درخت پر بھی کیسا خوشنما اور مفید پھل اللہ نے لگایا ہے۔ ۔ اس پھل کی شکل و شباہت کی بنیاد پر اس کو مقامی طور پر انار پھلی کہا جانے لگا لیکن انار سے اس کا دور دور تک بھی کوئ واسطہ نہیں۔ انگریزی میں اس کا پھل پرکلی پیئر کہلاتا ہے۔ ناگ پھنی کو انگریزی میں
‏Nopales Cactus
کہا جاتا ہے جس کی ےقریبا" دو سو سے زائد اقسام جنوبی اور شمالی امریکہ میں پای جاتی ہیں۔جن کے پھل مختلف شکل و شباہت کے ہو سکتے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں اس کی ناگ پھنی والی ا قسام کثرت سے ہوتی ہیں جس کے پھل کا رنگ پکنے پر سرخ ہوتا ہے۔ اس پھل کو کھانے سے پہلے یہ احتیاط ضرور کرنی چاہئے کہ اس کا چھلکا اچھی طرح اتار دیا جائے۔ کراچی کے ایک مشہور ماہر امراض قلب کے معالج ڈاکٹر سید نے بھی اپنے ایک مضمون میں اس پھل کا ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے ایک مریض کو اس کے پھل کو چھیل کر توے پر ہلکا سا سینک کر کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ پھل دراصل کولیسٹرول گھٹانے کے لئے بڑا مفید ہے۔ جن لوگوں کے دل کی شریانیں کولیسٹرول کی زیادتی کی وجہ سے تنگ ہو گئی ہوں، یا بلڈ پریشر کی شکایت ہو یا انجائنا کے مریض، ان کے لئے بہت مفید ہے۔ اس کے ایکسٹریکٹ کی بنی گولیاں اور کیپسول بھی ایک زمانے میں جرمنی اور امریکہ سے آتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اب بھی دستیاب ہوں۔ اس کے لئے کسی بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور کی فارمیسی کو دیکھنا چاہئے۔
یہ پھل اور اس سے بنی گولیاں نہ صرف کولیسٹرول اور امراض قلب کے لئے مفید ہیں بلکہ دیگر کئی امراض میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مغرب میں اس کا استعمال نشے کی زیادتی دور کرنے کے لئے صدیوں سے استعمال ہورہا ہے ۔ بہت زیادہ شراب نوشی کے بعد ہوش و حواس گم ہونے اور سر درد دور کرنے کے لئے یہ ایک تیر بہدف دوا سمجھی جاتی ہے۔ عمل انہضام کے عمل کو بہتر بناتی ہے۔ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتی ہے۔ مدافعتی نظام بہتر بناتی ہے۔ خون کی وریدوں کو مضبوط کرتی ہے۔ الزائمر کا خطرہ کم کرتی ہے، وزن میں کمی کی کوششوں میں مدد، اور پورے جسم میں سوجن کو ختم کرتی ہے۔ اسہال، یہ بھی وائرل انفیکشن سے لڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.اس کے دیگر فوائد میں جسم کے مدافعتی نظام کو تقویت دینا، ہڈیوں اور بافتوں کو مضبوط بنانا، بڑھتی عمر کے ساتھ ہڈیوں اور مہروں کی بیماریوں اور کمزوری سے بچانا، خون کی پیداوار میں اضافہ کرنا، خون کی شریانوں کی لچک اور مضبوطی میں اضافہ کرنا، ( اگر غور سے اس پھل کو دیکھئے تو اس کے شکل کافی حد تک دل سے مشابہ ہوتی ہے)، ہائ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی، دل کے دورے سے بچائو، کینسر کا علاج اور کینسر سے بچائو. اینٹی اوکسیڈنٹ، جوڑوں اور پٹھوں کی سوزش۔ خاص طور پر امراض قلب کے لئے بہت مفید ہے۔
یعنی اگر اس کے مجموعی فوائد پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ انسانی جسم کے لئے ایک بہترین ٹانک ہے خاص طور پر تیس اور چالیس سال کی عمر کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں اور پیچیدگیوں سے بچائو کے لئے اس کا استعمال انتہائ مفید ہے۔

