Hijamah/Cupping and Gul DawaKhana

Hijamah/Cupping and Gul DawaKhana Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hijamah/Cupping and Gul DawaKhana, Medical Center, Shahid Manzil , Asifabad near Shareef Hospital , Lala Rukh , Wah Cantt, Wah.

21/11/2017

شیئر ضرور کریں ۔۔ سب کو پتہ ہونا چاہئے کہ 12 ربیع اول کو کیا کرنا چاہئے

19/09/2017

*پراسرار طریقے سے غائب*
*ہونے والی چند تہذیبیں*

قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں جاننا کسی بھی شخص کے دماغ کو گھما دینے کے لیے کافی ہے- قدیم دور کی مختلف تہذیبوں کی تباہی یا ان کے غائب ہونے کے اسباب اور ان کی تاریخ کے بارے میں ہم مختلف کتابوں وغیرہ میں پڑھ سکتے ہیں- تاہم دنیا میں چند تہذیبیں ایسی بھی گزری ہیں جن کے بارے میں کوئی بھی بہت زیادہ نہیں جانتا ہے- ان تہذیبوں کے خاتمے یا غائب ہوجانے اور ان کی تاریخ کے حوالے سے صرف نظریات پائے جاتے ہیں جو کہ آثارِ قدیمہ نے قائم کیے ہیں- ایسی ہی چند پراسرار طور پر غائب ہوجانے والی تہذیبوں کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔

*The Indus Valley Civilization*

وادی سندھ کی تہذیب موجودہ دور کی پاکستان اور مغربی بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی تہذیب تھی- ہڑپہ اور موہنجو دڑو اس کے اہم مراکز تھے- یہ تہذیب 7000 قبل مسیح میں قائم کی گئی تھی- ان لوگوں نے سینکڑوں عمارات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے قصبے قائم کیے اور بہترین سیورج کے نظام کی بنیاد رکھی- ماہرین کا خیال ہے یہاں ایک منفرد حکومت قائم تھی جس میں ملٹری گروپس بھی موجود تھے- اس تہذیب کے غائب ہونے کے حوالے سے ماہرین نے دو نظریات پیش کیے ہیں- کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ آرین تہذیب نے 1500 قبل مسیح میں ان پر حملہ کر کے انہیں ختم کردیا-

*The Anasazi*

یہ لوگ امریکہ کے چاروں کونوں میں آباد تھے اور ان کا Puebloan قبیلہ شکاریوں سے بھرپور تھا- لیکن بعد میں ان لوگوں نے کھیتی باڑی شروع کردی- یہ قوم بہترین مٹی کے برتن اور ٹوکریاں بنانے کے حوالے سے جانی جاتی تھی- ماہرین کا خیال ہے کہ آبادی میں اضافے اور کھیتی باڑی کی بدترین صورتحال کی وجہ سے یہ لوگ Rio Grande کی جانب ہجرت کر گئے-

*The Minoans*

اس تہذیب کو یورپ کی پہلی دستاویزی تہذیب ہونے کا اعزاز حاصل ہے- یہ لوگ بہترین آرٹسٹ سمجھے جاتے تھے٬ یہاں تک کہ اپنی زبان کو بھی تصویری شکل میں بیان کر لیتے تھے- ماہرین کا خیال ہے کہ Thera جزیرے پر پھٹنے والے آتش فشاں پہاڑ نے ان کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا- ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ Mycenaeans کے حملے کی وجہ سے ان کا خاتمہ ہوا-

*The Clovis Tribe*

یہ قبیلہ 10 ہزار قبلِ مسیح میں شمالی امریکہ کے گرد آباد تھا اور ان کے گزر بسر کا انحصار شکار پر تھا- یہ تیر کی نوک خود تخلیق کیا کرتے تھے جو انتہائی منفرد ڈیزائن کی حامل تھی- کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ برفانی دور میں سربیا سے الاسکا کی جانب ہجرت کر گئے- ماہرین کا ماننا ہے کہ قدیم جانور mammoth بھی ان لوگوں کے بےپناہ شکار کی وجہ سے ہی ختم ہوا-

*The Cucuteni-Trypillian Culture*

یہ تہذیب یورپ میں سب سے بڑی Neolithic بستیوں کی تعمیر کے لیے ذمہ دار سمجھی جاتی ہے- یہ لوگ ہر 60 سے 80 سال کے دوران اپنے گاؤں جلا کر دوبارہ تعمیر کیا کرتے تھے- اور نئے گاؤں پرانے ملبے کے اوپر تعمیر کیے جاتے تھے- ان کی خواتین گھر کی سربراہ سمجھی جاتی تھی اور وہ کپڑے بنانے اور کھیتی باڑی کی ذمہ دار ہوتی تھیں- ماہرین کا ماننا ہے کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں نے انہیں تباہ کیا جن میں سے ایک یورپ کی بدترین خشک سالی تھی- یہ ان لوگوں کے لیے ایک بری خبر تھی کیونکہ ان کی زندگی کا انحصار کاشت کاری پر ہی تھا-

*The Olmec*

جنوبی وسطی میکسیکو میں آباد اس تہذیب کا تعلق 1400 قبل مسیح سے تھا- یہ لوگ بہترین کاریگر سمجھے جاتے تھے- ان کا ہر گاؤں وسیع رسمی مکانوں اور یادگاری پتھروں پر مشتمل ہے- ان کی معاشی زندگی کا انحصار تجارت پر تھا- ماہرین کا خیال ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں٬ ممکنہ حملوں اور آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے نے ان کا صفایا کردیا-

*The Khmer Empire*

یہ سلطنت حالیہ کمبوڈیا میں قائم تھی جو کہ اپنے وقت میں ایشیا کی سب سے طاقتور سلطنت سمجھی جاتی تھی- انہی لوگوں کو کمبوڈیا کے سابقہ دارالحکومت Angkor کی تعمیر کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے- یہ سلطنت تین مذاہب پر مشتمل تھی جس میں ہندو٬ ماہایانہ بدھ اور تریواڈا بدھ شامل تھے- ماہرین کا ماننا ہے کہ کام کرنے کی خواہش میں کمی کی وجہ سے ان کی کھیتی باڑی کی پیداوار ختم ہوگئی- اور آخر میں ان کی سلطنت کی چمک ماند پڑگئی-

