10/08/2026
لائیکوپوڈیم کی ہوا نہیں ٹھرتی
اردو میں ایک محاورہ ہے: ’’اس کی ہوا نہیں ٹھہرتی‘‘۔ عموماً یہ جملہ کسی ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو ذرا سی آہٹ پر گھبرا جائے، قدم پیچھے کر لے یا بہادری کا دعویٰ کرتے کرتے اچانک غائب ہو جائے۔ لیکن ہومیوپیتھک دنیا میں لائیکوپوڈیم کی ’’ہوا‘‘ کا معاملہ کچھ اور ہی دلچسپ ہے!لائیکوپوڈیم کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے اس کے اندر ایک چھوٹا سا سیاسی جلسہ ہر وقت جاری ہے۔ تقریر بہت بلند، دعوے بہت بڑے، اعتماد کبھی آسمان پر… لیکن جونہی عملی میدان سامنے آئے، ہوا کا رخ بدل جاتا ہے!
یہ وہ شخصیت ہے جو گھر میں کہہ سکتی ہے۔’’میں اسے ایسا جواب دوں گا کہ عمر بھر یاد رکھے گا لیکن سامنے والا آ جائے تو اندر سے ایک آواز آتی ہے:
’’فی الحال حالات کو دیکھتے ہیں، جواب بعد میں دیں گے۔‘‘
یہی لائیکوپوڈیم کا دلچسپ تضاد ہے: ذہن میں طاقت، زبان پر اعتماد، لیکن عمل کے مقام پر ہچکچاہٹ۔ خاص طور پر اجنبی لوگوں، نئی ذمہ داری، امتحان، مجمع یا کسی اہم موقع سے پہلے اندر ہی اندر خوف پیدا ہو سکتا ہے۔ آدمی جانتا ہے کہ اسے کیا کہنا ہے، لیکن عین وقت پر جیسے الفاظ بھی اس سے کہیں، ’’ہم ذرا بعد میں آتے ہیں
اردو محاورے کی زبان میں کہیں تو ہوا نہیں ٹھہرتی؛ لیکن ہومیوپیتھک زبان میں یہ صرف بزدلی نہیں، بلکہ ایک گہرا تضاد ہے۔ باہر سے خود اعتمادی کا اظہار اور اندر سے ناکامی کا خوف۔
لائیکوپوڈیم کی اصل کہانی شاید یہی ہے کہ وہ کمزور نہیں ہونا چاہتا؛ وہ کمزور نظر آنا بھی نہیں چاہتا۔ اسی لیے کبھی کبھی اس کی زبان اس کے دل سے زیادہ بہادر ہوتی ہے۔اور یوں لائیکوپوڈیم کے بارے میں مزاحاً کہا جا سکتا ہے:
لائیکوپوڈیم کی ہوا چلتی بہت ہے، لیکن ٹھہرتی ذرا نہیں