ہریڑہریڑ کی ایک خاص ترکیب اور اسطرح ہریڑ استعمال کرنے سے پہلے مہینے معدہ اور آنتوں کے امراض کو فائدہ ہوتا ھے، دوسرے ماہ ...
13/02/2017

ہریڑ
ہریڑ کی ایک خاص ترکیب اور اسطرح ہریڑ استعمال کرنے سے پہلے مہینے معدہ اور آنتوں کے امراض کو فائدہ ہوتا ھے، دوسرے ماہ جگر، تیسرے ماہ گردے اور مثانہ، چوتھے ماہ آنکھ کی روشنی بڑھ جاتی ہے، پانچ ماہ بعد دل کے امراض، چھٹے ماہ جوڑوں کے امراض، ساتویں ماہ جریان اور منی کے امراض، آٹھویں ماہ قوت حافظہ،نو ماہ بعد سفید بال سیاہ ہونا شروع ہوجاتے ھیں، دس ماہ بعد طبیعت میں جوش و ولولہ، گیارھ ماہ بعد روحانی لطافت اور بارہ ماہ کے بعد کایا پلٹ مکمل ہو جاتی ھے
کالی ہریڑ ایک سو پچاس گرام کا سفوف کر کے دیسی گھی یا روغن بادام سے چرب کرلیں اور ساتھ جو کچھ ملانا ھوگا اسکی تفصیل نیچے لکھ رہا ہوں. یہ ایک سو پچاس گرام سفوف دو ماہ چلے گا. پھر نیا بنا کر جس موسم کی چیز لکھی ھے وہ ملا لیا کریں. پورا ایک سال استعمال کر کے پورے جسم کی کایا پلٹ جاتی ھے
سفوف کو چرب کرنے کا طریقہ
دیسی گھی یا خالص روغن بادام کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر لگا کر دونوں ہاتھوں سے سفوف کو ملیں، اسی طرح دوتین بار کریں تا کہ گھی یا روغن کی وجہ سے سفوف میں چکنائی آ جائے. بہت زیادہ مقدار میں گھی نہ ڈالیں، بس ھلکا سا تا کہ سفوف، سفوف ھی رھے صرف اس میں چکنائی کا اثر آ جائے.
1- چیت اور بیساکھ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام شہد ملا کر پانچ گرام روزانہ
2- جیٹھ اور ہاڑ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام گڑ ملا کر پانچ گرام روزانہ
3- ساون اور بھادوں میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام نمک سیاہ ملا کر پانچ گرام روزانہ
4- اسوج اور کاتک میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام مصری ملا کر پانچ گرام روزانہ
5- مگھر اور پوہ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام سونٹھ کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ
6- ماگھ اور پھاگن میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام فلفل دراز کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ
* نوٹ *
ایک سو پچاس گرام کالی ہریڑ کا چرب شدہ سفوف ہو اور ایک سو پچاس گرام ساتھ جو چیز ملائی جائیگی تو وزن تین سو گرام ھو جائے گا اور پانچ گرام روزانہ لینے سے دو ماہ نکال جائے گا.
دو ماہ بعد نیا سفوف بنا کر چرب کر کے موسم کے لحاظ سے جو چیز لکھی ہو وہ ملا لیا کریں. اور ھندی مہینے جنتری یا اخبار سے دیکھ لیا کریں
مثال کے طور پر اب "پوہ" کا مہینہ جا رھا ھے تو سفوف ھریڑ کے ساتھ سونٹھ کا پاؤڈر ملا کر پانچ گرام روزانہ لے کریں
اس ترکیب میں آسانی یہ ھے کہ سال کے جس مہینے سے مرضی ھو شروع کر سکتے ھیں,

لونگ (Clove) لونگ ایک درخت کے خوشبودار پھولوں کی کلیاں ہیں۔ یہ جزائر ملوک، انڈونیشیا کا مقامی پودا ہے، اور عام طور پر ای...
09/02/2017