*The Aksumite Empire*

اس تہذیب کی ترقی کی وجہ ہاتھی دانت٬ سونے اور زرعی وسائل کی بہت زیادہ ایکسپورٹ تھی- یہ بہت زیادہ امیر تھے اور یہ وہ پہلی افریقی تہذیب تھی جس نے اپنا سکہ بھی جاری کیا- ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی دنیا میں تنہا رہ جانے اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ان لوگوں کا خاتمہ کیا لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہمارے بڑوں کے مطابق انہیں Bani al-Hamwiyah نامی ملکہ نے حملہ کر کے ان کی ثقافت کو ختم کردیا تھا-

16/09/2017

*باصلاحیت علما کی قدر کیجیے پھر نتیجہ دیکھیے*

سلام مسنون
اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔مغرب کی اذان ہورہی تھی-
اذان دینے والے کی آواز بہت دل نشیں تھی- نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم مسجد کی جانب بڑھنے لگے -
مسجد میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا- مسجد جمعہ کی نماز کا منظر پیش کررہی تھی ۔۔۔۔۔
نماز ادا کی تو امام صاحب کی قراءت نے سماں باندھ دیا، خود میں بھی رو دیا -
کچھ ہی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا کہ امام صاحب کو میں اپنی مسجد میں لے کر جاؤں گا ؛ کیونکہ جب امام اچھا ہو ، اس کی قراءت بھی اچھی ہو، تو مسجدیں آباد ہوتی ہیں -
نماز کے بعد امام صاحب سے مصافحہ کیا، نمبر لیا- اسی دوران میری ملاقات مسجد کے صدر فہیم صاحب سے ہوئی- میری پرانی شناسائی تھی- میں نے اپنے ارادے سے انہیں آگاہ کیا تو وہ مسکرا پڑے -
کہنے لگے: "آپ امام صاحب سے بات کر لیجیے" -
مجھے کچھ حیرت ہوئی- انہوں نے میری بات پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا -
میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسی وقت امام صاحب کے پاس پہنچ گیا اور ان سے اپنے مقصد کی بات کی کہ میری بات سُن کر وہ بھی مسکرا دیے -
میں ابھی تک اس مسکرانے کی وجہ نہیں جان پا رہا تھا-
میں نے امام صاحب سے کہا: "امام صاحب! ہم آپ کو یہاں سے اچھی تنخواہ دیں گے-یہاں سے بہتر سہولیات فراہم کریں گے"-
"آپ کو معلوم ہے کہ یہاں میری تنخواہ کیا ہے اور سہولیات کیا میسر ہیں" ؟ امام صاحب نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا -
"معلوم تو نہیں لیکن یہاں سے بہتر ہوگی"-
اچھا! امام صاحب نے کہا:
"میری تنخواہ اس وقت یہاں 35 ہزار روپے ہے اور مسجد انتظامیہ نے مجھے جو رہائش دی ہوئی ہے وہ شاندار لگژری اپارٹمنٹ ہے"-امام صاحب نے مسجد سے متصل اپنے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا-
بالکنی سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ گھر کس قدر شاندار ہوگا -
میں حیران رہ گیا، امام صاحب بھی مسکرا دیے -
واپس جاتے ہوئے میں مسجد کے صدر فہیم صاحب سے ملا اور ان سے پوچھا: "کیا آپ امام صاحب کو 35 ہزار تنخواہ دیتے ہیں"؟
فہیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
"جی بالکل! ہم امام صاحب کو 35 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں"- "اتنی زیادہ تنخواہ، جب کہ امام کی تنخواہ کی تو 7 سے 10 ہزار روپے تک حد ہے - اتنی زبردست تنخواہ اور اتنی شاندار رہائش؟ آپ عادتیں بگاڑ رہے ہیں ان مولویوں کی"- میں نے کچھ زچ ہوتے ہوئے کہا -
فہیم صاحب اب باقاعدہ ہنس دیے (یعنی انگور کھٹے ہیں) -
فاروقی صاحب! "یہ اس لیے کہ آپ جیسی انتظامیہ کے لوگ انہیں اپنی مساجد میں نہ لے جا سکیں" -
ایک لمحے کے لیے تو میں جھینپ گیا -
فاروقی صاحب! " *امام جتنا زیادہ اچھا ہو گا، مسجد اتنی آباد رہےگی - جتنا قابل خطیب ہو گا، علاقے کے لوگ اتنے زیادہ با شعور ہوں گے* ہم اپنے با صلاحیت علما کی قدر نہیں کرتے، بلکہ استیصال کی کوشش کرتے ہیں - ہم ایک مووی میکر ، فلم میکر، ڈیزائنر کو تو اچھا معاوضہ دینے کو تیار ہیں لیکن ایک مذہبی رائیٹر سے فی سبیل اللہ کام کرانا چاہتے ہیں - ایک ٹھیکیدار کو تو مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لیے لاکھوں دینے کو تیار ہیں لیکن پوری قوم کی تعمیر کرنے والے امام ،معلم کو صرف 7 ہزار روپے دیتے ہوئے دل دکھتا ہے -
دنیا بھر میں پروفیشنل لوگوں کی قدر کی جاتی ہے -ہم اپنے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں -
کیا ایک امام کی ضروریات ایک مزدور سے بھی کم ہے ؟
مزدور کی ماہانہ انکم بھی 40 ہزار ہوتی ہے - ایک مستری آج بھی 40 سے 50 ہزار ماہانہ کماتا ہے -
کیا ایک امام ، یا مدرسے کا استاد اچھے گھر کی خواہش نہیں کر سکتا ؟
آپ کی مسجد کی ماہانہ آمدنی 70 ہزار روپے ہے - ایک اچھا خطیب و امام رکھ لیں، چندہ ڈبل ہو جائے گا- کیا آپ کو امام و خطیب کی تنخواہ نکالنے میں کوئی دقت ہو گی؟
نہیں نا ! لیکن نہ جانے ہم خود تو جہاں نوکریاں کرتے ہیں، وہاں سے ستر ہزار سے زائد تنخواہ لیتے ہیں، لیکن امام اور مدرسے کے استاد کو 7 ہزار تنخواہ میں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں -
فاروقی صاحب ! آپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہیں- خود بتائیے ! آپ کے یہاں فن کے ماہرین کی قدر کیسے کی جاتی ہے ؟ ان کو کیسے سپورٹ کیا جاتا ہے ؟
او ر سنیے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو اسلام کے منافی پروپیگنڈہ کرنے کے عوض کروڑوں ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔ اور اس فنڈ کے لیے وہ دنیا بھر میں میوزک کنسرٹ کرتے ہیں اور اس کے جو پیسے آتے ہیں، وہ ان اسلامی ممالک میں موجود این جی اوز کو دے دیے جاتے ہیں- وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان این جی اوز کو مرنے نہیں دیتے، بلکہ زندہ رکھتے ہیں -
جب کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے باصلاحیت لوگوں کو جینے نہیں دیتے -
آپ اپنی مسجد کے لیے ایک اچھے خطیب و امام کو تلاش کیجیے ! یقین جانیے- آپ اتنا اچھا پیکیج دیں گے تو امام صاحب آپ کے پاس سے کہیں نہیں جائیں گے- اپنے اہل علم اور باصلاحیت لوگوں کی قدر کیجیے، انہیں ضائع مت کیجیے -
فہیم صا حب کی بات میں وزن تھا -
اب میں بھی ان کی پوری بات سمجھ گیا تھا -

