Yasmin Sahar

Directions

Yasmin Sahar I'm Yoga instructor, palmiest and astrologist. You can ask me related questions about yoga and your Stars.

31/10/2026
روح سے افلاک تکزندگی ایک خاموش الہام ہےایک ایسی نورانی صداجو کائنات کے سکوت سے جنم لے کرروح کے نہاں خانوں میں اترتی ہےاو...
31/10/2026

روح سے افلاک تک

زندگی ایک خاموش الہام ہے
ایک ایسی نورانی صدا
جو کائنات کے سکوت سے جنم لے
کر
روح کے نہاں خانوں میں اترتی ہے
اور پھر عمر بھر
انسان کے وجود میں
کسی مقدس خوشبو کی
طرح بسی رہتی ہے۔
کبھی درد کی صورت
کبھی دعا کے پیکر میں
کبھی آنکھوں کی نمی میں
چھپی ہوئی التجا
اور کبھی افق کے پار سے اترتی
کسی طلسماتی روشنی کی صورت
اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے
زندگی دراصل ایک ایسا سفر ہے
جس کی منزلیں زمین پر دکھائی
دیتی ہیں
مگر راستے آسمانوں سے ہو کر
گزرتے ہیں
یہاں ہر قدم پر انسان
اپنے ہی وجود کی کسی
نئی کائنات سے ملتا ہے
کبھی اپنے اندر ٹوٹتے ہوئے
ستاروں کی آواز سنتا ہے
کبھی خاموشی کے عمیق
سمندر میں اترتا ہے
اور کبھی اپنی ہی راکھ سے
ایک نئی روشنی جنم لیتے
دیکھتا ہے۔
میں نے ایک روز
زندگی کو اپنی روح کے
آئینے میں اتارا
اور بڑی خاموشی سے پوچھا
اے زندگی
تیرا اصل نام کیا ہے
تو میرے باطن کی گہرائیوں میں مسکرائی
اور کہنے لگی
میں وہ اَن دیکھی رہگزر ہوں
جس پر چلتے ہوئے انسان
اپنی ذات کے پردے اٹھاتا ہے
میں اسے دنیا کی خاک سے
گزار کر
اس کے اندر چھپے ہوئے نور
تک لے جاتی ہوں
میں وہ راز ہوں
جسے سمجھنے کے لیے
عمر بیت جاتی ہے
مگر جس کی حقیقت
ایک لمحۂ معرفت میں
آشکار ہو جاتی ہے۔
دکھ میرے لیے ایک خاموش
مرشد بن کر اترا
اس نے مجھے وہ سبق دیے
جو خوشیوں کے روشن
موسم بھی نہ دے سکے
خوشی کبھی شبنم بن کر
میرے دامن پر ٹھہری
اور کبھی صبح کی پہلی
کرن کی طرح
خاموشی سے رخصت ہو گئی
مگر دکھ نے میرے وجود میں
ایسی گہری شمع روشن کی
جس کی لو میں نے اپنی روح تک محسوس کی
میں نے جانا
کہ بعض زخم جسم پر نہیں لگتے
وہ روح کے آسمان پر اترتے ہیں
اور پھر انسان کے اندر
ایک ایسی وسعت پیدا کر دیتے ہیں
جہاں شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں
اور خاموشی بھی عبادت کا مفہوم اختیار کر لیتی ہے۔
زندگی نے ایک روز مجھ سے
کہا
تجھے یاد ہے
جب تھکن نے تیرے قدموں
کو روکنا چاہا تھا
جب آنکھوں میں رات اتر آئی
تھی
اور راستوں نے اپنی منزلیں
چھپا لی تھیں
تب بھی تو چلتی رہی تھی
تجھے کیا معلوم
کہ تیری بے آواز دعاؤں کے
حصار میں
تیرا رب تجھے کس طرح
تھامے ہوئے تھا
تو جسے اپنی تنہائی سمجھتی
رہی
وہ دراصل میرے خالق کی
رحمت کا
ایک خاموش سایہ تھا
اسی یقین نے میرے اندر
ایک ایسا چراغ روشن کیا
جس کی روشنی زمین
کی حدوں میں مقید نہ
رہی
نہ زمانے کی آندھیاں اسے
بجھا سکیں
نہ گردشِ ایام اس کی
تابانی چھین سکی
نہ تنہائی کے طویل صحرا
اس کے اجالے کو نگل سکے
اب مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ زندگی محض سانسوں
کا تسلسل نہیں
یہ تو خالقِ کائنات کی عطا
کردہ
ایک مقدس امانت ہے
جسے آنسوؤں کی نمی
دعا کی خوشبو
صبر کی روشنی
اور محبت کی پاکیزگی
سے سنبھالنا پڑتا ہے
یہ امانت کبھی انسان کو
آسمان کی وسعتوں سے
آشنا کرتی ہے
اور کبھی اپنے ہی دل کی
گہرائیوں میں
اتار کر اسے بتاتی ہے
کہ کائنات کا سب سے
بڑا سفر
اپنے رب کی طرف لوٹنے
کا سفر ہے
اور میں
اب زندگی سے کوئی شکوہ
نہیں کرتی
میں نے اس کے ہر موسم کو
اپنی روح کے دامن میں جگہ
دی ہے
خزاں کے بکھرے ہوئے پتوں کو
بھی
اور بہار کی پہلی خوشبو کو
بھی
میں نے اپنے آنسوؤں کو بھی
رب کی عطا سمجھ کر
سنبھالا ہے
اور اپنی مسکراہٹوں کو بھی
اس کی رحمت کا عکس جانا ہے
جب کبھی وقت کی آخری
دہلیز پر
مجھ سے پوچھا جائے گا
اے مسافرِ حیات
تو اپنے ساتھ کیا لے کر آئی ہے
تو شاید میں خاموشی سے
مسکرا دوں
اور عرض کروں
میں اپنے ساتھ کوئی
تاج و تخت نہیں لائی
نہ شہرت کے چراغ
نہ دنیا کی کوئی جاگیر
میں تو بس وہ روشنی لے
کر آئی ہوں
جو میرے رب نے میرے
حصے میں لکھی تھی
میں نے اسے اپنے آنسوؤں
سے وضو کرایا
اپنی دعاؤں سے روشن رکھا
صبر کی آغوش میں پروان چڑھایا
اور اپنی پوری روح کے ساتھ جیا ہے
کیونکہ اب میں جان چکی ہوں
زندگی ختم نہیں ہوتی
صرف ایک منظر سے
دوسرا منظر بدلتا ہے
اور انسان کے حصے میں آنے والی
اصل روشنی وہی ہے
جو اسے اپنے خالق کے حضور
سرخرو کر دے

