23/06/2026
کاراجو اور شوگر
کل ایک مریض میرے پاس آیا اور اِس طرح گول گول دانے ساتھ لے کر آیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ایک حکیم نے اسے شوگر کے علاج کے لیے دیے ہیں اور وہ صبح و شام استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کا خیال تھا کہ اس کی شوگر کنٹرول ہو رہی ہے۔ میں نے جب اس کے ٹیسٹ کروائے تو اس کا بلڈ شوگر تقریباً 250 سے 270 mg/dL کے درمیان تھا جبکہ HbA1c بھی 9 فیصد سے زیادہ آیا۔ کریٹینن 1.1 mg/dL تھا۔ میں نے مریض کو سمجھایا کہ ایسی نامعلوم اور غیر معیاری ادویات کے اجزاء معلوم نہیں ہوتے۔ بعض اوقات غیر رجسٹرڈ یا نام نہاد حکیمی ادویات میں ایلوپیتھک شوگر کی دوائیں یا دیگر کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں، جن کی مقدار اور معیار کا کوئی قابلِ اعتماد ریکارڈ نہیں ہوتا۔ اگر دوا کی مقدار کم یا زیادہ ہو تو یہ شوگر کے مناسب کنٹرول میں ناکامی کے ساتھ ساتھ ہائپوگلیسیمیا، گردوں، جگر، آنکھوں اور دیگر اعضا کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مریض کے HbA1c کے نتائج واضح طور پر ظاہر کر رہے تھے کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس کی شوگر مناسب طور پر کنٹرول نہیں تھی، لہٰذا اسے مشورہ دیا گیا کہ ایسی غیر مصدقہ ادویات سے پرہیز کرے اور مستند، سائنسی بنیادوں پر ثابت شدہ علاج اختیار کرے۔