10/09/2017

*لڈو سٹار گیم ایپ سے لڈو گیم کلب تک*
تحریر : پردہ دار خاتون

لڈو سٹارگیم ایسی ایپ ہے جو دنوں میں مشہور ہوئی لوگوں کی پسندیدہ گیموں میں سے ایک گیم بن چکی ہے جس طرح فیس بک واٹس ایپ ہر موبائل کی زینت ہے ایسے ہی لڈو گیم نے اپنی جگہ بنا لی ہے. یہ اچهی بات ہے کہ ایک گتے کی بنی لڈو اب آپکے موبائل میں ایپ کی صورت موجود ہے زمانہ بدل چکا ہے لوگ ترقی کر رہے ہیں. یہ ترقی مثبت کے ساته منفی بهی ہے. جب لڈو سٹار لوگوں میں مقبول ہوئی تو اسکے متعلق کچه لوگوں کو شبہات تهے کہ اسلام میں ممنوع کام ہے اور مسلمان اس جوئے جیسی گیم کو نہیں کهیل سکتے خیر مفتیان کرام نے اسکا بہت اچها جواب دیا کہ اس میں جو شرط لگائی جاتی ہے وہ سونے کے سکے گیم کے اندر موجود ہیں کسی کو اپنی ذاتی رقم سے ہارنے کی قیمت ادا نہیں کرنا ہوتی اس لئے اسے گیم کی طرح ہی لیا جائے. یہاں تک تو سب پرامن تها لیکن اب نہیں کیونکہ لوگوں نے اس لڈو گیم کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنانا شروع کردیا ہے یہ گیم موبائل ایپ سے نکل کر حقیقی دنیا میں لڈو گیم کلب کی شکل اختیار کر چکی ہے. یہ گیم کلب ایک جوئے کا اڈہ ہے جہاں 20000 30000 کی شرط لگا کر گیم کهیلی جاتی ہے ایسے ہی ایک کلب نے اپنے فیس بک پیج پر اسکی استقبالی پوسٹ کو سپانسر کیا جسکے بعد کافی لڑکوں نے سیٹیں بک کروا لیں. اب وہاں پر ماڈرن طریقے سے جواء کهیلا جائے گا اور جواء اسلام میں حرام ہے جوئے کو اللہ نے شیطانی کام کہا ہے. اب یہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم نے مسلمان رہنا ہے یا شیطان بننا ہے.
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں اس بات کی زیادہ سے زیادہ آگاہی پهیلائی جائے کہ لڈو گیم کلب میں بیٹه کر کهیلنا اور پهر وہاں سے کمائی کرنا سو فیصد حرام ہے. قانونی اداروں کو اس بات پر ایکشن لینا چاہئے اور فوری طور پر ان ماڈرن جوئے کے اڈوں کو بند کروایا جائے تاکہ برائی پهیلنے سے پہلے ختم کی جاسکے. اگر لڈو گیم کلب ایکٹو ہوگئے تو معاشرے میں بہت برائیاں پهیلیں گی. اس گیم کو صرف موبائل تک ہی رکها جائے تو ہماری نسلوں کے لئے بہتر ہوگا. اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پهیلائیں.
جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء

تحریر ... پردہ دار خاتون
10 ستمبر 2017

پاک آرمی پاکستان

25/08/2017

سب عوام مِل کے اک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہو۔اگر عوام میں اتفاق ہو تو کوئی بھی دنیا کی طاقت عوام کے خلاف نہیں جا سکتی۔

20/08/2017

دعا کے آداب ، کیفیت، واجبات، اور سنتیں کیا ہیں؟

دعا کی ابتدا اور انتہا کیسے کرنی چاہیے؟
اور کیا دنیاوی امور سے متعلق دعا آخرت کیلئے دعا سے پہلے کی جا سکتی ہے؟
اور دعا میں ہاتھ اٹھانے سے متعلق کیا بات درست ہے؟ اور اٹھانے چاہییں تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، ہر چیز کیلئے امید اسی سے لگائی جائے، بلکہ جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ تعالی اس پر غضبناک ہوتا ہے، اسی لیے اپنے بندوں کو مانگنے کیلئے ترغیب بھی دلاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}
ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہہ دیا ہے کہ: مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا۔[غافر : 60]