لونگ (Clove) لونگ ایک درخت کے خوشبودار پھولوں کی کلیاں ہیں۔ یہ جزائر ملوک، انڈونیشیا کا مقامی پودا ہے، اور عام طور پر ایک مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لونگ تجارتی طور پر انڈونیشیا، بھارت، مڈغاسکر، زنجبار، پاکستان، سری لنکا اور تنزانیہ میں کاشت کیا جاتا ہے۔

لونگ کے فوائد
مزاج
خشک گرم بدرجہ سوئم

لونگ ہضم کرنے میں بہت معاون ہے یہی وجہ ہے اسے پلاؤ کو خشبو دار اور ہاضم بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
تاذہ لونگ خشبودار اور سخت ہوتا ہے جب پرانی ہو جائے تو ہاتھ لگانے سے ٹوٹ جاتی ہے
روغن لونگ
لونگ کا تیل بھی کشید کیا جاتا ہے جو روغن لونگ کے نام سے عام مل جاہے
یہ صحت کے لئے بہت مفید ہے اس کا استعمال 1 سے 3قطرے ہیں اس سے ذیادہ مناسب نہیں
نزلہ زکام ورکھانسی
جب موسم سرما میں نزلہ زکام اور کھانسی ہوجائے تو بعض میں شدت کا پانی بہتا ہے چھنکوں سے برا ہال ہوتا ہے کھانسی کرکے برا حال ہو جاتاہے یا گلہ خراب ہو کر آواز بیٹھ جائے تو لونگ لیکر تھوڈا سا نمک لگا کر چوسنا بڑا فائدہ مند ہے
دمہ
دمہ کے مریض کے لئے لونگ بہت مفید ہے
لونگ کا باریک سفوف 1 گرام
دودھ کے بنا چائے کا قہوہ بنا کر اس میں ملا کر استتعمال کریں
2/ لونگ 5 عدد کا قہوہ بنا کر شہد ملاکر پینا مفید ہے
3/ لونگ ،گل مدار، اور کالانمک برابر وزن لیکر سفوف بنا کر شہد کی مدد سے چنے برابر گولیاں بنا کر چوس لی جائیں
جسم اور جوڈوں کا درد
جسم اور جوڈون کے درد کے لئے لونگ کا قہوہ بڑا فائدہ مند ہے
لونگ کے تیل کو تلوں کے تیل میں ملا کر مالش کرنا بھی مفید ہے
سردرد
سردرد کے لئے لونگ کے 4 سے 5 دانے پیس کر نمک ملا کر ماتھے پر لیپ کریں
دانت درد
دانت اور داڑھ میں اگر درد ہو تو روغن لونگ روئی سے لگا کر متاثرہ مقام پر لگائیں
کثرت پیشاب
جن لوگوں کو پیشاب ذیادہ آتا ہو وہ لونگ کاسفوف چٹکی بر استعمال کریں
پرانے ذخم
اگر پرانے ذخم ٹھیک نہ ھوتے ہوں توں ان کے لئے روغن لونگ اور ہلدی کا مرہم بنا کر لگائیں

ماکول و مشروباتماکول ومشروب(کھانا پینا)میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جومنہ کے ذریعے جسم میں پہنچائی جاتی ہیں ان کی چھ صورتیں ...
29/01/2017

ماکول و مشروبات
ماکول ومشروب(کھانا پینا)میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جومنہ کے ذریعے جسم میں پہنچائی جاتی ہیں ان کی چھ صورتیں ہیں۔(1)غذائے مطلق۔(۲)دوائے مطلق۔(۳)سم مطلق ۔ (۴)غذائی دوائی۔(۵)دوائے غذائی۔(۶)دوائے سمی۔تفصیل یہ ہے۔

غذائے مطلق: خالص غذاکوکہتے ہیں۔جب وہ بدن میں داخل ہوتی ہے تو بدن سے متاثر ہوکر متغیر ہوجاتی ہے لیکن بدن میں کوئی تغیر پیدانہیں کرتی بلکہ خود جزوبدن بن کر بدن کے مشابہ ہوجاتی ہے یعنی خون میں تبدیل ہوجاتی ہے۔مثلاً دودھ،گوشت اور روٹی وغیرہ۔

