Hakeem Malik Naeem Awan

Call Directions Contact the practice

Hakeem Malik Naeem Awan This page is about herbal medicine and All kind of human disease. Hakeem malik naeem awan is a herba

05/08/2026

خن پر سرسوں کا تیل لگائیں‘6 بھیانک امراض سے نجا ت پائیں
بہت پرانی بات ہے ایک بابا جی کو دیکھا ناخن کاٹنے کے بعد اپنے ناخنوں کو سر پر اس طرح مل رہے جیسے سر کھجاتے ہیں پھر ملتےہیں ‘پھر ناخنوں کو دیکھتے ہیں‘ سر ہلا کر کہتےہیں نہیں ابھی تھوڑا ہے پھر ناخن سر پر ملتے ہیں۔ اسی طرح ہاتھ سر کے بالوں میں پھیر کر وہی تیل والے ہاتھ پاؤں کےناخن جو ابھی کاٹے تھے‘ ان پر لگاتے۔ میں یہ دیکھ رہا تھا کیونکہ مزاج میں جستجو اور ریسرچ پیدائشی اور ازلی ہے۔ مجبور ہوکر پوچھ بیٹھا کہ بابا جی یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ بابا جی کہنے لگے: اس سے فائدہ ہوتا ہے‘ یہ جواب میرے دل میں اترا نہیں۔
میں نے پوچھا: کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کہنے لگے دل دماغ مضبوط ہوتا ہے‘ نظرکمزور نہیں ہوتی‘ حافظہ ٹھیک رہتا ہے‘ بندہ پاگل نہیں ہوتا۔
میں نے اگلا سوال کیاکہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کہنے لگے میرے نانا ابتدائی جوانی میں آنکھیں دے بیٹھے‘ بہت علاج کیے‘ اس وقت ہندوستان پاکستان ایک تھا‘ متھرا انڈیا میں ایک جگہ کا نام ہے‘وہاں آنکھوں کا ایک مشہور ڈاکٹر تھا‘ بہت لمبا سفر کرکے وہاں پہنچے۔ اس نے بھی علاج کیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ کسی نے کہا اس کو دو کام کرواؤ ایک باداموں کی اکیس گریاں رات کو پانی میں بھگودیں اور اسی کے ساتھ ایک کھانے والاچمچ سونف کا بھی بھگو دیں‘ دونوں چیزیں صبح اٹھ کر چبا چبا کر کھائیں اور ہر تیسرے دن ہاتھوں اور پاؤں کےناخن کاٹیں چاہیں تھوڑے تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں اور ان پر تیل لگائیں چونکہ ہر علاج معالجے سے تھک چکےتھے‘ یہ علاج آسان سستا بھی تھا اور امید بھی تھی۔۔۔ شاید کچھ ہوجائے‘ لہٰذا شروع کردیا۔ دو تین ماہ کیا لیکن فائدہ نہ ہوا‘ ان سے جاکر پھر ملے۔ کہنے لگے: گھبرائیں نہیں آپ کو ضرور فائدہ ہوگا اور آپ کا بچہ (یعنی میرے نانا) سوفیصد ٹھیک ہوجائےگا۔ ہمیں تسلی دی اور خود کئی واقعات سنائے کہ آپ یہ کام کریں آپ کوفائدہ ہوگا۔ ان کی تسلی پر اور واقعات پر پھر بھروسہ کرکے باداموں کی گریاں اور سونف کا نسخہ اور ہاتھ پاؤں کے ناخنوں پر تیل لگانا شروع کیا۔
کم از کم سات ماہ یہ لگاتے رہے‘ ایک دن میرے نانا کہنے لگے وہ دیکھو بھینسیں (جن میں ایک بھینس لنگڑی تھی) پھرکہنے لگے وہ دیکھو ایک لنگڑی بھینس جارہی ہے۔ ہم نے کہا شاید اندازے سے کہہ رہا ہے۔ پوچھا کس طرف دائیں یا بائیں انہوں نے وہ سمت بتادی اور تمام بھینسوں کی تعداد بتادی۔ میرے نانا کے والد کی ہائے نکل گئی۔۔۔! کہ الحمدللہ میرا بیٹا ٹھیک ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس دوا کو یعنی بادام سونف اور ناخنوں پر تیل مزید تین سال استعمال کروایا۔ میرے نانا اسّی سال سے زیادہ کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان کی یادداشت بہت مضبوط‘ حافظہ قوی اعصاب مضبوط تھے گھر کی لکڑیاں کلہاڑے سے خود توڑتے‘ کاٹتے۔ خچر پر دور جنگل ایک کھنڈر سے مٹی لاتے‘ گھر کی لپائی کیلئے اسی خچر پر دور چشمے سے پانی لاتے۔ گھر کی گندم میری نانی پیستی کبھی مہمان آتے یا شادی ہوتی تو بوریوں کی بوریاں خود پیستے۔ اسّی سال کی عمر میںخوب محنت مشقت کرتے۔ چاند کی روشنی میں پڑھ لیتےتھے۔ حافظہ محفوظ‘ صحت لاجواب‘ گھٹنے مضبوط اور جسم ایسے جیسے ٹارزن۔۔۔تو بابا جی مزیدکہنے لگے یہ چیز میں نے اپنے نانا سے لی ہے۔ آج میری عمر بھی ستر سے اوپر اور مجھے بھی کوئی روگ اور تکلیف نہیں اور میں الحمدللہ سوفیصد تندرست ہوں اور میری تندرستی آپ کے سامنے ہے۔
اور واقعی باباجی کی تندرستی کے چرچے تھے لوگ مثال دیتے تھے کہ بابا جی نے پرانے وقتوں کا دیسی گھی کھایا ہے لیکن اس دیسی گھی کا راز آج کھلا!جب بابا جی ناخن سے اپنا سر کھجا رہے تھے۔