اللہ سے دعا مانگنے کا دین میں بہت بلند مقام ہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرما دیا: (دعا ہی عبادت ہے)
ترمذی (3372) ، ابو داود (1479) ، ابن ماجہ (3828) البانی نے اسے "صحیح ترمذی" (2590) میں صحیح قرار دیا ہے۔

دوم:

دعا کے آداب:

1- دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ}
ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں [البقرة : 186]

2- دعا میں اخلاص ہونا، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ}
ترجمہ: اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ یکسو ہو کر صرف اللہ کی عبادت کریں۔[البينة : 5]
اور یہ بات سب کیلئے عیاں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دعا ہی عبادت ہے، چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے اخلاص شرط ہے۔

3- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ}اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، انہی کے واسطے سے اللہ کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں سے متعلق الحاد کا شکار ہیں۔ [الأعراف : 180]

4- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا، چنانچہ ترمذی: (3476) میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی [پھر اسی دوران دعا کرتے ہوئے]کہا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے، اور مجھ پر رحم فرما" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے نمازی! تم نے جلد بازی سے کام لیا، جب تم نماز میں [تشہد کیلئے ]بیٹھو، تو پہلے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اور پھر اللہ سے مانگو)
ترمذی (3477)کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو [تشہد میں] سب سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اور اس کے بعد جو دل میں آئے مانگ لے) راوی کہتے ہیں: "اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز پڑھی، تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اے نمازی! اب دعا مانگ لو، تمہاری دعا قبول ہوگی)" اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی" (2765 ، 2767) میں صحیح کہا ہے۔

5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
طبرانی نے "الأوسط" (1/220) میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے "صحیح الجامع" (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا، چنانچہ مسلم: (1763) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔۔۔ الحدیث

نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
"اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے"

7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا، چنانچہ ابو داود: (1488) میں سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا پروردگار انتہائی باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود": (1320) میں صحیح کہا ہے۔

دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے، چنانچہ ابو داود: (1486) میں مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود": (1318) میں صحیح کہا ہے۔

یہاں یہ مسئلہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے ملا کر رکھے یا فاصلہ بھی ڈال سکتا ہے؟
تو اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے "الشرح الممتع" (4/25) میں صراحت کیساتھ کہا ہے کہ ہاتھ ملا کر رکھنا بہتر ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں:
"ہاتھوں میں فاصلہ ڈالنا یا الگ الگ رکھنے سے متعلق کوئی دلیل احادیث یا علمائے کرام کی گفتگو سے میرے علم میں نہیں ہے " انتہی

8- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو، اور صدق دل سے دعا مانگے؛ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین سے مانگو، یہ یاد رکھو! اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا) ترمذی: (3479) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ترمذی": (2766) میں حسن کہا ہے۔

9- کثرت سے دعا کی جائے، اس لیے انسان کو اللہ تعالی سے دنیاوی اور اخروی ہر قسم کی دعا مانگنی چاہیے، خوب الحاح اور چمٹ کر دعا کرے، قبولیت کیلئے جلد بازی سے کام مت لے؛ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، بشرطیکہ کہ جلد بازی نہ کرے) کہا گیا: "جلد بازی سے کیا مراد ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان یہ کہے: دعائیں تو بہت کی ہیں، پر مجھے لگتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی، اوراس پر مایوس ہو کر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے)
بخاری(6340) مسلم (2735)

10- دعا میں پختہ انداز ہو اور گزارشانہ انداز میں دعا نہ کی جائے؛ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما" بلکہ دعا مانگتے ہوئے پورے عزم کیساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا)
بخاری(6339) مسلم (2679)

11- عاجزی ، انکساری، اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً} ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]

اسی طرح فرمایا:
{إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ}
ترجمہ: بیشک وہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیں امید و خوف کیساتھ پکارتے تھے، اور وہ ہم سے ڈرتے بھی تھے۔[الأنبياء : 90]

اسی طرح فرمایا:
{وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ }
ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف سے صبح و شام یاد کریں اور بلند آواز کے بغیر بھی اور غافلوں سے نہ ہو جائیں۔ [الأعراف : 205]

12- تین ، تین بار دعا کرنا، بخاری (240) مسلم (1794) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : " رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، وہیں پر ابو جہل اپنے ساتھیوں کیساتھ بیٹھا تھا، [قریب ہی ]گزشتہ شام اونٹ بھی نحر کیے گئے تھے، تو ابو جہل نے کہا: "کون ہے جو فلاں قبیلے والوں کے اونٹوں کی اوجھڑی اٹھا کر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جائے تو اس کی کمر پر رکھ دے" یہ سن کر ایک بد بخت اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اوجھڑی کو دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر سب اوباش ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، لیکن میں کھرا دیکھتا ہی رہ گیا، اگر میرے کنبے والے میرے ساتھ ہوتے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے اسے ہٹا دیتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدے کی حالت میں پڑے رہے، یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ کو بتلایا، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، حالانکہ آپ بالکل چھوٹی عمر کی تھیں، پھر بھی آپ نے اوجھڑی کو ہٹایا، اور پھر اوباشوں کو برا بھلا کہنے لگیں، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، -آپ جب مانگتے تو تین ، تین بار مانگتے، اور جب دعا کرتے تو تین ، تین بار کرتے- آپ نے تین بار فرمایا: (یا اللہ! قریش پر اپنی پکڑ نازل فرما )، جب اوباشوں نے آپکی آواز سنی تو انکی ہنسی بند ہوگئی، اور آپکی بد دعا سے سہم گئے ، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر اپنی پکڑ نازل فرما-آپ نے ساتویں کا نام بھی لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں ہے- قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جن لوگوں کے نام آپ نے لیے تھے وہ سب کے سب بدر کے دن قتل ہوئے، اور پھر ان سب کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا)"

13- حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا، مسلم (1015) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! اللہ تعالی پاکیزہ ہے، اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی عمل کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں۔[المؤمنون : 51] اور مؤمنین کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ [البقرة : 172] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا، جو لمبے سفر میں پراگندہ حالت کیساتھ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے یا رب! یا رب! کی صدائیں بلند کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، اسکی پرورش حرام پر ہوئی، تو اس کی دعائیں کیونکر قبول ہوں!؟)
ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس سے معلوم ہوا کہ حلال کھانا پینا، پہننا، اور حلال پر نشو و نما پانا قبولیتِ دعا کا موجب ہے" انتہی

14- اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا، جہری طور پر دعا نہ کرنا، فرمانِ باری تعالی ہے: {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً} ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندے زکریا علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: {إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا} جب انہوں نے اپنے رب کو مخفی انداز میں پکارا [مريم : 3]

پہلے ہماری ویب سائٹ پر دعا سے متعلق گزر چکا ہے، وہاں پر قبولیت دعا کے اسباب، آداب، دعا کی قبولیت کی جگہیں اور اوقات، دعا کرنے والے کی حالت و کیفیت، قبولیت دعا کیلئے رکاوٹیں، اور قبولیت کی اقسام یہ سب کچھ سوال نمبر: (5113) کے جواب میں بیان کی جا چکی ہیں۔