یاسمین سحر
مدھور بھاشنی لاہور

چاندنی رات، جگنوؤں کی روشنی اور آسمان سے اترتی ہوئی خاموشیسنگم گیسٹ ہاؤس، کالام، سواتکچھ راتیں زمین پر نہیں گزرتیں، وہ ا...
30/10/2026

چاندنی رات، جگنوؤں کی روشنی
اور آسمان سے اترتی ہوئی خاموشی

سنگم گیسٹ ہاؤس، کالام، سوات

کچھ راتیں زمین پر نہیں گزرتیں، وہ انسان کی روح پر اترتی ہیں۔ کچھ
لمحے وقت کی گرفت سے نکل کر ہمیشہ کے لیے دل میں ٹھہر جاتے ہیں۔ اور کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں قدرت کا حسن دیکھ کر بے
اختیار خالقِ کائنات کے حضور
سر جھک جاتا ہے۔
کالام کی وہ رات بھی کچھ ایسی ہی تھی۔
آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن تھا۔ بلند پہاڑ چاندنی میں نہائے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی غیبی مصور نے سیاہ رات کے کینوس پر چاندی سے ایک خواب بنا دیا ہو۔ ٹھنڈی ہوا گلابوں کی مہک اپنے ساتھ لیے لان میں گھوم رہی تھی اور جگنو گھاس کے درمیان ننھے ستاروں کی طرح چمک رہے تھے۔
ہم دس بارہ افراد کا ایک خوبصورت گروپ لے کر سنگم گیسٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ دن بھر کے سفر کی تھکن اب خوشگوار حیرت اور مسکراہٹوں میں بدل چکی تھی۔ رات کے کھانے کا اہتمام تھا، بون فائر روشن تھا، لکڑیوں سے اٹھتی ہوئی چنگاریاں آسمان کی طرف یوں بلند ہو رہی تھیں جیسے زمین اپنی روشنی آسمان کے سپرد کر رہی ہو۔
بچے اپنی مستیوں میں مگن تھے۔ کوئی ہنس رہا تھا، کوئی شرارتیں کر رہا تھا، کوئی کھانے کی میز پر اپنی پسندیدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ ساتھیوں کے قہقہے فضا میں گونج رہے تھے۔ ہر طرف زندگی تھی، خوشیاں تھیں اور ایک خوبصورت ہنگامہ آباد تھا۔
مگر اسی ہنگامے کے درمیان میں
لان کے ایک گوشے میں بیٹھی تھی۔
میرے ہاتھوں میں چائے کا گرم کپ تھا اور نگاہیں چاندنی میں ڈوبے پہاڑوں پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
باہر محفل اپنے عروج پر تھی مگر میرے اندر ایک اور محفل سجی ہوئی تھی۔ وہاں نہ قہقہے تھے، نہ آوازیں، نہ کوئی ہنگامہ۔ وہاں میری یادیں تھیں، گزرے ہوئے موسم تھے، زندگی کے کچھ ان کہے قصے تھے اور وہ خاموش لمحے تھے جنہیں انسان دنیا سے چھپا کر اپنے دل میں محفوظ رکھتا ہے۔
میں کبھی چاند کو دیکھتی، کبھی جگنوؤں کی روشنی کو اور کبھی اپنے ہاتھوں میں تھامے چائے کے کپ کو۔
اچانک دل میں ایک خیال اترا۔
یہ چاند جس کی روشنی میں آج میں بیٹھی ہوں، نہ جانے کتنی صدیوں سے اسی طرح زمین پر اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ ان پہاڑوں نے کتنے موسم دیکھے ہوں گے، کتنے قافلوں کو گزرتے دیکھا ہوگا، کتنی آنکھوں میں خواب اترتے اور کتنی آنکھوں میں انتظار ٹھہرتے
دیکھا ہوگا۔
اور ہم انسان
چند لمحوں کے مسافر، اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں، خواہشوں، محبتوں اور یادوں کو زندگی سمجھ کر سفر کرتے رہتے ہیں۔