دوائے مطلق: خالص دوا جب بدن میں داخل ہوتی ہے توبدن سے متاثر ہوکر بدن میں تغیر پیداکردیتی ہے اور آخرکار جزو بدن ہوئے بغیر بدن سے خارج ہوجاتی ہے ۔جیسے زنجبیل،بادیان اور ملٹھی وغیرہ۔

سم مطلق: خالص زہرجب جسم میں داخل ہوتووہ خود توبدن سے متاثر نہ ہولیکن بدن کو متغیر کرکے اس میں فساد پیداکردے مثلاً سنکھیا،کچلہ اور افیون وغیرہ

غذائے دوا: غذامیں کچھ دوائی اثرات شامل ہوں۔جب بدن میں داخل ہوتی ہے توبدن سے متاثرہوکر متغیرہوجاتی ہے اور خود بھی بدن کو متاثر کرتی ہے۔اس کا زیادہ حصہ جزوبدن بنے اور کچھ حصہ جزوبدن بنے بغیر جسم سے خارج ہو جاتاہے۔مثلاًمچھلی ، میوہ جات وغیرہ۔

دوائے غذائی: دوامیں کچھ غذائی اثرات شامل ہوں۔جب بدن میں داخل ہوتی ہے توبدن سے متاثرہوکرمتغیرہوجاتی ہے اور خود بھی بدن کومتاثر و متغیر کرتی ہے۔اس کا تھوڑاحصہ جزوبدن بنتاہے اور زیادہ حصہ جزوبدن بنے بغیر جسم سے خارج ہوجاتاہے۔مثلاًمیوہ جات وگھی اورنمک ومٹھاس۔

دوائے سمی: دواجس میں کچھ زہریلے اثرات شامل ہوں۔جب بدن میں داخل ہوتی ہے توبدن سے کم متاثرہوتی ہے اور بدن کو بہت زیادہ متاثر ومتغیر کرتی ہے اور نقصان پہنچاتی ہے۔مثلاً نیلاتھوتھا اور پارہ وغیرہ۔

ماکول ومشروبات کی صورتیں: ماکول ومشروبات (کھانے پینے)کے اثرات کی صورتیں یہ ہیں کہ اگرفقط مادہ سے اثراندازہوتواسے غذاکہتے ہیں ۔اگرصر ف کیفیات کا اثرزیادہ ہوتودواہے۔اگراس کااثرمادہ وکیفیات دونوں سے ہوتو اگرمادہ زیادہ ہے تو غذائے دوا اور اگرکیفیت زیادہ تو دوائے غذائی ہے۔اگر صرف اپنی صورت نوعیہ سے اثرکرے تواسے ذوالخاصہ کہتے ہیں جس کی دوصورتیں ہیں۔اول ذوالخاصہ مواقفہ یعنی تریاق۔دوم ذوالخاصہ مخالفہ جیسے زہر۔اگرمادے اور صورت نوعیہ سے اثرکرے توغذائے ذالخاصہ اور اگر کیفیت اورصورت نوعیہ سے اثرکرے تواس کودواذوالخاصہ کہتے ہیں۔

اس مختصر سی تفصیل سے اندازہ ہوگاکہ غذاکے اثرات اور وسعت کس قدرطویل ہے یعنی ادویات میں بھی غذائی اثرات شامل ہیں ۔اس لئے علاج بالغزامیں ایسی تمام ادویات شامل ہیں اور ہماری روزانہ زندگی میں ان کا کثرت سے استعمال بھی ہوتاہے۔جیسے نمک ومٹھاس وغیرہ اور ایسی خالص ادویات بھی شامل ہیں جوروزانہ زندگی کاجزو ہیں جیسے زنجبیل،مرچ سیاہ اور گرم مصالحہ وغیرہ۔