*پاک آرمی پاکستان*

22/06/2017

الشیخ اسامہ بن لادن

گیارہ مارچ انیس سو ستاون کے دن سعودی عرب کے شہر جدہ میں "محمد بن عود بن لادن کے گھر میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی
اگر چہ محمد بن عود بن لادن کے اس سے قبل سترہ بچے موجود تھے ، لیکن یہ بچہ اپنی ماں کا اکلوتا بچہ تھا " اس کے خوبصورت نین نوش دیکھتے ہوئے محمد بن عود نے اس کا نام اسامہ رکھ دیا، اسامہ بن لادن نے جب آنکھ کھولی تو ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو کہ رب کی عطا کردہ دولت سے مالا مال تھا ایک ایسا گھرانہ کہ جب سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس سرکاری جہاز نہ تھا لیکن اسامہ کا والد محمد بن عود اپنے ذاتی طیارے کا مالک تھا ، ایک کامیاب بزنس میں ہونے کے ساتھ ساتھ محمد بن عود ایک کامیاب ، محبت کرنے والا باپ بھی تھا اور وہیں عود اس سے کہیں زیادہ دین سے محبت کرنے والا اور امت مسلمہ کے درد کو محسوس کرنے والا بھی تھا، اسامہ بن لادن کا والد جب اپنے سب بچوں کو اکٹھا کرکے قرآنی آیات پر درس دیتا تھا تو اسامہ کے چہرے کے تاثرات بتاتے تھے کہ رب نے اسے ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے
زندگی کا پہیہ چلتا رہا اسامہ چلنے پھرنے لگا بھاگنے دوڑنے لگا کہ ایک دن اسامہ صبح صبح بھاگتا ہوا اپنے والد کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ "اباجی میں خواب دیکھا کہ دور سے کچھ لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر آرہے ہیں اور مجھے مار کر چلے جاتے ہیں" باپ نے بیٹے کا وسوسہ سمجھ کر بات کو ٹال دیا دوسرا دن یہی اسامہ دوبارہ آتا ہے اور یہی خواب سناتا ہے، تیسرے دن بھی جب بیٹا یہی خواب سناتا ہے تو محمد بن عود اپنے بیٹے اسامہ کو لیکر قریبی مسجد کے امام کے پاس جاتا ہے ساری کیفیات سننے کے بعد امام کی نگاہیں اسامہ کے چہرے پر گڑ جاتی ہیں وہ کہتا ہے
محمد بن عود لے جا اسے ایک وقت آئے گا جب رب کائنات اسے اسلام کی عظمت کا مینارہ نور بنائے گا
اسامہ چلا آیا اسامہ اسکول ختم کرکے کالج پہنچا وہ تمام طلباء سے یکتا تھا وہ تمام طلباء سے جدا تھا
اسامہ کا پسندیدہ سبق "قرآن کریم " کی تفسیر پڑھنا تھی
اسامہ کی زندگی کے کئی پہلو ہیں جنہیں آج کے دور کے اس ظالم اور جابر میڈیا نے چھپا دیا اسلام کے اس مرد قلندر اور عظیم مجاہد کے ان تمام اوصاف کو چھپایا گیا جن کی بدولت رب کائنات نے اسے اتنا عظیم مرتبہ عطا کیا
دولت اور پیسے کی ری پیل ہونے کے باوجود اسامہ کے قدم ڈگمگائے نہیں وہ ذرا بھی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا
یہ اسامہ تھا جو کہ اپنے اردگرد غریبوں بیوائوں اور یتیموں کی ہر دم مدد کرتا تھا
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ اپنی پرسنل لائف میں بھی ہیرو تھا کہ جمناسٹک کا بھی چیمپئن تھا
یہ اسامہ تھا جس نے کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی امریکہ اور برطانیہ سے جدید علوم حاصل کئیے
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ کالج کے وقفہ کے اوقات میں بھی قرآن کریم کی تفسیر اٹھائے کسی استاذ کے ساتھ بیٹھا ہوتا تھا
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ پانچ وقت کا نمازی تھا
یہ سامہ ہی تھا جو کہ پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے کا پابند تھا
یہ اسامہ ہی تھا جس نے بلوغت کے بعد کبھی تہجد کی نماز قضا نہیں کی۔
قرآن سے محبت، صلہ رحمی ، دینی احکام پر پابندی ، نے اسامہ کو اپنے والد کے سب سے قریب کردیا
پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب اسامہ اپنی والد کے ساتھ صبح کی نماز حرم مکہ میں بیت اللہ شریف کے سامنے ادا کرتا
اسی دن کی عصر کی نماز مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ادا ہوتی
اور پھر اسی دن عشاء کی نماز "مسجد اقصی بیت المقدس " میں ادا کی جاتی تھی
زندگی کی ایک لمبی روٹین نے اسامہ کے دل میں مسجد اقصی سے نہایت ہی محبت پیدا کردی وہ جب مسجد اقصی جاتا تو دیکھتا تھا کہ شاید یہ مکان تھا جہاں سے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتح کے وقت داخل ہوئے تھے وہ دیکھتا تھا کہ کہاں اسلام کا عظیم سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی اپنا خیمہ لگاتا ہوگا
مسجد حرام بیت اللہ ' مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصی سے اسامہ کی محبت بے دنیا کی تمام لذتوں کو مار دیا
وہ جینا چاہتا تھا تو اس لیے کہ "محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم " کے دین کے چرچے ہوں وہ مرنا چاہتا تھا تو صرف شہادت کی موت مرنا چاہتا تھا
مسجد اقصی پر اسرائیلی قبضے نے اسامہ کے دل و دماغ کو شدید ضرب لگائی اور پھر مخملی بستروں اور ریشم کی چادروں پر پلنے والا اس افغانستان کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے ایک بار پھر اسلامی عظمتوں کی خوشبوئیں پھوٹنا شروع ہوئی
اس نے سونے چاندی کو چھوڑ دیا اس نے لگژری زندگی کو چھوڑ دیا اس نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی چھوڑ دیں وہ چل پڑا اس منزل کی طرف جس کی طرف کبھی حضرت خالد بن ولید چلے تھے
وہ چل پڑا تھا اس راستے پر جسے کانٹوں کا راستہ کہا جاتا ہے لیکن عزم و ہمت کے اس پیکر نے کبھی جرات و بہادری کا دامن نہیں چھوڑا
جو کبھی مخملی بستروں پر سوتا تھا وہ تورابورا کے پہاڑوں میں آسویا
جو چاہتا تو سونے چاندی کے برتنوں میں کھا سکتا تھا لیکن اس نے چار کھجوروں کو اپنے پانچ ساتھیوں میں تقسیم کر کے گزارا کیا
جو چاہتا تو بی ایم ڈبلیو اور رولز رائس جیسی گاڑیوں میں گھوم سکتا تھا لیکن اس نے افغانستان اور پاکستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے غاروں میں پیدل چلنے کو ترجیح دی
وہ امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن بنا وہ فخر کی اس میراث کا تنہا جانشین بنا جس کی ہوا بھی کبھی کسی شہری یا دیہاتی کے نصیب میں نہیں آئی
وہ دنیا بھر مظلوم مسلمانوں کے لیے امید کی ایک کرن بنا وہ دنیا بھر کی مظلوم مسلمان عورتوں کی عزتوں اور عصمتوں کا محافظ بن کر سامنے آیا
لیکن افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے غیروں کے کہنے پر اسے دھشت گرد کہا
اس سے ہر کسی نے دشمنی نبھائی اپنوں نے اس کی نیشنلٹی منسوخ کی لیکن وہ جانتے نہیں تھے کہ رب کائنات سے اس نے پہلی ہی ایک نئشنلٹی لے رکھی ہے اور وہ ہے "ھو سمکم المسلمین"
غیروں نے بھی دشمنیاں بنائیں جس سوڈان میں اس نے معاشی ترقی کے پہاڑ کھڑے کئیے وہ بھی جھک گیا اور اسے اپنے وطن سے نکال دیا گیا
ملک جھک گئے، ریاستیں جھک گئیں، بادشاہ جھک گئے، سیاستدا جھک گئے
لیکن وہ ڈٹا رہا
اسامہ نے اپنی زندگی میں سوڈان" افغانستان" پاکستان "بوسنیا" اور دنیا کے ہر کونے خطے میں مجاہدین اسلام کو امداد بھیجی وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا
کسی نے اسے دھشت گرد کہا کسی نے اسے ایجنٹ کہا لیکن وہ اپنے کاز اور اپنے مشن پر ڈٹا رہا دنیا کا کوئی بھی فرد چاہے لاکھ باتیں کرے لیکن کوئی بھی اس پر کوئی عیب نہیں لگا سکتا سوائے اس کے کہ وہ "غیرت مند" تھا عزت کی زندگی جینے کے بعد اس نے کسی کا پالتو جانور بننے سے انکار کردیا تھا
اسامہ کون ہے یا اسامہ کون تھا یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ دنیا میں سب سی زیادہ پوچھا گیا لیکن صرف اپنے نہیں غیروں نے بھی گواہی دی کہ وہ صرف ایک غیرت مند مسلمان تھا جس نے دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی زندگی قدم قدم پر قربان کردی کہ جب پاکستان کے نامور صحافی حامد میر سے پوچھا گیا کہ اسامہ کون ہے تو وہ بھی بول اٹھا کہ میں جس اسامہ کو جانتا ہوں وہ پانچ وقت اور حتی کہ تہجد کا بھی پابند ہے میں جس اسامہ کو جانتا ہوں وہ ہے جس کے سامنے جب مسجد اقصی یا مسجد نبوی کا نام لیا جائے تو اس کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ اسامہ نے شورشرابے اور ذلت و پستی کی محفلیں نہیں جمائیں بلکہ وہ ایک مرد جری بن کر میدان میں کھڑا رہا رب کے احکامات کے فرمانبرداری میں اس نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں سب دروازے بند کرچکا ہے صرف ایک دروازہ کھلا ہے جسے شہادت کا دروازہ کہا جاتا ہے
پوری دنیا کی فوج اور چالیس سے زیادہ ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز اسے ڈھونڈتی رہیں لیکن رب اسے بچانے کے انتظامات کرتا رہا لیکن یاد رکھنا رب کائنات بھی دیکھتا ہے کہ کتنا ان لوگوں نے کفران نعمت کیا بالآخر وہ وقت آیا جب رب نے اسے اس ذلیل دنیا سے اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کر لیا
آج ابو عبد اللہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن وہ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں بستا وہ ہر اس دل کی صدا ہے جس کو حرم کعبہ مسجد نبوی اور مسجد اقصی سے محبت ہے
اسامہ آج بھی موجود ہے لیکن بس اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھیے تو نظر آئے گا کہ وہ جنت کا شہزادہ اس وقت جنت میں موجود ہے اور کہ رہا ہے کہ دیکھ لو دنیا والو
"ولا تقولو لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات " کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوا کرتا ہے کبھی مرا نہیں کرتا.