اس وسیع کائنات میں جب کبھی انسان تنہا بیٹھ کر آسمان کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی ذات کی محدودیت اور اپنے رب کی قدرت کی وسعت کا احساس ہونے لگتا ہے۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو دل نے بے اختیار کہا، یا اللہ! تیری بنائی ہوئی اس کائنات میں کتنی خوبصورتی ہے۔ یہ چاند، یہ ستارے، یہ پہاڑ، یہ ہوا، یہ پھول اور یہ ننھے جگنو، سب تیری قدرت کی نشانیاں ہیں۔ انسان اگر دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل رکھتا ہو تو ہر منظر میں تیری رحمت اور ہر خاموشی میں تیری حکمت محسوس کر سکتا ہے۔
اس لمحے مجھے لگا کہ شاید عبادت صرف سجدے میں جھکنے کا نام ہی نہیں، بلکہ کبھی کبھی اللہ کی تخلیق کو پوری توجہ سے دیکھنا بھی انسان کے دل میں شکر کے چراغ روشن کر دیتا ہے۔
میں وہاں اپنے ساتھیوں سے دور نہیں تھی، ان کی خوشیوں کا حصہ بھی تھی، مگر اپنی روح کے ساتھ بھی ایک ملاقات کر رہی تھی۔
باہر لکڑیاں جل رہی تھیں اور اندر یادوں کے الاؤ روشن تھے۔
باہر بچوں کی ہنسی تھی اور اندر زندگی کے گزرے ہوئے موسموں کی سرگوشیاں۔
باہر چاندنی تھی اور میرے اندر بھی کچھ ایسے چراغ تھے جو وقت گزرنے کے باوجود بجھ نہیں سکے تھے۔
مجھے سفر سے محبت شاید اسی لیے ہے کہ سفر انسان کو صرف نئی جگہیں نہیں دکھاتا، وہ اسے اپنی ذات کے نئے دریچے بھی کھول کر دکھاتا ہے۔ کبھی کسی دریا کے کنارے بیٹھ کر زندگی کا مفہوم سمجھ آتا ہے، کبھی کسی پہاڑ کی بلندی پر اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے اور کبھی کسی چاندنی رات میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان خاموشی سے انسان کے دل کی بات سن رہا ہو۔
رات گہری ہوتی گئی۔ بون فائر کی آگ آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگی۔ ساتھیوں کی آوازیں بھی خاموشی میں تحلیل ہونے لگیں۔ مگر میرے لیے وہ رات اپنے اندر ایک الگ ہی کائنات سمیٹے ہوئے تھی۔
میں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور ایک بار پھر پہاڑوں کو دیکھا۔
دل نے کہا، زندگی! تیرا شکریہ کہ تو نے مجھے اتنے خوبصورت منظر دکھائے۔ اتنے راستے عطا کیے، اتنے لوگوں سے ملوایا اور اتنی یادیں میرے دامن میں رکھ دیں۔
کچھ لوگ سفر میں تصویریں بناتے ہیں تاکہ مناظر محفوظ رہیں، اور کچھ لوگ مناظر کو اپنی روح میں اتار لیتے ہیں تاکہ وہ عمر بھر ان کے اندر روشن رہیں۔
میں شاید انہی لوگوں میں سے ہوں۔

سنگم گیسٹ ہاؤس، کالام کی وہ چاندنی رات اب میرے لیے محض ایک خوبصورت سیاحتی یاد نہیں رہی۔ وہ ایک ایسی رات بن گئی جس میں ہجوم بھی تھا اور تنہائی بھی، قہقہے بھی تھے اور خاموشیاں بھی، بون فائر کی حرارت بھی تھی اور آسمان سے اترتی ہوئی چاندنی کا سکون بھی۔
اور سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ انسان جہاں بھی ہو، جس حال میں بھی ہو، اگر اس کا دل اپنے رب کی طرف متوجہ ہو تو ہر منظر ایک دعا بن سکتا ہے۔
کچھ راتیں آنکھوں سے دیکھی جاتی ہیں، کچھ دل سے محسوس ہوتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جنہیں روح عمر بھر اپنے اندر سنبھال کر رکھتی ہے۔

یاسمین سحر
مدھور بھاشنی لاہور

Address

Lahore
Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yasmin Sahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Nearby clinics