31/10/2026
روح سے افلاک تک
زندگی ایک خاموش الہام ہے
ایک ایسی نورانی صدا
جو کائنات کے سکوت سے جنم لے
کر
روح کے نہاں خانوں میں اترتی ہے
اور پھر عمر بھر
انسان کے وجود میں
کسی مقدس خوشبو کی
طرح بسی رہتی ہے۔
کبھی درد کی صورت
کبھی دعا کے پیکر میں
کبھی آنکھوں کی نمی میں
چھپی ہوئی التجا
اور کبھی افق کے پار سے اترتی
کسی طلسماتی روشنی کی صورت
اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے
زندگی دراصل ایک ایسا سفر ہے
جس کی منزلیں زمین پر دکھائی
دیتی ہیں
مگر راستے آسمانوں سے ہو کر
گزرتے ہیں
یہاں ہر قدم پر انسان
اپنے ہی وجود کی کسی
نئی کائنات سے ملتا ہے
کبھی اپنے اندر ٹوٹتے ہوئے
ستاروں کی آواز سنتا ہے
کبھی خاموشی کے عمیق
سمندر میں اترتا ہے
اور کبھی اپنی ہی راکھ سے
ایک نئی روشنی جنم لیتے
دیکھتا ہے۔
میں نے ایک روز
زندگی کو اپنی روح کے
آئینے میں اتارا
اور بڑی خاموشی سے پوچھا
اے زندگی
تیرا اصل نام کیا ہے
تو میرے باطن کی گہرائیوں میں مسکرائی
اور کہنے لگی
میں وہ اَن دیکھی رہگزر ہوں
جس پر چلتے ہوئے انسان
اپنی ذات کے پردے اٹھاتا ہے
میں اسے دنیا کی خاک سے
گزار کر
اس کے اندر چھپے ہوئے نور
تک لے جاتی ہوں
میں وہ راز ہوں
جسے سمجھنے کے لیے
عمر بیت جاتی ہے
مگر جس کی حقیقت
ایک لمحۂ معرفت میں
آشکار ہو جاتی ہے۔
دکھ میرے لیے ایک خاموش
مرشد بن کر اترا
اس نے مجھے وہ سبق دیے
جو خوشیوں کے روشن
موسم بھی نہ دے سکے
خوشی کبھی شبنم بن کر
میرے دامن پر ٹھہری
اور کبھی صبح کی پہلی
کرن کی طرح
خاموشی سے رخصت ہو گئی
مگر دکھ نے میرے وجود میں
ایسی گہری شمع روشن کی
جس کی لو میں نے اپنی روح تک محسوس کی
میں نے جانا
کہ بعض زخم جسم پر نہیں لگتے
وہ روح کے آسمان پر اترتے ہیں
اور پھر انسان کے اندر
ایک ایسی وسعت پیدا کر دیتے ہیں
جہاں شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں
اور خاموشی بھی عبادت کا مفہوم اختیار کر لیتی ہے۔
زندگی نے ایک روز مجھ سے
کہا
تجھے یاد ہے
جب تھکن نے تیرے قدموں
کو روکنا چاہا تھا
جب آنکھوں میں رات اتر آئی
تھی
اور راستوں نے اپنی منزلیں
چھپا لی تھیں
تب بھی تو چلتی رہی تھی
تجھے کیا معلوم
کہ تیری بے آواز دعاؤں کے
حصار میں
تیرا رب تجھے کس طرح
تھامے ہوئے تھا
تو جسے اپنی تنہائی سمجھتی
رہی
وہ دراصل میرے خالق کی
رحمت کا
ایک خاموش سایہ تھا
اسی یقین نے میرے اندر
ایک ایسا چراغ روشن کیا
جس کی روشنی زمین
کی حدوں میں مقید نہ
رہی
نہ زمانے کی آندھیاں اسے
بجھا سکیں
نہ گردشِ ایام اس کی
تابانی چھین سکی
نہ تنہائی کے طویل صحرا
اس کے اجالے کو نگل سکے
اب مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ زندگی محض سانسوں
کا تسلسل نہیں
یہ تو خالقِ کائنات کی عطا
کردہ
ایک مقدس امانت ہے
جسے آنسوؤں کی نمی
دعا کی خوشبو
صبر کی روشنی
اور محبت کی پاکیزگی
سے سنبھالنا پڑتا ہے
یہ امانت کبھی انسان کو
آسمان کی وسعتوں سے
آشنا کرتی ہے
اور کبھی اپنے ہی دل کی
گہرائیوں میں
اتار کر اسے بتاتی ہے
کہ کائنات کا سب سے
بڑا سفر
اپنے رب کی طرف لوٹنے
کا سفر ہے
اور میں
اب زندگی سے کوئی شکوہ
نہیں کرتی
میں نے اس کے ہر موسم کو
اپنی روح کے دامن میں جگہ
دی ہے
خزاں کے بکھرے ہوئے پتوں کو
بھی
اور بہار کی پہلی خوشبو کو
بھی
میں نے اپنے آنسوؤں کو بھی
رب کی عطا سمجھ کر
سنبھالا ہے
اور اپنی مسکراہٹوں کو بھی
اس کی رحمت کا عکس جانا ہے
جب کبھی وقت کی آخری
دہلیز پر
مجھ سے پوچھا جائے گا
اے مسافرِ حیات
تو اپنے ساتھ کیا لے کر آئی ہے
تو شاید میں خاموشی سے
مسکرا دوں
اور عرض کروں
میں اپنے ساتھ کوئی
تاج و تخت نہیں لائی
نہ شہرت کے چراغ
نہ دنیا کی کوئی جاگیر
میں تو بس وہ روشنی لے
کر آئی ہوں
جو میرے رب نے میرے
حصے میں لکھی تھی
میں نے اسے اپنے آنسوؤں
سے وضو کرایا
اپنی دعاؤں سے روشن رکھا
صبر کی آغوش میں پروان چڑھایا
اور اپنی پوری روح کے ساتھ جیا ہے
کیونکہ اب میں جان چکی ہوں
زندگی ختم نہیں ہوتی
صرف ایک منظر سے
دوسرا منظر بدلتا ہے
اور انسان کے حصے میں آنے والی
اصل روشنی وہی ہے
جو اسے اپنے خالق کے حضور
سرخرو کر دے
یاسمین سحر
مدھور بھاشنی لاہور