غذاکی اقسام: غذاکی دو اقسام ہیں جومندرجہ ذیل ہیں۔(۱)غذائے لطیف۔(غذائے کثیف

غذائے لطیف: ہلکی پھلکی قسم کی ایسی غذاجس سے رقیق خون پیداہو۔جیسے آبِ انار وغیرہ۔

غذائے کثیف: بھاری یابھدی قسم کی ایسی غذاجس سے غلیظ(گاڑھا)خون پیداہو۔جیسے گائے کاگوشت وغیرہ۔

پھر ہرایک کی دوصورتیں ہیں۔(۱)صالح الکیموس یا فاسدالکیموس۔(۲)کثیرالغزا یا قلیل الغزا

صالح الکیموس: ایسی غذاجس سے جسم کیلئے بہترین خلط پیداہو۔ جیس بھیڑ کا گوشت اور ابلاہواانڈہ وغیرہ۔

فاسدالکیموس: وہ غذاجس سے ایسی خلط پیداہوجوبدن کیلئے مفیدنہ ہو۔ جیسے نمکین سوکھی ہوئی مچھلی یامولی۔

کثیرالغزا:وہ غذاہے جس کا اکثر حصہ خون بن جائے ۔جیسے نیم برشٹ انڈے کی زردی وغیرہ۔

قلیل الغزا: وہ غذا جس کا بہت تھوڑا سا حصہ خون بنے۔ جیسے پالک کا سالگ وغیرہ۔

غذائے لطیف، کثیرالغزا اور صالح الکیموس کی مثال زردی بیضہ نیم برشٹ،انگور اورماء الحم(یخنی) ہے۔غذائے کثیف،قلیل الغزا اورفاسدالکیموس کی مثال خشک گوشت،بینگن، مسور اور باقلا ہیں۔
ارشادات محترم و معالج حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی رح

مردانه ٹائمنگ بے حسابMardana timing behisabکیپسول ممسک سلطانییه دوا ھمارے مطب کی مشهور و معروف دوا ھےاس کے استمعال سے مس...
18/01/2017

مردانه ٹائمنگ بے حساب
Mardana timing behisab
کیپسول ممسک سلطانی
یه دوا ھمارے مطب کی مشهور و معروف دوا ھے
اس کے استمعال سے مستقل اور وقتی دونوں طرح کی ٹائمنگ بڑھائی جا سکتی ھے
وقتی استمعال سے آپ اپنی مرضی کی ٹائمنگ لے سکتے ھیں اور
مسرت کے لمحوں کو بڑھا کر اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ھیں
نسخھ
جائفل 50 گرام
لونگ 50گرام
اذراقی مدبر 50 گرام
خولنجاں 100 گرام
دارچینی 100گرام
عقرقرحا 100گرام
زعفران 25 گرام
جنسنگ 100 گرام
ست سلاجیت 200 گرام
کشته شنگرف 20 گرام
کشته سونا 2 گرام
عنبر 1 گرام
kushta sona ki jaga sonay k wrq estmal kye ja sktay hein
500mg daily
once or twice
and befor s*x 1cap if 500mg before 3 hours
الخیر طبی کلنک اینڈ ریسرچ سنٹر
ٹبه سلطان پور وھاڑی
اینڈ
گوجرانواله
0300 5255529
10 کیپسول
2000 روپے صرف

اسگند ناگوری (اشوگندھا)(winter Cherey)لاطینی میںWithania Somniferaفیملی۔Sofanaceaeدیگر ام۔پ جابی میں آکس ،بوگ ی بوٹی،س د...
18/01/2017