05/08/2026

بسم الله الرحمن الرحيم
دیسی گھی کے خواص
انسان کی پیدائش سےلیکر چودھویں صدی کےنصف تک برصغیر میں هر کھانےکی زینت دیسی گھی هی رهاهے یهی وجه تھی آج سے عرصه قبل لوگ صحت مند زندگی گزارتے تھے جواں جسم اور جواں حوصلےکےساتھ سخت محنت کرنا پھر بھی هشاش بشاش زندگی گزاری .
جب سے انگریز کا یه ڈالڈا بناسپتی گھی میدان میں آیا هر فرد اسکےشر کاشکار هوا نتیجتا امراض قلب امراض جگر امراض معده نے پوری کائنات کو اپنے گھیرےمیں لےلیا. ستم بالائےستم پھر خود هی اس ڈالڈا بناسپتی کو بدنام کرنا شروع کر دیا که یه کولیسٹرول پیدا کرنےکاسبب بن رهاهے. پھر اسکی جگه آئل نےلےلی مگر کولیسٹرول جوں کا توں برقرار رها هے. اصل بات یه هے که انگریز جیسے شیطان کو کولیسٹرول کافلسفه هی نهیں پته اور نه هی طبع انسانی سے اسے واقفیت هے. ڈالڈا گھی اور آئل دونوں هی عضلاتی اعصابی تاثیر رکھتےهیں جو نبضوں میں سکیڑ کا باعث بن رهےهیں جبکه بھینس کا گھی اعصابی عضلاتی. گائےکا اعصابی غدی تاثیر کا حامل هے جو نه تو کولیسٹرول پیدا کرنےکا باعث بنتاهے اور نه هی امراض قلب وجگر پیدا کرتاهے آئیں دیکھتےهیں اس میں کیاکیا خصوصیات موجود هیں.
روایتی یونانی طبی اور جدید سائنس کی ہزاروں سال کی تحقیق کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیسی گھی صحت اور کھانے کا ذائقہ بڑھانے کیلئے ایک مفید جزو ہے یہاں پردیسی گھی کے چند فوائد بیان کئے گئے ہیں۔
کھانے کا ذائقہ: دیسی گھی استعمال کرنے سے کھانے کے ذائقہ میں بہتری آتی ہے اور ہزاروں سال سے کھانے پکانے کیلئے گھی کا استعمال کیا جا رہا ہے جس میں پکانے سے کھانا خوش ذائقہ ہو جاتا ہے۔
خراب نہیں ہوتا: اچھی کوالٹی کا دیسی گھی ریفریجریشن میں رکھنے بغیر بھی خراب نہیں ہوتا جبکہ گھی کے کچھ نمونے 100 سال تک خراب نہیں ہوئے۔ گھی مکھن سے تیار کیا جاتا ہے جس میں دودھ سے دہی اور پھر مکھن تیار کیا جاتا ہے۔
غذائیت: گھی میں وٹامن AD اور E وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو استعمال کے بعد براہ راست جسم کو کاروبوہائیڈریٹ فراہم کرتا ہے اور جسم میں توانائی اور وزن فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔
گھی میں موجودہ غذائیت براہراست جگر کیلئے مفید ہے اور آسانی سے جسم میں جذب ہو جاتی ہے۔ گھی میں درمیانے درجے کے فیٹی ایسڈ کی بھی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو جسم میں توانائی ذخیرہ کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
وزن میں کمی:دیسی گھی میں موجود فیٹی ایسڈ توانائی کے نظام کو متوازن رکھنے، چربی جلاے اور وزن کم کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مدافعتی نظام: دوسروں تیلوں کے برعکس گھی میں موجود ایسڈز آنتوں میں بیکٹریا جمع نہیں ہونے دیتا اور اس میں موجود فائبر مدافعتی اور نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔
نظام انہضام: جدید تحقیق کے مطابق گھی جسم میں نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے اور اس میں موجود ایسڈز خوراک کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
سوزش اور کینسر: محقیقین کے مطابق گھی بیماریوں سے بچاﺅ میں بھی مدد فراہم کرتا ہے گھی میں موجود اجزاءجسم کی سوزش ختم کرتے ہیں جبکہ کینسر سے بچاﺅ میں بھی گھی کا استعمال معاون ہے۔ روایتی ادویات میں گھی ہزاروں سال سے سوزش کم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھوک میں اضافہ: گھی میں موجود اجزاءنظام انہضام کو بہتر بناتے ہیں جس کے نتیجہ میں بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذہن کو سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق منفی جذبات ایک کیمائی عمل کے نتیجہ میں اُمڈ آتے ہیں۔ جو کہ جسم میں چربی جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گھی اس کیمیمائی عمل کو روکنا ہے۔
ادویات کی تیاری: روایتی طبی اور یونانی ادویات میں ہزاروں سال سے گھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یونانی اور طبی ادویات چونکہ جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہیں اور گھی ان میں جذب ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
گھی کو تیار کرنے کا طریقہ نہایت ہی آسان ہے۔ گھی مکھن کو پگھلا کر حاصل کیا جاتا ہے جو مناسب طور پر ذخیرہ کرنے سے کئی ماہ تک قابل استعمال رہتا ہے۔ اگر ایسے ریفریجریٹر میں ذخیرہ کیا جائے تو سالوں تک یہ قابل استعمال رہتا ہے۔

Address

Gujranwala
Wazirabad

Telephone

923025475008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Malik Naeem Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Malik Naeem Awan:

Shortcuts

Share

Category