الشیخ اسامہ بن لادنگیارہ مارچ انیس سو ستاون کے دن سعودی عرب کے شہر جدہ میں "محمد بن عود بن لادن کے گھر میں ایک بچے کی پی...
22/06/2017

الشیخ اسامہ بن لادن

گیارہ مارچ انیس سو ستاون کے دن سعودی عرب کے شہر جدہ میں "محمد بن عود بن لادن کے گھر میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی
اگر چہ محمد بن عود بن لادن کے اس سے قبل سترہ بچے موجود تھے ، لیکن یہ بچہ اپنی ماں کا اکلوتا بچہ تھا " اس کے خوبصورت نین نوش دیکھتے ہوئے محمد بن عود نے اس کا نام اسامہ رکھ دیا، اسامہ بن لادن نے جب آنکھ کھولی تو ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو کہ رب کی عطا کردہ دولت سے مالا مال تھا ایک ایسا گھرانہ کہ جب سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس سرکاری جہاز نہ تھا لیکن اسامہ کا والد محمد بن عود اپنے ذاتی طیارے کا مالک تھا ، ایک کامیاب بزنس میں ہونے کے ساتھ ساتھ محمد بن عود ایک کامیاب ، محبت کرنے والا باپ بھی تھا اور وہیں عود اس سے کہیں زیادہ دین سے محبت کرنے والا اور امت مسلمہ کے درد کو محسوس کرنے والا بھی تھا، اسامہ بن لادن کا والد جب اپنے سب بچوں کو اکٹھا کرکے قرآنی آیات پر درس دیتا تھا تو اسامہ کے چہرے کے تاثرات بتاتے تھے کہ رب نے اسے ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے
زندگی کا پہیہ چلتا رہا اسامہ چلنے پھرنے لگا بھاگنے دوڑنے لگا کہ ایک دن اسامہ صبح صبح بھاگتا ہوا اپنے والد کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ "اباجی میں خواب دیکھا کہ دور سے کچھ لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر آرہے ہیں اور مجھے مار کر چلے جاتے ہیں" باپ نے بیٹے کا وسوسہ سمجھ کر بات کو ٹال دیا دوسرا دن یہی اسامہ دوبارہ آتا ہے اور یہی خواب سناتا ہے، تیسرے دن بھی جب بیٹا یہی خواب سناتا ہے تو محمد بن عود اپنے بیٹے اسامہ کو لیکر قریبی مسجد کے امام کے پاس جاتا ہے ساری کیفیات سننے کے بعد امام کی نگاہیں اسامہ کے چہرے پر گڑ جاتی ہیں وہ کہتا ہے
محمد بن عود لے جا اسے ایک وقت آئے گا جب رب کائنات اسے اسلام کی عظمت کا مینارہ نور بنائے گا
اسامہ چلا آیا اسامہ اسکول ختم کرکے کالج پہنچا وہ تمام طلباء سے یکتا تھا وہ تمام طلباء سے جدا تھا
اسامہ کا پسندیدہ سبق "قرآن کریم " کی تفسیر پڑھنا تھی
اسامہ کی زندگی کے کئی پہلو ہیں جنہیں آج کے دور کے اس ظالم اور جابر میڈیا نے چھپا دیا اسلام کے اس مرد قلندر اور عظیم مجاہد کے ان تمام اوصاف کو چھپایا گیا جن کی بدولت رب کائنات نے اسے اتنا عظیم مرتبہ عطا کیا
دولت اور پیسے کی ری پیل ہونے کے باوجود اسامہ کے قدم ڈگمگائے نہیں وہ ذرا بھی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا
یہ اسامہ تھا جو کہ اپنے اردگرد غریبوں بیوائوں اور یتیموں کی ہر دم مدد کرتا تھا
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ اپنی پرسنل لائف میں بھی ہیرو تھا کہ جمناسٹک کا بھی چیمپئن تھا
یہ اسامہ تھا جس نے کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی امریکہ اور برطانیہ سے جدید علوم حاصل کئیے
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ کالج کے وقفہ کے اوقات میں بھی قرآن کریم کی تفسیر اٹھائے کسی استاذ کے ساتھ بیٹھا ہوتا تھا
یہ اسامہ ہی تھا جو کہ پانچ وقت کا نمازی تھا
یہ سامہ ہی تھا جو کہ پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے کا پابند تھا
یہ اسامہ ہی تھا جس نے بلوغت کے بعد کبھی تہجد کی نماز قضا نہیں کی۔
قرآن سے محبت، صلہ رحمی ، دینی احکام پر پابندی ، نے اسامہ کو اپنے والد کے سب سے قریب کردیا
پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب اسامہ اپنی والد کے ساتھ صبح کی نماز حرم مکہ میں بیت اللہ شریف کے سامنے ادا کرتا
اسی دن کی عصر کی نماز مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ادا ہوتی
اور پھر اسی دن عشاء کی نماز "مسجد اقصی بیت المقدس " میں ادا کی جاتی تھی
زندگی کی ایک لمبی روٹین نے اسامہ کے دل میں مسجد اقصی سے نہایت ہی محبت پیدا کردی وہ جب مسجد اقصی جاتا تو دیکھتا تھا کہ شاید یہ مکان تھا جہاں سے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتح کے وقت داخل ہوئے تھے وہ دیکھتا تھا کہ کہاں اسلام کا عظیم سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی اپنا خیمہ لگاتا ہوگا
مسجد حرام بیت اللہ ' مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصی سے اسامہ کی محبت بے دنیا کی تمام لذتوں کو مار دیا
وہ جینا چاہتا تھا تو اس لیے کہ "محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم " کے دین کے چرچے ہوں وہ مرنا چاہتا تھا تو صرف شہادت کی موت مرنا چاہتا تھا