اسگند ناگوری (اشوگندھا)
(winter Cherey)
لاطینی میں
Withania Somnifera
فیملی۔
Sofanaceae
دیگر ام۔
پ جابی میں آکس ،بوگ ی بوٹی،س دھی میں بھٖڈ گ د،مرہٹی میں آمس گ د،گجراتی میں آکھ س دھ،ب گالی میں اشوگ دھا،اور ا گریزی میں و ٹرجیری۔
ماہیت۔
اس کا پودا دو قسم کا ہوتاہے۔ایک چھوٹا لیک جڑ موٹی ہوتی ہے۔دوسری قسم کھیت قبرستا اور کھ ڈرات میں خودرو پیدا ہوتی ہے۔
جڑایک سے آٹھ ا چ تک لمبی اور اوپر سے پتلی گول چک ی ا در سے سفید باہر سے بھوری ہوتی ہے۔تازہ جڑ سے گھوڑے کے پیشاب کی طرح بو
ٓآتی ہے۔بطوردواء زیادہ تر مستعمل ہے۔یہ جت ی موٹی اور سفید ہوگی ات ی زیادہ اچھی ہوگی ۔اس جڑ کو جلد گھ کھاجاتی ہے۔مدت اثر دوسال سے
پرا ی جڑ میں ادویتہ قوت بہت کم ہوجاتی ہے۔
ر گ۔
جڑ بھوری
ذائقہ۔
قدرے تلخ۔
مقام پیدائش۔
پاکستا میں پ جاب ،س دھ ،بلوچستا ،سرحد میں ہر مقام پرکم و بیش پیدا ہوتی ہے۔جبکہ بھارت میں باگوار علاقہ راجستھا میں بہت پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علادہ بمبئی، اگ پور یوبی اور دہلی کے علا وہ اب کئی جگہ کاشت ہو ے لگی ہے۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ سوئم؛
افعال ۔
مبہی ومقوی ،م قیٰ رحم،محلل،مولدو مغلظ م ی ،مولد شیر ،مصلب پستا و ذکر۔
استعمال۔
مقوی باہ اورمبہی ہے۔باہ کو تقویت دیتا ہے۔مولد و مغلظ م ی ہو ے کے سبب جریا اور رقت م ی میں اس کا سفوف ب ا کر دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
مقوی و م قی رحم ہو ے کے وجہ سے وضع حمل کے بعد استعمال کرایا جاتا ہے۔جس سے واضع حمل کے بعد کی پچیدگیاں پیدا ہیں ہوتی ۔محلل اورام ہو ے
کی وجہ سے بطور ورموں کو تحلیل کرتا ہے۔اور اس کے تازہ پتے ورموں کو تحلیل کرتے ہیں۔وجع المفاصل میں داخلاًو خارجا استعمال کیا جاتا ہے۔اور اس
کو سور جاں کاقائم مقام خیال کیا جاتاہے۔ہم اس کو شکر اور دودھ کے ساتھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔خ ازیر میں پا ی میں پیس کر لیپ کر مفید ہے۔
فع خاص۔
مقوی باہ اور دردوں کیلئے ۔
مصلح۔
گو د کیترا،
بدل۔
بہمن سفید ۔
کیمیاوی اجزاء۔
روغن ،قلم دار الکوحل،شمی اجزاء ایک سو منیرین نام کا جو ہر افعال ۔
مقدارخوراک۔
تین سے پانج گرام ۔
مشہور مرکبات۔
حب اسگندھ،معجون مقوی رحم ،سفوف جریان خاص۔
نوٹ۔
جڑ غیر سمی لیکن تخم اسگندھ زہریلے ہوتے ہیں۔ان کو آکسنڈ اور آکسن بھی کہتے ہیں۔
for more information
viisit my page
daring adventure of simple organopathy
03005255529 whatsapp imo

