Dr Malik

Call Directions Contact the practice

Dr Malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Malik, Doctor, London.

Doctor in London UK🇬🇧|Worked in Maldives🇲🇻 and Pakistan🇵🇰|Spreading Health awareness to public and Career opportunities for Doctors|
Follow to become part of the journey

25/09/2026

Hospital kay Toofani Doron se kabhi apne koi improvement dekhi hh?

23/09/2026

Paksitan main agar ap Doctor hain tu ye video dekhen aur Btaen kay kya aesa honay se Patient Care improve hogi?

21/09/2026

Why Young People are having Heart Attacks?
A must watch video for all Young People

19/09/2026

Cigratte Vs Va**ng
Kya zyada Khatarnaak hh?
Share with your smoker friends
✨

17/09/2026

Desi Dialysis 😂
Ye Tareeqa intehae khatarnaak hh
Iss se apki jaan bhi ja skati hh

15/09/2026

Kya biopsy karwany se cancer phel jata hh?
Myth vs Reality


13/09/2026

جلنے کی صورت میں فوراً کیا کریں؟
Burns First Aid
| یہ غلطی ہرگز نہ کریں

11/09/2026

Kya Sugar Ka mukamal Elaj mumkin hh?

فاتح ذیابیطس کے دعوے اور حقائق

Series Debunking Myths And False Info

✨

کاش کوئی سابق امریکی صدر کو جمیل مہروی کی اپائنٹمنٹ دلوا دے🥲
11/09/2026

کاش کوئی سابق امریکی صدر کو جمیل مہروی کی اپائنٹمنٹ دلوا دے🥲

صبح کے پانچ بجے ہیں۔میں لندن کے ایک اسپتال میں بیٹھا ہوں۔رات میں میں نے تقریبا پندرہ ایمرجنسیز اٹیںینڈ کی ہیں۔ان میں ہار...
11/09/2026

صبح کے پانچ بجے ہیں۔

میں لندن کے ایک اسپتال میں بیٹھا ہوں۔رات میں میں نے تقریبا پندرہ ایمرجنسیز اٹیںینڈ کی ہیں۔

ان میں ہارٹ فیلئیر، فالج، دمہ کی ایکساسربیشن، مرگی کے دورے شامل تھے۔ ۲ کارڈیک ارییسٹ تھے جن کو ہم نے ری وائیو کیا-

یہ سارے کے سارے مریض سخت خراب حالت میں آئے تھے اور اب یہ سارے کے سارے اپنے بیڈز پر بیٹھے اپنے گھر والوں سے خوش گپیاں لگا رہے ہیں۔
کچھ کے گھر والے ان کی زندگی کی امید ہار گئے تھے، لیکن اب وہ ان کو نئی زندگی ملنے کی خوشی منا رہے ہیں اور بار بار ہمارے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔
ہم نے کچھ مختلف نہیں کیا، یہ کام پاکستان میں اسپتالوں میں بیٹھا ہر ڈاکٹر روز کرتا ہے۔

اس ساری تمہید کا ایک مقصد ہے۔

وطن عزیز میں پچھلے کچھ عرصے میں شعبدہ بازی کی انتہا ہو چکی ہے۔ ایک زمانے میں ایک فاتح ذیابیطس اٹھا اور لوگوں کو باور کروایا کہ ڈاکٹر تمہیں غیر ضروری دوائیں لکھ رہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ ڈاکٹر پرائیویٹ سیکٹر میں ایسا کرتے بھی ہوں، لیکن زیادہ تر دوائیں سائنسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ اس بندے کا مقصد اپنی دیہاڑی لگانا تھا ۔سو اس نے خوب لگائی۔ روکنے والا کوئی تھا نہییں ، سو اس نے جم کر اپنا چورن بیچا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ شوگر کی ٹائپ ۱ کے مریض کومہ میں اسپتالوں میں آنا شروع ہو گئے۔ ان میں سے اکثر مریضوں نے اپنی انسولین اس لئیے چھوڑ دی تھی کہ اشرف چودھری نے ان کو بولا تھا۔ کس بنیاد پر بولا تھا یہ سوال کسی نے نہ کیا۔