مسجد اقصی پر اسرائیلی قبضے نے اسامہ کے دل و دماغ کو شدید ضرب لگائی اور پھر مخملی بستروں اور ریشم کی چادروں پر پلنے والا اس افغانستان کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے ایک بار پھر اسلامی عظمتوں کی خوشبوئیں پھوٹنا شروع ہوئی
اس نے سونے چاندی کو چھوڑ دیا اس نے لگژری زندگی کو چھوڑ دیا اس نے دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی چھوڑ دیں وہ چل پڑا اس منزل کی طرف جس کی طرف کبھی حضرت خالد بن ولید چلے تھے
وہ چل پڑا تھا اس راستے پر جسے کانٹوں کا راستہ کہا جاتا ہے لیکن عزم و ہمت کے اس پیکر نے کبھی جرات و بہادری کا دامن نہیں چھوڑا
جو کبھی مخملی بستروں پر سوتا تھا وہ تورابورا کے پہاڑوں میں آسویا
جو چاہتا تو سونے چاندی کے برتنوں میں کھا سکتا تھا لیکن اس نے چار کھجوروں کو اپنے پانچ ساتھیوں میں تقسیم کر کے گزارا کیا
جو چاہتا تو بی ایم ڈبلیو اور رولز رائس جیسی گاڑیوں میں گھوم سکتا تھا لیکن اس نے افغانستان اور پاکستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے غاروں میں پیدل چلنے کو ترجیح دی
وہ امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن بنا وہ فخر کی اس میراث کا تنہا جانشین بنا جس کی ہوا بھی کبھی کسی شہری یا دیہاتی کے نصیب میں نہیں آئی
وہ دنیا بھر مظلوم مسلمانوں کے لیے امید کی ایک کرن بنا وہ دنیا بھر کی مظلوم مسلمان عورتوں کی عزتوں اور عصمتوں کا محافظ بن کر سامنے آیا
لیکن افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے غیروں کے کہنے پر اسے دھشت گرد کہا
اس سے ہر کسی نے دشمنی نبھائی اپنوں نے اس کی نیشنلٹی منسوخ کی لیکن وہ جانتے نہیں تھے کہ رب کائنات سے اس نے پہلی ہی ایک نئشنلٹی لے رکھی ہے اور وہ ہے "ھو سمکم المسلمین"
غیروں نے بھی دشمنیاں بنائیں جس سوڈان میں اس نے معاشی ترقی کے پہاڑ کھڑے کئیے وہ بھی جھک گیا اور اسے اپنے وطن سے نکال دیا گیا
ملک جھک گئے، ریاستیں جھک گئیں، بادشاہ جھک گئے، سیاستدا جھک گئے
لیکن وہ ڈٹا رہا
اسامہ نے اپنی زندگی میں سوڈان" افغانستان" پاکستان "بوسنیا" اور دنیا کے ہر کونے خطے میں مجاہدین اسلام کو امداد بھیجی وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا
کسی نے اسے دھشت گرد کہا کسی نے اسے ایجنٹ کہا لیکن وہ اپنے کاز اور اپنے مشن پر ڈٹا رہا دنیا کا کوئی بھی فرد چاہے لاکھ باتیں کرے لیکن کوئی بھی اس پر کوئی عیب نہیں لگا سکتا سوائے اس کے کہ وہ "غیرت مند" تھا عزت کی زندگی جینے کے بعد اس نے کسی کا پالتو جانور بننے سے انکار کردیا تھا
اسامہ کون ہے یا اسامہ کون تھا یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ دنیا میں سب سی زیادہ پوچھا گیا لیکن صرف اپنے نہیں غیروں نے بھی گواہی دی کہ وہ صرف ایک غیرت مند مسلمان تھا جس نے دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی زندگی قدم قدم پر قربان کردی کہ جب پاکستان کے نامور صحافی حامد میر سے پوچھا گیا کہ اسامہ کون ہے تو وہ بھی بول اٹھا کہ میں جس اسامہ کو جانتا ہوں وہ پانچ وقت اور حتی کہ تہجد کا بھی پابند ہے میں جس اسامہ کو جانتا ہوں وہ ہے جس کے سامنے جب مسجد اقصی یا مسجد نبوی کا نام لیا جائے تو اس کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ اسامہ نے شورشرابے اور ذلت و پستی کی محفلیں نہیں جمائیں بلکہ وہ ایک مرد جری بن کر میدان میں کھڑا رہا رب کے احکامات کے فرمانبرداری میں اس نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں سب دروازے بند کرچکا ہے صرف ایک دروازہ کھلا ہے جسے شہادت کا دروازہ کہا جاتا ہے
پوری دنیا کی فوج اور چالیس سے زیادہ ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز اسے ڈھونڈتی رہیں لیکن رب اسے بچانے کے انتظامات کرتا رہا لیکن یاد رکھنا رب کائنات بھی دیکھتا ہے کہ کتنا ان لوگوں نے کفران نعمت کیا بالآخر وہ وقت آیا جب رب نے اسے اس ذلیل دنیا سے اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کر لیا
آج ابو عبد اللہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن وہ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں بستا وہ ہر اس دل کی صدا ہے جس کو حرم کعبہ مسجد نبوی اور مسجد اقصی سے محبت ہے
اسامہ آج بھی موجود ہے لیکن بس اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھیے تو نظر آئے گا کہ وہ جنت کا شہزادہ اس وقت جنت میں موجود ہے اور کہ رہا ہے کہ دیکھ لو دنیا والو
"ولا تقولو لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات " کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوا کرتا ہے کبھی مرا نہیں کرتا.

Address

Shahid Manzil , Asifabad Near Shareef Hospital , Lala Rukh , Wah Cantt
Wah

Telephone

03215309030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hijamah/Cupping and Gul DawaKhana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category