21/11/2016

NAAF GIRNA K ASBAB O ILAJ
ناف پڑنا
چیک کرنے کا طریقہ
بعض اوقات ناف کے ادھر ادھر سرک جانے سے مروڑ اور پیچش لگ جاتے ہیں
جس پر پیچش کی عام ادویہ اثر نہیں کرتیں
AL-KHAIR TIBBI CLINIC & RESEARCH CENTER
ایسے معاملات میں ناف ضرور چیک کر لینی چاہئے
اس کے چیک کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں
ا.صبح نہار منہ چت لیٹ کر ناف پر انگلی سے دباؤ دینے سے ہلکی سی تھرتھراھٹ محسوس ہو تو ناف اپنی جگہ پر ہے
ب. ناف پر دھاگہ رکھ کر پستان کے نپل تک پیمائش کر لیں
اگر دونوں طرف پیمائش برابر نہ آۓ تو ناف اپنے مقام پر نہیں ہوگی
د. مریض کو چت لٹا کر دونوں ہاتھ پاؤں سیدھے کریں
اگر دونوں پاؤں کے انگوٹھے سیدھے یعنی ایک لائن میں ہیں تو ناف درست ہے
ج. مریض کی دونوں ہتھیلیان اس طرح چوڑیں کہ کلائی کی لکیریں آمنے سامنے ہوں
دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیاں ملائیں اگر تینوں انگلیوں کی لائنیں اور ہتھیلی کی لکیر سب ایک دوسرے کے برابر ہو تو درست نا ہو تو ناف ٹلی ہوئی ہے
حکیم محمد یوسف کمبوہ
03005255529
**********************************************************
ناف سرکنے کے اسباب اور علاج #:)"
اس کے اسباب میں سرد خشک سے خشک گرم اشیاء کا کثرت استمعال
اونچی نیچی جگہ سے پاؤں کا پھسلنا : زیادہ وژن اٹھانا : کمزوری
ریح پیدا کرنیوالی اور خشک مصالحہ جات کا کثرت استمعال
ان اسباب کی بدولت ناف اوپر یا نیچے سرک جاتی ہے
اور گیس کے دباؤ سے مروڑ کم جاتے ہیں عرصہ تک یہ شکایت رہنے سے نظام ہضم پکڑ جاتا ہے
************************************************
تدابیر اور علاج
علاج سے پہلے اس کو اپنے مقام پر لائیں جس کے طریقے درج ذیل ہیں
AL-KHAIR TIBBI CLINIC & RESEARCH CENTER
ا.انگوٹھے سے ناف کے گرد دباؤ ڈال کر ناف اس کے مرکز کی طرف دھکیل دیں
ب. مریض کو چت لٹا کر اس کے دونوں بازو سیدھے رکھیں
پھر اس کے گھٹنوں پر دباؤ ڈالیں
اس کے دونوں انگوٹھے پکڑیں جو انگوٹھا سمٹا ہوا ہو
اس کو کھینچ کر برابر کرنے کی کوشش کریں
دونوں انگوٹھوں کے نشان آمنے سامنے ہونے تک یہ عمل دہراتے رہیں
HAKEEM YOUSAF KAMBOH
الخیر طبی کلینک اینڈ ریسرچ سنٹر
ٹبہ سلطان پور
03005255529
د. مریض چت لیٹ کر سانس باہر نکالے .دوبارہ سانس لینے سے پہلے پیٹ کو پھیلائے اور جہاں تک ممکن ہو اسی حالت میں رکھے
اس عمل کو بار بار دہرائے
حتی کہ ناف اپنی جگہ پر آجائے
ج. مریض چت لیٹ کر دونوں بازو سیدھے رکھے
سر کے نیچے تکیہ نا ہو
ٹانگیں جوڑ کر ۹۰ درجہ کے زاویہ پر لے جا کر واپس لے آۓ یہ عمل ۸ سے ۱۰ مرتبہ دہرائے
علاج:-(
چونکہ یہ خشکی گرمی یعنی عضلاتی غدی تحریک کا مرض ہے
اس کا علاج غدی عضلاتی پھر غدی اعصابی سے کریں
اجوائن پودینہ رائی تیز پات ہر ایک ھموزن
۱۰۰۰ملی گرام کا کیپسول ۳ٹائم
زنجبیل ۵۰گرام
نوشادر ۲۰گرام
مرچ سیاہ ۱۰گرام
۵۰۰ملی گرام کا کیپسول ۳ٹائم
HAKEEM YOUSAF KAMBOH
حکیم محمد یوسف کمبوہ
الخیر طبی کلینک ٹبہ سلطان پور
03005255529

Address

KHATAK CHOWK NEAR UNION CONCIL MUMATAZABAAD Basti Sehar TIBBA SULTAN PUR
Vehari
1264

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Khair Herbal Clinic طب کی دنیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al-Khair Herbal Clinic طب کی دنیا:

Shortcuts

Share

Category