اب اس سے بڑا شعبدہ باز آ گیا ہے۔ یہ کہتا ہے میڈیکل سائنس سرے سے ہی ہی غلط۔ اس کو بولنے کا اور کہانی سنانے کا ہنر آتا ہے۔ ٹی آر پی کے بھوکے چینلز کی اس پر نظر پڑی اور انھوں نے دھڑا دھڑ اس کو پرائم ٹائم شوز پر بلانا شرو کر دیا ۔یہ سوچے بغیر کہ ایک ایسے ملک میں جہاں نظام صحت پہلے ہی دگرگوں حالت میں ہے، جہاں میٹرنل مورٹیلٹی ریٹ دنیا کے بلند سطح پر ہے کیونکہ میٹرنٹی یونٹس نہیں ہیں، ساٹھ فیصد آبادی بنیادی صحت کی سروسز تک رسائی نہیں ہے،لوگ پچاس سال سے اوپر جاتے ہیں اور فوری فالج اور دل کے دوروں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ کبھی پراپر ہیلتھ چیک اپس نہیں کروائے ہوتے،سالوں بلڈ پریشر خاموش قاتل بنا ان کی رگوں کو سخت کرتا رہتا ہے۔

اور اس سب سے بڑھ کر، ایک ایسا ملک جہاں ہیلتھ بیلیف ماڈل دنیا میں سب سے زیادہ فالو کیا جاتا ہے۔جہاں لوگ ایک پیر کی پھونک کو کسی بھی موذی مرض کا علاج سمجھ لیتے ہیں، ایک دم کیا ہوا پانی انکو ہر زہر کا تریاق لگتا ہے، اولاد نہ ہونے کی صورت میں دربار پر چادر اور دھاگے چڑھانا انکو مکمل حل نظر آ تا ہے۔

ایسے ملک میں یہ ٹی آر پی کے بھوکوں نے اس شعبدہ باز کو باقاعدہ اسٹیج دے دیا ہے جہاں یہ بیٹھ کر لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہا ہے-

اب اس میں اس شعبدہ باز کا باقاعدہ فائنینشل فاعدہ ہے۔یہ اپنی جڑی بوٹیاں مہنگے داموں بیچنا شروع ہوگیا ہے۔لیکن بدلے میں اس کا جو ایمپیکٹ آئے گا وہ انتہائی خطرناک ہے۔

آپ فرض کریں آ پ کے کوئی پیارے کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔اس بندے کی منطق کے مطابق اس کو کالا نمک دیتے ہیں تو بہت زیادہ چانسز ہیں کہ آپ کا پیارا نہیں بچے گا کیونکہ کالا نمک کارڈیک لوڈ اور بڑھا دیتا ہے۔دل اپنے خون کی سپلائی کے لئیے پہلی ہی سٹرگل کر رہا ہوتا ہے ۔سو نتیجہ موت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح کوئی گردوں کا مریض اس ڈھونگی کے کہنے پر ڈائیلیسز چھوڑ دیتا ہے اور کچے گھڑے میں کوئی محلول بنا کر پینا شروع ہوجاتا ہے تو وہ بھی چند دن میں موت کے منہ میں چلا جائے گا کیونکہ جسم میں پوٹاشیم بڑھتا جائے گا جو دل کی دھڑکن بے ترتیب کروا دیتا ہے۔

اسی طرح کوئی کیسنر کا مریض بائیوپسی سے انکاری ہوجاتا ہے۔ بائیوپسی سے پتا چلتا ہے کہ کینسر کونسی قسم کا ہے،اس کا پھیلاو کتنا ہو سکتا ہے اور اس میں دوائیں کونسی کارگر ہو سکتی ہیں۔ بہت سے کینسرز اگر شروع میں پکڑ لیے جائیں تو ان کا مکمل علاج ہو جاتا ہے۔لیکن اس ڈھونگی کی وجہ سے لوگ بائیوپسی کروانے سے بھی ڈریں گے۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ اس طرح کے شعبدے باز عام لوگوں کی زندگیوں سے

بہت زیادہ کھیلنے کی تیاری میں ہیں۔

حل کیا ہے؟

ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے۔اس کا کام ہوتا ہے اس نے اپنے باشندوں کی جان کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔

جس طرح کوئی ریاست کے خلاف بات کرتا ہے تو اس کا میڈیا پر آنا بین کر دیا جاتا ہے،اسی طرح کوئی انسانی زندگیوں سے کھیلنا شروع کرے تو اس کو بھی ریاست کو روکنا ہو گا۔یہاں فری سپیچ کا آرگومنٹ نہیں چلے گا کیونکہ اس بندے کی سپیچ ڈائریکٹ لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔

پھر ہم عوام کا رول بھی ہے۔ ہمیں خود آگاہئ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے چینلز کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ ایسا ڈیٹا پھیلانا چاہیے جو فیکٹ بیسڈ ہو۔

تحریر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور اس آ گاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔

بقلم خود
ڈاکٹر محسن نزیر ملک

Address

London
SE137SU

Telephone

+923017161863

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Malik:

Shortcuts

Sponsored

Share

Category